میت کا احترام ضروری ہے

میت کا احترام ضروری ہے

کسی کی میت کا تماشا بنانا یا موت پر تبصرے کرنا ایک بہت ہی برا فعل ہے ۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کوئی بھی شخص جب مرجائے تو اُسکی برائی نہ کرو کیونکہ اگر وہ مشرک و کافر تھا تو یقیناً اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے ۔ اب اُسکی برائی کرکے اپنی زبان اور اپنی طبیعت کیوں خراب کرتے ہو؟

اور اگر خاص طور پر مسلمان ہو تو پھر تو برائی کرنا بہت بڑا گناہ ہوگا ۔ اگرچہ مسلمان جتنا بھی فاسق و فاجر ہو مگر مرنے کے بعد اُسکی برائی یا حالات و واقعات پر منفی تبصرے نہیں کرنے چاہئے خواہ کیسے ہی حالات پیش آجائیں ۔ مگر افسوس کہ کچھ میڈیا والے مشہور و معروف لوگوں کی میت کو بھی تبصرہ و تشہیر کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ جس کے ہتھکنڈے یہ ہیں :۔

۔۱۔ مرنے والے کے بارہ میں تبصرہ کرنا کہ اُسکے اندر اندر یہ برائیاں تھیں ۔

۔۲۔ مرنے والے کے حالات پر عدالت لگا کر بیٹھ جانا کہ اُسکی موت ایک عبرت ہے یا نصیحت ہے ۔

۔۳۔ مرنے والا بہت پریشان تھا اُس نے خود کشی کرلی تھی ۔

۔۴۔ پھر اُسکی خود کشی پر الگ سے موضوعات چل پڑتے ہیں کہ فلاں کی وجہ سے کی یا فلاں کی وجہ سے خود کشی کرلی ۔

۔۵۔ یا پھر یہ کہا جاتا ہے کہ مرنے والا قتل کیا گیا ۔

۔۶۔ پھر قتل پر کہانیاں بننے لگتی ہیں کہ فلاں نے قتل کیا یا فلاں وجہ سے قتل ہوا ۔

اب مرنے والا تو اس جہاں سے رخصت ہوگیا مگر پیچھے ان کہانیوں سے اُس کو قبر میں بھی تکلیف ہوتی ہے ۔ اور اُسکے متعلقین کو دنیا میں ڈبل تکلیف ہوتی ہے مگر میڈیا والے اچھالتے رہتے ہیں ۔ حال ہی میں چند واقعات ایسے ہوئے ہیں جن کی وجہ سے یہ مضمون لکھنا ضروری ہوگیا تھا ۔

تجہیز و تکفین فوراً کرنی چاہئے:۔

اول الذکر ڈاکٹر عامر لیاقت حسین صاحب مرحوم ۔ جن کے کردار پر میں کوئی بات نہیں کروں گا ۔ وہ ایک مسلمان بھائی تھے ۔ مگر اُنکی وفات پر جو اُنکی میمز بنائی گئی اور اُنکی لاش کو جس طرح میڈیا نے دکھایا تو یہاں پر ایک بات ضرور کہنا چاہوں گا کہ اسلام نے میت کو فوراً تجہیز و تکفین کا حکم اس لئے دیا ہے کہ انسان کے مرنے کے حالات بہت عجیب ہوتے ہیں اور سکرات کا وقت بھی بہت تکلیف دہ ہوتا ہے ۔ ایسے حالات میں جسم پر جو رد عمل ہوتا ہے وہ قطعاً کسی کو نہیں دیکھنا چاہئے اور دکھانا تو بالکل نہیں چاہئے ۔ میت کو نہلا دھلا کر، خوشبو لگا کر اُسکی صاف ستھری صورت بنا کر پھر لوگوں کو دیکھنے کا موقع دینا چاہئے ۔ مگر افسوس کہ مرے ہوئے شخص کی کٹی پھٹی، لٹی پٹی اور توہین آمیز تصویروں کو وائرل کرکے لوگوں کی توجہ حاصل کی جاتی ہے ۔ ذرا سوچئے کہ کیا گزرتی ہوگی اُسکے متعلقین پر، خود اُس پر اور اُسکے دیگر چاہنے والوں پر ۔

میت کا تماشا نہ بنائیں:۔

یہی حال ہوا پھر قریب میں فوت شدہ حمیرا اصغر علی کی میت کے ساتھ کہ فوراً اسکی زمین پر پڑی ہوئی لاش کی تصویر وائرل ہوئی اور نعوذباللہ جس طرح پھیلائی گئی الامان والحفیظ ۔ اور جو تبصرے کئے گئے وہ میں پہلے دو مضامین میں تفصیل سے لکھ چکا ہے کہ اُسکے والد ذمہ دار ہیں؟ یا وہ خود ذمہ دار ہے یا فلم انڈسٹری ذمہ دارہے ؟ یا اس طرح کے جتنے بھی عنوانات سے تماشہ بنایا جار ہاہے وہ بالکل غلط ہے ۔ کسی کو بھی اُسکے قتل کا یا مرجانے کا احساس نہیں ۔ سب صرف اور صرف اپنی دوکانداری چمکانے کے در پے ہیں ۔

اسی طرح ایک ٹک ٹاکر ثناء یوسف جسکا حال ہی میں قتل ہوا اور پھر اُسکے قتل پر جس طرح تبصرے کئے گئے ہیں تو حیرت کی بات ہے کہ اُس کی پروفائل پر مرنے کے بعد فالوورز ڈبل ہوگئے ۔ گویا اُسکی موت کو ایک تماشہ بنادیاگیا ۔ کیا یہ سب انسانیت سے گری ہوئی حرکات نہیں ہیں ؟ زندہ لوگوں کا احترام تو ہم بھول گئے ۔ کم ازکم مرے ہوئے لوگوں کا احترام اور اُنکا تذکرہ کرنے کے کچھ آداب سیکھ لیں ۔

ہمارے کرنے کے کام:۔

آئیے ہم بحیثیت عوام ان چیزوں کا ادراک کریں کہ کوئی بھی شخص اگر مرجائے اور میڈیا پر وائرل ہوجائے تو اُس پر تبصرہ نہیں کریں گے ۔ صرف اور صرف اظہار افسوس اور دعائے مغفرت کریں گے ۔ ثانیاً اُسکی برائیاں نہیں پھیلائیں گے بلکہ خاموش رہیں گے اگرچہ وہ برائیاں حقیقتاً اُسمیں موجود ہوں ۔ تیسری بات یہ ہے کہ اُسکی کوئی بھی تصاویر شئیر نہیں کریں گے جب تک کہ تجہیز وتکفین کے بعد ایک اچھی سی تصویر نہ مل جائے ۔ بلکہ میں تو کہتا ہوں اس اچھی سی تصویر کو بھی وائرل کرنے کی ضرورت کیا ہے ؟ ۔ بس دعائے مغفرت سب سے بہترین چیز ہے ۔ اور اسکے لئے میں آپکو ایک کتاب بتاتا ہوں جس میں میت کا احترام، دعائے مغفرت اور صبر کی تلقین سے متعلق ہدایات جمع کی گئی ہیں ۔ آپ یہ کتاب ضرور دیکھئے گا ۔ صبر اور ایصال ثواب

دوستو! یہ سب باتیں میڈیا کو سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بلکہ یہ سب ہمارے لئے ہیں ۔ ہمارا میڈیا ہم خود ہی بناتے ہیں ۔ جو مواد لوگ دیکھنا چاہتے ہیں وہی پھر اُنکو دکھایا جاتا ہے ۔  یہ ہدایات ہم سب کو سمجھنے کی ضرورت ہیں ۔ ورنہ یاد رکھیں کہ ہم سب نے بھی اک دن مرنا ہے ۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بھی اسی طرح تماشا ہو ۔

موت کی تکلیف برحق ہے:۔

آپکو ایک واقعہ سناتا ہے کہ ایک صاحب بڑے نیک تھے اور مسجد میں خوب تعاون کیا کرتے تھے ۔ بہت سارے فلاحی کاموں میں حصہ لینے کا میں خود گواہ ہوں ۔ اللہ والوں سے تعلق بھی تھا ۔ مگر فالج کا حملہ ہوگیا اور کافی دن بیمار ہوکر بستر پر رہے ۔ اب کیا ہوا کہ دشمن انکی تاک میں تھے ۔ اور دشمن بھی ایسے نہیں کہ کوئی زمین جائیداد کا مسئلہ ہو بلکہ ایک چھوٹا سا خاندانی اختلاف ہوگیا تھا جو پھر اچھے طریقے سے حل بھی ہوگیا تھا مگر اب وہ بغض رکھے ہوئے انکی تاک میں تھے ۔ جیسے ہی انکی وفات ہوئی تو فالج کے اثرات کی وجہ سے جسم کے ایک حصہ میں خون جمع ہوگیا اور وہ حصہ نیلا اور پھر کالا پڑ گیا ۔ جس سے دشمنوں کو موقع مل گیا اور اُنہوں ںے مختلف تبصرے کرنے شروع کردئیے ۔
اولاد کو بے حد تکلیف ہوئی ۔ اںہوں نے والد صاحب مرحوم کے بڑے قریبی دوست جو بزرگ تھے اُنکو بلایا اور صورتحال بتانے لگے اور بتاتے بتاتے رو پڑے ۔ اُن اللہ والوں نے پہلے تو اولاد کو دلاسہ دیا اور کہا کہ موت کے حالات ایسے ہی ہوتے ہیں اس پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ آپ لوگوں سے یہ غلطی ہوئی کہ اتنی دیر ہوگئی ابھی تک نہلایا کیوں نہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم آپکی انتظار میں تھے ۔
تو پھر انکو سمجھایا گیا کہ تدفین میں جلدی کا حکم ہے اور تجہیز وتکفین میں اُس سے بھی زیادہ جلدی کا حکم ہے تاکہ موت کے اثرات اگر کسی پر ظاہر ہوئے ہیں تو اُنکو چھپا لیا جائے اور میت کے لئے دعائے مغفرت کے علاوہ لوگوں کو کسی تبصرہ یا بات کرنے کا موقع نہ ملے ۔

مرے ہوئے شخص کو تماشا نہ بنائیں:۔

یہ اسلام کے سکھائے ہوئے آداب ہیں ۔ ان پر اگر ہم عمل کریں گے تبھی ہمارے معاشرے کے حالات اچھے ہوں گے ۔ ورنہ دوستو! جب میڈیا والے کسی کی وفات کو اچھالتے ہیں اور اُس پر تبصرے کرتے ہیں تو آپکا کیا خیال ہے کہ وہ مرحوم کو انصاف دلانا چاہتے ہیں؟ بالکل بھی نہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو مرنے والوں کو انصاف ملتا حالانکہ مرنے والوں پر کچھ دن تبصرے کئے جاتے ہیں اور جیسے ہی لوگوں کے جذبات ختم ہوتے ہیں تو سب کچھ واپس اپنے حال پر آجاتا ہے ۔ میڈیا والے سوائے تماشہ کے اور کچھ نہیں کرسکتے ۔ اور اگر بالفرض یہ لوگ مخلص ہوتے تو پھر مشہور اداکاروں اور ماڈلز کے علاوہ بھی آج گاؤں دیہات بلکہ بھرے بازار اور چمکتے دمکتے شہروں میں بھی دن دیہاڑے غریب اور غیر مشہور لوگوں کو ظلما قتل کردیا جاتا ہے ۔ اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ۔ پھر جب ماڈلز پر ظلم ہوتا ہے یا اُنکی کوئی اسٹوری بنتی ہے تومیڈیا سب سے آگے آگے ہوتا ہے ۔

اپنی اصلاح کی فکر ضروری ہے :۔

ان چیزوں کو سمجھیں اور اپنی اصلاح کی فکر کریں کہ ہم معاشرے کو کس پستی کی طرف لے کر جارہے ہیں کہ میڈیا میت کا تماشہ بناتا ہے اور ہم چپ کرکے دیکھتے رہتے ہیں بلکہ خود ہی فیس بوک پر شئیر کرتے ہیں ۔ اگر آپ اس دردِ دل کو سمجھتے ہیں کہ مرے ہوئے شخص کا ایک احترام ہوتا ہے تو اس مضمون کو عام کریں اور دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔ اسکے علاوہ ہماری اصلاحی کتب کو بھی پڑھیں اور اُنکو شئیر کیا کریں تاکہ اسلامی اقدار کو فروغ مل سکے ۔ اصلاح کتب کے لئے لنک وزٹ کریں

اللہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم فرمائے ، آمین ۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop