حمیرا اصغر علی کی افسوسناک وفات کا واقعہ

حمیرا اصغر علی کی افسوسناک وفات کا واقعہ

حمیرا اصغر علی ایک اداکارہ تھی جنہوں نے ٹی وی ڈراموں اور سیریز میں کام کیا ۔ وہ ادارکارہ کے ساتھ ایک ماڈل بھی تھی ۔ نوجوان لڑکی صرف تیس سال عمر کی تھی ۔ مگر اپنے گھر میں مردہ پائی گئی اور معلوم ہوا کہ ایک ماہ سے مردار حالت میں میت گھر پڑی ہوئی ہے ۔
صرف 32 سال کی عمر میں اس طرح دنیا سے جانے والی یہ اداکارہ عبرت کا نشان بن گئی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کے حال پر رحم فرمائے اور حسن خاتمہ نصیب فرمائے مگر اسمیں سیکھنے والی بہت ساری باتیں ہیں ۔ کیونکہ ابھی کچھ عرصہ پہلے بھی ایک خاتون جن کی عمر ستر سال تھی اور پاکستان کے بہت سارے ڈراموں میں انہوں نے کام کیا تھا ۔ وہ کافی دن اپنے گھر میں مردہ حالت میں پڑی رہی ۔ بالآخر جب لاش سے بدبو پھیلنے لگی تو اردگرد کے لوگوں نے پولیس کو بلا کر اُنکی میت اٹھوائی ۔

اور یہ ایک دو واقعات ایسے ہیں جو سوشل میڈیا پر منظر عام پر آجاتے ہیں مگر اس طرح کے سینکڑوں ہزاروں واقعات ایسے ہیں شوبز کی دنیا میں عبرت کا نشاں ہیں اور کبھی سامنے نہیں آتے ۔
شوبز یعنی اداکاری، فیشن اور ماڈلنگ کی جو دنیا ہے اُسکی ایک خاصیت یہ ہے کہ دور سے بہت حسین اور خوبصورت نظر آتی ہے مگر حقیقتاً بہت بھیانک اور خوفناک ہوتی ہے ۔ خاص طور پر جو لڑکیاں بھی اسمیں شامل ہوتی ہیں وہ پہلا قدم ہی بے حیائی کا رکھتی ہیں ۔ یعنی اگر عورت میں حیا ہوتی تو وہ گھر سے باہر ہی نہ نکلتی ۔ اب اگر گھر سے باہر نکلی ہے تو حیا کو پس پشت ڈالنا ہوگا اور جہاں بھی کوئی مرد جس سے کام نکلوانا ہو تو اُسکی خواہش کو پورا کرنا ماڈلز اور خاص طور پر اداکاراؤں کے لئے عام سی بات ہے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی ماں بیٹی اور بہن کو اس غلیظ فیلڈ سے دور ہی رکھے ۔

شوبر میں لڑکیوں کی دوقسمیں:۔

اور پھر جب لڑکی اسمیں داخل ہوجاتی ہے تو اُسکی جوانی میں ہی اُسکے پاس دو راستے ہوتے ہیں کہ فلمی کیرئیر کے ساتھ ساتھ وہ شادی کرکے گھر بسا لے اور اپنی عزت کسی ایک مرد کے حوالے کرکے اُسکی حفاظت میں آجائے ۔ مگر اکثر لڑکیاں دوسری فیلڈ کو چن لیتی ہیں کہ وہ کسی ایک مرد کی نہیں ہوتی بلکہ بہت سارے لوگوں سے حالات و واقعات اور موقع کی نزاکت کے مطابق فائدہ اٹھاتی رہتی ہیں ۔ ایسی لڑکیاں پھر اکیلی ہی رہتی ہیں کیونکہ معاشرہ میں اُس لڑکی کو استعمال کرنے والے مردوں کے علاوہ اس لڑکی کا کوئی جاننے والا نہیں ہوتا اور اگر جاننے والے ہوتے بھی ہیں تو لاتعلق ہوجاتے ہیں ۔ پھر ایسی لڑکیاں لاوارث حالت میں خود کشی کرلیتی ہیں یا پھر مردہ حالت میں کہیں پر پائی جاتی ہیں ۔ ایک نہیں سینکڑوں مثالیں موجود ہیں ۔

مرحومہ کے لئے دعائے مغفرت:۔

مرحومہ حمیرا اصغر علی پر میں کوئی تمہت نہیں باندھ رہا اور نہ ہی میرا مقصد اُنکی کردار کشی ہے ۔ ہوسکتا ہے اُنکی موت کا سبب کوئی اور ہو اور اتفاقاً ایسا ہوا ہو کہ وہ اس حال کو پہنچ گئیں ۔ ورنہ میرا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ وہ شوبز اور دکھاوے کی دنیا جس کے لئے آج سارے نوجوان ترس رہے ہیں اور خاص طور پر گھروں میں بیٹھی لڑکیاں بھی اپنی تصویریں بنا بنا کر اسٹیٹس پر لگاتی ہیں ۔ ہیروئن والے پوز بنا کر سب کو دکھاتی ہیں کہ ہم کس قدر خوبصورت لگ رہی ہیں ۔ اپنے خاوند کے علاوہ وہ پوری دنیا کو اپنی خوبصورتی دکھانے کی خواہشمند ہوتی ہیں ۔ تو ایسی نادان لڑکیوں کے لئے عبرت کے یہ واقعات اور حقائق ضرور سامنے لانے چاہئے ۔

پردہ اور حیا سے متعلق کتابوں کو عام کرو:۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ وامان میں رکھے ۔میں خاص طور پر اس موقع پر لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ ہمارے بک اسٹور پر موجود یہ چند کتابیں خود بھی پڑھیں اور اپنی ماں بیٹی اور بہن کو بھی پڑھائیں تاکہ اپنا فریضہ ادا ہوجائے پھر بس دعا کے علاوہ بندہ کچھ کر نہیں سکتا ۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور اُسکے حال پر رحم فرمائے ۔ اور ہم سب کو بھی آخرت کی تیاری مرنے سے پہلے پہلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop