طلباء کی تحقیر اور بے جا سختی کی ممانعت

طلباء کی تحقیر اور بے جا سختی کی ممانعت: اسلامی تعلیمات اور اسلاف کی مثالیں
طلباء کی بے وقعتی ،ان کی تحقیر یا خواہ مخواہ کی سختی کرنا درست نہیں

اس آیت سے معلوم ہوا کہ ا ﷲ تعالیٰ نے علماء کو لوگوں کے دینی نفع پہنچانے کے لئے پیدا کیا ہے اور یہ نفع پہنچانا ان پر واجب ہے پس اس صورت میں مستفیدین (طلباء) پر اپنا احسان سمجھ کر ان کو بے وقعت سمجھنا اور ان پر حکم چلانے میں حد سے تجاوز کرنا‘ ان پر محض براہ کبر سختی کرنا نہایت نازیبا ہے وہ اگر اپنی خوشی سے استفادہ کرتے ہیں تو گویا واجب کی ادائیگی میں معلم کے معین ہیں لہٰذا ان کے ساتھ اقل درجہ ایسا معاملہ کرنا چاہئے جیسا دنیاوی معاملات میں اپنے معین و مددگار کے ساتھ کیا جاتا ہے اور ان کے ساتھ ایسے طریقے سے پیش آنا چاہئے جس سے ان کو نفع پہنچے اور ظاہر ہے کہ ایسی سختی یا بے وقعتی یا بے پروائی کی حالت میں ان کانفع ختم ہو جاتا ہے یا ناقص ہو جاتا ہے خصوصاً ان کے سوالات کے جوابات میں جب وہ تعنت اور عناد سے سوال نہ ہو اس میں زجروسختی کرنا آیت واماالسائل فلا تنھر یعنی سائل کو مت جھڑکئے۔ کے بھی خلاف ہے یا بغیر کسی مصلحت کے محض اپنی بڑائی اور اس کی برائی ظاہر کرنے کو ان پر اس طرح احسان رکھنا اور اپنے احسان کو جتلانا کہ جس سے ان کی تحقیر یا ان کو اذیت ہو۔ آیت ثم لا یتبعون مانفقوا منا ولا اذی (الایۃ) کے بھی خلاف ہے۔ (اصلاح انقلاب)

حضرت امام ربانی مولانا رشید احمد گنگوہی رحمہ اللہ کا بچوں کو زیادہ مارنے پر ناپسندیدگی کا اظہار

حضرت امام ربانی کو گوارا نہ تھا کہ بچوں کے ساتھ ضرورت سے زیادہ سختی کا برتاؤ کیا جائے اگر کسی صغیر سن بچہ کے پٹنے یا کراہنے کی آواز آپ کے کان میں پڑتی تو آپ بے چین ہو جاتے اور کبھی باپ کے اپنے لڑکے کو زیادہ مارنے کی شکایت آپ سنتے تو آپ کو صدمہ ہوتا اور مناسب الفاظ میں باپ کو نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ مولوی محمد اسماعیل صاحب گنگوہی نے اپنے لڑکے محمد جلیل کو ایک مرتبہ مارا۔ ان کی پھوپھی نے حصرت سے جا کر شکایت کی اگلے دن جو مولوی اسماعیل صاحب حاضر ہوئے تو حضرت نے فرمایا مولوی اسماعیل ادھر آؤ مولوی اسماعیل صاحب ہنسنے لگے کیونکہ سمجھ گئے تھے کہ کل لڑکے کے مارنے کی چغلی کھائی گئی ہے حصرت نے فرمایا کہ ہنستے کیا ہو ادھر آؤ اور مولوی یحییٰ تم بھی آؤ (مولوی یحییٰ صاحب بھی اپنے صاحبزادہ محمد زکریا کو بہت مارتے تھے) اس کے بعد چارپائی پر بیٹھ کر فرمایا ’’مولوی یحییٰ میں تم سے مسئلہ پوچھتا ہوں کہ لڑکے کو کس قدر مارنا چاہئے؟ نصیحت کے لئے اتنا ہی کافی تھا اب مولوی یحییٰ صاحب جواب دیں تو کیا دیں‘ حضرت نے کئی مرتبہ اس فقرہ کو دہرایا آخر فرمایا کہ مولوی اسماعیل تم عہد کرو کہ جلیل کے مارنے میں سختی نہ کروں گا اگر عہد نہیں کرتے تو میں جلیل کو گوالیار نہ جانے دوں گا میں اس کو خود پڑھاؤں گا کیونکہ یہ میرا دو وجہ سے عزیز ہے اول تمہاری وجہ سے کہ تم میرے عزیز ہو اور دوسرے بھائی عبدالمجید کا نواسہ ہے۔ آخر مولوی اسماعیل صاحب نے وعدہ کیا کہ حضرت انشاء اﷲ اب ایسا نہ ہو گا۔ صاحبزادہ حکیم مولانا مسعود احمد صاحب اس وقت حاضر تھے کہنے لگے کہ حضرت میں بھی تو سعید کو مارتا ہوں۔ آپ نے فرمایا تمہارا مارنا بھی سعید کو مجھے معلوم ہے کہ لڑکے کو اس قدر مارنا نہ چاہئے ایک دو طمانچہ مارنے کا مضائقہ نہیں اس عجیب نرم انداز پر حضرت امام ربانی نے کئی متعلقین کو بالتخصیص اورعام متوسلین کو علی العموم نصیحت فرمائی۔ (تذکرۃ الرشید)

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop