مسلم نوجوانوں کی رہنمائی کے لئے سب سے اہم کتاب اور اسکی 6 خصوصیات
تاریخِ اُمتِ مسلمہ اُن نایاب کتابوں میں سے ایک ہے جنہیں پڑھنا صرف مطالعہ نہیں بلکہ ایک فکری تجربہ محسوس ہوتا ہے۔ جب میں نے اسے پہلی مرتبہ کھولا تو دل میں تاریخ کی کتابوں کے بارے میں پہلے سے موجود ایک بے اعتمادی اور ایک عجیب سی بے رغبتی بیٹھی ہوئی تھی۔ مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ تاریخ کی کتابیں خشک، ثقیل اور بے روح ہوتی ہیں۔ جن میں محض واقعات کی قطاریں اور ماہ و سال کے اعداوشمار لکھے ہوتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی میں نے اس کتاب کے چند ابتدائی صفحات پڑھے تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ کوئی عام کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسا صاف شفاف آئینہ ہے جس میں پوری اُمت کا ماضی، اس کی جدوجہد، اس کے زوال و عروج کی تصویر اور اس کے روحانی سفر کے تمام نقش ایک ایک کرکے ابھرنے لگتے ہیں۔
Table of Contents
اس کا اسلوب ایسا ہے کہ قاری رکتا ہی نہیں۔ واقعات کی ترتیب، حوالوں کی مضبوطی، زبان کی روانی اور تاریخی واقعات کو ایسے بیان کرنا کہ وہ آنکھوں کے سامنے زندہ مناظر کی طرح محسوس ہوں — یہ سب وہ خوبیاں تھیں جنہوں نے مجھے حیرت میں ڈال دیا۔ میں نے سوچا تھا شاید چند صفحات پڑھ کر کتاب کو رکھ دوں گا، مگر ہوا اس کے بالکل الٹ۔ میں جتنا آگے بڑھتا گیا، دلچسپی اُتنی ہی زیادہ گہری ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ ایک ہی نشست میں میں نے کتاب کا بڑا حصہ ختم کر ڈالا، حالانکہ میں ایسا کبھی نہیں کرتا تھا۔
پہلی دو جلدیں ختم کرنے کے بعد دل میں ایک عجیب سا تجسس تھا کہ شاید میں نے کچھ باتیں سرسری پڑھ لی ہوں۔ چنانچہ میں نے آگے جانے کے بجائے دوبارہ شروع سے مطالعہ کیا — اور ہر بار نئے نکات، نئے پہلو اور نئی حکمتیں سامنے آتی چلی گئیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ اس کتاب کو میں کئی مرتبہ پڑھ چکا ہوں، اور اس کی محبت دل میں ویسی ہی تازہ ہے جیسی پہلی بار تھی۔ سفر میں میں کبھی بہت زیادہ کتابیں ساتھ نہیں لے جاتا، مگر چند پسندیدہ کتب ہمیشہ میرے بستے میں ہوتی ہیں — اور تاریخِ اُمتِ مسلمہ اُن میں ہمیشہ شامل رہتی ہے۔ یہ کتاب صرف ماضی نہیں بتاتی، یہ شعور بیدار کرتی ہے، ایمان کو تازگی دیتی ہے اور انسان کو اپنی اصل سے جوڑنے کا کام کرتی ہے۔ یعنی مسلمانوں کو یہ پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ہماری اصل کیاہے، ہمارے آباؤاجداد کیا تھے اور ہمارے ایمان کے تقاضے کیا کیا ہیں۔
اپنی تاریخ سے غفلت نوجوان نسل کی سب سے بڑی کمزوری ہے
یہ سمجھ لیجئے کہ تاریخِ اُمتِ مسلمہ محض ایک کتاب نہیں، بلکہ آج کے ہر نوجوان اور ہر مسلمان کے لیے ایک فکری ضرورت ہے۔ ہم جس دور میں جی رہے ہیں، وہ ذہنی انتشار اور فکری کمزوری کا دور ہے۔ جب کوئی قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے تو وہ اپنی اصل، اپنی بنیاد، اپنی طاقت اور اپنی پہچان کھو دیتی ہے۔ جو قوم اپنے ماضی کو بھلا بیٹھے، اس کا مستقبل بھی دھندلا ہو جاتا ہے، کیونکہ تاریخ ہی وہ چراغ ہوتی ہے جو آنے والے راستے روشن کرتی ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ جس قوم کو اپنی تاریخ کا علم نہ ہو، وہ مستقبل میں ٹھوکریں کھاتی رہتی ہے۔ہماری بدقسمتی یہی رہی کہ ہم مسلمانوں نے اپنی ہی شاندار تاریخ کو پسِ پشت ڈال دیا۔ ہم نے وہ سنہری دور بھلا دیا جب مسلمان صرف ایک قوم نہیں تھے بلکہ دنیا میں علم، تہذیب، حکمت، سائنس، سیاست، اخلاق اور بہادری کے امام تھے۔ آج کا نوجوان شاید نہیں جانتا کہ وہ کن عظیم لوگوں کی اولاد ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ مسلمانوں نے مختلف صدیوں میں کتنی حیران کن فتوحات حاصل کیں، کتنے شاندار کارنامے انجام دیے، اور کس طرح پوری دنیا میں عدل، علم اور ترقی کا نظام قائم کیا۔ جب قوم کے نوجوان اپنی تاریخ سے ناواقف ہو جاتے ہیں تو اُن میں خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے، وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں، اور پھر دوسری قومیں انہیں آسانی سے مغلوب کر لیتی ہیں۔
تاریخِ اُمتِ مسلمہ نوجوانوں کیلئے ایک ایسی روشنی ہے جو اُنہیں اُن کے اصل مقام، اصل شناخت اور اصل ورثے سے دوبارہ جوڑ دیتی ہے۔ اسے کم از کم ایک مرتبہ ضرور پڑھیں، اور اپنے دوستوں کو بھی متعارف کروائیں تاکہ یہ بیداری صرف ایک فرد تک محدود نہ رہے، بلکہ پوری نسل تک پہنچے۔ بلکہ والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی نوجوان اولاد کو یہ کتاب ضرور پڑھائیں، تاکہ وہ جان سکیں کہ وہ کس عظیم امت کے فرد ہیں۔ یہ کتاب اُن کے ذہن کو جگائے گی، اُن کا حوصلہ بڑھائے گی اور اُنہیں فکر اور ایمان دونوں میں مضبوط کرے گی۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی (تحقیق اور مکمل سند)۔
تاریخِ اُمتِ مسلمہ کی خوبیوں میں سے ایک دو نہیں، بے شمار خصوصیات ہیں، مگر سب سے نمایاں خصوصیت اس کا علمی اور تحقیقی طور پر مضبوط ہونا ہے۔ عام تاریخ کی کتابوں میں عموماً دو بڑی کمزوریاں پائی جاتی ہیں: یا تو وہ غیرمستند روایات سے بھری ہوتی ہیں، یا پھر مصنف اپنی رائے اور جذبات کے تحت واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، جس سے کتاب کا اعتبار مجروح ہو جاتا ہے۔ لیکن اس کتاب میں یہ دونوں خامیاں نہیں ہیں۔ اس کا ہر صفحہ، ہر واقعہ، ہر بات ایسی ٹھوس تحقیق اور مضبوط حوالوں کے ساتھ لکھی گئی ہے کہ قاری بلا جھجھک اس پر اعتماد کر لیتا ہے۔ یہ کتاب محض بیانِ تاریخ نہیں بلکہ ایک ایسا مستند دستاویز ہے جسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے محض لکھنے کا کام نہیں کیا، بلکہ تحقیق، تصدیق، اور حوالہ جات کے پورے پورے سمندر چھان مارے ہیں۔
اس کتاب کی سب سے پہلی چیز جو قاری کو متاثر کرتی ہے وہ یہی ہے کہ اس میں کوئی من گھڑت بات، کوئی شاعرانہ انداز، کوئی جذباتی مبالغہ آرائی نہیں ملتی۔ ہر واقعہ اصل ماخذ سے لیا گیا ہے—چاہے وہ ابتدائی اسلامی کتب ہوں، معتبر مورخین کی تحریریں ہوں، یا غیر مسلم مورخین کے حوالہ جات۔ مصنف نے کہیں بھی ذاتی خواہش کو تاریخ پر مسلط نہیں کیا بلکہ تاریخ کو اس کی اصل شکل میں بیان کیا ہے، جیسا کہ وہ تھی۔ میں خود ذاتی طور پر اس کتاب کے متعدد واقعات کو سند کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔ جب کوئی بحث سامنے آتی ہے، کوئی تاریخی نکتہ ذہن میں ابھرتا ہے، یا کسی واقعے کی اصل حقیقت جاننی ہوتی ہے تو میں بار بار اسی کتاب کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ میں نے کوئی بات پہلے بھی پڑھی ہوتی ہے مگر دوبارہ مراجعت کرنے پر اس میں ایک نیا زاویہ اور نئی فکر سامنے آتی ہے۔ اس کتاب کی یہی خصوصیت اسے عام کتابوں سے ممتاز کرتی ہے۔
شیخُ الاسلام مفتی تقی عثمانی مدظلہ العالی کا مقدمہ
تاریخِ اُمتِ مسلمہ کی جو دوسری بڑی خصوصیت ہے، وہ نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ اس کتاب کی علمی حیثیت کو چار چاند لگا دینے والی ہے۔ یہ خصوصیت ایسی ہے جو کسی بھی کتاب کے لیے بے مثال اور لازوال اہمیت رکھتی ہے—اور وہ یہ کہ اس کتاب پر شیخُ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے ایک طویل اور جامع مقدمہ تحریر فرمایا ہے۔ شیخُ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی علمی گہرائی، فقہی بصیرت، فکری توازن اور عالمی سطح پر ان کی غیر معمولی علمی قبولیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ جب ایسی شخصیت کسی کتاب کی توثیق کرے، اس کی تعریف کرے، اور اسے زمانے کے لیے ایک قیمتی علمی سرمایہ قرار دے، تو یہ بات خود اس کتاب کے شرف و عظمت کے لیے کافی ہے۔

یہ بات بھی کئی حلقوں میں وائرل ہوئی کہ جب شیخُ الاسلام مدظلہ العالی نے اس کتاب کا مطالعہ کیا تو انہوں نے نہ صرف تحریری مقدمہ لکھا بلکہ مصنف مولانا اسماعیل ریحان صاحب کو فون کرکے اپنی خوشی اور تحسین کا اظہار بھی فرمایا۔ انہوں نے کچھ اس طرح بھی اپنی رائے کا اظہار فرمایا تھا کہ “مجھ سے جب بھی کوئی نوجوان یا طالب علم پوچھتا تھا کہ تاریخِ اسلام کی کون سی مستند کتاب پڑھوں، تو میں جواب دینے میں ہچکچاتا تھا۔” مگر اس کے بعد انہوں نے فرمایا کہ “اب یہ خلا پُر ہوگیا ہے۔” یہ وہ کلمات ہیں جو کسی کتاب کے لیے ایک عظیم ترین سندِ قبولیت ہیں۔
حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب کا یہ کہنا کہ “یہ کتاب اب لائبریریوں کی زینت بنے گی” دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ تاریخِ اُمتِ مسلمہ محض ایک تالیف نہیں، بلکہ ایک معیار ہوگی—ایک ایسی مستند اور علمی کتاب جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی اور علم کا چراغ بن سکتی ہے۔ شیخُ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی تحریر اس کتاب کو صرف معتبر نہیں بناتی بلکہ اسے دورِ حاضر کے نوجوانوں اور طلبہ کے لیے ایک لازمی مطالعہ قرار دیتی ہے۔ ایک عالمی سطح کی علمی شخصیت کی جانب سے ایسی تائید، ایسی محبت اور ایسی تعریف یقیناً اس کتاب کی شہرت، قدر اور وقعت میں بے پناہ اضافہ کر دیتی ہے۔
مؤلف کی علمی شخصیت — اس کتاب کے معیار کی سب سے بڑی بنیاد
تاریخِ اُمتِ مسلمہ کی تیسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس عظیم الشان تصنیف کے مصنف مولانا اسماعیل ریحان صاحب کوئی عام یا روایتی مؤلف نہیں، بلکہ عصرِ حاضر کے اُن علمی شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے تاریخ کے فن میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔ وہ کئی سال تک جامعۃ الرشید جیسے معیاری ادارے میں تاریخ کے استاذ رہے، جہاں ان کے شاگرد نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ تاریخ کے اس قدر وسیع، دقیق اور متوازن فہم کا حاصل ہونا کسی معمولی بات نہیں۔ اس کے پیچھے دہائیوں کی محنت، مطالعہ، تحقیق، ہزاروں حوالہ جات، سینکڑوں کتب کا موازنہ، اور ایک مضبوط علمی پس منظر کارفرما ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر میں جہاں گہرائی ہے، وہیں استدلال، احتیاط اور امانت جیسے اوصاف بھی نمایاں ہیں۔
مولانا اسماعیل ریحان صاحب نے نہ صرف تاریخِ اسلام کے بڑے بڑے ادوار کو عالمانہ انداز میں مرتب کیا بلکہ واقعات کی ترتیب، پسِ منظر، اسباب و اثرات، اور شخصیات کی اصل حقیقت کو اس انداز سے بیان کیا ہے کہ قاری محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ پوری تصویر کو ذہن میں زندہ محسوس کرتا ہے۔ ان کی تحریر پڑھ کر بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ ایسی مستند، جامع اور مکمل تاریخ کوئی بھی عام انسان لکھ ہی نہیں سکتا۔ اس کے لیے صرف علم نہیں، بلکہ توازن، اخلاص، محنت، عربی و اسلامی مصادر سے واقفیت، اور تاریخ کی گہرائیوں میں اترنے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے—جو اللہ نے ان کو بھرپور دی ہے۔
اسی غیر معمولی علمی مقام اور ان کی تحقیقاتی صلاحیت کے سبب جب یہ کتاب منظرِ عام پر آئی تو علمی حلقوں میں ایک ہلچل سی مچ گئی۔ ہر طرف اس کے اسلوب، تحقیق اور معیار کی تعریف ہونے لگی۔ بہت سے علماء، طلبہ، مؤرخین اور محققین نے اعتراف کیا کہ اس معیار کی تاریخ صدیوں میں ایک بار سامنے آتی ہے۔ یہاں تک کہ انہیں احتراماً “مؤرخِ اسلام” کا لقب دیا گیا—اور یہ لقب اُن کے شایانِ شان تھا۔ ایسے مؤلف کی تحریر یقیناً امت مسلمہ کے لیے ایک نعمت اور مستقبل کی نسلوں کے لیے ایک علمی چراغ ہے۔
بہترین انداز میں — بوریت سے پاک، مسخ شدہ روایت سے محفوظ
تاریخ کی کتابوں کی دنیا میں ایک بڑی خرابی ہمیشہ سے موجود رہی ہے کہ ان میں بوریت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ زیادہ تر تاریخی کتابوں میں واقعات تو ہوتے ہیں، مگر اُن کے ساتھ تاریخوں کی ایسی بھرمار کر دی جاتی ہے کہ قاری چند صفحات کے بعد ہی ذہنی تھکاوٹ محسوس کرنے لگتا ہے۔ ایک ہی واقعے کو مختلف سالوں اور مختلف مؤرخین کے حوالوں کے ساتھ بار بار ذکر کرنا عام قارئین کے لیے ناقابلِ برداشت ہوجاتا ہے۔ صرف وہ لوگ جو تاریخ کے طالب علم ہوں، یا جنہیں اس موضوع سے غیر معمولی لگاؤ ہو، وہ تو شاید اس پیچیدگی کو برداشت کر لیں، مگر ایک عام پڑھنے والے کے لیے ایسی کتابیں اکثر ناقابلِ مطالعہ بن جاتی ہیں۔
وقت گزرنے کے ساتھ ایک نئی قسم کی تاریخی کتابیں سامنے آئیں—وہ کتابیں جو ناول کے انداز میں لکھی گئیں تاکہ لوگوں کو بوریت سے بچایا جا سکے۔ یہ کتابیں یقینا دلچسپ تھیں، زبان بھی نرم تھی اور واقعات کو کہانی کے حسین پیرائے میں پیش کیا جاتا تھا، لیکن ان میں ایک بنیادی خرابی یہ پیدا ہوگئی کہ اصل تاریخ پیچھے رہ گئی اور ڈرامائی اثرات، جذباتی جملے اور مصنف کی ذاتی تخلیقی مداخلت آگے بڑھ گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سینکڑوں قارئین کو اگرچہ “کہانی نما تاریخ” پڑھنے کو مل گئی، مگر اصل تاریخ مسخ ہوگئی۔ کئی مقامات پر حقیقت کو بدل کر پیش کیا گیا، کئی اہم واقعات کو غیر ضروری جذبات میں لپیٹ دیا گیا، اور بعض کتابیں تو ایسی تھیں جن میں واقعات کی درستی کے بجائے صرف دلچسپی کو بنیاد بنایا گیا، جس سے لوگ تاریخ کے حوالے سے غلط فہمیوں اور فکری فساد کا شکار ہوئے۔
لیکن بحمداللہ تاریخِ اُمتِ مسلمہ اس دونوں انتہاؤں سے محفوظ ہے۔ نہ یہ خشک، بے روح اور تاریخوں کی بے جا قطاروں سے بھرپور کتاب ہے، نہ یہ ناول کی جذباتی تحریفات پر مبنی کوئی کمزور تالیف۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں اصل اور صحیح تاریخ کو انتہائی خوبصورت اور دل کو باندھ لینے والے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اس میں واقعات کی حقیقت محفوظ رہتی ہے، مگر انداز ایسا رواں ہے کہ قاری پڑھتا چلا جاتا ہے۔
ایسی کتابیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں
تاریخِ اُمتِ مسلمہ کی پانچویں اور نہایت نمایاں خصوصیت اس کا اسلوب ہے۔ تاریخ جیسے وسیع، دقیق اور بعض اوقات پیچیدہ موضوع کو اس قدر سلیس، رواں اور آسان فہم انداز میں لکھنا کسی عام مصنف کا کام نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے صرف علمی گہرائی اور مطالعہ کافی نہیں، بلکہ ایک غیر معمولی مہارت، بیان کی پختگی، جملوں کی درست ترتیب، اور الفاظ کو صحیح جگہ پر استعمال کرنے کی قدرت درکار ہوتی ہے۔ مولانا اسماعیل ریحان صاحب نے اس کتاب میں الفاظ اور مضامین کو جس طرح ایک مربوط اور خوبصورت بہاؤ میں جوڑا ہے، وہ پڑھنے والے کو حیران بھی کرتا ہے ۔کتاب کا ہر صفحہ، ہر جملہ، اور ہر فقرة اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ قاری کو نہ کہیں رکنا پڑتا ہے اور نہ کہیں تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ اس میں نہ ضرورت سے زیادہ تفصیل ہے، نہ غیر ضروری اختصار۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر لفظ اپنی صحیح جگہ پر رکھا گیا ہے اور اگر اسے ذرا سا بھی ادھر اُدھر کر دیا جائے تو پوری عبارت کا حسن متاثر ہو جائے۔ یہ وہ کمال ہے جو بہت کم مصنفین کو نصیب ہوتا ہے۔ اس کا انداز اتنا متوازن ہے کہ نہ تلخیص کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور نہ تسہیل کی ضرورت پیش آتی ہے۔ کتاب جیسے لکھی گئی ہے، ویسے ہی پڑھنے کے لائق ہے—کسی قسم کی ترمیم یا آسانی کی کوئی حاجت باقی نہیں رہتی۔
یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کو پڑھ کر ایک طرف علمی پیاس بجھتی ہے تو دوسری طرف ذہن کو ایک عجیب سی تازگی حاصل ہوتی ہے۔ فکری طور پر قاری خود کو زیادہ سمجھدار، زیادہ باشعور اور زیادہ مضبوط محسوس کرتا ہے۔ ایسی متوازن، خوبصورت اور رواں تحریر صدیوں میں کہیں جا کر سامنے آتی ہے۔ تاریخ کے بڑے بڑے مؤرخین بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ تاریخ کو صحیح طور پر سمجھانے کے لیے اسلوب کا حسن سب سے بڑی شرط ہے—اور یہی وہ خوبی ہے جس میں تاریخِ اُمتِ مسلمہ کسی بھی معاصر کتاب سے بہت آگے ہے۔ بلا مبالغہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس معیار کی کتاب صدیوںمیں کبھی ایک مرتبہ لکھی جاتی ہے۔
عام، متوسط اور اعلیٰ ایڈیشن کی آسانی
تاریخِ اُمتِ مسلمہ کی چھٹی بڑی خصوصیت جو اسے دیگر کتابوں سے ممتاز کرتی ہے وہ اس کی وسیع اور آسان دستیابی ہے۔ عموماً ہمارے ہاں علمی اور تحقیقی نوعیت کی کتب یا تو بہت مہنگی ہوتی ہیں یا پھر محدود تعداد میں شائع کی جاتی ہیں، جس کی وجہ سے ایک بڑا طبقہ ان سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔ لیکن اس کتاب کے معاملے میں ناشرین نے نہایت حکمت اور سمجھداری کے ساتھ ہر طبقے کی سہولت کا پورا خیال رکھا ہے۔ اسی لئے اسے دو نہیں بلکہ تین مختلف ایڈیشنز میں شائع کیا گیا—عام ایڈیشن، متوسط ایڈیشن اور اعلیٰ ایڈیشن—تاکہ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق اس علمی خزانے تک پہنچ سکے۔
عام ایڈیشن خاص طور پر اُن لوگوں کے لئے ہے جو مہنگی کتابیں خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ اس ایڈیشن کی قیمت کم رکھی گئی ہے، مگر معیار اور مواد میں کوئی زیادہ کمی نہیں کی گئی۔ جو قارئین علم حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ بلا جھجھک اسے خرید کر پڑھ سکتے ہیں۔ عام ایڈیشن کی مکمل تفصیلات اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔
متوسط ایڈیشن اُن کے لیے متعارف کروایا گیا جو بہتر کوالٹی چاہتے ہیں مگر انتہائی مہنگے ایڈیشن تک نہیں پہنچ سکتے۔ اس میں کاغذ بہتر، جلد مضبوط، اور طباعت زیادہ نفیس ہے تاکہ قارئین کو پڑھنے کا زیادہ لطف مل سکے۔متوسط ایڈیشن کی معلومات اس لنک پر دیکھئے۔ کتاب کا لنک

اور پھر اعلیٰ ایڈیشن—جو کہ انتہائی پائیدار، مضبوط، دیدہ زیب اور خاص شائقین کے لئے تیار کیا گیا ہے—اپنی خوبصورتی اور معیار کے لحاظ سے گھروں، لائبریریوں اور دفاتر کی زینت بننے کے قابل ہے۔ یوں تینوں ایڈیشن مل کر اس بات کی بہترین مثال ہیں کہ جب کسی کتاب کی نیت صرف فروخت نہیں بلکہ علم کی عام تقسیم ہو تو اس کے راستے خود بخود کھل جاتے ہیں۔ مگر یہ سب سے اعلیٰ ایڈیشن اس وقت مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے۔
ماشاء اللہ آج تک اس کتاب کی پانچ جلدیں شائع ہو کر قارئین کے ہاتھوں تک پہنچ چکی ہیں۔ ہر جلد اپنی اہمیت اور تحقیق کے لحاظ سے ایک نئے دور کا دروازہ کھولتی ہے۔ اور سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ چھٹی جلد بھی عنقریب منظرِ عام پر آنے والی ہے، جس کے انتظار میں ہزاروں قارئین بےچین ہیں۔ اس تسلسل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ نے اس کتاب اور اس کے مصنف کی محنت میں وہ قبولیت عطا فرمائی ہے جو کم ہی نصیب ہوتی ہے۔
کتاب فروش سے آسان آن لائن آرڈرکریں
تاریخِ اُمتِ مسلمہ جیسی عظیم اور مستند کتاب کو حاصل کرنا اب کسی محنت یا تلاش کا محتاج نہیں رہا۔ آپ یہ کتاب بہت آسانی کے ساتھ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور سے آرڈر کر سکتے ہیں۔ ہم نے اس قدر سہولت فراہم کی ہے کہ پورے پاکستان کے کسی بھی شہر، گاؤں یا قصبے میں رہنے والا شخص صرف چند کلکس میں مکمل پانچ جلدیں منگوا سکتا ہے۔ آپ جس ایڈریس پر کتاب منگوانا چاہیں، وہاں ٹی سی ایس کی فاسٹ، محفوظ اور قابلِ اعتماد سروس کے ذریعے دو سے تین دن میں کتاب آپ کے دروازے پر پہنچ جائے گی۔ یہی وہ سروس ہے جس نے ہزاروں لوگوں کا اعتماد ہمیں دلایا۔
https://kitabfarosh.com/product/tumo/
اس لنک پر جا کر آپ اس کتاب کی مکمل تفصیلات دیکھ سکتے ہیں: اندرونی صفحات، طباعت، ٹائٹل، کوالٹی، جلدوں کی تعداد، ایڈیشنز کا فرق، اور قیمت کا پورا اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ پہلے صفحہ اور نمونہ کی تصاویر لازماً دیکھیں تاکہ آپ کو کتاب کے معیار کا مکمل احساس ہو سکے۔ کتاب فروش ایک ایسا نام ہے جس نے پچھلے کئی سالوں میں پورے پاکستان میں ہزاروں لوگوں تک کتابیں پہنچائی ہیں۔ ہم محض کتابیں فروخت نہیں کرتے، بلکہ لوگوں کے گھروں تک علم، روشنی اور فائدہ پہنچانے کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔

الحمدللہ صرف پچھلے سال تین ہزار سے زائد آرڈرز ہم نے ڈلیور کیے، اور ہمارے گاہکوں کا اِطمینان ننانوے فیصد رہا۔ یہ اعتماد اور محبت ہمارے لئے سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ ہمارے ہاں آن ٹائم ڈلیوری، مضبوط پیکنگ، اور کتابوں کی محفوظ ترسیل ہماری پہچان ہے۔ اسی وجہ سے لوگ ایک بار خرید کر مطمئن ہوتے ہیں اور دوبارہ ہم سے ہی آرڈر کرتے ہیں۔ آپ بھی یہ عظیم کتاب گھر بیٹھے منگوائیں۔ چند کلکس میں آرڈر کریں، اور باقی ذمہ داری ہماری۔ دو سے تین دن بعد تاریخِ اُمتِ مسلمہ آپ کے ہاتھ میں ہوگی — اور شاید یہی وہ کتاب ہو جو آپ کی سوچ، آپ کا شعور اور آپ کا مطالعہ ہمیشہ کے لیے بدل دے۔
مزید معلومات کے لئے آپ اس واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کرسکتے ہیں
WhatsApp # 03450345581

