ناقص استاد اور اصلاحی اصول: اخلاق اور تدریس میں کامیابی کے اصول
جو ا ستاد اخلاقی برائیوں کو حسن خلق کے ذریعے رفع کرنے کی قابلیت نہیں رکھتاوہ استاد کہلانے کا مستحق نہیں، اصل بات یہ ہے کہ عام طور سے اساتذہ کو اپنی بد خلقیوں کی طرف بالکل توجہ نہیں ہوتی ورنہ اپنی اصلاح کی فکر ہوتی بزعم خود اپنے کو کامل سمجھ لیتے ہیں اور ناقص جب اپنے کوکامل سمجھ لے تو اس سے جو بھی فتنہ اٹھ کھڑا ہو وہ کم ہے۔
یاد رکھئے چھوٹے بچوں کے دل میں رعب اور خوف کا سمانا ایسا ہی برا ہے کہ جیسا نرم ونازک پودے پر باد صرصر کا تند جھونکا یا پھولوں پر لوکا چلنا۔ اگر طالب علم کو تاہی کرتا ہے پہلے اس کو شفقت اور نرمی سے سمجھائے۔ اس کا اثر نہ ہوتو تنبیہ کرے، اس کا بھی اثر نہ لے تو مدرسہ کے ذمہ دار کو اس کے حالات سے مطلع کرے، اگر بار بار سمجھانے اور تنبیہ کے بعد بھی اس کی حالت درست نہ ہو تو اس کے سرپرست کر مطلع کر دیا جائے کہ یہاں اس کا ر ہنا مفید نہیں دوسری جگہ بھیج دیا جائے ممکن ہے وہاں کچھ حاصل کرلے، مگر یہ کوئی عقل مندی نہیں ہے کہ دوسرے کی اصلاح میں اپنے کو فاسد کردے۔
Featured products
New Year BooksOffer 2025
Original price was: ₨ 5930.00.₨ 4750.00Current price is: ₨ 4750.00.Ramzan Ul Mubarak Ki Behtareen Kitabein
Original price was: ₨ 4480.00.₨ 4030.00Current price is: ₨ 4030.00.مجموعہ حضرت تھانوی پیکیج
₨ 11100.00





