شکوے کی پٹی

شکوے کی پٹی

رابعہ بصریہ رحمۃ اللہ علیہا ایک مرتبہ کہیں کھڑی تھیں….. ان کے قریب سے ایک نوجوان گزرا….. اس نے اپنے سر پر پٹی باندھی ہوئی تھی….. انہوں نے پوچھا، بیٹا! کیا ہوا؟ اس نے کہا، اماں! میرے سر میں درد ہے جس کی وجہ سے پٹی باندھی ہوئی ہے، پہلے تو کبھی درد نہیں ہوا….. انہوں نے پوچھا، بیٹا! آپ کی عمر کتنی ہے؟ وہ کہنے لگا، جی میری عمر تیس سال ہے….. یہ سن کر وہ فرمانے لگیں، بیٹا! تیرے سر میں تیس سال تک درد نہیں ہوا تو نے شکر کی پٹی تو کبھی نہ باندھی، تجھے پہلی دفعہ دردہوا ہے تو تونے شکوے شکایت کی پٹی فوراً باندھ لی ہے….. ہمارا حال بھی یہی ہے کہ ہم سالہا سال اس کی نعمتیں اور سکون کی زندگی گزارتے ہیں، ہم اس کا تو شکر ادا کرتے اور جب ذرا سی تکلیف پہنچتی ہے تو فوراًشکوے کرنا شروع کردیتے ہیں….. (خطبات فقیر)

کتاب کا نام : ایک ہزار پرتاثیر واقعات صفحہ 64۔