بچوں پر زیادتی کا ہولناک گناہ

بچوں پر زیادتی کا ہولناک گناہ: اسلامی اصول اور اسلاف کی رہنمائی

بچوں پر زیادتی ایک ہولناک گناہ

سیدی و مرشدی قبلہ حضرت مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم کا یہ ملفوظ جو بندہ نے خود سنا اور اہل علم کی مجلس میں حضرت والا نے پورے اہتمام کے ساتھ بسط و تفصیل سے ارشاد فرمایا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قاری صاحبان آج کل معصوم بچوں کو بے دردی سے پیٹتے ہیں اور اس میں شرعی حدود کی قطعاً کوئی رعایت نہیں کرتے۔ شریعت کی رو سے جانور کو بھی چہرے پر مارنا حرام ہے مگر قاری صاحبان کی مار کا نشانہ عموماً بچوں کا چہرہ ہی ہوتا ہے۔ اس طرح مارنے کی آخری حد تین ضربیں ہیں مگر ان کی مار کا کوئی حدوحساب نہیں ہوتا اور یہ کہ لکڑی اس زور سے نہ ماری جائے کہ جسم پر نشان پڑ جائیں یہاں مار مار کر بچوں کا خون بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا غرض کسی پہلو سے بھی شرعی حدود کی کوئی رعایت ملحوظ نہیں ہوتی۔ ہر حد کو بے دردی سے پامال کیا جاتا ہے۔ ان حضرات کو سوچنا چاہئے کہ یہ ایک ایسا ہولناک گناہ ہے جس کی معافی کی بھی کوئی صورت نہیں اس لئے نابالغ بچہ دل سے معاف بھی کر دے تو اس کی معافی کا کوئی اعتبار نہیں۔ ہاں بالغ ہونے کے بعد معاف کر دے تو معافی معتبر ہے مگر قاری صاحبان جن بچوں پر ظلم کرتے ہیں بالغ ہونے کے بعد ان سب سے ایک ایک کر کے ملنا اور ان سے معاف کرانا ممکن نہیں کہ بعض بچے بلوغ سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور بہت سے بچے دور دراز کے علاقے سے آتے ہیں پڑھ کر چلے جانے کے بعد اساتذہ سے کبھی ملاقات کی نوبت ہی نہیں آتی اور معافی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ بطیب خاطر بخش دیا جائے۔ یہ حضرات اگر بالغ لڑکوں سے بخشوائیں بھی تو اس کا کیا اعتبار کہ وہ مروت سے مغلوب ہو کر نہیں بلکہ دل کی گہرائی سے بخش رہے ہیں غرض اس گناہ کی بظاہر تلافی ممکن نہیں۔
بروایت مولانا مفتی محمد ابراہیم صاحب مدظلہ دارالعلوم صادق آباد

اصلاح و تربیت کے سلسلہ میں چند ضروری باتیں

۔(۱) ہمیشہ یاد رکھئے کہ تازہ غم میں کبھی وعظ نصیحت مفید نہیں ہوتی بلکہ الٹی اور مضر ہو جاتی ہے اور اس کے مضر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت نصیحت ہوتی ہے اس بات کی کہ تم اپنے غم کے جذبہ کو روکو اور مصیبت زدہ اس کی کوشش بھی کرتا ہے غم روکنے کی مگر چونکہ اس وقت غم کی شدت ہوتی ہے بس وہ غم دل ہی دل میں رہتا ہے اور زیادہ عرصہ تک غم کے رہنے سے قلب میں گھٹن پیدا ہو جاتی ہے جس سے مختلف امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔ (انفاس عیسیٰ)
۔(۲) جس امر میں شرعاً گنجائش ہو اس کے صادر ہونے سے دوسرے شخص کو سختی سے اجتناب کا حکم کرنا یہ آداب احتساب کے خلاف ہے نرمی سے بھی تو یہ کام ہو سکتا ہے مگر اس کا خیال کرنا اور اس پر عمل کرنا متبحر کا کام ہے۔
۔(۳) میرا معمول ہے کہ مجھے مخاطب کی غلطیوں پر تنبیہ کرنا مقصود ہوتا ہے اس لئے میں ان کے مسلمات سے جواب دینا چاہتا ہوں تاکہ سمجھنے میں آسانی ہو اور اس سے ایسی بصیرت ہوتی ہے کہ ویسی بتلانے سے نہیں ہوتی۔ اس تعلیم کے دو اثرہوتے ہیں اگر طبیعت سلیم ہے تو اصلاح ہو جاتی ہے ورنہ ملنا چھوٹ جاتا ہے اور عمر بھر کے لئے نجات ہو جاتی ہے اس طرز پر لوگ میرے اوپر الزام لگاتے ہیں کہ تعلیم کی بجائے تنقیحات شروع کر دیتے ہیں۔ (حسن العزیز)

طلبا ء کو سزا دینے کے متعلق شرعی اصول

سیدی و مرشدی حضرت حاجی محمد شریف صاحبؒ نے حٗضرت حکیم الامت تھانوی کی خدمت میں لکھا حضرت اقدس یہاں سکول میں یہ نا چیز اپنے فرائض تندہی اور دیانت داری سے پورا کرتاہے مگر سزا دیئے بغیر بعض طلباء کام نہیں کرتے۔ آموختہ یاد نہیں کرتے اور طلبہ کا نتیجہ اچھا نہ نکلے تو افسران بالا تنگ کرتے ہیں۔ اس نا چیز نے طلبہ کو سزا دینے کا ایک اصول مقرر کر رکھا ہے اس کے مطابق چلتا ہوں اصول یہ ہے کہ سزا صرف اس سبق پر دیتا ہوں جو اچھی طرح پڑھا دوں اور طلباء کو ایک دن پہلے بتادوں کہ یہ سبق میں کل سنوں گا یاد کرکے آنا۔ پھر بھی سنتے وقت طلباء کو بہت مواقع دیتا ہوں جس لڑکے کی نسبت ظاہر ہو جاتاہے کہ یاد کرنے کی کوشش کی اور خوب کی مگر یاد ہوانہیں اسے سزانہیں دیتا بعض طلبہ اس قدر ڈھیٹ اور لاپرواہ واقع ہوئے ہیں کہ جب تک خوب تسلی بخش مرمت نہ ہو کام ہی نہیں کرتے تو ان کو سزا دیتا ہوں، شرارتوں پربھی سزا دیتاہوں۔ اکثر ہاتھوں پر لکڑی سے مطابق موقع ایک سے لے کر چھ تک مارتا ہوں۔ کبھی کبھی زیادہ کا بھی اتفاق ہوتاہے (کسی نہایت سخت شرارت پر مارتے وقت سوچ کر ماتاہوں اکثر غصہ نہیں ہوتا کبھی کبھار ہوتا بھی ہے لیکن معلوم ایساہوتاہے کہ غلطی دونوں صورتوں میں ہو جاتی ہے کیو نکہ شک سا رہتا ہے کہ قدر حق سے زیادہ نہ مارا گیا ہو اور ظلم نا انصافی نہ ہو گئی ہو۔ پورا پورا انصاف کرنے کی کوشش کرتاہوں مگر سزادے چکنے کے بعد طبیعت پر بوجھ سا رہتاہے حضرت اقدس کوئی ایسا اصول ارشاد فرئیں کہ جس پر کاربند ہوکر گناہ سے بھی بچ جائوں اور طلبہ کام بھی کرتے رہیں۔
جواب حضرت:۔
جب غصہ نہ رہے اس وقت غورکیا جاوے کہ کتنی سزا کا مستحق ہے اس سے زیادہ سزا نہ دی جائے اگرچہ درمیان میں غصہ آجاوے (مکتو بات اشرفیہ )

بچوں کو مارنے کا طریقہ

اس کے لیے حکیم الامت حضرت مولا نا تھانوی قدس اللہ سرہ نے ایک عجیب سانسخہ بتایاہے ‘اور ایسا نسخہ وہی بتاسکتے تھے‘ یاد رکھنے کاہے ‘ فرماتے تھے کہ جب کبھی اولاد کو مارنے کی ضرورت محسوس ہو‘ یا اس پر غصہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو جس وقت غصہ آرہا ہو اس وقت نہ مارو‘ بلکہ بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہو جائے تو اس وقت مصنوعی غصہ پیدا کرکے مارلو اس لیے کہ جس وقت طبعی غصہ کے وقت اگر مارو گے یا غصہ کروگے تو پھر حد پر قائم نہیں رہو گے بلکہ حد سے تجاوز کر جائو گے ‘ اور چونکہ ضرورت مارناہے ‘اس لیے مصنوعی غصہ پیدا کرکے پھر مارلو‘تاکہ اصل مقصد بھی حاصل ہو جائے اور حد سے گزرنا بھی نہ پڑے۔
اور فرمایا کرتے تھے کہ میں نے ساری عمر اس پر عمل کیا کہ طبعی غصے کے وقت نہ کسی کو مارا اور نہ ڈانٹا‘ پھر جب غصہ ٹھنڈا ہو جاتا تو اس کو بلا کر مصنوعی قسم کا غصہ پیدا کرکے وہ مقصد حاصل کر لیتا۔ تاکہ حدود سے تجاوز نہ ہو جائے کیونکہ غصہ ایک ایسی چیز ہے کہ اس میں انسان اکثر و بیشتر حد پر قائم نہیں رہتا۔

بچوں کو مارنے کی حد

یہ با ت بھی سمجھ لینی چاہئے کہ استاد کے لئے یا ماں باپ کے لئے بچے کو اس حد تک مارنا جائز ہے جس سے بچے کے جسم پر مار کا نشان نہ پڑے۔ آج کل یہ جو بے تحاشہ مارنے کی جو ریت ہے یہ کسی طرح بھی جائز نہیں جیسا کہ ہمارے یہاں قرآن کریم کے مکتبوں میں مارکٹائی کا رواج ہے اور بعض اوقات اس مار پٹائی میں خون نکل آتا ہے زخم ہو جاتا ہے یا نشان پڑ جاتا ہے یہ عمل اتنا بڑا گناہ ہے کہ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی قدس اﷲ سرہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ اس گناہ کی معافی کی کیا شکل ہو گی؟ اس لئے کہ اس گناہ کی معافی کس سے مانگے؟ اگر اس بچے سے مانگے تو وہ نابالغ بچہ معاف کرنے کا اہل نہیں ہے‘ اس لئے کہ اگر نابالغ بچہ معاف بھی کردے تو شرعاً اس کی معافی کا اعتبار نہیں اس لئے حضرت والا فرمایا کرتے تھے کہ اس کی معافی کاکوئی راستہ سمجھ میں نہیں آتا‘ اتنا خطرناک گناہ ہے اس لئے استاد اور ماں باپ کو چاہئے کہ وہ بچے کو اس طرح نہ ماریں کہ اس سے زخم ہو جائے یا نشان پڑ جائے۔ البتہ ضرورت کے تحت جہاں مارنا ناگزیر ہو جائے صرف اس وقت مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop