حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی مدظلہم کا مختصر تعارف

حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی مدظلہم کا مختصر تعارف

دارالعلوم دیو بند کے مشہور استاذ اور بلند پایہ مصنف مولانا ندیم الواجدی صاحب مدظلہ کے ایک مضمون سے انتخاب

سلطنتِ علم کے بے تاج بادشاہ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی کا تعلق دیو بند کے ایک علمی گھرانے سے ہے، آپ کے دادا حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب رحمہ اللہ دارالعلوم دیو بند میں فارسی کے استاذ تھے، والد محترم کا اسم گرامی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ ہے۔ جنہوں نے پاکستان جا کر تین اہم کارنامے انجام دیئے ، ایک دارالعلوم کراچی کا قیام جس کا شمار آج پاکستان کے بڑے اداروں میں ہوتا ہے ، بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس کا شمار دنیا کی چند بڑی تعلیم گاہوں میں ہوتا ہے، حیرت ہوتی ہے کہ ایک مہاجر نے نا مساعد حالات میں محض اپنی خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر ہزار مخالفتوں کے باوجود کس طرح کراچی کے صحرا میں علم کا یہ نخلستان لگایا کہ آج ساری دنیا میں علم کا یہ تاج محل پاکستان کا نام روشن کررہا ہے۔

 حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ کا دوسرا اہم کارنامہ تفسیر معارف القرآن کی تالیف ہے، اس تفسیر نے علمی اوردینی حلقوں میں وہ مقبولیت، شہرت اور اعتبار و اعتماد حاصل کیا ہے، جو اُردو زبان کی کسی دوسری تفسیر کو اب تک حاصل نہیں ہو سکا، ان کا تیسرا اور سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے بچوں کی اس طرح تربیت کی اور انہیں زیور ِ تعلیم سے اس طرح آراستہ کیا کہ آج ان کے بچے اپنے قابلِ فخر والد کے نقشِ قدم پر چل کر شہرت اور عزت کی تمام بلندیوں کو چُھو چکے ہیں۔

 میں بطور ِ خاص حضرت مولانا محمد تقی عثمانی کا ذکر کروں گا جن کی شہرت اب زمان و مکان کی تمام حدیں توڑ چکی ہے، کسے معلوم تھا کہ دیو بند کی سر زمین پر پیدا ہونے والا یہ بچہ بڑا ہو کر علم کے آسمان پر آفتاب و ماہتاب بن کرچمکے گا اور اس کے نور ِ علم اور فیض عمل سے دنیا کا گوشہ گوشہ جگمگائے کا، حضرت مولانا محمد تقی عثمانی ساری دنیا میں گھومتے پھرتے ہیں، امریکہ ، یورپ ، جنوبی ایشیا، مغربی ایشیا اور وسط ایشیا کا کوئی ملک ایسا نہیں ہے جہاں ان کے قدم نہ پہنچے ہوں اور بار بار نہ پہنچے ہوں، یہ صرف ہندوستان کی سرزمین تھی جو برسوں سے ان کی تشریف آوری کی منتظر تھی ، بلکہ یہ دیو بند کی سر زمین تھی جو لگ بھگ بیس بائیس برسوں سے ان کے لئے سراپا شوق بنی ہوئی تھی، آج وہ آئے ہیں تو اہلِ دیوبند کے چہرے شدت ِ جذبات سے کھلے پڑے ہیں، حق تو یہ تھا کہ وہ بار بار یہاں آتے ، کیوں کہ ان کی جڑیں اسی سر زمین میں پیوست ہیں ، مگر سرحدوں کے مسائل سدّ راہ بنے ہوئے ہیں، اور ان مسائل کا بظاہر کوئی حل نہیں ہے۔

سوانح حیات کی اشاعت اور تصدیق:۔

شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی سوانح حیات دو ضخیم جلدوں میں شائع ہو چکی ہے ۔ جو عظیم عالمی شخصیت کے نام سے ادارہ تالیفات اشرفیہ نے شائع کی ہے ۔

یہ دو جلدیں آپ پورے پاکستان میں گھر بیٹھے آرڈر کرسکتے ہیں ۔ اس لنک پر تفصیلات دیکھئے

مفتی تقی عثمانی
مفتی تقی عثمانی

 دیوبند کیا ہے؟

حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ایک چھوٹا قصبہ سہارنپور کا ، جس کو نہ جغرافیائی اورعمرانی حیثیت سے کوئی خاص شہرت حاصل ہے، نہ تجارتی یا صنعتی اعتبار سے، ہاں اس خوش نصیب خطۂ زمین میں علوم اسلامیہ کا ایک عظیم الشّان دارالعلوم ہے جو ہندوستان میں اسلامی حکومت کے سقوط کے بعد علوم اسلامیہ کو اپنی اصل صورت میں باقی رکھنے کے لئے ایک گوشۂ خمول کی حیثیت میں قائم کیا گیا تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو حسن قبول عطا فرمایا اور مرکز ِ علوم بنا دیا اور اس سے پیدا ہونے والے رجال اللہ اس آخری صدی کے مجدد ثابت ہوئے، اس طرح دیو بنداس دور انحطاط میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک پناہ گاہ بن گیا۔‘‘

اسی دیو بند کے ایک علمی گھرانے میں ۵ شوال ۱۳۶۲؁ھ مطابق ۳ ؍ اکتوبر ۱۹۴۳؁ء کو حضرت مولانا محمد تقی عثمانی پیدا ہوئے، پانچ سال کی عمر میں پاکستان چلے گئے، لیکن اس سے پہلے ہی دیو بند کے ایک گھر میں قصبے کی ایک بزرگ خاتون نے قاعدہ پڑھا کر ان کی تعلیم کا آغاز کیا، اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ حضرت مفتی صاحب کی تعلیم و تربیت کی ابتداء دیو بند کی رُوحانی اور علمی فضائوں میں ہوئی، مفتی صاحب کے لئے تو یقینا یہ بات قابل فخر ہوگی ہی خود اہلِ دیو بند کے لئے بھی کم لائق فخر نہیں کہ آج شیخ الاسلام کے عظیم لقب سے جو شخص پورے عالمِ اسلام میں معروف و مشہور ہے اس کے حصولِ علم کی بنیاد اسی سرزمین پر پڑی ، یوں بھی دارالعلوم کراچی میں اُنہوں نے جس درس نظامی کی تحصیل کی، اور جن بزرگوں سے اکتساب فیض کیا وہ سب بلا واسطہ یا بالواسطہ دارالعلوم دیو بند ہی کے فیض یافتہ تھے، یہی وجہ ہے کہ دیو بندان کے رگ و ریشے میں سمایا ہوا ہے، اور اس کی یادیں لہو بن کر ان کی رگوں میں گردش کررہی ہیں۔

 وہ اگرچہ پاکستان کے شہر کراچی میں رہتے ہیں مگر درحقیقت وہ دیو بند رہتے ہیں، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آج ساری دنیا میں دیو بند کی عظمتوں کو جس طرح وہ متعارف کرا رہے ہیں اورمسلک دیو بند کی جس طرح وہ ترجمانی کررہے ہیں اس میں کوئی شخص ان کی برابری کا دعویٰ نہیں کر سکتا، ان کی کوئی بھی تحریر پڑھ لیجئے ، ان کی کوئی بھی تقریر سن لیجئے، ہر تقریر اور تحریر علمائے دیو بند کے ذکر سے روشن ہے ، ان کی ہر کتاب علمائے دیو بند کے افادات کی تشریح و تفسیر معلوم ہوتی ہے، اس سے معلوم ہوا کہ تقسیم نے جسم تو تقسیم کئے، لیکن دل و دماغ تقسیم نہیں کئے ، وہ پاکستان میں رہ کر دیوبند کا فیض پھیلا رہے ہیں اور ہم دیو بند میں رہ کر ان کی علمی رفعتوں کو سلام کررہے ہیں۔

والد کے سچے جانشین:۔

 حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ اپنے والد محترم کے سچے جانشین اور ان کی علمی وراثتوں کے حقیقی وارث اور امین ہیں، مجھے کسی کتاب میں پڑھا ہوا ایک جملہ یاد آتا ہے جو ان کے دادا حضرت مولانا محمد یٰسین صاحب رحمہ اللہ نے اپنے قابل فخر بیٹے حضرت مولانا محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ کے بارے میں کہا تھا کہ ’’ میرا بیٹا چار بیٹوں کے برابر بلکہ ان پر بھاری ہوگا ‘‘ مجھے یقین ہے کہ اگر حضرت مفتی صاحب رحمہ اللہ حیات ہوتے اور اپنے قابلِ فخر بیٹے مفتی محمد تقی عثمانی کو علم و فضل کی لا محدودفضائوں میں پرواز کرتے ہوئے دیکھتے اور یہ دیکھتے کہ جہاں ان کے بیٹے کے قدم پہنچتے ہیں وہاں ہزاروں لاکھوں تشنگانِ علوم نبوت پر وانوں کی طرح ان پر نثار ہوتے ہیں تو وہ فخر و مسرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ فرماتے، میرا یہ بیٹا علماء کی ایک بڑی جماعت کے برابر بلکہ ان پر بھاری ہوگا، بہرحال وہ یہ جملہ کہتے یا نہ کہتے حقیقت یہی ہے کہ وہ ایک فرد نہیں بلکہ اپنی ذات میں ایک انجمن ہیں، محض ایک عالم ہی نہیں بلکہ جبلِ علم ہیں، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ دائرۃ المعارف ہیں، دارالعلوم ہیں، بشرطیکہ اہل زبان کسی شخص کو دارالعلوم اوردائرۃ المعارف کہنے کی اجازت دیں۔

شیخ الاسلام کس طرح بنے؟

 محمد تقی عثمانی شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد تقی عثمانی کس طرح بنے ، آج دنیا ان کا نام اتنے احترام کے ساتھ کیوں لیتی ہے، ان کی وہ کون سی خدمات ہیں جنہوںنے ان کو علماء کی بھیڑ میں انفرادیت عطا کی ہے وہ اکابر و مشائخ کے منظور ِ نظر بھی ہیں اپنے اساتذہ کے محبوب دل نواز بھی، اور طلبۂ دین کے لئے نمونۂ عمل بھی، ان کے اندر یہ خصوصیات کس طرح پیدا ہوئیں، یہ جاننا بے حد ضروری ہے، خاص طور پر ان نوجوان علماء کے لئے جو مستقبل میں خدمت دین کے لئے وسیع امکانات کی جستجو میں مصروف ہیں اور جو حضرت مولانا محمد تقی عثمانی کو آئیڈیل بنا کر اپنا علمی سفر طے کرنا چاہتے ہیں، یہ تعارفی تحریر ایسے ہی بلند پرواز نوجوانوں کی نذر ہے۔

 حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ جدید و قدیم دونوں طرح کے علوم پر یکساں دسترس رکھتے ہیں، جس طرح وہ عربی اور اُردو میں ماہر ہیں اسی طرح وہ انگلش سے بھی پوری طرح واقف ہیں یہ وہ پہلو ہے جس نے انہیں اپنے معاصرین و اقران پر قابل رشک تفوق و امتیاز عطا کردیا ہے۔ انہوں نے دارالعلوم دیو بند کے مروّجہ نصاب کے مطابق دارالعلوم کراچی میں اپنے والد ِ گرامی قدر حضرت مولانا مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ، حضرت مولانا اکبر علی رحمہ اللہ، حضرت مولانا مفتی ولی حسن رحمہ اللہ، حضرت مولانا مفتی رشید احمد رحمہ اللہ، حضرت مولانا سحبان محمود رحمہ اللہ، حضرت مولانا سلیم اللہ خان رحمہ اللہ اورحضرت مولانا شمس الحق جیسے اساطین علم و فضل سے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی، ایام طالب علمی میں حصول علم کے علاوہ ان کا کوئی دوسرا مشغلہ نہیں تھا، سبق کے اوقات کے علاوہ بھی وہ کتابوں پر ہی جھکے رہتے ، چھٹیوں کا زمانہ بھی لائبریری میں قید ہو کر گزارتے، ہر امتحان میں انہوں نے امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی، فراغت کے سال میں انہوں نے کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے اور آج تک کوئی دوسراطالب علم ان کا یہ ریکارڈ برابر نہ کر سکا، یہ 1959؁ء کی بات ہے جب ان کی عمر سولہ سال تھی ، درس نظامی سے فراغت کے بعد یہ احساس دامن گیر ہوا کہ تغیر پذیر دنیا میں اسلام کی صحیح خدمت انجام دینے کے لئے عصری علوم کا حصول بے حد ضروری ہے، والد محترم کی ہمت افزائی اور اجازت سے انہوں نے اقتصادیات ، سیاسیات اور قانون کی تعلیم کا آ غاز کیا، 1967؁ء میں کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی سند حاصل کر کے اس ضرورت اور شوق کی تکمیل کی۔

ملک بھر میں پہلی پوزیشن:۔

درسِ نظامی کی کتابیں اگرچہ عربی زبان میں ہیں اور سالہا سال تک بچہ یہ کتابیں پڑھتا ہے یہاں تک کہ فارغ بھی ہو جاتا ہے، مگر اہلِ زبان کی طرح عربی بولنے لکھنے پر قادر نہیں ہو پاتا، یہی پریشانی مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ کے سامنے بھی تھی، اس ضرورت کی تکمیل کے لئے 1970؁ء میں انہوں نے عربی زبان میں ایم اے کیا اور ملک بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی، اللہ تعالیٰ نے انہیں بے پناہ علمی صلاحیتوں سے نوازا ہے، اورجدید و قدیم علوم میں انتہائی بصیرت عطا کی ہے، آج وہ جس علمی مقام پر فائز ہیں، اس میں ان کی مسلسل محنت کو بڑا دخل ہے، خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے علومِ اسلامیہ کی خدمت کو اپنا نصب العین بنایا، اگر وہ چاہتے تو کسی عصری تعلیم گاہ میں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہو سکتے تھے، یہ مشغلہ معاشی نقطہ سے زیادہ بہتر ہوتا ، مگر انہوں نے جدید علوم اس لئے حاصل نہیں کئے تھے کہ ان کے ذریعے دنیا کمائیں بلکہ اس لئے حاصل کئے تھے کہ ان علوم میں مہارت حاصل کر کے اسلامی علوم خاص طور پر فقہ و فتاویٰ کی بالکل منفرد انداز میں خدمت انجام دیں ، یہ ان کے اخلاص کی برکت اور محنت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا ان کے قدموں پرجھکی جاتی ہے۔

 حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ نے مختلف النوع خدمات انجام دی ہیں، اور آج بھی وہ مختلف جہتوں میں خدمت انجام دینے کے لئے تازہ دم نظر آتے ہیں، ان کی زندگی کا انتہائی روشن اورتابناک پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غیر معمولی صلاحیتیںعطا کی ہیں، کثرت ِ اسفار اور تدریسی مشاغل کے باوجود جو گراں قدر تصنیفی و تالیفی کام وہ کررہے ہیں اسے دیکھ کرحیرت بھی ہوتی ہے اور رشک بھی آتا ہے ان کی غیر معمولی خدمات کو ہم اُمت ِ محمدی کے اعجاز اورحضرت مولانا کی کرامت ہی سے تعبیر کر سکتے ہیں۔

دارالعلوم کراچی سے فراغت کے بعد حضرت مولانا درس و تدریس سے منسلک ہو گئے اور اس وقت سے آج تک اسی سے وابستہ ہیں ، اس دوران حضرت مولانا نے ابتدائی درجات کی کتابوں سے لے کردرجات علیا تک کی کتابوں کا درس دیا ہے، ترمذی کے درسی افادات پانچ جلدوں میں طبع ہو کر مقبول ہو چکے ہیں، اب کئی سالوں سے درسِ نظامی کی آخری کتاب بخاری شریف پڑھا رہے ہیں، اس کتاب کی درسی تقریریں بھی انعام الباری کے نام سے شائع ہوگئی ہیں، درس و تدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف کا مشغلہ بھی رہا، ان کے قلم سے متعدد اہم موضوعات پر کئی گراں قدر کتابیں بھی نکلی ہیں، ان مشاغل کے ساتھ پاکستان کے مشہور علمی مجلّے ماہ نامہ ’’البلاغ‘‘ کی ادارت کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے، اس دوران متعدد ملکوں کے دعوتی اور تبلیغی اسفار بھی کئے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو گہرے مشاہدے کی بے پناہ صلاحیت سے نوازا ہے، سفر سے واپسی کے بعد انہوں نے جو مشاہدات قلم بند کئے ہیں، وہ محض سفر نامہ نہیں ہیں بلکہ معلومات کا خزانہ بھی ہیں ان کے سفرناموں میں زبان و بیان کی حلاوت تو ہے ہی بلکہ دلچسپ منظر کشی بھی ہے، پڑھنے والا دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر ان کے سفر میں اس طرح گم ہو جاتا ہے گویا وہ خود بھی ان کے ہم رکاب ہے، پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے ، کہ اتنے پُراثر اور معلومات افزاء سفر نامے شاذو نادر ہی وجود میں آتے ہیں۔

مفتی تقی عثمانی
مفتی تقی عثمانی

علمی دلچسپی کا مرکز:۔

حضرت مولانا کی علمی دلچسپیوں کا مرکز فقہ و فتاویٰ اور علوم حدیث ہیں، فقہ و فتاویٰ میں بھی انہوں نے اسلامی اقتصادیات کو بطور خاص اپنا موضوع بنایا ہے موجودہ دور میں بین الاقوامی سطح پر جو تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں ان میں سب سے اہم تبدیلی معیشت کے میدانوں میں رونما ہوئی ہے، ان تبدیلیوں کے نتیجے میں جو مسائل سامنے آئے ہیں ان کے حل کے لئے ایک ایسے متبحر عالم دین کی ضرورت تھی ، جو شریعت کے بنیادی مآخذ پر گہری نظر رکھتا ہو ، اس کے ساتھ ہی وہ معیشت کے جدید تقاضوں سے اور تغیر پذیر دنیا کے ہر لحظہ بدلتے حالات سے بھی پوری طرح باخبر ہو، نیز وہ اپنی مجتہدانہ بصیرت سے ان چیلنجوں کا بھر پور جواب بھی دے سکتا ہو جو اِسلام اور جدید معیشت کے حوالے سے سامنے آتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اس اہم کام کے لئے حضرت مولانا کا انتخاب کیا اور آج وہ اسلامی معیشت اور اسلامی بینک کاری کے میدان میں وہ کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں ماضی قریب میں جن کی نظیر نہیں ملتی، فقہی مقالات کے نام سے چار جلدوں پر مشتمل ان کی کتاب اس موضوع کے بہت سے اہم پہلوئوں پر مآخذ کی حیثیت رکھتی ہے اور اب ایک اور کتاب ’’اسلام اور جدید معاشی مسائل ‘‘ کے نام سے آٹھ جلدوں میں منظر عام پر آئی ہے۔

 اس کتاب کو معاشی موضوعات اور اقتصادی مسائل کا ایک مکمل انسائیکلو پیڈیا کہا جاسکتا ہے، یہ کتاب اسلامی بینک کاری کے میدان میں کام کرنے والوں کے لئے دلیل اور راہنما ہے حضرت مولانا کی زندگی کا اہم کارنامہ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی کی نادرۂ روزگار کتاب ’’ فتح الملہم شرح صحیح مسلم‘‘ کی تکمیل ہے، علامہ شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ نے تین جلدیں تصنیف کی تھیں، حضرت مولانا نے ۹ جلدوں کے اضافے کے ساتھ اس کتاب کو پایۂ تکمیل تک پہنچا کر علمی دنیا سے خراجِ تحسین حاصل کیا ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو بے پناہ تحریری صلاحیتوں سے نوازا ہے، معلومات کی وسعت اور موضوع پر پوری قدرت اور استیعاب کے ساتھ ساتھ ان کی تحریروں کی اہم ترین خصوصیت یہ ہے کہ ان کا اُسلوب بیان انتہائی دلکش اور پُر اثر ہوتا ہے ، یہ حیرت انگیز بات ہے کہ ان کے اُسلوب کی شگفتگی ، عربی، اُردو اور اِنگلش تینوں زبانوں میں نمایاں نظر آتی ہے، اور یہ ایک ایسا وصف ہے جو شاذو نادر ہی کہیں ملتا ہے، بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو بیک وقت تینوں زبانوں پر یکساں قدرت رکھتے ہوں، تینوں زبانوں میں لکھ بھی سکتے ہوں اور تینوں زبانوں میں بولنے پر بھی قادر ہوں، حال ہی میں حضرت مولانا صاحب نے قرآن کریم کا اِنگلش ترجمہ کیا ہے۔

 انگریزی زبان پر دسترس رکھنے والوں کا خیال ہے کہ لا تعداد انگریزی تراجم کے درمیان یہ ترجمۂ قرآن اپنے اُسلوب بیان اور پُر اثر انداز ِ تحریر کی وجہ سے بالکل منفرد حیثیت رکھتا ہے، موجودہ دور کے مایۂ ناز عالم اور مصنف علامہ یوسف قرضاوی نے مولانا کی شرح مسلم کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے:

میں نے اس شرح میں کئی نمایاں خصوصیات پائی ہیں، محدث کا حسن، فقیہ کا ملکہ، معلم کی سوچ، قاضی کا تحمل اور بردباری موجودہ زمانے کے حالات پر بھر پور نظر، پہلو بہ پہلو ہمہ گیر فکر، میں نے صحیح مسلم کی کئی شروحات دیکھی ہیں، پرانی بھی اور نئی بھی ، لیکن مولانا محمد تقی عثمانی صاحب کی شرح بلند شان و شوکت والی ہے۔

کچھ اسی طرح کے خیالات مشہور محقق اور محدث شیخ عبدالفتاح ابو غدہ اور معروف فقیہ ڈاکٹر وہبۃ الزحیلی نے بھی ظاہر کئے ہیں۔

اصلاحی خطبات سے اصلاح:۔

 حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ اپنے خطبات کے ذریعے اصلاحِ نفس کا کام بھی کرتے ہیں، کراچی کی مشہورجامع مسجد بیت المکرم میں جو وعظ ہر ہفتے جمعہ کے دن آپ فرماتے ہیں وہ عام خطیبوں کی روش سے ہٹ کر ہوتا ہے، جامع، مرتب، اور دور ِ حاضر کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق ، اس مجلس وعظ میں لوگوں کی بڑی تعداد اطراف و جوانب سے شریک ہو کر استفادہ کرتی ہے ان کے بعض تلامذہ نے اصلاحی خطبات کے نام سے یہ مواعظ و خطبات جمع کردیئے ہیں، اس طرح اب سامعین ہی ان سے مستفید نہیں ہوتے، بلکہ دُور دراز کے علاقوں میں بھی ان سے بھر پور استفادہ کیا جاتا ہے۔

 ہمارے اکابر کا طرز یہ رہا ہے کہ وہ تربیت اور تزکیۂ نفس کے لئے اپنے زمانہ کے باکمال مشائخِ عظام و صوفیاء کرام سے رجوع کرتے ہیں، حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ نے بھی اپنے بزرگوں کی اتباع میں حضرت عارف باللہ ڈاکٹر عبدالحئی عارفی کی خدمت میں حاضری دی، اور ان کے انتقال کے بعد حضرت مولانا مسیح اللہ خان جلال آبادی سے بیعت و اِرادت کا تعلق قائم کیا، ان دونوں حضرات کا شمار حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے با کمال خلفاء میں ہوتا ہے، اس طرح حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ نے علوم ظاہرہ میں بھی کمال حاصل کیا اورعلوم باطنہ کی بھی تکمیل کی۔

 حضرت مولانا کی زندگی کا اہم ترین لمحہ وہ ہے جب آپ پاکستان کی اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر اور پاکستانی عدلیہ کے جسٹس نامزد کئے گئے، یہ شاید پہلا اور آخری واقعہ جب ایک قدیم طرز کا عالم دین پاکستانی عدلیہ کا جسٹس بنا، اس عہدہ ٔ جلیلہ پر آپ کئی سال تک فائز رہے اس دوران جو فیصلے آپ نے لکھے ان میں شریعت سے سر موانحراف نہیں ملتا، یہ تمام فیصلے کتابی شکل میں بھی چھپ چکے ہیں، انہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر انتہائی وسیع ہے، شرعی قوانین پر بھی اور ملکی قوانین پر بھی ، خاص بات یہ کہ شریعت ِ اسلامیہ کی قیمت پر انہوں نے کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، آج ان کے فیصلے پاکستانی عدلیہ کے لئے بہترین دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں۔

 اس میں شک نہیں کہ حضرت مولانا محمد تقی عثمانی مدظلہ عالمی شخصیت ہیں، دنیا بھر میں ان کی شہرتوں کا سفر جاری ہے، کئی اعلیٰ مناصب اور عہدوں پر فائز ہیں ،دارالعلوم کراچی کے شیخ الحدیث، مجمع الفقہ الاسلامی جدہ کے صدر، رابطۂ عالم اسلامی کے رُکن، اسلامی بینک بحرین کے ممبر، عالمی مالیاتی ادارہ بحرین کے شرعی نگران، اور دوسرے بے شمار اداروں کے سرپرست، نگراں ، ممبر اور مشیر کی حیثیت سے وہ ہر وقت سرگرم عمل رہتے ہیں، ہماری دُعا ہے اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کا سلسلہ اسی طرح دائم و قائم رکھے آمین ۔

البلاغ محرم الحرام ۱۴۳۲ھ ، ص:45 تا 53

کتاب فروش آن لائن بک اسٹور کا ایک تعارف:۔

کتاب فروش آن لائن بک اسٹور ایک ایسا ادارہ ہے جو پورے پاکستان میں ہر گھر تک کتابیں پہنچانے کا عزم رکھتا ہے ۔ اب تک ہزاروں کتابیں ٹی سی ایس کے ذریعے سے لوگوں کی دہلیز تک پہنچ چکی ہیں اور یہ کام جاری و ساری ہے ۔ ہم ٹی سی ایس کی تیز ترین اور محفوظ ترین سروس کے ذریعے باعزت طریقے سے کتابیں پہنچا رہے ہیں ۔

ہماری کتابوں کی مکمل فہرست اس صفحہ پر دیکھ سکتے ہیں:۔

https://kitabfarosh.com/shop

اور کتاب فروش کے آفیشل واٹس ایپ چینل کو اس لنک پر ضرور فالو کرلیں:۔

https://whatsapp.com/channel/0029Va8DVbVDJ6Gv14hs2b2P


You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop