ربیع الاول اور عید میلاد النبی

ربیع الاول اور عید میلاد النبی

ربیع الاول مسلمانوں کے دلوں میں محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تپش کو تازہ کرنے والا مہینہ ہے۔ اسی نسبت سے بہت سے علاقوں میں عید میلاد النبی کے عنوان سے اجتماعات ہوتے ہیں، گھروں اور گلیوں میں چراغاں کیا جاتا ہے، نعت کی محفلیں برپا ہوتی ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کا ذکر خیر کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے امت کے لیے باقاعدہ جو دو عیدیں مقرر فرمائی ہیں وہ عیدالفطر اور عیدالاضحی ہیں ۔ ان کے علاوہ کسی نئے دن کو عید کے درجے میں فرض یا لازم سمجھنا یا اسے دین کا لازمی شعار قرار دے دینا درست نہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوشی اور محبت کا اظہار ایک فطری امر ہے، بشرطیکہ وہ شریعت کی حدود میں رہے، دکھاوے اور اسراف سے پاک ہو، اور معاشرتی نظم و ضبط کو نقصان نہ پہنچائے۔
ہماری اصل کامیابی اسی میں ہے کہ عید میلاد النبی کے نام پر محبت کے الفاظ سے آگے بڑھ کر اپنے دل و عمل کو سیرتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ میں رنگیں۔ سچائی، عدل، رحم، پڑوسی کا خیال، کمزور کے حق کی پاسداری، رزقِ حلال کی تلاش اور عبادات کی پابندی۔

خوشی کا درست طریقہ

اگر خوشی کے عنوان سے ہم ایسا طرزِ عمل اپنا لیں جو کسی دوسرے مسلمان یا غیر مسلم کے لیے اذیت کا سبب بنے، سڑکیں بند ہوں، بیماروں اور طلبہ کو تکلیف پہنچے، یا محافل میں بے پردگی اور لغو ساز و آواز شامل ہوجائے، تو پھر یہ خوشی اپنے مقصد سے ہٹ جاتی ہے۔ لہٰذا اس مضمون سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ ربیع الاول کے ایّام میں عید میلاد النبی کے عنوان سے ہونے والی سرگرمیوں کو ایسی سمت دی جائے جہاں محبت بھی ہو، نسبت بھی ہو، شریعت کی خوشنودی بھی ہو اور سماج کی خیر بھی۔ اسی زاویے سے ہم پانچ واضح اصول بیان کر رہے ہیں جن پر عمل کر کے ہر شخص اپنی خوشی کو عبادت اور باعثِ خیر بنا سکتا ہے ۔

راستے بند نہ کریں

پہلا اصول یہ ہے کہ راستے بند نہ کریں۔ سڑک اور گلی ایک مشترکہ جگہ ہے، یہاں ہر شخص کا حق برابر ہے۔ جب ہم عید میلاد النبی کے جلوس یا کسی بھی مذہبی و تہذیبی سرگرمی کے نام پر مرکزی شاہراہیں، محلّوں کے داخلی راستے یا اسپتالوں کو جانے والے راستے بند کردیتے ہیں تو دراصل ہم ایک بڑے اجتماعی حق کو پامال کر رہے ہوتے ہیں۔ ذرا سوچئے، کسی کے گھر مریض ہے اور اسے فوری اسپتال پہنچنا ہے؛ کسی طالب علم کا امتحان ہے؛ کسی مزدور نے دیہاڑی لگانی ہے؛ کسی ماں نے بچے کو اسکول چھوڑنا ہے؛ یا کسی ایمبولینس کو راستہ چاہیے—ہماری چند گھنٹوں کی رونق ان کے لیے بڑی آزمائش بن جاتی ہے۔

شریعت کی رہنمائی

شریعت کے مطابق بہتر طریقہ یہ ہے کہ اگر محلہ میں کوئی مختصر پروگرام ہو تو وہ مسجد، مدرسہ یا کمیونٹی ہال کے اندر ہو، جلوس کی جگہ علمی و دعوتی نشست رکھی جائے جو مقررہ وقت پر شروع اور ختم ہو، اور منتظمین مقامی انتظامیہ سے اجازت نامہ، متعین راستہ اور ٹریفک مینجمنٹ پلان پہلے سے طے کریں۔ اگر پھر بھی جلوس ہو تو اسے ایسی گلیوں تک محدود رکھا جائے جہاں متبادل راستہ واضح ہو، آگے پیچھے رضاکار موجود ہوں ۔ چوک پوائنٹس پر عبوری راستہ کھلا رکھا جائے ‘‘۔ کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آسانی پیدا کرنے، رکاوٹیں دور کرنے اور لوگوں کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دی ہے۔ یوں ہم عید میلاد النبی کی نسبت سے اپنی گلیوں اور شہروں میں سہولت اور خیر بانٹیں گے، زحمت نہیں۔

لاؤڈ اسپیکر کو حدود میں رکھیں

دوسرا اصول یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کو حدود میں رکھیں۔ خوشی کے اظہار میں آواز، نعت اور خطبات کا اپنا ایک حسن ہے، مگر آواز جب حد سے بڑھ کر بیماروں، بوڑھوں، ننھے بچوں، محنت کشوں اور طلبہ کے آرام کو توڑ دے تو یہ خوشی نہیں رہتی، دوسروں کے لیے اذیت بن جاتی ہے۔ محفل اگر رات گئے تک کھنچ جائے، اسپیکر کی آواز اتنی تیز ہو کہ ایک میل دور تک مجبوراً سب کو سننا پڑے، یا محفل کے بیچ بیچ میں تیز دھڑکتے ڈھول اور شور شرابہ شامل ہو تو ہم اس سماج کی بنیادی اخلاقیات کو مجروح کرتے ہیں جسے دین نے بڑا مقدس حق قرار دیا ہے۔ عملی حکمت یہی ہے کہ اپنے گھر میں ہی اجتماعات کو ترجیح دی جائے، آواز کا لیول اتنا رکھا جائے کہ حاضرین بخوبی سن سکیں لیکن باہر والوں کی نیند خراب نہ ہو، اور پروگرام کے اوقات محدود اور پابندِ وقت ہوں۔ محفل کے منتظمین پہلے سے اسپیکر چیک کر لیں کہ آواز صاف ہو، چیخنے چلانے کی نوبت نہ آئے، اور اگر کھلی فضا میں انعقاد ضروری ہو تو قریبی گھروں یا اسپتالوں کو پہلے سے اطلاع دے دی جائے تاکہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق انتظام کرلیں ۔ یاد رکھیے، عید میلاد النبی کے نام پر پڑھا جانے والا ایک نعتیہ شعر اسی وقت دلوں میں اترتا ہے جب اس کے ساتھ ادب، وقار اور دوسروں کے حق کا پاس موجود ہو۔

غیر شرعی امور سے مکمل اجتناب

تیسرا اصول یہ ہے کہ غیر شرعی امور سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ عید میلاد النبی کے عنوان سے خوشی کے کسی موقع پر اگر بے پردگی، مخلوط رقص و سرود، بدنظمی، غیر محرموں کا آزادانہ میل جول، یا ویڈیو سازی کے نام پر ایسی تصویریں بنائی جائیں جن میں حیا مجروح ہو رہی ہو تو یہ سب چیزیں سیرت کے مزاج کے خلاف ہیں۔ خوشی کا اصل رنگ حیا، سادگی اور وقار ہے۔ خواتین کی شرکت ہو تو شرعی پردے، علیحدہ نشست، داخلے اور اخراج کے واضح نظم کے ساتھ ہو؛ نعت خواں حضرات اور مقررین کے لیے ہدایت نامہ ہو کہ موضوع سیرت کے عملی پہلو ہوں، مبالغہ آرائی، بے اصل روایات یا دوسرے مکاتبِ فکر کے خلاف جملوں سے مکمل پرہیز کیا جائے تاکہ محفل محبت سے شروع ہو اور محبت پر ختم ہو۔ اسی طرح کھانے پینے کا انتظام ہو تو اسراف سے بچتے ہوئے سادگی کے ساتھ کیا جائے ۔ یہ سب اخلاقی مسئلہ بھی ہے اور کئی جگہ قانونی مسئلہ بھی ہے ۔ کوشش کیجیے کہ محفل کا مرکزی حصہ صلوٰۃ و سلام، درود شریف کی کثرت، اور سیرت کے عملی بیانات پر ہو—مثلاً کسی مختصر مگر جامع کتاب سے چند صفحے پڑھ کر سنانا، یا حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق حسنہ(سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا، ہمسائے کا خیال رکھنا) کو آج ہی سے اختیار کرنے کا اجتماعی عزم کرنا۔

دینی شعائر کی بے حرمتی

چوتھا اصول یہ ہے کہ مقدس نشانیاں اور دینی شعائر بے حرمتی سے محفوظ رہیں۔ ربیع الاول میں کہیں کہیں جھنڈیاں، بینرز اور نعلینِ پاک کی تصاویر شوق سے لگائی جاتی ہیں، لیکن رات ڈھلے یا چند دن بعد یہی اشیاء بارش، مٹی اور گاڑیوں کے نیچے آ کر پامال ہو جاتی ہیں۔ جس نام پر ہم نے عزت و تکریم دکھانی تھی، وہی نام غیر ارادی طور پر بے ادبی کا منظر بن جاتا ہے۔ اس کا حل کرنا بے حد ضروری ہے ۔ اسی طرح نعتیہ اشعار یا درود و سلام کے پمفلٹ سڑکوں پر نہ بانٹیں کہ بعد میں وہ زمین پر گرجائیں؛ اگر دعوتی لٹریچر دینا ہو تو مختصر، معیاری اور محفوظ ہینڈ بُک یا کارڈ دیجیے جسے لوگ اپنے بیگ یا کتاب میں رکھ سکیں۔

خوشی میں سادگی

پانچواں اصول یہ ہے کہ خوشی کو سادگی اور دینی عمل میں ڈھالیں—دن کو عام دنوں کی طرح گزاریں، مگر دل کو سیرت کے نور سے بھر دیں۔ کیک کاٹنا، ڈھول ڈھمکا، ڈی جے، غیر ضروری جلوس اور دکھاوے کی دیگیں—یہ سب چیزیں وقتی شور تو پیدا کرتی ہیں مگر نہ اس سے سیرت سمجھ میں آتی ہے نہ معاشرہ سدھرتا ہے۔ اس کے بجائے گھر، مسجد یا محلے کی سطح پر علمی، اخلاقی اور خدمت کے چھوٹے مگر پائیدار عمل اپنائیں: مثلاً نمازِ فجر کے بعد گھر کے سب افراد دس منٹ بیٹھ کر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے کسی ایک واقعے کا مطالعہ کریں اور طے کریں کہ آج ہم سب اس پر عمل کریں گے۔ محلے کے غریب لوگ (چوکیدار، جھاڑو دینے والے) کے لیے چائے اور پانی کا انتظام کریں؛ کسی بیمار کی عیادت کریں؛ بچوں کو سچ بولنے کا چیلنج دیں؛ بازار جائیں تو دھکم پیل نہ کریں، قطار بنائیں، کمزور کو پہلے موقع دیں؛ اور سب سے بڑھ کر درود شریف کی کثرت کریں۔
ربیع الاول ماہِ ولادت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم سب سیرت کو پڑھیں اور اس پر عمل کریں ۔ پورے سال میں خاص طور پر اس مہینے اپنا احتساب کریں کہ ہم نے سیرت سے کیا سیکھا اور کتنا اپنایا۔ اسی مقصد کے لیے چار کتابیں ہر گھر میں ضرور ہونی چاہئیں
۔: (1) آسان سیرت النبی — ایک ہی جلد میں مختصر اور عام فہم انداز میں پوری سیرت کا خلاصہ؛ ابھی آرڈر کریں۔
۔(2) سیرت النبی (3 جلدیں) — مکمل سیرت کو مفصل اور مدلل انداز میں پیش کرتی ہے؛ یہاں سے آرڈر کریں۔
۔ (3) گلدستۂ سیرت — ایک جامع اور بہترین مجموعہ جس میں سیرت خاتم الانبیاء، ماہتابِ عرب، النبی الخاتم اور خطباتِ مدراس شامل ہیں؛ یہاں سے حاصل کریں۔
۔ (4) خطباتِ سیرت النبی — اکابر علمائے کرام کے مستند اور عام فہم خطبات؛ یہاں آرڈر کریں۔

کیا یہ واقعی عید ہے؟

ربیع الاول آتا ہے تو سب سے پہلی الجھن یہی اٹھتی ہے کہ کیا “عید میلاد” واقعی ایک عید ہے یا محض ولادتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی کی محض ایک رسم؟ اس موضوع پر کئی لوگ کنفیوز ہوتے ہیں، لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ شریعت نے امت کے لیے دو باقاعدہ عیدیں مقرر کی ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی؛ ان کے علاوہ کسی دن کو عید سمجھ کر اس کے ایسے احکام بنالینا کہ وہ لازم اور دین کا شعار بن جائے ۔ یہ درست نہیں۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر خوشی، شکر اور اظہارِ محبت ایک فطری اور روا عمل ہے، بشرطیکہ حدودِ شریعت میں رہے، اور سماجی نظم و اخلاق مجروح نہ ہوں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے کہ ہم خوشی کے نام پر ایسے طریقے اختیار کر بیٹھتے ہیں جو مقصدِ سیرت کے خلاف چلے جاتے ہیں: سڑکیں بند، شور و غوغا، اسراف، دکھاوا، اور کہیں کہیں اخلاقی یا پردے کے مسائل۔ ان سب چیزوں سے گریز لازمی ہے ۔ اس کے ساتھ اپنی زبان و دل کو نرم رکھیے، اختلافی مسائل کو مناظرانہ رنگ دینے سے بچیے، اور اپنے بچوں کے ذہن میں یہ بات راسخ کیجیے کہ ہم جشن نہیں مناتے، بلکہ اس دن ہم سیرت کے نور سے اپنی زندگی روشن کرتے ہیں اور جو پہلو ابھی تک عمل میں نہیں آسکے اُنکو اپناتے ہیں ۔ اس کے لئے مختلف سیرت کی کتابیں اپنے گھر میں ضرور رکھیں ۔
اگر آپ کو یہ طے کرنے میں رہنمائی چاہیے یا مختلف سیرت کی کتابیں آپ آرڈر کرنا چاہتے ہیں تو کتاب فروش پر ایسی سینکڑوں کتابیں موجود ہیں جن سے آپ کو رہنمائی مل سکتی ہے۔ سیرت کی مختصر کتب سے لے کر مفصل مدلل سیرت کی کتب ⤷ https://kitabfarosh.com  پر تفصیلات دیکھیں۔
ضرورت ہو تو واٹس ایپ پر رابطہ کریں:۔
WhatsApp # 03450345581

راستے بند کرنا

ہماری بستیوں اور شہروں میں جب محبت کے جلوس نکلتے ہیں تو جوش میں نظم کھو بیٹھتے ہیں۔ ایمبولینس پھنسی، طلبہ کا پیپر چھوٹا، مزدور کی دیہاڑی گئی، گھر کے بزرگ بے آرام۔ یہ سب غیر ارادی طور پر ہم سے سرزد ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اجتماعی راستے کے حق کو دینی جذبے پر مقدم سمجھتے ہی نہیں، حالانکہ نبیِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق دوسروں کو تکلیف سے بچانا ایمان کا شعبہ ہے۔ آج ہی اس پر غور وفکر کریں اور اس دن کے وقت، جگہ، آواز کی حد، راستہ کھلا رکھنے کی ذمہ داری، رضاکاروں کی ٹیم، اور بعد از تقریب صفائی کا ایک مختصر پلان ضرور ترتیب دیں ۔

لاؤڈ اسپیکر کی حدود کو سمجھیں

بہت سی جگہوں پر نعت و بیان کی محفلیں رات گئے جھومتی رہتی ہیں، آواز کے اتار چڑھاؤ سے دور دور تک لوگوں کی نیند خراب ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ نعت نہ ہو، مسئلہ یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کی حدود کو نہیں سمجھا جاتا۔ بزرگ، بیمار، بچے، مزدور—سب کے حقوق ہیں۔ شریعت کا مزاج یہ ہے کہ عبادت بھی ہو اور آس پاس والوں کی راحت بھی—یہی احسان اور حسنِ معاشرت ہے۔ ایک اچھا طریقہ یہ بھی ہے کہ پروگرام شروع ہونے سے پہلے اعلان کردیا جائے کہ ہم ایک گھنٹہ کے لئے محفل منعقد کریں گے تو اس طرح اگر کسی کو تکلیف ہوتی ہوگی تو وہ کم از کم اپنا متبادل انتظام کرلے گا ۔

غیر شرعی خرافات سے بچاؤ

کہیں کہیں خوشی کے نام پر بے پردگی، مخلوط پروگرام، لائٹس اور ڈانس جیسے غیر مناسب انداز داخل ہو جاتے ہیں، سوشل میڈیا کی ’’ریلز‘‘ کے دباؤ میں ہر منظر کو ’’کول‘‘ بنانا مقصود ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم محبت کے نام پر حیا کی روح کھو دیتے ہیں، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین حیاء اور سادگی سے پہچانا جاتا ہے۔ حل یہ نہیں کہ خواتین یا نوجوانوں کو دین سے دور کر دیا جائے؛ حل یہ ہے کہ ان کے لیے باپردہ، علیحدہ اور باوقار ماحول میں تعلیم و تربیت کی نشستیں ہوں، جہاں نعت کی خوشبو کے ساتھ سیرت کا عملی پہلو بھی نظر آئے

مقدس ناموں کی حفاظت

نعلینِ پاک کی تصاویر، جھنڈیاں اور نعرے ۔ ہم جذبے سے بلند کرتے ہیں، مگر چند دن بعد یہی چیزیں بارش اور مٹی میں پامال ہوتی دیکھ کر دل دکھتا ہے ۔ العیاذ باللہ ۔ مسئلہ یہ ہے کہ احترام کا عنوان غیر ارادی بے ادبی میں بدل جاتا ہے۔ اگر بالفرض ایسی چیزیں لگائی جائیں تو بعد میں رضاکارانہ ٹیم احترام سے اتارے اور مناسب جگہ رکھ دے۔ گاڑیوں اور موٹر بائیکس پر مقدس ناموں والے اسٹیکرز نہ لگائیں کہ وہ کیچڑ میں روندے جائیں۔ اس طرح خوشی اور ادب ایک ساتھ ہوجائینگے ۔ یادرکھیں! محبت کا پہلا قرینہ ادب ہے۔
اخیر میں ایک گزارش یہ ہے کہ ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور فالو کرلیں ۔ شکریہ ۔
ا: ⤷ https://www.whatsapp.com/channel/0029Va8DVbVDJ6Gv14hs2b2P


کیا عید میلاد النبی شرعی طور پر تیسری عید ہے؟

شریعت نے دو عیدیں مقرر کی ہیں ۔ عیدالفطر اور عیدالاضحی۔ حضور ﷺ کی ولادت پر خوشی جائز ہے، مگر اسے نئی شرعی عید کی حیثیت دینا درست نہیں؛ خوشی کا اظہار حدودِ شریعت اور سماجی نظم کے ساتھ ہو۔

جلوس کے لیے راستے بند کرنا کیسا ہے؟

راستہ عام حق ہے؛ اسے بند کرنا ایذا رسانی ہے۔ اگر اجتماع ہو تو متعین روٹ، محدود وقت اور ٹریفک مینجمنٹ لازمی رکھیں—ترجیحاً ان ڈور، مختصر اور باوقار نشست کریں۔

لاؤڈ اسپیکر کی شرعی و سماجی حد کیا ہو؟

آواز حاضرین تک محدود رہے، باہر والوں کی نیند و آرام متاثر نہ ہوں۔ وقت مقرر ہو، رات گئے شور نہ ہو، غیر ضروری موسیقی یا شور شامل نہ کیا جائے

خواتین کی شرکت کیسے ہو؟

باپردہ اور علیحدہ نشست، داخلہ/اخراج کے واضح نظم کے ساتھ۔ مواد سیرت و اخلاق پر ہو، تصویربرداری میں حیا اور اجازت کا مکمل خیال رکھا جائے۔

جھنڈیوں/نعلین کے پوسٹر بعد میں بے ادبی سے کیسے بچائیں؟

عارضی، ماحول دوست سجاوٹ اونچائی پر لگائیں اور متعین مدت پر احترام سے اتاریں۔ مقدس ناموں والے پوسٹر/اسٹیکرز زمین یا گاڑیوں کے قریب نہ ہوں۔

کیا جلوس ضروری ہے یا گھر میں محفل بہتر ہے؟

مقصد سیرت سیکھنا اور عمل ہے۔ مختصر، باوقار علمی محفل زیادہ مفید رہتی ہے؛ اگر جلوس ہو تو ایذا سے بچنے کے سخت انتظامات لازم ہیں

سیرت کی مستند کتب کہاں سے ملیں گی؟

سیرت کے مختلف درجات (مختصر، مفصل، خطبات) ایک ہی جگہ دستیاب ہیں۔ اپنی ضرورت کے مطابق کتاب فروش آن لائن پر آرڈر کریں ⤷ https://kitabfarosh.com/fehrist۔ مزیر معلومات کے لئے واٹس ایپ نمبر 03450345581 پر رابطہ کریں ۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop