مزاج شناس رسول صلی اللہ علیہ وسلم (عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ)
ایک مجلس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اُمور تکوینی کے) ایسے سوال پوچھے گئے جن کو آپ نے نا پسند کیا۔ لیکن کچھ لوگ پوچھتے رہے حتیٰ کہ آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا۔ اور (ناراضگی کے عالم میں ہی) آپ نے فرما دیا: پوچھ لو جو پوچھنا ہے۔ تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگے: یا رسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا: تیرا باپ حذافہ ہے۔
پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور پوچھا میرا والد کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تیرے والد شیبہ کے مولیٰ سالم ہیں۔
لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ جو اس مجلس میں موجود تھے فوراً پہچان گئے کہ اس طرح کے سوالات سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوار ہو رہے ہیں تو اُٹھ کھڑے ہوئے اور سب کی طرف سے یہ بات کہی: ’’ہم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہیں (ہمیں ایسی باتیں نہیں پوچھنی چاہئے تھیں)۔
حوالہ: صحیح بخاری شریف (مفہوم حدیث)
صحیح البخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/
Featured products
New Year BooksOffer 2025
Original price was: ₨ 5930.00.₨ 4750.00Current price is: ₨ 4750.00.Ramzan Ul Mubarak Ki Behtareen Kitabein
Original price was: ₨ 4480.00.₨ 4030.00Current price is: ₨ 4030.00.مجموعہ حضرت تھانوی پیکیج
₨ 11100.00





