خلفائے ثلاثہ کے لئے بالترتیب جنت کی خوشخبریاں

خلفائے ثلاثہ کے لئے بالترتیب جنت کی خوشخبریاں

حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے حکم دیا کہ میں دروازے پر ہی کھڑا رہوں تاکہ کوئی شخص آئے تو میں اطلاع کر سکوں ۔ کچھ دیر کے بعد کسی شخص نے دروازے کے باہر سے اجازت مانگی۔ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ایک شخص اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اُن کو اندر آنے دو اور اُن کو جنت کی بشارت بھی دے دو۔ کہتے ہیں: میں جب گیا اور دروازہ کھول کر دیکھا تو سامنے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی فرمایا: اُن کو اندر آنے کی اجازت دے دو اور ساتھ جنت کی بشارت بھی دے دو۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو بھی آپ نے یہی فرمایا: اُن کو اندر آنے دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔
(مفہوم حدیث: ۶۷۸۷، باب قول اللّٰہ تعالٰی، لا تدخلوا بیوت النبی الا ان یوذن لکم ، صحیح البخاری )

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop