گناہوں کا بوجھ مؤمن محسوس کرتا ہے

گناہوں کا بوجھ مؤمن محسوس کرتا ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ مؤمن اپنے گناہوں کا بوجھ ایسے محسوس کرتا ہے جیسے اُس پر پہاڑ کا بوجھ ہو ( یعنی جب تک گناہ سے توبہ نہ کرلے، اُس کے ضمیر پر ایک بوجھ رہتا ہے اور وہ بے چین رہتا ہے) اورڈرتا ہے کہ کہیں پہاڑ گر نہ جائے۔ جبکہ بدکار ( فاسق و فاجر، کثر ت سے گناہ میں ڈوبا ہوا شخص ) اپنے گناہوں کو ایسے سمجھتا ہے جیسے مکھی ناک پر سے گزری تو اُس نے اپنے ہاتھ سے اُس کو فوراً ہٹا دیا ( گناہوں کو عادت بنا لیتا ہے اور شرمندگی بھی نہیں ہوتی بلکہ بسا اوقات گناہ پر دلیر ہو جاتے ہیں اور تاویلیں پیش کرنے لگتے ہیں۔‘‘)۔

(مفہوم حدیث: ۵۸۹۶، باب التوبۃ ، صحیح البخاری )

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop