صبر کی حقیقت اور ایک نبوی نصیحت

صبر کی حقیقت اور ایک نبوی نصیحت

حضرت اَنس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ راستے میں قبر کے پاس بیٹھی ہوئی عورت کے پاس سے گزرے جو کہ غم کی وجہ سے رو رہی تھی (اُس عورت کا بچہ فوت ہوگیا تھا)۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ سے ڈرو (اور واویلا نہ مچائو بلکہ) صبر کرو۔ (غم کی شدت کی وجہ سے ) اُس عورت نے آ پ کو نہ پہچانا اور کہنے لگی: آپ میری مصیبت اور پریشانی کو نہیں سمجھ سکتے ( یعنی اعراض کرنے لگی)۔

تو پھر لوگوں نے اُس کو بتلایا کہ یہ تو رحمت للعالمین سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم تھے (وہ بہت شرمندہ ہوئی) اور فوراً درِ نبوت پر حاضر ہوئی۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازپر دربان نہیں ہوتے تھے۔ اسی لئے وہ اپنی فریاد لے کر بلا واسطہ آپ کی خدمت میں پہنچی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو پہچانا نہیں( اس لئے گستاخی ہوگئی، آپ مجھے معاف کردیئجے)۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نصیحت فرماتے ہوئے) ارشاد فرمایا : صبر وہ ہے جو پریشانی کے شروع میں کیا جائے ( بعد میں رو پیٹ کر ہر کوئی عموماً صبر کر ہی جاتا ہے)۔

(مفہوم حدیث : ۱۲۱۵، باب زیارۃ القبور، صحیح البخاری )

صحیح البخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop