حمیرا اصغر علی کے واقعے کا ایک اہم پہلو

حمیرا اصغر علی کے واقعے کا ایک اہم پہلو

حمیرا اصغر علی ایک اداکارہ تھیں (وفات کا مکمل واقعہ اس لنک پر پڑھیں)۔ اگرچہ یہ ایک غیر اسلامی اور ناجائز کام ہے ۔ خاص طور پر ماڈلنگ کا مطلب ہوتا ہے بدن کی نمائش کرنا ۔ جو کہ سراسر حرام ہے ۔ لیکن اس منظر میں یہ بھی تو دیکھئے کہ اگرچہ کام ناجائز اور حرام تھا مگر وہ لڑکی تو مسلمان تھی جو بہک گئی تھی ۔ اور سیدھے راستے سے ہٹ گئی تھی ۔
اب سوشل میڈیا پر آج تین دن گزرجانے کے بعد بھی مسلسل خبریں اور چٹ پٹی باتیں چل رہی ہیں ۔ ہر شخص اپنی مرضی کے تبصرے کررہا ہے ۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ ایک اچھی سنگر، اداکارہ، اور ماڈل لڑکی تھی ۔ جب کہ کچھ کا کہنا ہے کہ وہ ایک صدقہ خیرات کرنے والی غریبوں میں پیسے بانٹنے والی اور اپنے ماں باپ کے ساتھ مسلسل تعلق رکھنے والی اچھی لڑکی تھی ۔

کیا اُسکے والد ذمہ دار ہیں؟

مگر وفات کے بعد اُسکے والد نے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم کافی عرصہ پہلے اُس سے دستبردار ہوچکے ہیں ۔ فیملی میں سب ڈاکٹر اور بڑے بڑے لوگ تھے ۔ والدہ نے اسکو تسلی کروائی تھی کہ اگر کام کرنا ہے تو کرو میں تمہارے والد سے بات کرلوں گی مگر وہ منا نہ سکی اور والد اپنی ضد پر اڑے رہے ۔ سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے والد کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ کہ والد کو اتنا سنگدل نہیں ہونا چاہئے کہ ایک عورت ذات کی لاش قطع نظر کہ وہ جیسی بھی تھی مگر والد کو چاہئے تھا کہ وہ لاش کو گھر لے آتے اور مزید کچھ بھی تماشہ نہ بناتے تاکہ دنیا میں جو کچھ ہوا مگر اُسکی اآخرت کی منازل اب آسان ہوں، والدین کی دعائیں ملیں اور لوگوں کی چہ میگوئیاں ختم ہوں ۔
https://www.facebook.com/watch/?v=718928541026161

ہم مسلمانوں کے لئے ایک بڑا المیہ:۔

میں اس سب منظر اور سب چہ میگوئیوں میں مسلسل تین دن سے ایک ہی بات سوچ رہا ہوں کہ آخر پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ڈرامہ اور فلم انڈسٹری کی ضرورت ہی کیا ہے؟ جب یہ انڈسٹری فحاشی سے بھرپور ہے تو ایسے مراکز اور کمپنیوں کو حکومت کی طرف سے سپورٹ کیوں ملتی ہے؟ اگر اس بے حیائی کو کوئی پرائیویٹ ادارہ بنا کر اپنے ذمہ پر یہ سارے گناہ لینا چاہے تو وہ الگ بات ہے کہ اُسکے زیر سایہ جتنی بھی مسلمان لڑکیاں خراب ہوں گی اور جتنے بھی مسلمان متاثر ہونگے تو سب کا وہی جواب دہ ہوگا ۔ مگر حکومت کی طرف سے ایسے اداروں کو انٹرٹینمنٹ کے نام پر جائز قرار دینا اور باقاعدہ فروغ دینا ہم مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا المیہ ہے ۔
سینکروں واقعات اس طرح کے سامنے آچکے ہیں جن میں تازہ ترین ایک واقعہ ہوا کہ ایک اداکارہ ستر سال سے زائد عمر کی اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں حالانکہ اُن کے دوبچے بھی تھے مگر خدا جانے کیا ہوا ۔ اب مردہ لوگوں پر ہم کیا تبصرے کرتے پھریں مگر یہ المیہ اب حل ہونا چاہئے کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں اس بیہودہ انڈسٹری کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ جس میں ایک فیصد انٹرٹینمنٹ اور باقی ننانوے فیصد بے حیائی، بے شرمی، دین کی گستاخی اور نوجوان نسل کی بربادی ہی بربادی ہے ۔

فلم انڈسٹری گستاخیوں کا مرکز ہے:۔

آج آپ آواز اٹھائیں کہ یہ انڈسٹری ختم کی جائے ۔ اگر معیشت کا بہانہ بنایا جائے تو اس پاکستان میں کئی اور انڈسٹریاں بنائی جا سکتی ہیں انہی پیسوں میں مگر حرام پیسہ کمانے کی مجبوری ہی کیا ہے ؟
پھر دوستو! آپ یہ دیکھو کہ چند سال قبل بھی علمائے کرام نے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ فلموں اور انڈسٹریز میں علی، فاطمہ، عائشہ اور عمر جیسے نام جب بے حیائی پھیلانے کا موجب بنتے ہیں تو دین اسلام کی کیا عزت رہ جاتی ہے ؟ کیا یہ سراسر گستاخی نہیں کہ فاطمہ نامی کوئی لڑکی اسٹیج پر ادھ ننگی حالت میں آکر ایوارڈ وصول کرے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپ جاتے ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ایسا مقدس نام اور پھر اُسکے ساتھ کیا سلوک کیا جارہے ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ۔
میں کہتا ہوں کہ حمیرا اصغر علی کا والد کتنا بے بس ہوگا جو اپنی بیٹی کو روک نہ سکا ۔ بھلا کوئی والد کیسے روک سکتا ہے جب ایک حسین گڑھا حکومت نے کھود رکھا ہو تو نوجوان نسل اُسمیں جا کر گرے گی تو پھر بھلا والدین کا کیا قصور ؟؟؟۔ تو دوستو! اگر آپ میری رائے سے اتفاق کرتے ہیں تو آج ہی اس مضمون کو شئیر کریں ۔ اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کریں اور اس عنوان کو پھیلائیں کہ پاکستان جیسے اسلامی ملک میں ڈرامہ انڈسٹری اور فلم انڈسٹری پر مکمل پابندی لگائی جائے ۔

بے حیائی کی روک تھام کی طرف ایک اور قدم:۔

کتاب فروش کی طرف سے بے حیائی کی روک تھام کے لئے چند اہم ترین کتابیں جن کا موضوع پردہ اور غیرت کو عام کرنا ہے ۔ وہ آپ یہاں پر دیکھ سکتے ہیں :۔
پردہ ضرور کروں گی
پردہ (نو مسلم خواتین کی نظر میں)۔
ہم نے شرعی پردہ کیسے کیا؟

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop