قاری محمد اسحاق ملتانی—ایک روشن نام

ملتان کے مبارک شہر کی تاریخ میں جن مشہور ہستیوں کا نام لکھا جائے گا اُن میں قاری محمد اسحاق ملتانی حفظہ اللہ تعالیٰ کا نام بھی سرفہرست ہے۔ سنِ ولادت 1957ء  ہے ۔ نامور ادیب ہیں، صاحبِ قلم مصنف بھی اور سلسلہ تصوف کی ایک معتمد شخصیت بھی ہیں ۔ ابتدائی درس گاہ خیرالمدارس رہی ۔ وہی قدیم ادارہ جس کی فضا میں قرآن کی قرات اور علم الحدیث کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔ یہیں سے ان کی علمی بنیادوں کو وہ مضبوطی نصیب ہوئی جس پر پوری عمر کا تعمیری سفر کھڑا نظر آتا ہے۔ مدرسے کے دن رات، اساتذہ کی تربیتیں اور بزرگان دین کی صحبتیں ۔۔۔ سب نے مل کر اُن کے مزاج میں وقار اور طبیعت میں ٹھہراؤ پیدا کیا ۔


حفظِ قرآن  کی تکمیل:۔

قرآن سے اُن کا رشتہ صرف محبت کا نہ تھا بلکہ التزام کا تھا ۔ کیونکہ والد محترم حضرت حاجی عبدالقیوم مہاجر مدنی رحمہ اللہ تعالیٰ کو قرآن مجید کے ساتھ ایسی محبت تھی کہ انہوں ںے بھرپور کوشش کی کہ ہر بچہ قرآن کا قاری اور خادم بنے ۔ اسی لیے قاری سیف الدین صاحب کی شاگردی میں حفظِ قرآن کی سعادت حاصل کی ۔ یہ سعادت ایک نصابی مرحلہ نہ تھی بلکہ تاحیات قرآن کریم کی خدمت کا اک آغاز تھا ۔ قراءت کی درستگی اور مخارج کی تصحیح جیسے اوصاف کے لئے قاری رحیم بخش رحمہ اللہ تعالیٰ اور قاری فتح محمد پانی پتی رحمہ اللہ تعالیٰ جیسے مایہ ناز اساتذہ کی صحبت بھی اللہ تعالیٰ نے نصیب فرمائی ۔

خدمتِ مشائخ اور حصول نسبت

تعلیم کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے خدمتِ اہلِ علم کی توفیق بھی دی ۔ قاری فتح محمد صاحب پانی پتی رحمہ اللہ کی خدمت کا شرف حاصل رہا۔ ایسے حضرات کی خدمت کو صرف خدمت سمجھ کر نہیں بلکہ راحت سمجھ کر کیا کرتے تھے ۔ اسی نسبتِ خدمت نے ان کی طبیعت میں تواضع، گفتار میں سنجیدگی اور طرزِ ادا میں وہ جھکاؤ پیدا کیا جس کے سامنے شہرت بھی خاموش ہو جاتی ہے۔ ادب اور سادگی سے وہ مقام حاصل کیا کہ جو بڑے بڑے مشہور لوگوں کو حاصل نہ ہوسکا ۔

حفظ مکمل کرنے کے بعد امامت کے لئے والد صاحب کی معیت میں حضرت حاجی شریف صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ مسجدِ بدررُخ شاہ، طارق روڈ ملتان میں وہ لمحہ اب تک زندہ ہے اور اُسکے عینی شاہدین موجود ہیں کہ جب حضرت حاجی شریف صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص سرپرستی میں قاری محمد اسحاق ملتانی حفظہ اللہ تعالیٰ کو مصلیٰ پر کھڑا کیا۔ یہ محض اعزاز نہ تھا، ایک سلسلۂ نسبت کی تجدید تھی ۔ ایک امانت کی سپردگی تھی ۔ ایسی امانت اور نسبت جو براہِ راست حکیمُ الاُمّت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ تک پہنچتی ہے۔

حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ خود حضرت تھانویؒ کے خلیفۂ مجاز تھے اور انہیں باقاعدہ خلافت حاصل تھی ۔ اس لیے اس مصلیٰ پر کھڑا کرنا گویا خانقاہی سلسلے کی سند کو ازسرِنو قاری صاحب کے وجود میں منتقل کرنا تھا ۔

قاری صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کا حضرت حاجی شریف صاحبؒ سے تعلق صرف حاضری، سرپرستی یا پھر رسمی تعلق  تک محدود نہ رہا ۔ بلکہ مسلسل مجالس میں شریک رہتے، دل و جان سے خدمت کرتے، اور آدابِ صحبت ایسے خلوص سے نبھاتے کہ ہر دیکھنے والا اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ یہ ایک قلبی ربط ہے، کوئی رسمی تعلق نہیں ہے ۔ سالہا سال کی یہ خدمت ان کے لیے مدارجِ سلوک کی سیڑھی بن گئی ۔

آخرکار وہ گھڑی بھی آئی جب اس مسلسل خدمت، خاموش اطاعت اور اعمال پر استقامت پر خلافت کی مہر ثبت کر دی گئی ۔ ۱۰ رمضان المبارک 1403 ہجری کی شب کو یہ نعمت غیر مترقبہ حاصل ہوئی ۔ جس میں یہ بھی تحریر شامل تھی کہ اس اجازت و خلافت کی اطلاع اپنے خالص مخلص دوستوں سے کر دی جائے ۔  

یوں مسجدِ بدررُخ شاہ کی محراب سے اٹھنے والی وہ پہلی سعادت اور محنت پوری زندگی کے لئے مشعل راہ بن گئی ۔

رسالۂ طریقُ القلندر سے ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ کیسے وجود میں آیا ؟۔

شیخ و مرشد حضرتِ حاجی شریف صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کے پاس ایک پرانا، کمزور اور تقریباً مدھم تحریروں والا رسالہ تھا طریقُ القلندر جس سے اُنہیں غیر معمولی اُنس تھا۔ قاری محمد اسحاق ملتانی حفظہ اللہ تعالیٰ نے اس دلی لگاؤ کو پہچان لیا کہ حضرت کو اس رسالہ سے کافی تعلق ہے۔ ایک مرتبہ موقع پا کر مؤدبانہ عرض کی:۔
حضرت! اگر یہ رسالہ اتنا محبوب ہے تو کیوں نہ اسے نئے سرے سے شائع کروا دیا جائے؟۔
اس سادہ سی تجویز پر حضرتؒ کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں ہوگئے ۔

حضرت قاری صاحب نے ارادہ کرلیا کہ اس رسالہ کو ضروری شائع کیا جائے ۔ اس کے لئے جدوجہد اور محنت شروع کردی ۔ ناشرین سے پوچھ تاچھ کی اور مسلسل جستجو، کاغذ، طباعت، فونٹس، اور جلد بندی سے متعلق ہر چھوٹی بڑی تفصیل کی معلومات میں لگے رہے ۔ جو بات ملتی، محفوظ کرلیتے ۔

بالآخر طریقُ القلندر نئے حُسنِ طباعت کے ساتھ حاضرِ خدمت ہوا۔ حضرت حاجی شریف صاحبؒ نے رسالہ دیکھا تو خوشنودی کے آثار چہرے سے جھلکنے لگے ۔ گویا محبوب چیز کو نئی زندگی مل گئی ہو۔

یہی اول طباعت یعنی ایک چھوٹا سا رسالہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ کی بنیاد بن گئی ۔ وہ ادارہ جو پچاس برس سے رواں دواں ہے ۔ اور حکیمُ الاُمّت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی سینکڑوں کتابیں خوبصورت طباعت کے ساتھ شائع کر کے محفوظ کرنے کا شرف حاصل کرچکا ہے ۔ آج کی تاریخ میں یہ ادارہ محض مطبوعات کا نام نہیں بلکہ اکابر کی امانتوں کا محافظ ہے، متون کی اشاعت کا پابند ہے اور علمائے کرام کی خدمت میں پیش پیش ہے ۔ اس ادارہ کے گلستان کے ہر ہر ذرہ میں خاموش محنت اور قاری صاحب کی مسلسل استقامت کے نشانات موجود ہیں ۔

صحبتِ اکابر کے خزانے:۔

قاری صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کا تعلق بزرگانِ دین سے مسلسل جڑا رہا ۔ برِصغیر کے بڑے بڑے اکابر و مشائخ کی مجالس میں حاضری اور آدابِ صحبت کے ساتھ ساتھ اصلاحِ باطن کی فکر، یہ سب ان کی زندگی میں نمایاں ہیں۔

حضرت مولانا قمر الزماںؒ (سلسلۂ اشرفیہ تھانویہ کے معتمد بزرگ) کی صحبت حاصل رہی۔

حضرت مولانا ابرار الحق ہردوئیؒ، حضرت مولانا مسیح اللہ خان جلال آبادیؒ، اور حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفیؒ جیسے بزرگوں کی زیارت و مجالس سے بھی مستفیض ہوئے ۔

جب کبھی قاری صاحب ملتان سے کراچی حضرت ڈاکٹر عبدالحئی عارفیؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو ڈاکٹر صاحب نہایت محبت سے تعارف کرواتے:۔
بھئی دیکھو! یہ ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ والے ملتان سے ہیں، اور بہت بڑا کام کر رہے ہیں۔ یہ جملہ محض تعارف نہ تھا ۔ یہ اعترافِ خدمات اور اعتمادِ اکابر کی روشن مہر تھی۔

بیعت و اصلاح کا سلسلہ بھی قاری صاحب کی زندگی میں مرکزی اہمیت کا حامل رہا:۔

خاص طور پر حضرت حاجی شریف صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے بعد حضرت ڈاکٹر حفیظ اللہ مہاجر مدنیؒ اور نواب عشرت علی خان قیصرؒ سے بیعت و اصلاح کا مستقل تعلق رہا ۔ پھر حضرات کی وفات کے بعد بیعت کا سلسلہ حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم تک پہنچا اور تا حال قائم ہے۔

دعا کے سائے، نسبت کی مہر

حضرت قاری محمد اسحاق ملتانی حفظہ اللہ تعالیٰ کی زندگی میں اکابرِ دین کی نسبت کوئی تاریخی حوالہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے ۔ اس کا روشن ثبوت یہ ہے کہ سلسلۂ اشرفیہ تھانویہ کے بزرگ پاکستان بھر میں جہاں جہاں رہے ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ ان کی دعاؤں میں مسلسل شامل رہا۔ یہ ایسا اعزاز ہے جس کے سامنے دنیا کی ہر دولت ہیچ ہے ۔ اکابر کا اعتماد ایسی قیمتی چیز ہے جس کی قدر ہر کوئی نہیں پہچانتا ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ فضل عظیم ہے کہ جس ادارے نے حکیمُ الاُمّت رحمہ اللہ تعالیٰ کے فکری ورثے کو اہتمام کے ساتھ شائع کیا اور محفوظ کرکے اگلی نسل تک پہنچایا اس پر اہلِ دل کی نگاہِ شفقت بدستور ہر زمانہ میں قائم رہی ۔

بالخصوص حضرت مفتی رشید احمد لدھیانویؒ کی تشریف آوری ادارہ کے لیے ایک بڑی سعادت تھی۔ انہوں نے آ کر نہ صرف کام کو پسند فرمایا بلکہ بہت ساری دعاؤں سے نوازا ۔ یوں گویا ادارہ تالیفات اشرفیہ کی خدمات پر قبولیت کی مہرمختلف بزرگوں کے واسطے سے ثبت ہوتی رہی ۔

اسی سلسلۂ میں حکیم الاسلام قاری محمد طیبؒ (سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند) ، پیر ذوالفقار احمد نقشبندی دامت برکاتہم اور حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم جیسے جلیل القدر بزرگ، اولیاء اللہ اور عظیم عالمی شخصیات بھی ادارۂ تالیفاتِ اشرفیہ کو شرف سرپرستی اور شرف قبولیت بخشتے رہے ۔ یہ زیارتیں اور ملاقاتیں محض رسمی نہیں تھیں بلکہ دعاؤں کا ذریعہ تھیں، اعتماد کا نشاں تھیں اور ادارہ تالیفات اشرفیہ کی علمی خدمات کی تصدیقات تھیں ۔ بانی ادارہ حضرت قاری محمد اسحاق ملتانی صاحب حفظہ اللہ تعالیٰ کی شبانہ روز محنتوں پر اکابر کی توجہات کا قائم رہنا اس بات کا پیغام ہے کہ اگر دین کی خدمت میں اخلاص ہو تو اس سفر میں اولیاء اللہ کی دعائیں شامل ہو ہی جاتی ہیں ۔

قاری محمد اسحاق ملتانی
قاری محمد اسحاق ملتانی

نئے سفر کا آغاز

اسی دوران ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ کی نئی عمارت جو عام بازار کی چہل پہل سے کچھ ہٹ کر چوک فوارہ ملتان  پر واقع تھی ۔ وہ اپنی تکمیل کو پہنچی۔ افتتاح کے لیے حضرت مفتی عبدالقادر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ (شیخ الحدیث دارالعلوم عید گاہ کبیر والہ) کی تشریف آوری ہوئی ۔ سن 2000ء کی وہ مبارک گھڑی جب انہوں نے باقاعدہ افتتاح فرمایا، تو گویا اب یہ ایک عمارت نہیں تھی بلکہ خدمات دین کا ایک نیا باب تھا، اکابر کی میراث کو محفوظ کرنے کا ایک نیا دور تھا اور سلسلہ اشرفیہ کو اگلی نسل تک منتقل کرنے والے سفر کی نئی منزل کا آغاز تھا ۔

رسالہ محاسن اسلام کا اجراء:۔

اس نئے سفر کے آغاز سے قریب ایک سال پہلے ہی حضرت قاری صاحب نے ایک دینی ماہنامے کی بنیاد رکھ چھوڑی تھی جس کا نام محاسن اسلام تھا ۔ ستمبر 1999 میں یہ رسالہ انتہائی سادگی اور وقار کے ساتھ پہلی مرتبہ شائع ہوا تھا ۔ سب سے پہلے اس رسالہ کو دارالعلوم عید گاہ کبیر والہ کے شیخ الحدیث حضرت مفتی عبدالقادر صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کی سرپرستی حاصل ہوئی ۔

مفتی عبدالقادر صاحب کئی سال تک اسکے سرپرست اور مشیر رہے۔ آپ کے وصال کے بعد اسے مفتی اعظمِ ملتان، حضرت مفتی عبدالستّار صاحبؒ (جامعہ خیرالمدارس) کی مشفقانہ سرپرستی نصیب رہی ۔ پھر حضرت مفتی عبدالستّار صاحبؒ کی رحلت کے بعد اس رسالہ کو ایک نیا مقام حاصل ہوا یعنی عظیم عالمی شخصیت شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم العالیہ کی سرپرستی نے اس رسالے کو اسلامی تعلیمات کی اشاعت کے ایک نئے سفر پر چلا دیا ۔ ماشاء اللہ تعالیٰ اب کئی دہائیوں سے حضرت شیخ الاسلام کی شفقتوں کے زیر سایہ یہ رسالہ پوری آب و تاب کے ساتھ شائع ہورہا ہے ۔ یہ اعتمادِ اکابر کی ایسی سند ہے جس سے ادارہ تالیفات اشرفیہ کی خدمات دوہری ہوجاتی ہیں ۔ ایک بار کسی صاحب نے حضرتِ شیخ الاسلام سے مؤدبانہ سوال کیا: آپ کی سرپرستی میں جو یہ رسالہ شائع ہوتا ہے، کیا آپ اسے حرف بہ حرف ملاحظہ فرماتے ہیں؟
حضرت نے ارشاد فرمایا: نہیں۔ لیکن مجھے اس کے مدیر مولانا اسحاق ملتانی صاحب پر اعتماد ہے کہ وہ اس میں کوئی غلط بات شائع نہیں کریں گے۔
یہ محض ایک جملہ نہیں تھا بلکہ اعتماد اکابر کی اُسی سلسلہ کی کڑی تھی جو ہمیشہ سے حضرت قاری صاحب کو حاصل رہا ۔

قاری محمد اسحاق ملتانی
قاری محمد اسحاق ملتانی

ادارہ پر قدومِ سعادت کا اک نیا منظر:۔

حضرتِ شیخ الاسلام کی ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ پر تشریف آوری بھی اسی اعتماد کی عملی صورت تھی۔  ایک سے زائد مرتبہ ادارہ کو یہ قدوم سعادت نصیب ہوئے ۔ یہ آمد محض زیارت و ملاقات نہیں تھی بلکہ میراث اکابر کی خدمات کے اعتراف کا ثبوت تھا ۔ جب ایسے بزرگ قدم رنجہ فرمائیں تو پھر یہ صرف ایک کتابوں کا کاروبار نہیں رہتا بلکہ قبولیت سے آراستہ دین کی خدمت کا سفر بن جاتا ہے ۔

جب سن 2021ء میں حضرت شیخ الاسلام صاحب ادارہ پر تشریف لائے تو اُس وقت ملتان کے دیگر علمائے کرام بالخصوص حضرت قاری حنیف جالندھری صاحب اور استاذ الحدیث مولانا محمد ازھر صاحب بھی اس قافلہ میں شامل تھے جہاں حضرت قاری حنیف جالندھری صاحب نے ازراہ مزاح یہ فرمایا کہ حضرت قاری اسحاق ملتانی صاحب اکابر کی بہت ساری کتابوں سے چھانٹ کر ایک نئی کتاب تیار کرلیتے ہیں ۔ اس پر حضرت شیخ الاسلام صاحب نے فرمایا کہ بھائی یہ تو ہر کسی کے ملکات ہوتے ہیں ۔ حضرت کی مجلس بہت ہی طویل، بے تکلف اور دوستانہ رہی ۔ جس میں ادارہ تالیفات اشرفیہ کے متعلقین بھی شامل رہے ۔

ادیب، مصنف اور ناشر:۔

یوں قاری محمد اسحاق ملتانی حفظہ اللہ تعالیٰ کی ایک ہی شخصیت میں ادیب، مصنف اور ناشر کے جواہر سمٹ کر جمع ہوگئے ۔ ادیب ایسے ہوئے کہ ہر تحریر اصلاحی اسلوب میں ڈھلی ہوئی تھی ۔ تشدد اور تنقید سے پاک ہوتی تھی ۔ مصنف و مرتب ایسے ہوئے کہ اکابر کی تعلیمات کو جمع کیا اور ایسی خوبصورتی سے ترتیب دیا کہ وہ سادہ، مؤثر اور جامع انداز میں اگلی نسل میں منتقل ہوگئی ۔ ناشر ایسے ہوئے کہ ملتان جیسے کم وسائل والے چھوٹے سے شہر میں ہزارہا کتابیں شائع کرلیں ۔ حضرت قاری حنیف جالندھری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کا وہ جملہ قاری صاحب کی سوانح اور ادارہ تالیفات اشرفیہ کی تاریخ میں ہمیشہ لکھا رہے گا جب انہوں نے فرمایا تھا: کراچی اور لاہور جیسے بڑے وسائل والے شہروں میں اتنی تعداد میں کتابیں شائع کرنا کوئی کمال نہیں بلکہ اس طرح چھوٹے شہر میں اتنا بڑا کام کرنا یہ اصل کمال ہے ۔

اگر آپ قاری اسحاق ملتانی صاحب کی کتابیں ملاحظہ کرنا چاہتے ہیں تو اس لنک پر آرڈر کرسکتے ہیں

https://kitabfarosh.com/Category/kitabfaroshbooks/writers-all_books-kitabfrosh-com/qari_muhammad_ishaq_multani-writers-kitabfrosh-com

قاری محمد اسحاق ملتانی
قاری محمد اسحاق ملتانی

خطابت کا وقار اور امامت کی خدمات:۔

جامع مسجد بدررخ شاہ کے محراب و منبر قاری محمد اسحاق ملتانی حفظہ اللہ تعالیٰ کی پچاس برس سے زائد مسلسل خدمات کے گواہ ہیں۔ بارہا تراویح میں مکمل قرآن کریم سنا کر انہوں نے اپنی خدمات پیش کیں ۔ اسی مسجد میں رمضان المبارک کا اعتکاف بھی کئی مرتبہ ہوا ۔ اور وعظ و خطبہ جمعہ کا سلسلہ اب تک جاری و ساری ہے ۔ آپکے وعظ کی سب سے یہ ہوتی ہے کہ لہجہ دھیما، شفیق اور پُراثر ہوتا ہے ۔ وعظ کا مضمون سراسر بزرگانِ دین اور سلسلۂ اشرفیہ تھانویہ کی تعلیمات سے آراستہ ہوتا ہے ۔ ہر بیان میں جگہ جگہ ایک جملہ خاص طور پر سنائی دیتا ہے کہ ہمارے فلاں بزرگ نے فرمایا ۔ یہی نسبت ان کے کلام کو باوزن اور مستند بناتی ہے ۔ وعظ میں بیان کی گئی ہر ہر نصیحت یوں دل میں اترتی ہے کہ ہر سننے والا اثر لئے بغیر نہیں رہ پاتا۔

ایک ادارہ، ایک مشن — تالیفاتِ اشرفیہ

منبرومحراب اور ادیبانہ خدمات کے ساتھ ساتھ قاری صاحب نے بحیثیت ناشر ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ کی صورت میں دینی خدمات کا ایسا باب کھولا جو آج تک رواں دواں ہے۔ سب سے بڑا احسان اس امت پر یہ فرمایا کہ حکیمُ الاُمّت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے تمام مواعظ، ملفوظات اور مقالات نہ صرف ازسرِنو شائع کیے بلکہ پچھلے تیس برس سے مسلسل معیاری طباعت کے ساتھ قارئین تک پہنچا رہے ہیں۔ یہ تواتر اور استقامت صرف ایک ناشر کا  کام نہیں ہوسکتا بلکہ سلسلۂ اشرفیہ سے عشق و جنون کی روشن علامت ہے ۔ وہ جنون جس نے ماضی کے خزانے، دقیق علمی دفینے اور مشکل فقہی مسائل کے حل کو جدید نسل تک منتقل کیا ۔

ایک زمانہ تھا کہ کلیدِ مثنوی ناپید تھی۔ قاری صاحب نے اس ایک متن اور مکمل کتاب کی بازیافت کے لیے کٹھن اسفار کیے، بکھرے نسخوں کا تعاقب کیا اور مواد کی تکمیل کی اور پھر اسے معیاری طباعت کے ساتھ شائع کر کے محفوظ کر دیا۔ آج کلیدِ مثنوی ایک بہترین شرح کے طور پر دستیاب ہے اور مسلسل شائع ہو رہی ہے۔ اکابر نے مثنویِ مولانا رومؒ کے بہت سے اشعار کو بمنزلہ ذکر قرار دیا ہے کیونکہ انکو بار بار پڑھنے، یاد کرنے اور سمجھنے سے دل کی دنیا بدلتی ہے۔ یوں یہ احیائے کتاب کی خدمت بھی ادارہ تالیفات اشرفیہ کے حصے میں آئی۔

قاری محمد اسحاق ملتانی
قاری محمد اسحاق ملتانی

مقالاتِ حجۃ الاسلام — ایک علمی دنیا کی بازیافت کا سہرا:۔

قاری صاحب کا ایک اور عظیم کارنامہ مقالاتِ حجۃ الاسلام ہے۔  حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کے رسائل، مقالات اور تحقیقات جو برصغیر کے نامعلوم گوشوں میں منتشر ہوچکے تھے، انہیں کٹھن محنت کے ساتھ یکجا کیا، متن حاصل کیا، ترتیب و تدوین کی اور پھر اسے مکمل سیٹ کی صورت میں شائع کر دیا۔ یوں ایک علمی کائنات جو گردِ زمانہ میں اوجھل ہوچلی تھی وہ تاریخی سند کے ساتھ دوبارہ اہلِ علم تک پہنچ گئی ۔ اس کام کو صرف نشر و اشاعت نہیں کہا جا سکتا بلکہ یہ اکابر کی محبت کا ایک جنون ہے ۔ اس جنون اور عشق کے بغیر کوئی شخص ان خزانوں کو عام نہیں کرسکتا ۔

ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ اب تک ایک ہزار سے زائد قیمتی، مستند اور تاریخ ساز کتابیں شائع کر چکا ہے۔ مگر اس اعداد و شمار کے پیچھے جو اصل مشن ہے وہ ہے منہجِ اکابر۔ اس بات کا التزام کہ جو کچھ قاری کے ہاتھ میں آئے وہ اعتماد کے ساتھ پڑھا اور محفوظ کیا جا سکے۔ یہی وہ مقصد اور معیار ہے جو ادارہ تالیفات اشرفیہ کو پاکستان بھر کے ناشرین میں ممتاز بنادیتا ہے ۔

قاری محمد اسحاق ملتانی
قاری محمد اسحاق ملتانی

کاروانِ مجدّدِ تھانوی — قافلہ اشرفیہ کی مکمل تاریخ:۔

قاری محمد اسحاق ملتانی دامت برکاتہم کی علمی محنتوں کا ایک روشن ستارہ کاروانِ مجدّدِ تھانوی ہے ۔ ایسا یادگار علمی وتاریخی کارنامہ جس میں حکیمُ الاُمّت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلفائے کرام کی مفصل فہرست نہ صرف درج ہے بلکہ ہر بزرگ کے احوال و آثار، سلسلۂ تعلیم و تربیت، خدماتِ دین اور نمایاں خصوصیات بھی محققانہ ترتیب کے ساتھ جمع کی گئی ہیں۔ قاری صاحب نے اس کا دائرہ صرف اوّلین خلفائے کرام تک محدود نہ رکھا، بلکہ خلفائے خلفاء اور پھر تیسرے دور کے اُن اہلِ نسبت کے حالات بھی جمع کیے جن پر خلافت کی توثیق جاری ہوئی ۔ یوں سلسلۂ نسبت کے حلقے دائرہ در دائرہ کھلتے گئے اور ایک کامل نقشہ سامنے آ گیا کہ کس طرح اس سلسلہ اشرفیہ تھانویہ کے قافلے کا سفر جاری و ساری ہے ۔
یہ سب مواد دس ضخیم جلدوں میں مرتب ہوا ۔ ہر جلد اپنی جگہ ایک تاریخی دستاویز ہے ۔ جس سے نہ صرف تذکرۂ مشائخ کی روایت محفوظ ہوئی بلکہ طلبائے کرام وعلمائے کرام کے لیے ماخذ، محقق کے لیے حوالہ اور سالک کے لیے زاد راہ میسر آیا۔

قاری محمد اسحاق ملتانی
قاری محمد اسحاق ملتانی

قاری صاحب کے اصولِ تحریر :۔

قاری صاحب بطورِ مدیر و ادیب اور بطور ناشر و مرتب ایک خاص مزاج رکھتے ہیں جس کو چند سطروں میں سمیٹا جا سکتا ہے:۔۔

تشدد اور تنقید سے پاک تحریر:۔
کسی شخص یا مکتب پر طعن و تشنیع ان کی تحریرات میں گوارا نہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ قلم کی عزت اور تحریر کی تاثیر نرمی میں پوشیدہ ہے ۔اس لیے ہر تحریر اصلاحی انداز میں، ادب اور انصاف کے ساتھ شائع ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان کی ادارت میں نکلنے والا مجلّہ محاسنِ اسلام  آج لاکھوں قارئین کے ہاں عزت و قبولیت رکھتا ہے ۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں یہاں دل آزاری نہیں، دل جوئی ہے۔

اختصار میں اثر
قاری صاحب کے نزدیک اچھا مضمون وہ ہے جو صرف کام کی بات کہے ۔ غیر ضروری طوالت سے متن (یعنی نفس مضمون) کی روح کمزور ہوجاتی ہے اور قاری کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے ۔ اس لئے تحریروں میں جامعیت کے ساتھ ساتھ اختصار ہی اصل حسن ہے ۔ جملہ مختصر ہو لیکن مفہوم بھرپور ہو۔

زبان عام فہم اور انداز سلیس

مشکل الفاظ، ثقیل تراکیب دقیق ادبی انداز بھی قاری کو مطالعہ سے دور کر دیتے ہے۔ قاری صاحب کا اصول ہے کہ زبان ایسی ہو جسے ہر قاری بلا دقت سمجھ لے ۔ لہٰذا وہ تحریروں کو سہل اور رواں بناتے ہیں، مشکل تعبیرات کے بجائے صاف اور روشن جملے پسند کرتے ہیں۔

املا و اعراب کا اہتمام برائے سہولت فہم:۔

قاری صاحب کے ذوق کی ایک لطیف جھلک اعراب کے اہتمام میں بھی ظاہر ہے۔ وہ ایسے الفاظ پر زیر، زبر، پیش لگانے کا اہتمام کرتے ہیں جہاں التباس کا احتمال ہو—تاکہ قاری اٹکے نہیں، بلا تعطل پڑھتا چلا جائے۔ مثلاً مَردوں (آدمیوں) اور مُردوں (وفات شدہ) جیسے الفاظ میں اعراب سے اشتباہ دور کر دیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے دیگر جتنے بھی الفاظ ہیں اُن پر اعراب کا اہتمام کیا جاتا ہے تاکہ پڑھتے ہوئے قاری کو یہ سوچنا نہ پڑے کہ دو میں سے کون سا لفظ یہاں مراد ہوگا ۔

لکھنے کا اخلاق

ان کے نزدیک تحریر کا اصل اخلاق یہ ہے کہ قاری کے دل میں نرمی سے بات منتقل ہو اور ذہن میں وضاحت کے ساتھ مضمون پیوست ہوجائے  ۔ چنانچہ مضمون میں نہ کشیدہ لہجہ ہوتا ہے اور نہ ہی گرہ بند الفاظ ۔ صرف حکمت، شفقت اور اصلاحی توازن۔

کتاب فروش کے ذریعے کتابیں اب آپکی دسترس میں:۔

اب ادارہ تالیفات اشرفیہ اور قاری محمد اسحاق ملتانی صاحب کی تمام کتابیں آپ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور کے ذریعے پورے پاکستان میں گھر بیٹھے منگوا سکتے ہیں ۔ ادارہ تالیفات اشرفیہ کی تمام کتابیں آپ اس لنک پر آرڈر کرسکتے ہیں ۔

https://kitabfarosh.com/Category/kitabfaroshbooks/publishers-kitabfrosh-com/taleefateashrafiapublishers-kitabfrosh-com/


قاری محمد اسحاق ملتانی کون ہیں؟

قاری محمد اسحاق ملتانی ایک ناشر، ادیب اور نامور مصنف ہیں جنہوں نے ایک ہزار سے زائد کتابیں شائع کی ہیں

قاری محمد اسحاق ملتانی کس کے خلیفہ ہیں؟

قاری محمد اسحاق ملتانی صاحب حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے ایک واسطہ سے خلیفہ ہیں ۔ آپکو حضرت حاجی شریف صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے خلافت و اجازت عطا فرمائی تھی ۔

ادارہ تالیفات اشرفیہ کب سے کام کررہا ہے ؟

ادارہ تالیفات اشرفیہ 1970 سے وجود میں آگیا تھا اور پھر 2000 میں اسکی موجودہ عمارت تعمیر ہوئی جو اب تک رواں دواں ہے ۔

ماہنامہ محاسن اسلام کے ایڈیٹر کون ہیں؟

ماہنامہ محاسن اسلام کے ایڈیٹر قاری محمد اسحاق ملتانی ہیں ۔

ماہنامہ محاسن اسلام کس کی سرپرستی میں شائع ہورہا ہے؟

ماہنامہ محاسن اسلام پچھلے کئی سالوں سے عظیم عالمی شخصیت حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی سرپرستی میں شائع ہورہا ہے ۔

ماہنامہ محاسن اسلام کہاں سے شائع ہوتا ہے؟

ماہنامہ محاسن اسلام ۔۔۔ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان سے قاری محمد اسحاق ملتانی صاحب کی ادارت میں شائع ہوتا ہے اور لاکھوں لوگوں میں پڑھا جاتا ہے ۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop