ہر عام آدمی احادیث کو پڑھ سکتا ہے: 3 عام فہم کتابوں کا رعایتی پیکیج حاصل کریں
دینِ اسلام میں احادیثِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ قرآنِ مجید کے بعد اگر کسی ماخذ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے تو وہ احادیث کا ذخیرہ ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت، تعلیمات، عبادات، اخلاق، معاملات اور پورا طرزِ حیات ہمیں احادیث ہی کے ذریعے ملتا ہے۔ اسی بنیاد پر ہمارا دین سمجھ میں آتا ہے اور ہماری روزمرہ زندگی کی رہنمائی ہوتی ہے۔ مگر اس ساری اہمیت کے باوجود ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ عام مسلمان اور احادیث کی کتابوں کے درمیان ایک واضح فاصلہ موجود ہے۔ یہ خلا دن بدن بڑھتا جا رہا ہے، اور اس کی کئی وجوہات ہیں جن پر سنجیدگی سے غور کرنا ضروری ہے۔
Table of Contents
آج کا عام قاری جب احادیث کی کتاب خریدنے یا پڑھنے کا ارادہ کرتا ہے تو سب سے پہلے گوگل پر یہی سوالات سرچ کرتا ہے: مستند احادیث کی کتاب کون سی ہے؟، کون سا ناشر زیادہ قابلِ اعتماد ہے؟، احادیث کی کتاب خریدتے وقت اصل اور نقلی میں فرق کیسے پہچانیں؟ یہ تمام سوالات اپنی جگہ بالکل درست ہیں، کیونکہ دین کے معاملے میں مستند ہونا انتہائی ضروری ہے۔ لیکن یہاں ایک اہم نکتہ ایسا ہے جو عام طور پر نظر انداز ہو جاتا ہے، اور وہ یہ کہ کیا وہ کتاب عام قاری کی سمجھ کے مطابق بھی ہے یا نہیں؟یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ احادیث کا ذخیرہ بہت وسیع ہے۔ اس میں فقہی مسائل بھی ہیں، عقائد بھی، عبادات کی تفصیل بھی، اور ایسے دقیق مباحث بھی جو خاص اصطلاحات کے بغیر سمجھنا آسان نہیں ہے ۔ ایک اصول یاد رکھیں کہ ہر حدیث کی کتاب ہر شخص کے لیے نہیں ہوتی۔ جس طرح میڈیکل یا قانون کی کتابیں عام آدمی کے لیے نہیں ہوتیں، اسی طرح بعض احادیث کی کتابیں بھی خاص علمی سطح رکھنے والوں کے لیے ہوتی ہیں۔ یہ فرق جاننا بے حد ضروری ہے، ورنہ قاری یا تو کنفیوز ہو جاتا ہے یا پھر احادیث کے مطالعے سے ہی دور ہو جاتا ہے۔
عام آدمی کی ضرورت کچھ اور ہوتی ہے۔ اسے ایسی احادیث کا مطالعہ کرنا چاہئے جو اس کی روزمرہ زندگی سے جڑی ہوں۔ نماز، اخلاق، والدین کے حقوق، معاملات، سچائی، دیانت، حلال و حرام، گھریلو زندگی، بچوں کی تربیت اور معاشرتی رویّے۔ اسکو ایسی کتابیں حاصل کرنی چاہئے جو آسان ہو، جس میں تشریح موجود ہو، اور جسے پڑھ کر وہ فوراً اپنی زندگی میں عمل کر سکے۔ اگر اسے بغیر وضاحت کے مشکل عربی متن یا گہرے علمی اختلافات میں الجھا دیا جائے تو وہ پیچھے ہٹ جائیگا اور آئندہ بھی مطالعہ کی جرات نہیں کرے گا۔اسی لیے احادیث کی کتاب خریدتے وقت صرف یہ سوال کافی نہیں کہ کتاب مستند ہے یا نہیں، بلکہ یہ سوال بھی اتنا ہی اہم ہے کہ کیا یہ کتاب میرے لیے ہے؟ عام قاری کے لیے وہ کتاب زیادہ مفید ہوتی ہے جو منتخب احادیث پر مشتمل ہو، موضوعاتی انداز میں ہو، آسان اردو زبان میں ہو، اور جس کا مقصد اصلاح اور رہنمائی ہو نہ کہ صرف علمی بحث۔ بدقسمتی سے یہ پہلو اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کتابیں الماریوں میں سج جاتی ہیں مگر دلوں اور زندگیوں تک نہیں پہنچ پاتیں۔
احادیث پڑھنے والے عام لوگ اکثر مایوس کیوں ہوجاتے ہیں؟
یہ منظر بہت عام ہے اور بظاہر اسمیں نیکی اور مطالعہ کا شوق بھی شامل ہےکہ ایک عام مسلمان دل میں یہ جذبہ لے کر اٹھتا ہے کہ وہ صحیح حدیث اور اسلام کی اصل تعلیمات کو براہِ راست سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ درمیان میں کسی کی رائے نہ ہو، بلکہ وہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پڑھے، سمجھے اور اس پر عمل کرے۔ یہی شوق اسے بازار یا آن لائن اسٹور تک لے جاتا ہے، جہاں وہ بڑے اعتماد کے ساتھ احادیث کی مشہور اور ضخیم کتابیں خرید لیتا ہے، جیسے صحیح البخاری، مسلم شریف، سنن ابن ماجہ یا جامع الترمذی وغیرہ۔ نیت خالص ہوتی ہے، جذبہ سچا ہوتا ہے اور ارادے بھی مضبوط ہوتے ہیں— مگر افسوس ان ارادوں کو کامیابی نہیں ملتی ۔
پہلا مسئلہ عربی زبان کا ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ عام آدمی عربی زبان، خاص طور پر حدیث کی عربی نہیں سمجھ پاتا۔ حدیث کا اسلوب قرآن سے مختلف ہے، اس میں راویوں کے نام، مقامات، فقہی اصطلاحات اور قدیم عربی محاورات شامل ہوتے ہیں۔ جب قاری پہلی ہی حدیث کھول کر دیکھتا ہے اور ایک سطر بھی سمجھ میں نہیں آتی تو دل میں ناامیدی سی پیدا ہوجاتی ہے ۔ کچھ دن محنت کر کے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، مگر نتیجہ وہی رہتا ہے کہ سمجھ نہیں پاتا۔
دوسرا مسئلہ تب سامنے آتا ہے جب وہ اردو ترجمہ یا شرح لینے کا سوچتا ہے۔ یہاں پھر قیمت کا مسئلہ بھی بن جاتا ہے کہ مستند اور مکمل شروحات اکثر کئی جلدوں پر مشتمل ہوتی ہیں، اور عام آدمی کے بجٹ سے باہر ہوتی ہیں۔ وہ یا تو صرف عربی متن پر اکتفا کرتا ہے، یا پھر کسی سستےاور غیر مستند ترجمے کی طرف چلا جاتا ہے۔ بعض لوگ شروحات خرید بھی لیتے ہیں، مگر یہاں بھی ایک اور مسئلہ موجود ہے۔
تیسرا اور حقیقی مسئلہ سمجھنے کا ہوتا ہے۔ احادیث کی بڑی کتابیں عام طور پر فقہی ترتیب پر مرتب کی گئی ہوتی ہیں۔ ان میں احادیث کو عبادات، معاملات، حدود، نکاح، طلاق اور دیگر فقہی ابواب کے تحت جمع کیا گیا ہوتا ہے۔ ان شروحات میں فقہی اختلافات، ائمہ کے اقوال، لغوی بحثیں اور استدلالی نکات شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب چیزیں ایک عام قاری کے لیے نہ صرف مشکل بلکہ بسا اوقات الجھن کا سبب بن جاتی ہیں۔ وہ حدیث پڑھتا ہے مگر یہ طے نہیں کر پاتا کہ اس سے اس کی روزمرہ زندگی میں کیا عملی رہنمائی مل رہی ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چند ہفتوں یا مہینوں بعد وہ کتابیں الماری میں رکھ دی جاتی ہیں۔ پڑھنے والا شدید ناامید اور مایوس ہوجاتا ہے۔ اُسکے ارادے متذبذب ہوجاتے ہیں اور وہ خود کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے یہ سوچ کر بدظن ہوجاتا ہے کہ “حدیث کا مطالعہ ہمارے بس کی بات نہیں”۔ یہ سوچ سب سے زیادہ خطرناک ہے، کیونکہ اس کے بعد وہ احادیث سے ہی دور ہو جاتا ہے، حالانکہ مسئلہ احادیث کو سمجھنے میں نہیں تھا بلکہ اسکا انتخاب غلط تھا۔
اگر نیت بھی ٹھیک ہے اور شوق بھی ہے تو پھر کیوں نہیں سمجھ پارہے؟
ایک بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ عوام الناس کا مسئلہ نیت کا نہیں ہوتا یعنی نیت بالکل ٹھیک ہوتی ہے اور شوق بھی سچا ہوتا ہے۔بس صرف غلط انتخاب ہے۔ عام مسلمان حدیث پڑھنا چاہتا ہے، عمل کرنا چاہتا ہے، مگر جب وہ براہِ راست بڑی، ضخیم اور علمی کتابوں سے آغاز کرتا ہے تو ناکام ہوجاتا ہے۔ اسی لیے میرا مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ عام آدمی کو وہی احادیث پڑھنی چاہئیں جو اس کی سمجھ، اس کی ضرورت اور اس کی روزمرہ زندگی کے مطابق ہوں۔
عوام الناس کے لیے سب سے بہترین راستہ یہ ہے کہ وہ منتخب اردو احادیث پر مشتمل کتابوں سے آغاز کریں۔ یہ وہ احادیث ہوتی ہیں جو بڑی بڑی مستند کتبِ حدیث سے انتخاب کر کے ترتیب دی جاتی ہیں، مگر اس انداز میں کہ قاری کو نہ عربی کی مشکل پیش آئے، نہ فقہی اصطلاحات کی الجھن، اور نہ ہی مہنگی شروحات کی ضرورت پڑے۔ ان کتابوں کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ قاری حدیث کو پڑھے، سمجھے، اور فوراً اپنی زندگی میں نافذ کر سکے — یہی اصل کامیابی ہے۔
اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے تین ایسی نہایت مفید کتابیں دستیاب ہیں جو مبتدی افراد، عام گھریلو افراد، نوجوانوں اور بزرگوں سب کے لیے یکساں فائدہ مند ہیں۔ پہلی کتاب “دو ہزار احادیث” ہے۔ اس کتاب میں احادیث کو مستند ذخائر، خصوصاً کنزالعمال سے انتخاب کر کے جمع کیا گیا ہے۔ ہر حدیث مختصر ہے، دو تین سطروں پر مشتمل ہے، اور اردو زبان میں اس انداز سے پیش کی گئی ہے کہ قاری بغیر کسی اضافی شرح کے مفہوم سمجھ سکے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے بہترین ہے جو زیادہ مطالعہ نہیں کر سکتے مگر روزانہ چند احادیث پڑھ کر عمل کرنا چاہتے ہیں۔
دوسری کتاب “ایک ہزار احادیث” ہے، جو خاص طور پر عام قاری کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں ہر حدیث کے ساتھ واضح عنوانات شامل ہیں۔ عنوان پڑھتے ہی قاری کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ حدیث کس موضوع پر ہے — مثلاً اخلاق، نماز، معاملات، والدین، سچائی یا معاشرت۔ یہی چیز عام آدمی کے لیے حدیث کو قابلِ فہم اور قابلِ عمل بناتی ہے۔ یہ کتاب اُن لوگوں کے لیے نہایت مفید ہے جو ترتیب کے ساتھ دین سیکھنا چاہتے ہیں۔
تیسری اور جامع ترین کتاب “گلدستہ احادیث” ہے۔ اس کتاب میں تقریباً نو ہزار منتخب احادیث شامل کی گئی ہیں، جنہیں عقائد، عبادات، معاملات اور دیگر اہم موضوعات کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود زبان عام فہم رکھی گئی ہے، اور احادیث کو اس طرح منتخب کیا گیا ہے کہ قاری بوجھ محسوس نہ کرے۔ یہ کتاب ان افراد کے لیے بہترین ہے جو چاہتے ہیں کہ ان کے پاس ایک ایسی حدیث کی کتاب ہو جو زندگی کے ہر پہلو میں ان کی رہنمائی کر سکے۔
ان تینوں کتابوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان میں عربی متن کے بغیر بھی حدیث کا مفہوم مکمل طور پر سمجھایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتابیں اُن لوگوں کے لیے بہت مفید ہیں جو عربی نہیں جانتے، مگر دین پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہ تینوں کتابیں انتہائی مناسب قیمت پر ایک رعایتی پیکیج کی صورت میں دستیاب ہیں ۔ اگر آپ واقعی چاہتے ہیں کہ احادیث صرف کتابوں تک محدود نہ رہیں بلکہ آپ کی زندگی کا حصہ بنیں، تو یہی درست آغاز ہے۔ اس رعایتی پیکیج کی مکمل تفصیلات اور معلومات کے لیے آپ اس لنک کو ملاحظہ کر سکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/buy-hadith-books-online-pakistan/
یاد رکھئے، حدیث پڑھنا اور سمجھنا مشکل نہیں — ہم نے اسے مشکل بنا لیا ہے۔ درست کتاب کو درست نیت کے ساتھ آغاز کریں، ان شاء اللہ راستہ خود آسان ہوتا چلا جائے گا۔
اگر تشریح کے ساتھ حدیث سمجھنا چاہتے ہیں تو اسکا بہترین طریقہ موجودہے:۔
اب تک کی گفتگو سے ایک بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ عام آدمی حدیث پڑھنا چاہتا ہے، مگر مشکل زبان اور بھاری اسلوب اسے پیچھے ہٹا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ منتخب اردو احادیث سے آغاز تو کر لیتے ہیں، مگر کچھ عرصے بعد دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ کاش ہمیں حدیث کا پس منظر، مطلب اور عملی پہلو بھی سمجھ آ جائے۔ اگر آپ بھی انہی لوگوں میں شامل ہیں جو صرف مفہوم ہی نہیں بلکہ تشریح کے ساتھ حدیث پڑھنا چاہتے ہیں، تو خوشخبری یہ ہے کہ اس کا حل بھی موجود ہے — اور وہ بھی عام فہم، آسان اور روزمرہ مطالعے کے قابل۔
بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ احادیث کی تشریح پڑھنے کا مطلب ہے بھاری بھرکم شروحات، کئی جلدوں پر مشتمل کتابیں اور مشکل فقہی زبان۔ یہی خوف اکثر لوگوں کو حدیث کے مطالعے سے دور رکھتا ہے۔ اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ایک نہایت قیمتی اور قابلِ اعتماد کتاب ترتیب دی گئی ہے کتاب کا نام ہے : جدید درس حدیث۔ یہ کتاب دراصل مختلف مستند کتبِ حدیث، جیسے صحیح بخاری، مسلم شریف، ریاض الصالحین اور دیگر معتبر مجموعوں سے منتخب احادیث پر مشتمل ہے۔ ہر حدیث کو تین مرحلوں میں پیش کیا گیا ہے:۔
۔1۔ سب سے پہلے عربی متن، تاکہ اصل حدیث محفوظ رہے۔
۔2۔ پھر آسان اور رواں اردو ترجمہ، تاکہ مفہوم واضح ہو جائے۔
۔3۔ اور اس کے بعد مختصر مگر جامع تشریح، جو حدیث کے اصل پیغام کو روزمرہ زندگی سے جوڑ دیتی ہے۔
یہی وہ متوازن اور عام فہم طریقہ ہے جو عوام الناس کو احادیث سے جوڑ دیتا ہے۔اس کتاب کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر حدیث کے ساتھ ایک چھوٹا سا درس بھی شامل ہے۔ یہ درس اتنا سادہ اور مختصر ہوتا ہے کہ آپ روزانہ صرف پندرہ سے بیس منٹ نکال کر بھی مطالعہ کر سکتے ہیں۔ نہ زیادہ وقت درکار، نہ خاص علمی پس منظر — بس پڑھئے، سمجھئے اور عمل کیجئے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب ان افراد کے لیے نہایت مفید ہے جو ملازمت، کاروبار یا گھریلو مصروفیات کے باوجود دین سے جڑے رہنا چاہتے ہیں۔اس کتاب کی مکمل تفصیلات اور آرڈر کرنے کے لیے آپ اس لنک کو وزٹ کر سکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/dhs/
کتاب فروش سے ابھی آرڈر کریں۔ کیونکہ صحیح کتاب، صحیح وقت پر، صحیح جگہ پہنچانا کتاب فروش کی خاص پہچان بن چکا ہے۔
گھر بیٹھے حدیث کی مستند کتب حاصل کریں
اگر آپ اوپر بیان کی گئی منتخب احادیث اور آسان تشریحات والی کتابیں حاصل کر لیتے ہیں تو یقین جانیے یہ آپ کے فہم حدیث کے سفر کا بہترین آغاز ہوگا۔شروعات میں انہی کتابوں کا مطالعہ مفید رہتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف آپ کو حدیث کے ذوق سے متعارف کرواتی ہیں بلکہ انکے ذریعے سے آپ حدیث پڑھ سکتے ہیں، سمجھ سکتے ہیں اور اس پر عمل بھی کر سکتے ہیں۔ جب ایک عام شخص منتخب احادیث، آسان اردو زبان اور مختصر تشریحات کے ساتھ کچھ عرصہ گزار لیتا ہے تو اس کی فہم میں پختگی آ جاتی ہے۔ پھر اس کے لیے صحیح بخاری، مسلم شریف اور دیگر بڑی کتبِ حدیث کا تعارف اور مطالعہ نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ یہ بھی ایک خوش آئند بات ہے کہ صحیح بخاری، مسلم شریف، سنن کی کتب اور ان کی معتبر شروحات بھی کتاب فروش آن لائن بک اسٹور پر دستیاب ہیں۔ یعنی جب آپ ان کتابوں کا مطالعہ کرلیں تو بعد میں وہ بھی حاصل کرکے پڑھ سکتے ہیں ۔ بتدریج چلنے سے ان شاء اللہ العزیز بہت فائدہ ہوگا۔
اکثر لوگ آن لائن کتابوں کی خریداری کے نام سے گھبرا جاتے ہیں۔ انہیں یہ خدشہ ہوتا ہے کہ کتاب اصل ہوگی یا نہیں، ڈلیوری ملے گی یا نہیں، یا کہیں پیسے ضائع نہ ہو جائیں۔ اس حوالے سے یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور ایک قابلِ اعتماد ادارہ ہے، جو پچھلے کئی سالوں سے کامیابی کے ساتھ کتابوں کی ڈلیوری کا کام انجام دے رہا ہے۔ ہزاروں لوگ یہاں سے کتابیں منگوا چکے ہیں اور مطمئن ہیں۔کتاب فروش کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ کتابیں بذریعہ ٹی سی ایس بھیجی جاتی ہیں، جو پاکستان میں ایک فاسٹ اور بہترین کورئیر سروس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ویب سائٹ پر دستیاب تمام کتابوں پر ڈلیوری فری ہے۔
جو قیمت لکھی ہے، وہی ادا کرنی ہے ۔
بس کتاب آپ کے دروازے تک پہنچ جائے گی۔ پھر ہچکچاہٹ کس بات کی؟
اور اگر آپ آن لائن آرڈر کرنے کے بجائے بات چیت کے ذریعے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں توآپ بلا جھجھک دیے گئے واٹس ایپ نمبرپر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آخر میں عرض ہےکہ اگر یہ مضمون آپ کو مفید لگے تو اسے ضرور شئیر کیجئے گا۔

