ڈراموں کے 4 سنگین اثرات اور اُنکا بہترین حل
پہلے وقتوں میں جو ڈرامے ہوتے تھے اُن میں کچھ نہ کچھ اخلاقی اقدار، نصیحت آموز سبق اور اسلامی تعلیمات کا کچھ نہ کچھ لحاظ کیا جاتاتھا۔ مگر افسوس کہ آج کل کے پاکستانی ڈراموں میں ہر حد پار کی جارہی ہے ۔یہ ڈرامے اب تفریح کا ذریعہ نہیں رہے۔ یہ ہمارے گھروں، سوچوں اور تعلقات پر بہت بری طرح اثر انداز ہورہے ہیں ۔ خاص طور پر دن کے اوقات میں اور پرائم ٹائم پر دکھائے جانے والے ڈرامے بڑی تعداد میں خواتین باقاعدگی سے دیکھتی ہیں۔ بظاہر یہ سب ایک معمولی سی عادت لگتی ہےکہ کوئی لڑکی ، خاتون یا گھریلو عورت اگر ایک دو گھنٹے ڈرامے دیکھ لے تو معمولی سا لگتاہے۔اور ابھی بھی سو میں سے کسی ایک ڈرامے میں شاید کوئی اچھا سبق سکھایا جاتا ہولیکن مشاھدات اور تجربات سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ان کے منفی اثرات کہیں زیادہ نمایاں ہو چکے ہیں—اور یہی بات تشویش ناک ہے۔
Table of Contents
مسئلہ یہ نہیں کہ عورت ڈرامہ دیکھتی ہے، اصل مسئلہ ان ڈراموں کے ذریعہ منفی پروپیگنڈا اور ذہن سازی ہے۔ ایک عورت جب حقیقی زندگی میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہے تو وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کے مزاج، کمزوریوں اور خوبیوں کو سمجھنے لگتے ہیں۔ ازدواجی زندگی سمجھوتے، صبر اوربرداشت کا نام ہے۔ لیکن جب اسی عورت کی سوچ کی تشکیل روزانہ اسکرین پر دکھائے جانے والے مناظر سے ہونے لگےتو توازن بگڑ جاتا ہےاور تربیت خراب ہونے لگتی ہے۔ڈراموں میں دکھایا جانے والا مرد یا تو حد سے زیادہ ظالم ہوتا ہے یا حد سے زیادہ آئیڈیل—جبکہ حقیقت ان دونوں کے بیچ ہوتی ہے۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے مسئلہ پیدا ہوتے ہیں۔ بہت سے گھروں میں میاں بیوی کے تعلقات اصل میں ٹھیک چل رہے ہوتے ہیں، مگر ڈرامے دیکھنے کے بعد عورت کے ذہن میں موازنہ، شکوک اور شکایات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اسے لگتا ہے کہ اس کی زندگی میں محبت کی کمی رہ گئی ہے۔ اُسکولگتا ہے کہ ڈرامے میں جو خاوند نے توجہ دی ہے مجھے تو وہ نہیں مل رہی۔ڈرامے میں نئی آنے والی بہو کو جو اہمیت دی گئی مجھے تووہ نہیں ملی تھی۔ اس طرح یہ موازنہ خطرناک حد تک جا پہنچتا ہے۔ دیکھنے والیوں کو یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ڈراموں میں حقیقت کم اور بناوٹ زیادہ ہوتی ہے۔ بلکہ وہ تو پھر شکوے شکایتیں شروع کردیتی ہیں اور اگر شکایت نہ سنی جائے تو خیالات اُنکے دماغ میں گھومتے رہتے ہیں ۔نتیجتاًیوں ایک مطمئن رشتہ آہستہ آہستہ بے چینیوں اور بدگمانوں کا شکارہوجاتا ہے۔
یہ بات واقعی حیران کن ہے کہ طلاق جیسے سنگین فیصلے کی بنیاد بعض اوقات حقیقی مسائل نہیں بلکہ غلط ذہن سازی بن جاتی ہے۔ حقیقتاً کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہوتا مگر عورت کے ذہن میں ڈراموں کے غلط اثرات اس قدر سرایت کرجاتے ہیں کہ اسکو شادی شدہ زندگی میں رہنا ظلم لگنے لگتا ہے۔ وہ سمجھوتے کو کمزوری سمجھنے لگتی ہے اور میاں بیوی کا ساتھ رہنا محال ہوجاتا ہے۔ڈرامے عورت کو یہ سکھاتے ہیں کہ ہر اختلاف ظلم ہے، ہر خاموشی بے حسی ہے اور ہر سمجھوتہ کمزوری۔ یہی وہ خطرناک پہلو ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
پہلی خرابی: طلاق اور خلع کا بڑھتا رجحان
پاکستانی معاشرے میں حالیہ برسوں کے دوران جو خرابی وضاحت کے ساتھ نظر آ رہی ہے، وہ طلاق اور بالخصوص خلع کے بڑھتے ہوئے رجحانات ہیں۔ فیملی کورٹس میں درج ہونے والے کیسز کی تعداد میں واضح اضافہ ہوا ہے، اور یہ محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بہت بڑے سماجی بحران کی علامت ہے۔ اس صورتحال کے پیچھے کئی اسباب ہو سکتے ہیں، مگر ایک اہم اور نظر انداز کیا جانے والا سبب وہ ڈرامے ہیں جو طلاق اور علیحدگی کو اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ وہ ایک مشکل فیصلے کے بجائے ایک “خوشگوار نجات” معلوم ہونے لگتی ہے۔العیاذ باللہ۔ڈراموں میں بار بار ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جہاں عورت خلع لینے یا شوہر سے علیحدگی کے بعد نہ صرف مطمئن بلکہ بے حد خوش، آزاد اور کامیاب نظر آتی ہے۔ اسے ایک نئی زندگی مل جاتی ہے، مسائل اچانک ختم ہو جاتے ہیں اور ہر دروازہ اس کے لیے کھل جاتا ہے۔ یہ مناظر بظاہر تو بہت خوبصورت لگ رہے ہوتے ہیں مگر حقیقت سے اس کا دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ اصل زندگی میں علیحدگی کے بعد عورت کو جن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے—معاشی دباؤ، سماجی رویے، بچوں کی ذمہ داری، تنہائی اور ذہنی دباؤ—ان سب کو یا تو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا انتہائی معمولی بنا کر دکھایا جاتا ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب یہ مناظر بار بار دکھائے جاتے ہیں تو دیکھنے والے خاص طور پر وہ عورت جو پہلے ہی کسی گھریلو اختلاف یا ذہنی الجھن سے گزر رہی ہو، لاشعوری طور پر یہ سمجھنے لگتی ہے کہ خلع یا طلاق ہر مسئلے کا آسان حل ہے۔ یوں برداشت، بات چیت اور سمجھوتے کی گنجائش ختم ہونے لگتی ہے۔ عورت کو بار بار یہی خیال ستانے لگتاہے۔ اُسکے لئے معمولی سی بات بھی ناقابل برداشت ہوجاتی ہے۔ وہ اختلافات میں بار بار اسی طرح ذہن کو لے جاتی ہےکہ سارے مسائل کی جڑیہی شادی ہے۔ اسکو رشتہ سنوارنے کی بجائے توڑنے کے خیالات زیادہ آنے لگتے ہیں۔
حقیقت تو یہی ہے اور اسلامی تعلیمات بھی یہی ہیں کہ طلاق اور خلع کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ خاص طور پر جب اولاد بھی ہو تو علیحدگی کے بعد کی زندگی مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ بچوں کی نفسیات، پرورش، مالی ذمہ داریاں اور سماجی دباؤ—یہ سب وہ حقائق ہیں جنہیں ڈرامے مسخ کر کے پیش کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے میں گھریلو نظام خراب ہونے لگتاہے۔اسی لیے ان اثرات سے آگاہی بے حد ضروری ہے۔ ڈراموں میں دکھائی جانے والی کہانی اور حقیقی زندگی کے درمیان فرق کو سمجھناضروری ہےاور یہ سمجھنا بھی ضروری ہےکہ طلاق جیسے فیصلے کو وقتی جذبات یا اسکرین پر نظر آنے والی چمک دمک کی بنیاد پر نہیں کرنے چاہئے۔
دوسری خرابی: اخلاقی انحطاط اور خاندانی اقدار کی تباہی
پاکستانی معاشرے میں اخلاقی انحطاط کی جو صورتِ حال اب سامنے آ رہی ہے، وہ محض اتفاق نہیں بلکہ انہی ڈراموں کی مرہون منت ہے۔ ماضی میں والدین(خاص طور پر شادی سے پہلے) اپنی بیٹیوں کی تربیت کو ایک اہم ذمہ داری سمجھتے تھے۔ صبر، برداشت، بڑوں کا احترام، رشتوں کی نزاکت اور گھر کو جوڑ کر رکھنے کی اہمیت جیسے اسباق باقاعدہ طور پر سمجھائے جاتے تھے۔ مگر آج ایک افسوسناک کمی یہ نظر آتی ہے کہ بہت سے گھرانوں میں شادی سے پہلے ایسی سنجیدہ تربیت کو ضروری ہی نہیں سمجھا جاتا۔ اب تربیت نہیں ہوئی اور لڑکی کو خراب کرنے میں رہی سہی کسر ڈراموں نے پوری کردی تو نتیجہ آپ جانتے ہیں کیا ہوگا؟۔
آج کے ڈراموں میں اخلاقی انحطاط کو نہ صرف دکھایا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات اسے جواز بھی فراہم کر دیا جاتا ہے۔ بغض، کینہ، چغلی، سازشیں، ساس بہو کی مستقل لڑائیاں، نندوں اور دیگر رشتوں کے درمیان انتہائی غیر اخلاقی رویے—یہ سب کچھ اس کثرت سے دکھایا جا رہا ہے کہ دیکھنے والے ان سب چیزوں کو بالکل جائز اور اچھا سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں ایک خاموش پیغام دیا جاتا ہے کہ بدتمیزی، بدزبانی اور رشتوں کی تذلیل بھی زندگی کا معمول ہے۔اس کا سب سے گہرا اثر نوجوان لڑکیوں کے ذہنوں پر پڑتا ہے۔ جب ایک معصوم ذہن بار بار یہ دیکھتا ہے کہ ساس، سسر یا بڑے رشتے ظالم اور قابلِ نفرت ہیں، تواچھے خاصے گھروں میں لڑائیاں ہونے لگ جاتی ہیں۔بڑے اور چھوٹے کی تمیز ختم ہوجاتی ہےاور وہ اقدار جو کبھی خاندانی نظام کی بنیاد تھیں آہستہ آہستہ ساری ختم ہوتی چلی جاتی ہیں۔تو دوستو! اس بگاڑ کو سمجھنا، دوسروں کو سمجھانا اور اسکا فوراً حل کرنا بے حد ضروری ہے۔
تیسری خرابی: اسلامی تعلیمات کی مخالفت
تیسری اور شاید سب سے زیادہ تشویشناک خرابی وہ ہے جو نہ صرف ہمارے معاشرتی ڈھانچے بلکہ اسلامی تعلیمات سے بھی سراسر متصادم ہے۔ حالیہ پاکستانی ڈراموں میں بعض اوقات رشتوں کے ساتھ ایسا غلط اور غیر ذمہ دارانہ سلوک دکھایا جاتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ مناظر کہ ایک شادی شدہ عورت خلع لے کر “آزاد” ہو جاتی ہے، حالانکہ اس کا معاشقہ پہلے سے کسی اور مرد کے ساتھ چل رہا ہوتا ہے، اور پھر علیحدگی کے فوراً بعد وہ اسی شخص کے ساتھ نئی زندگی بسا لیتی ہے—اور اسے ایک کامیاب، خوشحال اور مثالی انجام کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔یہاں مسئلہ صرف ایک کہانی کا نہیں بلکہ اس پیغام کا ہے جو لاکھوں گھروں تک پہنچ رہا ہے۔ شادی شدہ عورت کا غیر مرد سے تعلق، بچوں کو باپ یا خاندان کے حوالے کر کے خود الگ ہو جانا، اور پھر اس سب کو ایک مثبت اور قابلِ تقلید مثال کے طور پر دکھانا—یہ سب دینِ اسلام کی واضح تعلیمات کے خلاف ہے۔ اسلام میں نکاح اور شادی شدہ زندگی کو ایک مقدس رشتہ قرار دیا گیاہےجس سے بہت سارے خاندان کے افراد آپس میں جڑ جاتے ہیں ، بچوں کی ذمہ داری کو امانت کہا گیا ہے، اور نفس کی خواہشات کو خاندانی نظام پر فوقیت دینے کی سختی سے حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ مگر ڈراموں میں ان حدود کو اس طرح توڑا جاتا ہے جیسے یہ کوئی معمولی عمل ہو۔
اس طرح کی کہانیوں کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ جب برائی کو خوبصورت الفاظ اور “خوشگوار انجام” کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ برائی، برائی نہیں رہتی بلکہ ایک قابلِ قبول راستہ بن جاتی ہے۔ یہی چیز فسادات اور گھریلو تنازعات کا سبب بنتی ہے۔ بچے ماں باپ سے محروم ہوتے ہیں، خاندان بکھر جاتے ہیں، اور معاشرہ آہستہ آہستہ ایک ایسے راستے پر چل پڑتا ہے جہاں ذمہ داری، وفاداری اور قربانی جیسی اقدار بے معنی ہو جاتی ہیں۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس قسم کا مواد نہ صرف دین کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ملک و ملت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر خاندانی نظام ہی درہم برہم ہو جائے تو کسی بھی معاشرے کی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ اسی لیے وقت کا تقاضا ہے کہ ان ڈراموں کے مواد پر سنجیدہ غور و فکر کیا جائے، ان کے اثرات کو سمجھا جائے، اور مناسب سطح پر روک تھام اور اصلاح کی جائے—تاکہ تفریح کے نام پر ہماری اقدار، ہمارے گھر اور ہماری آنے والی نسلیں قربان نہ ہو جائیں۔
چوتھی خرابی: بے وفائی اور بے حیائی کو نارمل بناکر پیش کرنا
چوتھی اور نہایت سنگین خرابی یہ ہے کہ پاکستانی ڈراموں میں آہستہ آہستہ غلط کو درست اور برائی کو معمول بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ طلاق کو ایک عام، آسان اور قابلِ فخر عمل کے طور پر دکھایا جاتا ہے، لڑکیوں کی بے وفائیوں کو “خود اعتمادی” یا “اپنی خوشی کا حق” کہہ کر جواز دیا جاتا ہے، اور گھر توڑنے کے نت نئے طریقے اس مہارت سے اسکرین پر دکھائے جاتے ہیں کہ دیکھنے والے کو احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا سیکھ رہا ہے۔ یہ سب کچھ صرف کہانی نہیں رہتا بلکہ ایک خاموش تربیت بن جاتا ہے، جو خاص طور پر صنفِ نازک کے معصوم ذہنوں پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ڈراموں میں ساس اور سسر کے ساتھ بدتمیزی، طنز، چالاکی اور بے ادبی کو ذہانت اور ہوشیاری کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں احترام، ادب اور برداشت جیسی اقدار کمزوری محسوس ہونے لگتی ہیں۔ بے حیائی، غیر مناسب لباس، غیر ضروری قربت اور فحش اشاروں کو غلط منطق کے ساتھ “ماڈرن ہونا” یا “حقیقت پسندی” کہہ کر گمراہ کیا جاتا ہے۔ ہماری ثقافت اور شناخت—جو صدیوں سے حیا، خاندانی ربط اور سماجی توازن پر قائم تھی—اس مواد میں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ پردہ، حدود اور وقار جیسے تصورات کو پرانا اور غیر ضروری ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ میاں بیوی کے درمیان مقابلہ، ایک دوسرے کے خلاف سازشیں، غلط فہمیاں اور انتقامی رویے اس کثرت سے دکھائے جاتے ہیں کہ باہمی اعتماد اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت ناپید ہوتی چلی جاتی ہے۔ چغلی، بغض، کینہ پروری اور مکاری کو باقاعدہ ایک “اسکل” کے طور پر دکھایا جاتا ہے، اور ہر آنے والا ڈرامہ ان کے نئے طریقے سکھاتا نظر آتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دیکھنے والی عورت کو گھر بسانے کے بجائے گھر توڑنے کے راستے زیادہ واضح نظر آنے لگتے ہیں۔دوستو! یہ سب محض تفریح نہیں، بلکہ آنے والی نسل کی ذہن سازی ہورہی ہے ۔ اگر بروقت اس رجحان کی روک تھام نہ کی گئی تو نہ صرف خاندانی اقدار خطرے میں پڑ جائیں گی بلکہ معاشرتی توازن بھی بگڑتا چلا جائے گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت والدین اور معاشرے کے ذمہ دار افراد اس مواد کو تنقیدی نظر سے دیکھیں، آگاہی پھیلائیں اور اصلاح کا مطالبہ کریں—کیونکہ مضبوط خاندان ہی مضبوط قوم کی بنیاد ہوتے ہیں۔
اصلاح اور آگاہی سے ہی اسکا حل سامنے آئیگا
ایسے حالات میں سب سے بڑی اور بنیادی ذمہ داری معاشرے کے باشعور اور بڑے لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔ صرف ڈراموں کو برا کہہ دینا کافی نہیں، بلکہ اس کے متبادل میں درست فکری اور اخلاقی رہنمائی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ والدین کو خاص طور پر اپنے بچوں—بالخصوص بیٹیوں—کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ڈراموں میں دکھائی جانے والی بہت سی چیزیں غیر حقیقی، مبالغہ آمیز اور گمراہ کن ہوتی ہیں۔ یہ کہانیاں اصل زندگی گزارنے کا معیار نہیں ہوتیں، اور نہ ہی ہر دکھایا جانے والا عمل قابلِ تقلید ہوتا ہے۔خصوصی طور پر شادی شدہ افراد، اور خاص طور پر شادی شدہ لڑکیوں کے لیے تربیت بے حد ضروری ہے، کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ گھر کو بسانے میں میں عورت کا کردار مرکزی ہوتا ہے۔ اگر ذہن الجھا ہوا ہو، ترجیحات خراب ہوجائیں اور دماغ میں خرابی پیدا ہوجائےتو معمولی مسائل بھی بڑے بڑے جھگڑوں میں بدل جاتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ لڑکیوں کی تربیت اسکرین کے ڈراموں کے بجائے اچھی اچھی کتابوں، اسلامی تعلیمات اور بہترین نصائح سے کی جائے۔
اسی مقصد کے تحت چند ایسی نہایت اہم اور مفید کتابیں ہیں جنہیں خواتین کے لیے واقعی لازمی مطالعہ قرار دیا جانا چاہیے۔
۔(۱)۔ دلہا دلہن کے لیے قیمتی نصیحتیں — شادی سے پہلے اور بعد کے عملی مسائل پر سادہ رہنمائی۔
۔(۲)۔ خوشحال گھرانہ — گھر کو سکون، محبت اور توازن کے ساتھ چلانے کے اصول۔
۔(۳)۔ سرتاج دو عالم ﷺ گھر میں کیسے تھے — نبی کریم ﷺ کی گھریلو زندگی سے عملی نمونہ۔
۔(۴)۔ پرسکون گھر — گھریلو جھگڑوں سے بچاؤ اور ذہنی سکون کی رہنمائی۔
والدین سے خلوص کے ساتھ گزارش ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو یہ کتابیں ضرور پڑھائیں، کیونکہ یہ وہ خاموش ، سادہ مگر مضبوط بنیاد ثابت ہوگی جو گھروں کو بکھرنے اور ٹوٹنے سے بچائے گی۔ ان چاروں کتب کا رعایتی پیکیج خصوصی ڈسکاؤنٹ اور فری ہوم ڈلیوری کے ساتھ پورے پاکستان میں دستیاب ہے، جسے آپ گھر بیٹھے منگوا سکتے ہیں:۔
👉 https://kitabfarosh.com/product/spge/
اگر ہم واقعی آنے والی نسل کو ڈراموں کے منفی اثرات سے بچانا چاہتے ہیں تو ان ڈراموں کا توڑ اور اس زہر کا تریاق یعنی اسلامی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا۔ اسلامی تعلیمات پر مشتمل کتابیں ہر ہر گھر میں پہنچانی ہوں گی۔

خواتین کی تربیت پر ایک اور اہم کتاب:۔
ان چار اہم کتابوں کے ساتھ ایک اور نہایت قیمتی کتاب کا اضافہ بے حد ضروری معلوم ہوتا ہے، جو ادارہ تالیفات اشرفیہ کی شائع کردہ جدید کتاب ہے جس کا نام ہے:۔
یہ کوئی عام کتاب نہیں بلکہ بلکہ خواتین کے لیے اسلامی و اصلاحی تربیت کا مکمل ایک سالہ کورس ہے۔ اس میں 365 دنوں کے لیے الگ الگ اسباق ترتیب دیے گئے ہیں، تاکہ عورت کی سوچ، کردار، گھریلو زندگی، عبادات، اخلاق اور معاشرتی ذمہ داریوں کی ہمہ جہت اصلاح ہو سکے۔اور یہ اصلاح انتہائی آسان طریقہ سے بتدریج مراحل سے گزر کر ہوگی اس لئے 365 اسباق ترتیب دئیے گئے ہیں۔ کتاب کی تفصیلات دیکھ کر بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کس قدر جامع اور عملی رہنمائی پر مشتمل ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے جید علمائے کرام نے اس کورس کو نہایت اہم اور وقت کی ضرورت قرار دیا ہے، جس کی جھلک خود اس کے ٹائٹل پر موجود لکھی ہوئی باتوں سے واضح ہوجاتی ہے۔ کتاب کی مکمل تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔
https://kitabfarosh.com/product/k365sa/
حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں ایسی کتابیں آخری سہارا ہیں۔خصوصاً ان گھروں کے لیے جو اپنی بیٹیوں اور آنے والی نسل کے لئے فکر مندہیں اور خاندانی نظام کو بچا کر رکھنا چاہتےہیں۔خوشخبری یہ ہے کہ اس جیسی اور بھی بے شمار قیمتی اور اصلاحی کتابیں آپ کتاب فروش پر دیکھ سکتے ہیں۔ خواتین سے متعلق اہم اور منتخب کتب اس لنک پر دستیاب ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/Category/kitabfaroshbooks/genre-of-books-kitabfarosh/women-khawateen-genre-kitabfrosh-com/
جو کتاب بھی آپ کو مفید لگے، آپ اسے کتاب فروش آن لائن بک اسٹور سے آسانی کے ساتھ آرڈر کر سکتے ہیں۔ ہم ٹی سی ایس کے ذریعے پورے پاکستان میں فری اور محفوظ ہوم ڈلیوری فراہم کر رہے ہیں، تاکہ آپ گھر بیٹھے یہ قیمتی کتابیں بہ آسانی حاصل کرسکیں۔مزید معلومات، رہنمائی یا کتاب کے انتخاب میں مشورے کے لیے آپ ہم سے واٹس ایپ پر بھی رابطہ کر سکتے ہیں:۔
WhatsApp # 03450345581
اگر آپ اس مضمون سے اتفاق کرتے ہیں تو اس کو شئیر ضرور کریں ۔ تاکہ معاشرہ میں یہ آگاہی پھیلے۔ شکریہ ۔ والسلام

