زیادتی پر تلافی کے اسلامی اصول اور معلم کی ذمہ داریاں
اگر غلطی سے غصہ میں زیادہ مار دیا تو اس کی تلافی کرنا چاہئے :تلافی کا غلط طریقہ
اگر ایسا کوئی ہو جیسے حافظ علی حسن صاحب کیرانوی تھے تو وہ بے شک اس ظلم سے بچ سکتا ہے۔ مگر ان میں افراط تو نہ تھا یہ تفریط تھی کہ بچوں کو مار کر ان سے کہتے تھے کہ تم مجھ سے بدلہ لے لو اور بعض لڑکے ایسے شریر تھے کہ بدلہ لے لیتے اور حافظ جی کو قمچی سے سڑا سڑ مارتے تھے اور وہ ایسے سیدھے تھے کہ بچوں کے ہاتھ سے مار کھاتے تھے۔
یہ میاں جی ایسے تھے کہ بچوں پر ظلم نہ کرتے اور اگر کبھی ذرا سی زیادتی ہو گئی تو اس کی تلافی اس طرز سے کرتے تھے (یعنی طلباء سے زبان سے معافی مانگتے یا مار کھاتے تھے) یہ طریقہ اچھا نہیں اس سے لڑکوں کی شرارت اور بددماغی اور بدخلقی بڑھ جاتی ہے اور معلم کو اس کی رعایت ضروری ہے کہ بچوں کے اخلاق خراب نہ ہوں (التبلیغ)
تلافی کی سب سے بہتر اور آسان صورت
اگر کوئی اپنی زیادتی کی تلافی کرنا چاہے تو اس کی تدبیر یہ ہے کہ سزا کے بعد بچوں کے ساتھ شفقت کرو اور جس پر زیادتی کی ہے اس کے ساتھ احسان کرو یہاں تک کہ وہ خوش ہو جائے جیسے میرٹھ کے ایک رئیس نے ایک نوکر کے طمانچہ مار دیا تھا پھر اس کو اپنی غلطی پر تنبہ ہوا تو اس کو ایک روپیہ دیا۔ پھر دوسرے نوکر سے کہا اس سے پوچھنا‘ اب کیا حال ہے۔ کہنے لگا کہ میں تو دعا کر رہا ہوں کہ ایک طمانچہ روز لگ جایا کرے۔ بس یہ طریقہ تلافی کا بہت اچھا ہے اس سے بچوں کے اخلاق پر بھی اثر نہ ہو گا اور ظلم کا دفعیہ بھی ہو جائے گا۔ اور جب میاں جی استاد صاحب کا ایک دو دفعہ کرنے میں خرچ ہو گا تو آئندہ کو خود بھی ذرا سنبھل کر مارا کریں گے۔ (التبلیغ)
اگر استاد کی بہت زیادہ مارنے کی عام عادت ہو
دوسرے معلم کو جو نو عمر تھے ان سے فرمایا کہ معلوم ہوا ہے کہ تم بچوں کو بہت مارتے ہو۔ اس کا صحیح اور معقول جواب دو۔ تاویلات کو ہرگز نہ مانوں گا یہ بتلاؤ کہ جب میں نے منع کر دیا ہے تو پھر کیوں مارتے ہو۔ یہ نفس کی شرارت ہے یا نہیں؟ انہوں نے اقرار کیا کہ بے شک نفس کی شرارت ہے میں نے تم کو خلوت (تنہائی) میں عزت سے سمجھایا تھا اس کو غنیمت نہیں سمجھتے۔ واقعی دنی الطبع بلا سختی کے نہیں مانتا۔ پھر بلایا اور فرمایا کہ قرآن شریف لاؤ وہ صاحب قرآن شریف لائے تو فرمایا کہ اس پر ہاتھ رکھ کر کہو کہ خدا کی قسم اب کسی بچہ کو نہ ماروں گا میں نے تمہارے واقعات گھر پر بچوں کو بلا کر مارنے کے سنے ہیں اور ایسے مارنے کے کہ وہ بے ہوش ہو گئے ہیں تم کو اس قدر مارنے کا کیا حق ہے اور اگر اس پر قادر نہ ہو تو کام چھوڑ دو ہم اپنا انتظام خود کر لیں گے۔ (ملحوظات)
Featured products
New Year BooksOffer 2025
Original price was: ₨ 5930.00.₨ 4750.00Current price is: ₨ 4750.00.Ramzan Ul Mubarak Ki Behtareen Kitabein
Original price was: ₨ 4480.00.₨ 4030.00Current price is: ₨ 4030.00.مجموعہ حضرت تھانوی پیکیج
₨ 11100.00





