حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیں

حالات کے مطابق خود کو ڈھال لیں

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ مؤمن کی مثال کھیت کے نئے اور نرم پودے کی طرح ہوتی ہے (جس کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں مگر ٹہنیاں ابھی کمزور ہوتی ہیں) جب ہوا چلتی ہے تو اُس کے پتے ہوا کی سمت میں جھک جاتے ہیں ۔ پھر جب ہوا رُک جاتی ہے ۔ تو پتے دوبارہ( اپنی اصلی حالت پر) سیدھے ہو جاتے ہیں۔ یہی حال مسلمان کا ہے کہ جب مصیبت اور آزمائش کی ہوائیں چلتی ہیں تو وہ جھک جاتا ہے (یعنی فطری اور طبعی تقاضوں کے تحت وہ کبھی کبھی ظاہراً پریشان ہوتا ہے، حالات کے مطاق خود کو ڈھال لیتا ہے اور مخالف سمت میں چلنے والی ہوائوں پر صبر کرلیتا ہے لیکن بہر صورت اُس کے دل میں ایمان کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں اسی لئے جونہی آزمائش ختم ہو تی ہے تو وہ اپنی اصلی حالت ِ ایمانی پر برقرار ہوتا ہے) جبکہ کافر کی مثال صنوبر درخت جیسی ہے جو سخت سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جب چاہتے ہیں اُس کو جڑ سے اُکھاڑ دیتے ہیں۔
(مفہوم حدیث:۶۹۷۸، باب: فی المشینہ والارادۃ، صحیح البخاری )

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop