خیر البشر بعد الانبیاء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اعلیٰ شان ہے

خیر البشر بعد الانبیاء حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اعلیٰ شان ہے

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مرض الوفات میں تھے تو آپ نے حکم فرمایا: ابوبکر سے کہہ دو کہ وہ اب لوگوں کو نماز پڑھائیں۔ تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: وہ جب آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو غم اور پریشانی کی وجہ سے بہت زیادہ روئیں گے حتیٰ کہ نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔ اسی لئے آپ حضرت عمر کے بارہ میں کہہ دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔
مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ یہی ارشاد فرمایا: ابوبکر سے کہو ! لوگوں کو نماز پڑھائیں۔
تو پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا تم (اپنے والد کی سفارش کرو اور ) ! ابوبکر آپ کے مرض کی وجہ سے شدید غمگین ہیں اور شدت سے رونے کی وجہ سے اُن کے حلق سے آواز بھی نہیں نکلے گی اِسی لئے آپ حضرت عمر کے بارہ میں حکم فرمائیں کہ وہ نماز پڑھا دیں۔ چنانچہ حضرت اَمی حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی علیہ السلام کی خدمت میں ایسا ہی عرض کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: تم صواحب یوسف کی طرح ہوگئے ہو، (یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں عورتوں نے اصل بات کو دِل میں چھپایا جو زلیخا کو طعن و تشنیع کررہی تھیں وہ خود بھی یوسف علیہ السلام کو دیکھ کر ششدرہ رہ گئی تھیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہراً یہ کہتی ہو کہ ابوبکر رقیق القلب ہیں حالانکہ تمہارے دل میں یہ شبہ ہے کہ میرے والد کے بارے میں بعد میں کوئی ایسے نہ کہے کہ جب وہ مصلیٰ پر آئے تو آپ علیہ السلام اِس دنیا سے رخصت ہوگئے)۔ جائو اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کونماز پڑھائیں۔ ‘‘۔
(مفہوم حدیث: ۶۸۲۶، باب ما یکرہ من التعمق والتنازع فی العلم، صحیح البخاری )

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop