بوادر النوادر کیا ہے؟
اس میں وہ خاص اہم مضامین جو بہت ہی ادق اور مشکل تھے
جو عام طور پر علماء کیلئے اُن کا حل کرنا بظاہر ناممکن تھا حضرت حکیم الامت نے اپنی
شانِ مجددیت اور الہامی طور پر اُن کو ایسا حل کیا ہے کہ بعض معاصرین بھی حیرت میں رہ گئے۔
ان میں ایک خاص رسالہ ’’ تعدیل حقوق الوالدین ‘‘ کے عنوان سے درج ہے اس میں
والدین کے حقوق میں انصاف کا تذکرہ فرمایا جوکہ در حقیقت ایک مجدد ہی کی شان ہوسکتی ہے
حضرت منشی عبدالرحمٰن رحمہ اللہ اپنی تالیف ’’سیرتِ اَشرف‘‘ میں لکھتے ہیں:۔
بوادرالنوادر۔ کی اہمیت و افادیت کا اندازہ صرف اس اَمر سے لگایا جا سکتا ہے …
کہ اس میں بعض ایسے اہم ترین مسائل پر بھی تحقیقات موجود ہیں… جن پر حضرت سے قبل کسی نے روشنی نہیں ڈالی… ان کے علاوہ دور حاضرہ کے پیدا شدہ مسائل مثلاً ہوائی جہاز میں نماز پڑھنا… روزہ کی حالت میں انجکشن لگوانا… نظم میں قرآن مجید کا ترجمہ کرنا… منی آرڈر یا کرنسی نوٹ کے ذریعہ زکوٰۃ ادا کرنا… رؤیت ہلال کے متعلق تار کی خبر پر اعتبار کرنا… لائوڈ سپیکر وغیرہ کا نماز میں استعمال کرنا… سرکاری فرائض کی ادائیگی کیلئے خفیہ پولیس والوں کا بہروپیا بننا… حج کی فلم بنانا اور فلم دیکھنا… اخبار نویسی اور اخبار بینی وغیرہ ایسے اُمور پر تحقیقات شرعیہ درج ہیں۔
حکیم الامت رحمہ اللہ مشکل موضوعات پر گفتگو فرماتے اور ایسے مسائل حل فرماتے کہ
جو اس وقت کے بڑے بڑے جید علماء کے بس میں بھی نہ ہوتے ۔
زیر نظر کتاب بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔
حضرت رحمہ اللہ کے تمام مضامین مع خطبات و ملفوظات ، تالیفات و تصنیفات الہامی ہیں
کیونکہ آپ بسا اوقات اپنے ہی لکھے ہوئے خطوط کے جوابات کو سنتے تو فرماتے :
کیا یہ جواب میں نے ہی لکھا ہے ؟اگر اب میں ایسا لکھنا چاہوں تو نہیں لکھ سکتا ۔
حضرت رحمہ اللہ کے ہاں روزانہ خطوط کی بھی بھرمار ہوتی تھی اور آپ کا معمول تھا رات کو مکمل جواب لکھ کر آرام فرماتے تھے اوریہ بھی فرمایا کرتے تھے اگر میں پہلے سونا بھی چاہوں تو نہیں سو سکتا اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے اس لیے فوری جواب لکھتا ہوں تاکہ دوسرے کو فوری جواب مل جائے انتظار کی تکلیف نہ ہو۔ اور بعض دفعہ تو سالک کی حالت یعنی ایسی غیر ہوتی ہے کہ اگر فوری جواب نہ ملے تو بعضوں کی ہلاکت ہوجاتی ہے اور جوابات دینے میں یہ بھی معمول تھا اگر کسی خط کے سوال کا جواب سمجھ میں نہ آتا تو اس کو لکھ دیا جاتا کہ یہ سوال دوبارہ لکھا جائے۔
اس سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہر جواب الہامی ہوتا تھا ۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ حکیم الامت رحمہ اللہ تعالیٰ کے فیضان کو
پوری اُمت مسلمہ تک پہنچانے کی مزید سے مزید توفیق عطا فرمائے آمین۔
والسلام احقر قاری محمد اسحاق ملتانی
۔۲۱صفرالمظفر بمطابق 27اگست 2024ء۔

بوادر النوادر (77-79) 3 جلد
بوادر النوادر (3 جلد)۔
بوادر النوادر” ایک نایاب علمی مجموعہ ہے جس میں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ نے قرآن، حدیث، فقہ، تصوف اور عقائد میں سے اہم اور ادق موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ کتاب علماء اور طلباء کے لیے نہایت مفید ہے کیونکہ اس میں کئی ایسے مشکل مسائل کا حل بیان کیا گیا ہے جن کو عام طور پر ناممکن سمجھا جاتا تھا ۔ اور کئی ایسے مسائل بھی جن کو پہلی مرتبہ زیر بحث لایا گیا اور حل پیش کیا گیا ۔

