نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ کرنے کا خاص انداز

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ کرنے کا خاص انداز

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے پتھریلے علاقے میں چل رہا تھا۔ اسی دوران ہم اُحد پہاڑکے پاس پہنچے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو آواز دی: اے ابو ذر! میں نے فوراً جواب دیا: لبیک یا رسول اللہ! سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابو ذر! مجھے یہ بات پسند ٓنہیں کہ میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا موجود ہو اور تین دن میرے اس حال میں گز ر جائیں کہ میرے پاس ایک دینار بھی موجود ہو (یعنی دو دن کے اندر پورا اُحد پہاڑصدقہ کردینے کو میں پسند کرتا ہوں) سوائے اُس تھوڑی سی رقم کے جو میں قرض کی ادائیگی کے لئے اپنے پاس بچالوں گا، اُس کے علاوہ تمام مال کو اللہ کے بندوں میں ایسے ایسے خرچ کردوں گا کہ دائیں طرف سے بھی، بائیں طرف سے بھی اور پیچھے سے بھی۔

(یعنی ہر ممکن کوشش کر کے خرچ کردیتا، مگر یہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص شان تھی، عام مسلمان جس کے ذمہ اہل و عیال کے اخراجات ہوتے ہیں اُس کے لئے مناسب نہیں کہ پورا مال صدقہ کرے)

(مفہوم حدیث: ۶۰۲۷، باب ما احب ان لی مثل احد ذھباً، صحیح البخاری)

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop