پاکستان سعودی مشترک دفاعی معاہدہ — پس منظر اور امید
پاکستان سعودی مشترک دفاعی معاہدہ حالیہ دنوں میں گفتگو کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ ایک جانب شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ نے قطر پر حملے کے پس منظر میں عرب دنیا کے کمزور عملی ردِعمل پر 16 ستمبر کے ٹوئٹ میں افسوس کا اظہار کیا—کہ لفظی مذمت سے آگے کوئی واضح قدم سامنے نہ آیا—اور دوسری جانب 17 ستمبر کی شب پاکستان اور سعودی عرب کے بارے میں ایک بڑی خوش خبری سامنے آئی جسے انہوں نے “بہت بڑی خوشی” کہا اور فرمایا کہ بہت عرصے بعد ایسی خوشی نصیب ہوئی ہے۔
Table of Contents
اس تناظر میں خود شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت بھی اہمیت رکھتی ہے—وہ معاصر دور کے ممتاز دینی مفکر، صاحبِ قلم اور عالمی سطح پر معزز راہنما سمجھے جاتے ہیں جن کی قدر و منزلت علمی حلقوں سے آگے بڑھ کر عام طبقے میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔ ان کی علمی و اصلاحی خدمات، اعتدال پسند راہنمائی، اور امتِ مسلمہ کے مشترک مسائل پر رہنمائی نے انہیں ایک ہمہ گیر معتبر آواز بنایا ہے۔ ان ہی کے تعارف اور خدمات کے پس منظر میں اُن کی سوانحِ حیات بھی “عظیم عالمی شخصیت” کے نام سے شائع ہوچکی ہے، جسے آپ گھر بیٹھے منگوا سکتے ہیں اس لنک کے ذریعے سے ۔
https://kitabfarosh.com/product/aas2j/
اس لنک پر شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی مکمل سوانح حیات موجود ہے ۔

پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات پر ایک نظر:۔
پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی کئی دہائیوں سے مضبوط بھروسے پر قائم ہے۔ آغاز ہی سے دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ دفاع، سلامتی، تربیت اور افرادی قوت . یہ چار ستون اس رشتے کی بنیاد ہیں۔ ماضی میں ہماری فضائیہ نے سعودی فضائیہ کے پائلٹس کے ساتھ مل کر کام کیا اور اُن کی تربیت میں مدد دی۔
کبھی سرحدی نگرانی میں تعاون ہوا، کبھی مشن اُڑانے میں۔ وقت کے ساتھ یہ تعاون بڑھتا گیا۔ پھر ایک دور ایسا بھی آیا جب پاکستانی فوج کے دستے سعودی عرب میں موجود رہے تاکہ سکیورٹی بہتر بن سکے اور حالات سنبھلے رہیں۔ خلیج کے مشکل برسوں میں بھی پاکستان نے وہاں موجود رہ کر اپنے بھائی ملک کے ساتھ کھڑا ہونا ترجیح دی۔ مقصد ایک ہی تھا: مشکل وقت میں تنہا نہ چھوڑنا۔ اسی طرح مشترک فوجی مشقیں بھی اس دوستی کی مضبوط کڑی ہیں۔
مختلف ناموں سے کئی مشقیں ہوئیں جن میں شہری علاقوں کی تربیت، خاص آپریشنز اور بموں/بارودی مواد سے نمٹنے جیسے عملی موضوعات شامل رہے۔ ان مشقوں کا فائدہ یہ ہوا کہ دونوں افواج ایک دوسرے کے طریقۂ کار سے واقف ہوئیں اور اعتماد بڑھا۔ پھر انسدادِ دہشت گردی کے لیے ایک مشترک پلیٹ فارم بھی بنا جس میں پاکستان نے اپنا کردار ادا کیا۔ اس سے یہ پیغام گیا کہ علاقائی امن صرف باتوں سے نہیں آئے گا بلکہ مل کر کام کرنے سے آئے گا۔
دوسری طرف روزگار اور عوامی سطح پر ربط بھی بہت گہرا ہے۔ لاکھوں پاکستانی برسوں سے سعودی عرب میں کام کر رہے ہیں ۔ تعمیرات، صحت، خدمات اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں۔ اُن کی محنت نے وہاں کی معیشت میں حصہ ڈالا اور دونوں ملکوں کے بیچ اعتماد مزید بڑھایا۔ یہ صرف کمائی نہیں، رابطہ بھی ہے: رسم و رواج، زبان، رہن سہن—سب میں ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع ملا۔ حج اور عمرہ کے موسم میں بھی انتظامی تعاون اور نظم و نسق کی مثالیں ملتی ہیں، جس سے عام لوگوں کو سہولت اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔
مختصر یہ کہ یہ رشتہ صرف جذبات کا نہیں، کام کا بھی ہے۔ کبھی ہم نے اُن کی فضائی اور زمینی سکیورٹی میں ہاتھ بٹایا، کبھی مشترک مشقوں میں کندھے سے کندھا ملایا، کبھی دہشت گردی کے خلاف ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے، اور ہمیشہ عوامی سطح پر مزدوری، مہارت اور خلوص سے پل باندھے۔
باضابطہ دستخط کی بات (جمعۃ المبارک)
اس تناظر میں یہ اطلاع بھی سامنے آئی کہ آنے والے جمعۃ المبارک کو افواج کے سربراہان کی شرکت کے ساتھ معاہدے پر باضابطہ دستخط کی کارروائی ممکن ہے۔ پاکستان سعودی مشترک دفاعی معاہدہ کا بنیادی تاثر یہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک پر حملہ دوسرے پر حملہ سمجھا جائے—یعنی سلامتی کے تصور کو مشترکہ ذمے داری میں تبدیل کرنا۔ اسکے پس منظر میں حرمین شریفین کا تقدس بھی دلوں میں تازہ ہوا۔ جب حرمین کی حفاظت کی بات آتی ہے تو پاکستانی عوام کے جذبات فطری طور پر بیدار ہوتے ہیں۔ پاکستان سعودی مشترک دفاعی معاہدہ اسی جذبے کو ایک نیا رخ دیتا ہے ۔ سعودی عرب میں خاص طور پر ریاض جیسے بڑے شہر میں پاکستانی پرچم لہرائے گئے اور خوشی منائی گئی۔ دوسری طرف پاکستان میں، بالخصوص اسلام آباد میں، اس پیش رفت کو مسرت سے دیکھا گیا۔ شہروں کی یہ فضا صرف جشن نہیں، عوامی تائید کی علامت بھی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نون کی تاریخ میں ایک اضافہ :۔
اطلاعات کے مطابق موجودہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف کے حمایتیوں نے اس پیش رفت کو اپنی قیادت کے لیے اعزاز سمجھتے ہوئے بھرپور انداز میں خوشی کا اظہار کیا ۔ یہ کہ اس طرح کے بڑے اعزاز میں اُن کی سرپرستی شامل رہی اور اسے سیاسی تاریخ میں ایک نمایاں مقام مل سکتا ہے۔ اس بیانیے میں سیاسی وابستگی بھی ہے اور ریاستی سفارت کاری پر اعتماد بھی۔ بہرحال، عوامی سطح پر جو چیز مشترک نظر آتی ہے وہ مستقبل کے لیے امید ہے جس کا محور پاکستان سعودی مشترک دفاعی معاہدہ ہی ہے۔ لوگ اس بات پر خوش ہیں کہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات اب پہلے سے زیادہ پختہ ہونے جارہے ہیں اور یہ دوستی اب مزید گہری ہوجائیگی ۔ بلکہ اتنی پختہ ہوجائیگی کہ اگر دونوں میں سے کسی ایک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دوسرے پر حملہ سمجھا جائے گا، اور ایک ملک دوسرے کی خاطر عملاً کھڑا بھی ہوسکتا ہے۔
حرمین شریفین اور ہمارے احساسات
یاد رکھیں کہ یہ ایک جغرافیائی خوشی نہیں کہ دو بھائی ملک آپس میں مضبوط ہورہے ہیں ۔ بلکہ حرمین شریفین کے ساتھ جو وابستگی ہے وہ بھی اس خوشی کا حصہ ہے یعنی ہر مسلمان کے احساسات جڑے ہوئے ہیں حرمین شریفین کے ساتھ ۔ جب بھی کوئی جراءت کرے گا تو پاکستان اب اُسکو منہ توڑ جواب دینے کا مجاز ہوگا ۔ اور یہ چیز عوام کے احساسات کو خوش کرنے والی ہے کہ اب ہم بھی ان مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے کچھ کرنے کے حقدار اور اہل ہوں گے ۔

امید کی ایک فضا پیدا ہوگئی:۔
پاکستان سعودی مشترک دفاعی معاہدہ کو ایک بڑی خوش خبری کے طور پر محسوس کیا گیا اور اس کے ساتھ امید کی ایک متوازن فضا پیدا ہوئی۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان حفظہ اللہ اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اس معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ آنے والے جمعۃ المبارک کو افواج کے سربراہان کی شرکت کے ساتھ باضابطہ دستخط کی کارروائی زیرِ نظر ہے، جس سے اس پیش رفت کو مکمل استحکام ملتا محسوس ہوتا ہے۔ یوں یہ خوشی محض ایک خبر نہ ہوگی بلکہ ایک نئی شروعات کی شروعات ہوگی ۔
اسلام آباد اور ریاض میں مشترکہ گونج:۔
اس خوشی کو دونوں ممالک میں یکساں طور پر منایا گیا ۔ اسلام آباد کو دلہن کی طرح سجایا گیا اور جبکہ ریاض جیسے بڑے شہر میں بھی پاکستان کے جھنڈے لہرائے گئے اور دونوں ممالک کی عوام کو یہ پیغام دیا گیا کہ یہ ایک بہترین معاہدہ ہے جو ہم سب کے لئے خوشی کا باعث بنے گا ۔ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف اس معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں ۔ دستخط اور تقریب کے منظر میں “مدتوں بعد خوشی” کا احساس، اجتماعی اطمینان میں ڈھلتا دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ یہ اشارہ بھی موجود رہا کہ جمعۃ المبارک کو افواج کے سربراہان کی شرکت کے ساتھ باضابطہ دستخط کی کارروائی زیرِ نظر ہے ۔ یعنی یہ سب صرف بیان کی حد تک نہیں بلکہ مزید ترقی اور پختگی بھی ہوگی ۔
پاکستان کے عوام کی سب سے بڑی خوشی یہ ہے کہ جب حرمین شریفین کی حفاظت میں ہمارا حصہ اصولی طور پر شامل سمجھا جائے گا تو احترام، غیرت اور ذمہ داری کے فرائض کو ہم بخوبی سرانجام دے سکیں گے ۔ ہرعام آدمی کی دعا میں یہی بات شامل ہوچکی ہے کہ اللہ کرے یہ قدم سلامتی، استحکام اور خیر کا ذریعہ بنے۔
کتاب فروش آن لائن بک اسٹور:۔
اس خوشی کے موقع پر کتاب فروش آن لائن بک اسٹور بھی برابر کا شریک ہے۔ ہم اس جذبے کے ساتھ آپ کی خدمت میں ایک خاص عنوان پیش کرتے ہیں جس کا نام ہے: “آؤ پاکستان کی قدر کریں”—یہ عنوان اسی عمومی احساس کی نمائندگی کرتا ہے کہ وطن عزیز پاکستان کی نعمت کا شکر ادا کیا جائے، اس کی قدر کی جائے، اور اجتماعی سطح پر بھلائی کے کاموں کو بڑھایا جائے۔ اس کتاب کو آپ اس لنک سے حاصل کرسکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/apqk/
کتاب فروش کی ویب سائٹ پر کتب کی مزید فہرست دیکھنے کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں:۔
https://kitabfarosh.com/fehrist
نیز ہمارے واٹس ایپ چینل پر تازہ اپڈیٹس ملاحظہ کریں: ۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H

اگر کوئی سوال یا رہنمائی درکار ہو تو براہِ راست ابھی واٹس ایپ پر میسج بھیجنے کے لئے یہ لنک اوپن کریں:۔
https://wa.me/923450345581
WhatsApp # 03450345581
What is the Pakistan–Saudi mutual defense pact?
It is described as a mutual defense understanding where an attack on one is considered an attack on both, implying coordinated support.
Did Mohammed bin Salman and Shehbaz Sharif sign it already?
As presented in the narrative, they have signed; a formal ceremony with military chiefs is indicated for Friday.
What did Mufti Taqi Usmani say on 16 September?
He noted sorrow that, after the Qatar attack context, Arab states showed little beyond verbal condemnation
What changed by the night of 17 September?
Mufti taqiUsmani expressed great joy about the Pakistan–Saudi defense understanding, calling it happiness after a long time.
Does the Pakistani-Saudi pact relate to the protection of the Haramain?
Within this framing, it implies Pakistan would be justified in standing for the protection of the Haramain if needed.
Why were Pakistani flags seen in Riyadh and celebrations in Islamabad?
To mark public joy and support for the new level of cooperation between Pakistan and Saudi Arabia.
How does “an attack on one is an attack on both” affect ordinary people?
It builds a sense of shared security and collective deterrence, which can increase public confidence.
What role is attributed to Shehbaz Sharif and MBS in this context?
They are credited in the narrative with leadership and signing related to the understanding.
What could be the next step after the announcement of Pakistan-Saudi Pact?
A formal signing/ceremony with chiefs present has been indicated, moving the understanding into an institutional phase.
How is this being received politically inside Pakistan?
Supporters of the current prime minister are reported as celebrating it as a national honor under their leadership.
Where can I follow Books updates and related reading?
You can browse KitabFarosh’s catalog and updates: https://kitabfarosh.com/fehrist and the WhatsApp channel: https://whatsapp.com/channel/0029VaviXiKHFxP7rGt5kU1H

