عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے

عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے

آج کل عمرے کے سفر کا رجحان جس رفتار سے بڑھ رہا ہے، وہ دیکھ کر ایک خوشی بھی محسوس ہوتی ہے اوراس چیز کا احساس بھی ہوتا ہے کہ پاکستان میں لوگوں کا دین اسلام کی طرف کتنا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔ خاص طور پر مالدار افراد میں یہ زیادہ کوشش ہوتی ہے کہ جیسے ہی حالات سازگار ہوں، فوراً اس مبارک سفر پر روانہ ہو جائیں۔ اس رجحان کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ زندگی کی گہماگہمی میں کچھ لمحے ایسے ضرور نکالے جائیں جن میں دل، زبان اور نگاہیں صرف اللہ کے گھر اور روضۂ رسول ﷺ کی طرف متوجہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بیت اللہ شریف کی زیارت، گنبدِ خضریٰ کی حاضری اور حرمین شریفین میں نمازوں کی سعادت حاصل کرنا بہت سے لوگوں کی اولین خواہش بن چکی ہے۔

دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کہ آج کا سفر پہلے کے مقابلے میں بہت سہل ہو گیا ہے۔ اگر مالی استطاعت ہو تو ٹکٹ، ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور ویزہ جیسے مراحل اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگئے ہیں۔ جدید ائیرلائنز، آن لائن بکنگ سسٹم اور فوری اپڈیٹس نے وہ رکاوٹیں ختم کر دی ہیں جو کبھی کئی دنوں اور ہفتوں پر محیط ہوتی تھیں۔ یہی نہیں، عمرہ پیکجز مہیا کرنے والے ایجنٹ حضرات بھی بیشتر انتظامی مشکلات کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر حل کر دیتے ہیں، جس سے مسافر کو زیادہ ذہنی بوجھ نہیں اٹھانا پڑتا۔ ہاں! چند مشکلات جیسے تھکن، موسم، یا سفر کی عمومی پریشانی تو بہرحال رہتی ہیں، مگر مجموعی طور پر یہ سفر پہلے کے مقابلے میں نہایت آسان ہو چکا ہے — اور یہی آسانی بہت سے لوگوں کو بار بار سفر کرنے پر ترغیب دیتی ہے۔

پاکستان میں آج کل حج و عمرہ ایجنٹس کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کہا جا سکتاہےکہ“جہاں اینٹ اٹھائیں، نیچے سے ایک ایجنٹ نکل آتا ہے۔” یہ بات اگرچہ بطور مزاح ہے مگر حقیقت اس کے قریب قریب ہی ہے۔ باقاعدہ دفاتر تو اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ غیر رسمی طور پر چلتے پھرتے افراد بھی اس شعبے میں قدم جما چکے ہیں۔ کہیں کوئی مولوی صاحب اپنی مسجد یا مدرسے کے ساتھ ساتھ اس سائیڈ بزنس کو سنبھال رہے ہیں، تو کہیں کاروباری افراد نے اسے اضافی آمدنی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ نوجوان طبقہ بھی اس میدان میں پیچھے نہیں؛ بہت سے اسٹوڈنٹس ٹکٹنگ، بکنگ اور بنیادی سفری مراحل سیکھ کر باقاعدہ گروپس بنا کر امت کو عمرے پر بھیج رہے ہیں۔ یہ تنوع اور آسان رسائی خود اس بات کی علامت ہے کہ لوگوں کے لیے یہ سفر پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ دستیاب، قابلِ فہم اور سہل ہو چکا ہے۔

ان سہولیات کی وجہ سے لوگوں کا رجحان بھی بہت بڑھ رہا ہے۔ پہلے جہاں لوگ صرف مخصوص بڑے دفاتر سے رابطہ کرتے تھے، اب ان کے محلے، احباب یا جاننے والوں میں بھی کوئی نہ کوئی ایسا ضرور مل جاتا ہے جو فوری رہنمائی کر دے۔ اورلوگ ایسے ایجنٹس سے معاملہ کرناآسان سمجھتے ہیں جنہیں وہ ذاتی طور پر جانتے ہیں اور ان پر جلدی اعتماد بھی کرلیتےہیں۔ پھر قیمتوں میں مقابلہ، چاہے اچھا ہو یا برا، بہرحال لوگوں کے لیے ایک آپشن ضرور بن جاتا ہے کہ ہمارا فلاں جاننے والا بھی یہی کام کرتا ہے تو اُسی سے رابطہ کرلیتےہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایجنٹس کی کثرت نے بھی اس سفر کو مزید آسان کردیا ہے، جس کے نتیجے میں عمرے کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

عمرہ کے سفر پر جانے سے پہلے حقیقی روحانی تیاری بہت ضروری ہے:۔

بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی درست ہے کہ ہمارے ہاں عمرے پر جانے والے زیادہ تر زائرین کے دل محبتِ حرمین سے لبریز ہوتے ہیں، لیکن ان کے ذہن میں جو سب سے پہلی تیاری آتی ہے وہ صرف  یہی ہوتی ہے کہ ہم ضروری چیزیں پیک کرلیں اور عمرے کے مسائل جان لیں اور کوئی چھوٹی سی کتاب ساتھ رکھ لیں ۔ عملی طور پر بہت سے لوگ صرف اتنا سمجھتے ہیں کہ ایک چھوٹا سا کتابچہ خرید لینا کافی ہے۔ چھوٹے سے کتابچے کا تکلف بھی اسی لئے کرتے ہیں کہ فوراً پڑھ لیا جائے اور زیادہ تکلیف نہ کرنی پڑے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر یہی مختصر کتاب بھی سفر سے پہلے نہیں پڑھتے۔ اسے سامان میں رکھ دیا جاتا ہے اور پھر جہاز، ہوٹل یا مناسک کے دوران “پڑھتے پڑھتے” کام چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پورا زور صرف انہی مسائل پر ہے اور پوری توجہ اسی پر ہے کہ کسی نہ کسی طرح عمرہ پورا ہوجائے۔

لیکن اصل سوال یہ ہے: جب مسائل کا علم ہو جائے، عمرہ کر لیا جائے، تو پھر آگے کیاکریں؟ یہ ایک ایسی فکر والی بات ہے جس سے اکثر لوگ غافل ہوجاتے ہیں۔یاد رکھیں کہ یہ مقدس سفر صرف اور صرف عمرہ کرنے کا نام نہیں ہے۔بلکہ یہ روح کو پاک کرنے، عبادات میں مشغول ہونے اور اعمال میں درستگی لانے کا بھی اک بہت بڑا موقع ہوتا ہے ۔ مگر ہم میں سے اکثر افرادمحض عمرہ کا  طریقہ تو سیکھ لیتے ہیں مگر اس سفر کے دیگر مقاصدکو نہیں سمجھتے۔ تلبیہ، طواف، سعی، دعا—یہ سب اعمال اپنی جگہ اہم ہیں، مگر ان کے نتیجے میں دل میں کیا تبدیلی پیدا ہونی چاہیے؟ یہ تبدیلی کیا گھر واپس آتے ہوئے بھی باقی رہنی چاہیے؟ کیا عمرے کے بعد کی زندگی بھی کسی نئے رخ پر چلنا چاہیے؟ یہی وہ پہلو ہے جوپیچھے رہ جاتے ہیں اور انکی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عمرہ، جو ایک اہم روحانی سفر تھا، محض “ٹور مکمل کرنے” کے درجے میں آ جاتا ہے۔ بہت سے لوگ واپسی پر اعتراف کرتے ہیں کہ انہیں روحانی طور پر وہ اثر محسوس نہیں ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔

عمرہ کرنے کے بعد کیا کریں؟

عمرے کے سفر میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہوتا ہے جب زائرین ایک ماہ یا اکیس بائیس دن کے لیے روانہ ہوتے ہیں، لیکن وہاں پہنچ کر چند دنوں میں مناسک ادا کرکے یکدم خالی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ پہلے دو تین دن طواف، سعی اور دعاؤں میں خوب گزرتے ہیں، تھکن بھی اتر جاتی ہے، دل میں ایک سکون سا اترتا ہے — مگر آہستہ آہستہ بوریت شروع ہوجاتی ہے کیونکہ عبادات کا اتنا ذوق تو بنایا ہی نہیں تھا ۔ اب آگے کیا کیا جائے؟ چونکہ پہلے سے منصوبہ بندی نہیں ہوتی، اس لیے اگلا قدم خودبخود سیر و تفریح، گھومنے پھرنے، یا محض وقت گزارنے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بہت سے لوگ محسوس کیے بغیر روحانی سفر کو “ٹور ٹرپ” میں بدل دیتے ہیں۔حرم کے قریب رہ کر جب نمازوں کا وقت آتا ہے تو ایک یا دو نمازیں پڑھ لی جاتی ہیں، اور باقی وقت بازار، پلازوں، کھانے پینے اور شاپنگ میں گزر جاتا ہے۔ کچھ لوگ یہ سوچ کر ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ گزار دیتے ہیں کہ دوبارہ عمرہ کر لیں گے، اور پھر ذہن مطمئن ہو جاتا ہے کہ ہم نے کچھ نہ کچھ تو کر لیا۔

مدینہ منورہ پہنچ کر معاملہ مزید قابل رحم اور افسوسناک ہو جاتا ہے۔ وہاں جہاں دل کی دنیا بدلنے کا سنہری موقع ملتا ہے، وہیں بہت سے زائرین اپنے وقت کا بڑا حصہ بازاروں، ریستورانوں، موبائل شاپس، یا پھر صرف سیلفیوں اور ویڈیو کالز میں گزار دیتے ہیں۔ گنبدِ خضریٰ کے سائے میں جہاں آنکھیں بھیگ جانی چاہئیں، وہاں کیمرے کے فلٹرز بدلتے رہتے ہیں۔

حرمین کی فضیلت اور اہمیت کو اچھی طرح سمجھنا ضروری ہےورنہ نقصان کا خطرہ ہے

عمرے کے سفر میں جو بے ربطی، بے سکونی اور وقت کے ضیاع کی شکایات سامنے آتی ہیں، ان کی جڑ ایک ہی ہے:شعور کی کمی۔ ہم لوگ اس سفر کی اہمیت کو نہیں سمجھتے ۔ احرام کیسے باندھنا ہے؟ طواف کیسے کرنا ہے؟ کن کن باتوں سے بچنا ہے؟ — بس یہی چند بنیادی نکات پڑھ لیے جاتے ہیں، اور انسان سمجھ لیتا ہے کہ اب میں پوری طرح تیار ہوں۔ حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر کوئی شخص دو لاکھ یا اس سے زائد رقم خرچ کرکے اس قدر عظیم سفر پر جا رہا ہے تو کیا پانچ سات ہزار روپے کی چند کتابیں خرید کر پڑھ لینے سے کوئی نقصان ہو جائے گا؟ یقیناً نہیں۔ بلکہ اس کا فائدہ ہی فائدہ ہے — فائدہ ذہنی بھی، روحانی بھی اور عملی بھی۔

یادرکھیں!اس مقدس اور قیمتی سفر کو شروع کرنے سے پہلے اور بھی بہت کچھ جاننا ضروری ہوتا ہے مثلاً بیت اللہ کی عظمت کیا ہے؟ اس گھر کے ساتھ اللہ کا تعلق کیا ہے؟ حجراسود کی حیثیت کیا ہے؟ طواف کا اصل مقصد کیا ہے؟ سعی کی حکمت کیا ہے؟ مسجد الحرام میں ایک نیکی کا وزن کیوں بڑھ جاتا ہے؟ مدینہ منورہ کے آداب کیا ہیں؟ روضۂ مبارک کے سامنے کس کیفیت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے؟ کون سی دعائیں وہاں زیادہ موزوں ہیں؟ کون سی جگہیں تاریخِ نبویؐ کا حصہ ہیں؟ اگر یہ سب کچھ معلوم نہ ہو تو عمرہ صرف ایک رسمی عمل بن کر رہ جاتا ہے، عبادت نہیں بنتا۔ دل متاثر نہیں ہوتا، نگاہ بدلتی نہیں، روحانیت میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں ہوتی ۔ بہت سارے لوگ لوگ کئی کئی دن وہاں بیٹھ کر بھی خالی  لوٹ آتے ہیں۔

اسی لیے ضروری ہے کہ انسان کچھ ایسی کتابیں ضرور پڑھے جو اس مقدس سفر کے روحانی پہلو، اخلاقی آداب، تاریخی حقائق اور عملی رہنمائی سکھاتی ہوں ۔ یہ جو کتابیں میں آپکو بتا رہا ہوں ، یہ صرف معلومات نہیں دیتیں، بلکہ انسان کے دل و دماغ میں ایسا شعور بیدار کرتی ہیں کہ پھر مسجد الحرام کی ہر نماز، طواف کا ہر چکر، اور مدینہ کی ہر گلی پہلے سے زیادہ مؤثر محسوس ہوتی ہے۔ ہر لمحہ قیمتی اور ہر قدم بابرکت بن جاتا ہے۔

عمرہ کی حقیقی تیاری کے لئے لازمی یہ کتب پڑھ لیں:۔

جب انسان عمرے جیسے بابرکت سفر پر جانے کی تیاری کرتا ہے تو عموماً ٹکٹ، ہوٹل، ویزہ اور سامان کی فہرستیں اس کی ساری توجہ کھینچ لیتی ہیں۔ لیکن اصل فائدہ اُس وقت ملتا ہے جب وہ روحانی تیاری بھی اسی سنجیدگی سے کرتا ہے، اور یہ روحانی تیاری اچھی کتابوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے یہ کتابیں صرف شوقیہ نہیں پڑھنی بلکہ انکو ضروری سمجھ کر پڑھنا ہے۔ اوریہ بھی ضروری نہیں کہ یہ کتابیں وہاں جا کر ہی کھولی جائیں؛ انہیں گھر پر بھی پڑھا جا سکتا ہے، دورانِ سفر بھی، اور سفر کے وقفوں میں بھی۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاز میں انسان اکثر فارغ بیٹھا ہوتا ہے، کئی گھنٹے ائیر پورٹ پر بھی گزارنے پڑتے ہیں — یہ تمام موقعے مطالعے کے لئے بہترین ہوتے ہیں، لیکن ہم اکثر ان اوقات کو موبائل اسکرین، سوشل میڈیا یا بے مقصد وقت گزارنے میں لگا دیتے ہیں۔

دوستو! میرا مشورہ یہ ہے کہ اگر چند ہزار روپے کی کتابیں ایک ایسے سفر کو قیمتی بنا دیں جس پر آپ لاکھوں خرچ کر رہے ہوں، تو یہ سب سے بہترین سرمایہ کاری ہے۔ ان کتابوں کے مطالعہ سے نہ صرف علم میں اضافہ ہوگا بلکہ اعمال بھی درست ہوں گے اور اس اہم سفر کے آداب بھی پتہ چل جائیں گے۔ کیونکہ جب انسان آداب نہیں جانتا تو نادانستہ غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں، اور بعض اوقات انہی غلطیوں کی وجہ سے وہ ثواب ضائع ہونے کے خدشے میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مسجد نبوی کے اندر بلند آواز میں بات کرنا، نازیبا ہجوم میں شامل ہو جانا، یا طواف کے دوران غیر ضروری رویہ اختیار کرنا — یہ سب چیزیں آداب نہ جاننے کی صورت میں پیش آتی ہیں اور یہ معاملہ بہت حساس ہے جیسے کسی بادشاہ کے دربار میں پیش ہوتے وقت وہاں سے بہت سارے خزانے ملنے کی امید ہوتی ہے تو ساتھ ساتھ ایک خوف بھی ہوتا ہے کہ کہیں کوئی بے ادبی یا گستاخی ہوگئی تو پھر ہمیں دربار سے نکال دیا جائےگا۔ بالکل ایسے ہی مدینہ منورہ میں بھی انسان کو بہت فیض اور روحانیت ملتی ہے لیکن اگر بے ادبی اور گستاخی ہوگئی تو پھر؟؟؟
یہی وہ کمزوریاں ہیں جو مطالعہ کرنے اور حقیقی تیاری کرنےسے ختم ہوسکتی ہیں۔چنانچہ جب کوئی مسافر یہ چند بنیادی کتابیں اپنے ساتھ رکھتا ہے اور ان کا مطالعہ کرتا ہے، تو وہ صرف ایک مسافر نہیں رہتا بلکہ ایک باشعور عاشقِ حرمین بن کر چلتا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو با ادب حاضری نصیب فرمائے، وہ حاضری جو دل بدل دے، زندگی سدھار دے اور آخرت سنوار دے۔

حرمین شریفین میں حاضری کا صحیح طریقہ اور آداب :۔

جب ہم حرمین شریفین کے تقدس اور وہاں کے آداب میں کوتاہی کرتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ صرف ایک ہوتی ہے: ہمیں ان مقامات کی عظمت کا صحیح اندازہ نہیں ہوتا۔ آدمی کا دل جس چیز کی حقیقت اور شان کو سمجھ لیتا ہے، اس کے سامنے خود ہی جھک جاتا ہے۔ اگر ہمیں واقعی معلوم ہو جائے کہ مسجد الحرام میں نماز کا ثواب کتنا بڑھ جاتا ہے، روضۂ رسول ﷺ کے فیضان کیسی روحانی کیفیت عطا کرتے ہیں، اور بیت اللہ شریف کے صرف دیکھنے سے بھی دل کا تزکیہ کیسے ہوتا ہے — تو یقین کریں، ہمارے قدم، ہماری نظر، ہماری گفتگو سب خود بخود ادب میں ڈھل جائیں۔  اگر کسی کو معلوم ہو جائے کہ ایک نفل وہاں ہزاروں نفلوں کے برابر ہے، تو کیا وہ بازاروں میں ٹہلنا پسند کرے گا؟ اگر اسے پتا ہو کہ اولیاء اللہ کس ادب سے حاضری دیتے تھے—نگاہ نیچی، دل جھکا ہوا، زبان پر درود—تو کیا وہ سیلفی لینے میں مصروف رہے گا؟ اگر اسے معلوم ہو کہ کعبہ کی طرف دیکھنا بھی عبادت ہے، تو کیا وہ اپنا وقت غیر ضروری گپ شپ میں گزارے گا؟ بالکل نہیں ۔
اسی لئے یہ سب چیزیں پہلے سے پڑھ لیں اور انکے لئےپہلی کتاب فیضانِ روضۃ النبی ﷺ ہے—جو روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو بڑھا دینے میں بے مثال کتاب ہے۔ آپ اس کی تفصیلات اور اندرونی صفحات اسی لنک پر دیکھ سکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/fzrn/

عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے
عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے

یہ کتاب مدینہ منورہ کے فیضان، آدابِ زیارت، ادبِ روضہ مبارک، وہاں کی فضیلتوں، تاریخی پہلوؤں اور ان روحانی کیفیتوں کا جامع تعارف پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب بتاتی ہے کہ مدینہ میں کیسے چلنا ہے، کیسے بولنا ہے، کس دل کی کیفیت سے سلام پیش کرنا ہے، اور کس طرح یہ شہر دلوں کو بدل دینے کا راز رکھتا ہے۔ جو شخص یہ کتاب پڑھ کر جاتا ہے، وہ مدینہ میں صرف زائر نہیں رہتا—محبوبِ خدا ﷺ کا عاشق اور باادب مہمان بن کرجاتا ہے۔

یاد رکھیں !حرمین کے آداب سیکھنا صرف معلومات یا مطالعہ کا معاملہ نہیں بلکہ یہ دل کی تربیت ہے۔ اس تربیت کے لئے دو اہم ترین کتابیںسوئے حرم مدینۃ المنورہ اور سوئے حرم مکۃ المکرمہ۔ پہلی کتاب کی تفصیلات آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/shmj2/
اور دوسری کتاب کی تفصیلات اس لنک پر موجود ہیں:
https://kitabfarosh.com/product/shmj1/

عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے
عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے

یہ دونوں کتابیں اس لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ صرف احکام نہیں بتاتیں، بلکہ دل کا حال بدلنے والی کہانیاں، واقعات اور نصیحتیں پیش کرتی ہیں۔ ان میں مدینہ طیبہ کی گلیوں کی خوشبو، مسجد نبوی کے آداب، سلامِ حضور ﷺ کی کیفیت، اہلِ مدینہ کا ادب، اور روضۂ مبارک کے حضور جانے والے بزرگانِ دین کے واقعات اس طرح بیان کیے گئے ہیں کہ قاری صرف پڑھتا نہیں بلکہ محسوس کرتا ہے۔ یہی کیفیت اسے اس سفر میں نئے جذبات دیتی ہے اور محبت کا نیا رخ دکھاتی ہے۔

اسی طرح “سوئے حرم مکۃ المکرمہ” میں کعبہ شریف کے آداب، طواف کی حقیقت، حطیم کی فضیلت، مقامِ ابراہیم کی اہمیت، صفا و مروہ کی تاریخ، بیت اللہ کے احترام اور وہاں کے روحانی ماحول کو بدل دینے والے واقعات انتہائی اثر آفرین انداز میں بیان کیے گئے ہیں۔ یہ کتابیں انسان کو بتاتی ہیں کہ حرم کے اندر کیسے چلنا ہے، کس انداز سے دعا کرنی ہے، کس طرح نگاہ کو قابو میں رکھنا ہے، اور بیت اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر دل کو کیسے جھکانا ہے۔ ان صفحات میں ایسی مٹھاس اور ایسی حلاوت ہے کہ قاری صرف پڑھ کر ہی اپنے اندر تبدیلیاں محسوس کرنے لگتا ہے اور جذبات بھر آتے ہیں۔اِن دونوں کتابوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ آداب کو حکایات کے ساتھ سکھاتی ہیں، جس سے بات دل میں فوراً اتر جاتی ہے۔ واقعات کے ذریعے دی گئی نصیحت کبھی بھولی نہیں جاتی، اور یہی نصیحت جب حرمین میں قدم رکھتے وقت یاد آتی ہے تو بندہ خود کو پہلے سے زیادہ ادب و انکساری کے ساتھ پاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان تازہ ہو جاتا ہے، دل نرم ہو جاتا ہے، اور عبادت کا ذوق کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

یقین مانیے، جو شخص یہ دونوں کتابیں پڑھ لیتا ہے، اس کا سفر صرف عمرہ تک محدود نہیں رہتابلکہ اور بھی بہت کچھ اس سفر میں اُسکو عطا ہوتاہے۔کیونکہ جب محبت، ادب اور عشق بڑھ جائے تو ثواب خود بخود بڑھ جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ ادب والوں کی حاضری کو زیادہ قبولیت بخشتا ہے۔

آپ یہ دونوں کتابیں ایک ساتھ بھی آرڈر کر سکتے ہیں، اس کا لنک یہ ہے:۔
https://kitabfarosh.com/product/suhm/

عمرہ کیسے کریں اور کون کون سی دعائیں پڑھیں؟

یہ بات بھی حقیقت ہے کہ عمرے کے سفر میں صرف جذبات کافی نہیں ہوتے۔ قدم قدم پر ایسی عملی رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے جو انسان کو بھٹکنے نہ دے اور اس کی عبادت کو کامل بنائے۔ اسی لیے دو کتابیں ایسی ہیں جن کے بغیر آپ کا عمرہ حقیقتاً مکمل نہیں ہو سکتا۔ پہلی کتاب ہے حج و عمرہ کے مسائل اور احکام و طریقہ—ایک مختصر مگر انتہائی جامع کتابچہ ورسالہ۔ آپ اس کی تفصیل یہاں دیکھ سکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/hju/
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اس کی ہمہ وقت دستیابی ہے۔ یہ اتنی ہلکی اور مختصر ہے کہ آسانی سے جیب، پرس یا ہاتھ کے بیگ میں رکھی جا سکتی ہے۔ طواف سے پہلے کیا کرنا ہے؟ سعی کے دوران کیا پڑھنا ہے؟ احرام میں کون سی چیزیں ممنوع ہیں؟ حاجی کن غلطیوں کی وجہ سے ثواب کم کر بیٹھتے ہیں؟ اور کن مواقع پر انسان کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے؟—یہ سب کچھ مختصر، واضح اور ترتیب وار انداز میں درج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتابچہ ایک ایسے ساتھی کی طرح ہے جو ہر موڑ پر آپ کی رہنمائی کرتا ہے، غلطی سے بچاتا ہے اور عبادت کو درست سمت میں رکھتا ہے۔

عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے
عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے

ظاہری اعمال اورمسائل کے ساتھ ساتھ وظائف کی بھی یہ دوسری کتاب—مبارک مجموعہ وظائف—اپنے ساتھ رکھ لیں۔اسکی تفصیل یہاں موجود ہے:۔
https://kitabfarosh.com/product/mmwa/
یہ مجموعہ دراصل ایک روحانی خزانہ ہے۔ اس میں مناجاتِ مقبول، ستر کلماتِ استغفار، درودِ پاک کے مسنون اذکار، اور درجنوں دعائیں شامل ہیں جو نہ صرف سفرِ عمرہ میں آپکا ساتھ دیں گی بلکہ پھر یہ کتاب پوری زندگی بھی آپکی ایک بہترین رفیقہ بن سکتی ہے ۔ سب سے بڑھ کر اس کتاب میں موجود وظائف قرآن و حدیث سے ثابت ہیں، اس لیے پڑھنے والا ہر لفظ اعتماد، محبت اور یقین کے ساتھ پڑھ سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو نہ صرف سفر میں کام آتی ہے بلکہ زندگی بھر کے ہر موڑ اور ہر مشکل میں دل کو سہارا دیتی ہے۔اگر آپ یہ کتاب حاصل کرلیتے ہیں تو عمرہ کے سفر کے دوران اور وہاں سے واپسی کے بعد یہ کتاب آپ کے ساتھ آپکو فائدہ دیتی رہےگی۔

عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے
عمرہ کوئی سیرو سیاحت کا نام نہیں ہے بلکہ باادب حاضری کا نام ہے

کتاب فروش کا تعارف:۔

اوپر موجود تمام کتابیں آپ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور سے حاصل کرسکتے ہیں۔ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور ایک آن لائن کتب خانہ ہے۔ الحمدللہ، اب تک ہزاروں آرڈرز پورے پاکستان میں کامیابی کے ساتھ ڈیلیور کیے جا چکے ہیں، اور یہی اعتماد ہماری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ ہمٹی سی ایس کی تیز ترین سروس استعمال کرتے ہیں، جس کے ذریعے اکثر کتابیں اگلے ہی دن آپ تک پہنچ جاتی ہیں۔ کتابوں کی پیکنگ مضبوط، صاف ستھری اور محفوظ ہوتی ہے تاکہ کتاب کا سفر بحفاظت ہو اور آپ تک اچھی حالت میں کتابیں پہنچ جائیں۔۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ ہم پ بھروسہ کرتے ہیں، اور ہم اس بھروسے کو اپنی خوش نصیبی سمجھتے ہیں۔ آپ بھی ہمیں خدمت کا موقع دیں—یہ کتابیں ضرور منگوائیں، تاکہ آپ کا سفر صرف مکمل ہی نہیں بلکہ یادگار بھی بن جائے۔

مزید برآں، اگر آپ کا کوئی عزیز، دوست، شاگرد، یا خاندان کا فرد عمرے پر جا رہا ہو تو اسے یہ کتابیں گفٹ کرنا بہترین نیکی ہے۔ جس بھی دعا، وظیفے یا دینی حکم پر وہ عمل کرے گا، اس کا ثواب آپ کو بھی ملتا رہے گا۔ یہ صدقۂ جاریہ کا آسان ترین ذریعہ ہے۔

اگر ویب سائٹ سے آرڈر کرنے میں کوئی مشکل پیش آئے تو آپ براہِ راست ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں:۔
WhatsApp: 0345-0345581
مزید معلومات، رہنمائی یا کوئی بھی سوال ہو تو بلا جھجھک ہمیں میسج کریں۔ اور فیس بک پیج کو فالو کرنا نہ بھولیں:
https://www.facebook.com/taleefat


You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop