سبق یاد نہ ہونے پر مالی جرمانہ: اسلامی احکام اور معلم کی ذمہ داریاں
تعزیر بالمال (مالی جرمانہ) ہمارے مذہب میں درست نہیں اور بعض روایات میں جو وارد ہے وہ منسوخ ہے اور بعض (علماء) جو اس کے جواز کے قائل ہوئے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ چند روز تک اس مال کو اپنے پاس رکھے جب و ہ شخص توبہ کرلے وہ مال اس کو لوٹا دیا جائے نہ خود رکھے نہ بیت المال میں داخل کرے (در المختار) اور قائلین جواز کے نزدیک بھی جو اس کے شرائط ہیں نہ ان کی خبر نہ ان کی رعایت تو اختلافی جواز بھی مستحق نہیں ہوا اور جب یہ جائز نہیں تو وہ رقم حلال نہ ہو گی تو اس کا کھانا بھی ناجائز اور نیک کاموں میں صرف کرنا اور بھی زیادہ ناجائز (اصلاح انقلاب) ایک مولوی صاحب نے جو یہاں (تھانہ بھون حضرت کے مدرسہ میں) مدرس ہیں طلباء پر سبق یاد نہ کرنے کے جرم میں بلا حضرت کی اجازت و مشورہ کے کچھ جرمانہ مقرر کیا جب حضرت والا کو اطلاع ہوئی تو مولوی صاحب کو بلا کر فرمایا کہ آپ نے طلبا پر جرمانہ مقررکیا؟ انہوں نے اقرار کیا۔ پوچھا گیا کہ یہ جائز کہاں ہے انہوں نے یہ کہا کہ مالکوں ہی کو انعام کے نام سے دیا جائے گا۔ حضرت والا نے فرمایا کہ کسی کے مال کا حبس کرنا بلا اس کی رضا مندی کے کب جائز ہے۔ دوسرے یہ جرمانہ بچوں پر تونہ ہوا بلکہ ان کے ماں باپ پر ہوا کیونکہ مال ان ہی کا ہے۔ آپ کا کام سکھانے اور سمجھانے کا ہے۔ نہ یاد کریں بلا سے آپ نے شریعت کی مخالفت کیوں کی اور میری بلا اجازت یہ کام کیوں کیا۔ آپ کے سپرد جو کام ہے اس کو کئے جائیے بلا پوچھے کوئی نیا کام نہ کرئیے۔ علاوہ اس کے اس مدرسہ کے متعلق میرے دل میں یہ بات جمی ہوئی ہے کہ طالبین خدا کے ہو جائیں۔ اصطلاحی عالم بنانا منظور نہیں ہے۔ امتحان کے اچھے برے ہونے کا مجھے کچھ خیال نہیں ہوتا۔ (حسن العزیز)
Featured products
New Year BooksOffer 2025
Original price was: ₨ 5930.00.₨ 4750.00Current price is: ₨ 4750.00.Ramzan Ul Mubarak Ki Behtareen Kitabein
Original price was: ₨ 4480.00.₨ 4030.00Current price is: ₨ 4030.00.مجموعہ حضرت تھانوی پیکیج
₨ 11100.00





