حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کا تعارف اور 5 بہترین کتابیں
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ برصغیر کے اُن بلند پایہ علماء، اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے علم، فقہ، تزکیۂ نفس اور روحانی بصیرت سے پورے ہندوستان کے دینی ماحول کو نئی زندگی بخشی۔ آپ کی شخصیت اپنے اندر ایک ایسی جامعیت رکھتی ہے جو کم ہی لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔ایک طرف آپ بہترین مفتی اور علمی شخصیت تھے، دوسری طرف بہترین مصنف و محقق تھےاور تیسری جانب وہ پاکیزہ صوفیانہ مزاج جس نے سینکڑوں دلوں کو بدل کر رکھ دیا۔
Table of Contents
سلسلہ تصوف میں آپ کی خدمات نہایت شاندار ہیں—آپ نے روحانیت کو افراط و تفریط سے نکال کر اعتدال اور سنت کے راستے پر چلایا۔ بلاشبہ آپ نے تصوف میں بہت ساری اصلاحات اور تجدید نافذ کی جسکی وجہ سے آپکو مجدد الملت بھی کہا جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی خانقاہ سے گزرنے والا ہر شخص عبادات، اخلاق اور معاملات میں نمایاں تبدیلی محسوس کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ سے بے پناہ دینی کام لیا، اور آپ کی علمی و اصلاحی محنت کا فیض صرف آپ کی ذات تک محدود نہ رہا بلکہ پھیلا اور مسلسل پھیلتا گیا۔ آپ کے تربیت یافتہ خلفائے کرام نے برصغیر کے گوشے گوشے میں دین کی روشنی پہنچائی، اور حیرت انگیز بات یہ ہے کہ آپ کے کئی خلفاء نے کسی رسمی خانقاہ کے بغیر، صرف شخصیت اور حکمتِ دعوت کے ذریعے بے شمار لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب پیدا کیا۔ آپ کی سینکڑوں تصنیفات(جو مختلف موضوعات پر عام فہم انداز میں لکھی گئیں)آج بھی دین کے طالب علموں، اہلِ علم اور عام مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ کی تحریریں نہ صرف علمائے کرام کے لئے مفید ہیں بلکہ عوام الناس کے لئے بھی دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پیدا کرتی ہیں، جو آپ کے اخلاص کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ حضرت تھانویؒ کا یہ سلسلۂ فیض آج بھی جاری و ساری ہے، اور دنیا بھر میں آپ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھانے والے افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ جو شخص آپ کی زندگی، خدمات اور روحانی کمالات کا تفصیلی تعارف چاہے، وہ لنک سے مزید رہنمائی حاصل کر سکتا ہے
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے سلسلہ میں ایسے روشن نام ہیں جن کو یہاں پر قلمبند کرنے لگے تو کئی صفحات بھر جائیں گے۔حضرت کے علمی، روحانی اور فقہی فیضان کا سب سے روشن مظہر ہمارے دور کے ممتاز عالمِ دین، شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ہیں۔ جن کا شمار سلسلۂ تھانویہ کے نہایت اہم اور مرکزی افراد میں ہوتا ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سلسلسہ تھانویہ کے خلیفہ مجاز ہیں اور حضرت کی گفتگو،تقاریر اور تصنیفات میں بارہا حضرت تھانویؒ کا ذکر، ان کی حکیمانہ باتیں اور ان کے اصلاحی اصول جھلکتے ہیں۔ مفتی صاحب اکثر یہ نصیحت فرماتے ہیں کہ حضرت تھانویؒ کی کتابیں، بالخصوص اصلاحِ نفس، اخلاق، معاملات اور فقہ پر مشتمل تحریریں، محض معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ انسان کے اندر تفقہ—یعنی دین کو گہرائی سے سمجھنے کی صلاحیت—پیدا کرتی ہیں۔ وہ بارہا طلبہ، اساتذہ، خطباء اور عام مسلمانوں کو تاکید کرتے ہیں کہ اگر دین کی صحیح روح کو سمجھنا چاہتے ہیں تو حضرت تھانویؒ کی کتب سے لازماً شغف پیدا کریں، کیونکہ ان کتابوں میں علم بھی ہے، اعتدال بھی، حکمت بھی اور وہ صوفیانہ نکات بھی ہیں جو اصلاح نفس کا ذریعہ بنتے ہیں۔
حضرت تھانویؒ کی سدا بہار تصانیف
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کا سب سے نمایاں کارنامہ اُن کی وہ بے مثال تصنیفی خدمات ہیں جنہوں نے برصغیر کے علمی ورثے میں نئی روح پھونکی۔ آپ نے سینکڑوں ایسی کتابیں لکھیں جن میں فقہی نکات، روحانی بصیرت اور اصلاح نفس کے خزانے ہیں ۔حضرت تھانویؒ کی تصانیف کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ محض خواص یا بڑے علماء کے لیے نہیں ، بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی رہنمائی کا روشن چراغ ہیں۔ ان کتابوں میں اصلاحِ عوام یعنی روزمرہ زندگی، معاملات، اخلاق، عبادات اور معاشرت کے وہ پہلو بیان کیے گئے ہیں جو ایک عام مسلمان کو بہتر انسان بناتے ہیں۔۔ خصوصاً اصلاحِ نفس کے موضوع پر جو کتابیں آپ نے تحریر فرمائیں، وہ آج بھی اپنی مثال آپ ہیں—نہ ان کی اہمیت کم ہوئی، نہ اُن کی تاثیر۔ وقت گزرنے کے باوجود یہ کتب اصلاح نفس کا ایسا ذریعہ ہیں کہ ہر پڑھنے والا شخص یہ سمجھتا ہے کہ شاید اُسی کے لئے یہ نصیحتیں لکھی گئی ہیں ۔ اہلِ علم تو یہ تک کہتے ہیں کہ اصلاحِ نفس کے باب میں حضرت تھانویؒ جیسی حکمت، بصیرت اور دانش شاید ہی کسی اور کے حصے میں آئی ہو۔اور حقیقت یہ ہے کہ ایسا سمجھدار، ایسا حکیم اور ایسا جامع المزاج عالم صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتا ہے، جس کے قلم سے نکلا ہر لفظ آج بھی اسی تازگی کے ساتھ دِلوں پر اثر چھوڑتا ہے کہ پڑھنے والا متاثر ہوئے بغیر رہ نہیں سکتا۔
حضرت تھانویؒ کی منتخب کتب
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تصنیفی خدمات اتنی وسیع اور متنوع ہیں کہ تفسیر ’’بیان القرآن‘‘، ’’فتاویٰ‘‘، ’’خطبات حکیم الامت‘‘ اور ’’ملفوظات حکیم الامت‘‘ جیسے عظیم ذخیرے کے علاوہ بھی بے شمار کتابیں ایسی ہیں جو ہر مسلمان کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ لوگ سوشل میڈیا یا کسی مجلس میں حضرت تھانویؒ کا کوئی ملفوظ پڑھ لیتے ہیں، اس کا اثر دل پر فوراً اترتا ہے اور پھر شوق بڑھتا ہے کہ کیوں نہ اس حکمت کے سمندر سے مزید موتی حاصل کیے جائیں۔ ایسے وقت میں اکثر لوگ پوچھتے ہیں: “ہم حضرت تھانویؒ کی کون سی کتابیں پڑھیں؟ کون سی کتاب عام آدمی کے لیے زیادہ مفید ہے؟ کون سی کتاب گھر میں ضرور ہونی چاہئے؟” اسی ضرورت کو سامنے رکھ کر میں پانچ ایسی کتابوں کی نشاندہی کر رہا ہوں جو قیمت میں مناسب، اسلوب میں سادہ، مفہوم میں واضح اور فائدے میں بہت زیادہ ہیں۔ یہ وہ کتابیں ہیں جو کسی خاص طبقے کے لیے نہیں بلکہ ہر عمر، ہر ذہن اور ہر سطح کے مسلمان کے لیے یکساں مفید ہیں۔ ان میں اصلاحِ نفس، اخلاق، گھریلو ماحول کی درستگی، عبادات کی راہنمائی، روحانی تربیت، اور روزمرہ زندگی کے چھوٹے بڑے مسائل کے وہ جواب ملتے ہیں جو انسان کی عملی زندگی میں حقیقی تبدیلی لاسکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کتب کی زبان عام قاری کے لیے اتنی سہل ہے کہ پڑھتے ہوئے بوجھ محسوس نہیں ہوتا، بلکہ دل پر ایسا لگتا ہے جیسے کوئی خیر خواہ ہاتھ پکڑ کر راہ دکھا رہا ہو۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ حضرت تھانویؒ کی یہ منتخب کتابیں ہر اس شخص کے لیے لازمی سرمایہ ہیں جو دین کو سمجھناچاہتا ہو، اپنی اصلاح چاہتا ہو اور اپنے دل کو ایمان و حکمت سے منور کرنا چاہتا ہو۔
تسہیل المواعظ
حضرت تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی و روحانی میراث اتنی وسیع ہے کہ اہلِ علم اور اہلِ ثروت کے لیے تو سب سے بہترین انتخاب ’’خطباتِ حکیم الامت‘‘ کا 32 جلدوں پر مشتمل ضخیم مجموعہ ہے، جس میں ایسا تفقہ ہے اور دینی علوم کی ایسی گہرائی ہے کہ جو صرف علمائے کرام ہی پوری طرح سمجھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ’’ملفوظاتِ حکیم الامت‘‘ کی 32 جلدیں عام مسلمانوں کے لیے بھی بے پناہ فائدے کی حامل ہیں، کیونکہ اس میں حضرت کے روزمرہ کے نصائح، عملی رہنمائی اور اصلاحِ نفس کے وہ اصول شامل ہیں جو ہر پڑھنے والے کے دل پر براہِ راست اثر کرتے ہیں۔ لیکن ہر شخص کے وسائل یکساں نہیں ہوتے، ہر گھر میں بڑی علمی لائبریری رکھنا ممکن بھی نہیں ہوتا۔

اس لیے اگر کوئی شخص فی الحال اتنی بڑی کتب خریدنے کی سکت نہیں رکھتا تو اسے کم از کم وہ پانچ بنیاد ی کتابیں ضرور حاصل کر لینا چاہیے جن میں حضرت تھانویؒ کی فکر کا نچوڑ سادہ، مختصر اور مفید ترین شکل میں موجود ہے۔ ان پانچوں میں سب سے پہلی اور سب سے قیمتی کتاب “تَسہیلُ المواعِظ” ہے، جو حقیقت میں حضرت تھانویؒ کی اُن منتخب حکیمانہ باتوں کا خلاصہ ہے جو انہوں نے اپنی زندگی بھر کے مواعظ میں ارشاد فرمائیں۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ یہ انتخاب حضرت نے خود کروایا—یعنی اپنے تمام بیانات میں سے 52 انتہائی اہم مواعظ کو چُن کر عام مسلمانوں کے لیے آسان انداز میں مرتب کروایا۔ حضرت تھانویؒ کا یہ فرمان کہ “یہ کتاب ہر ہر گھر میں ہونی چاہیے” اس کی اہمیت کا ثبوت ہے۔ اس میں عبادات، معاملات، اخلاق، اصلاحِ نفس اور گھریلو زندگی کے متعلق وہ بنیادی اصول سمجھائے گئے ہیں جو ایک عام آدمی کو بھی مضبوط دین دار بناتے ہیں۔ اس کا اسلوب نہ علمی پیچیدگی رکھتا ہے، نہ طویل بحثیں، بلکہ سیدھی، زندگی بدل دینے والی باتیں ہیں جنہیں پڑھ کر آدمی اپنے اندر فوراً تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ قیمت کے اعتبار سے بھی یہ کتاب انتہائی مناسب ہے اور فائدے میں اتنی وسیع کہ ایک دفعہ پڑھنے کے بعد بھی بار بار پلٹ کر دیکھنے کو دل چاہتا ہے۔ اس کی مزید تفصیلات اور آرڈر کے لیے درج ذیل لنک سے رہنمائی لی جا سکتی ہے:۔
🔗 https://kitabfarosh.com/product/tmz/
بہشتی زیور—ہر مسلمان گھرانے کی لازمی دینی رہنمائی
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی مایہ ناز تصنیف “بہشتی زیور” گزشتہ ایک صدی سے مسلمانوں کے گھروں میں بنیادی دینی رہنمائی کا معتبر ترین ذریعہ بنی ہوئی ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی مثال برصغیر کے علمی ذخیرے میں دوسری کوئی نہیں ملتی، اور اسی جامعیت، سادگی اور عملی فائدے کی وجہ سے اس نے ہر دور میں اپنی اہمیت برقرار رکھی ہے۔ بزرگانِ دین ہمیشہ اس کتاب کو گھروں میں لازمی رکھنے اور بار بار پڑھنے کی تلقین کرتے آئے ہیں، کیونکہ اس ایک کتاب میں وہ تمام ضروری مسائل، عبادات، پاکی ناپاکی کے احکام، نکاح و طلاق، گھریلو معاملات، روزمرہ کی اخلاقی رہنمائی، حتیٰ کہ عورتوں کے مخصوص مسائل تک کو اتنی ترتیب اور وضاحت سے جمع کیا گیا ہے کہ ایک عام مسلمان بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ ایک بزرگ کا یہ قول اس کتاب کی اہمیت کو خوب واضح کرتا ہے کہ “اگر کوئی شخص عالم بھی بن جائے، پھر بھی اسے چاہئے کہ بہشتی زیور کو حرف بہ حرف ایک مرتبہ ضرور پڑھ لے۔” اس میں کوئی مبالغہ نہیں، کیونکہ بہشتی زیور میں دین کے بنیادی اصول ایسے صاف اور ترتیب وار بیان کیے گئے ہیں کہ یہ عالم کے علم میں نکھار اور عام آدمی کی عملی زندگی میں سہولت پیدا کرتی ہے۔ خصوصاً خواتین کے لیے یہ کتاب ایک نعمت سے کم نہیں، کیونکہ گھر کی پاکیزگی، عبادات کے مسائل، ازدواجی زندگی کے آداب، اور روزمرہ کے دینی فیصلوں کی صحیح سمت اس سے معلوم ہوتی ہے۔ شادی شدہ مرد حضرات کے لیے بھی یہ کتاب اتنی ہی مفید ہے، کیونکہ اس میں وہ مسائل جمع ہیں جو گھر کے ماحول کو دینی، متوازن اور خوشگوار بناتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہشتی زیور محض ایک کتاب نہیں، پوری گھریلو زندگی کے لیے ایک مکمل دینی نصاب ہے، جسے پڑھ کر انسان کو احساس ہوتا ہے کہ دین کسی مشکل فلسفے کا نام نہیں بلکہ زندگی کے ہر گوشے کی حکیمانہ رہنمائی ہے۔ اس کی مکمل تفصیلات اور آرڈر کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں:۔
🔗 https://kitabfarosh.com/product/bhzm/
جواہراتِ حکیم الامت—خطبات و مواعظ کا نچوڑ
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کے علمی سمندر سے حاصل کیے گئے جو قیمتی موتی ’’جواہراتِ حکیم الامت‘‘ کے نام سے چار جلدوں کی شکل میں مرتب کیے گئے ہیں، وہ حقیقت میں ایک ایسی نعمت ہیں جنہیں ہر مسلمان کو ضرور پڑھنا چاہئے۔ یہ چاروں جلدیں دراصل خطبات حکیم الامت (32 جلدیں) کے خلاصے اور نچوڑ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ وہ پوری علمی و روحانی دنیا جو خطبات میں پھیلی ہوئی ہے، اس کا نچوڑ، اس کا عطر اور اس کی اصل خوبیاں ان مختصر مگر جامع جلدوں میں سمٹ آئی ہیں۔ عام قاری کے لیے یہ بہت بڑی سہولت ہے، کیونکہ 32 جلدیں ہر گھر میں رکھنا اور مکمل پڑھنا سب کے لیے ممکن نہیں ہوتا، مگر ’’جواہراتِ حکیم الامت‘‘ کے ذریعے وہی حکمت بھرے نکات نہایت آسان اور سادہ انداز میں مل جاتے ہیں۔ ان کتابوں میں وہ منتخب ملفوظات اور جواہر شامل ہیں جن کا تعلق عمومی زندگی کے ہر اہم پہلو سے ہے: اتباعِ سنت، حقوق العباد، فقہی اور عملی مسائل، مالی معاملات، گھریلو اور سماجی آداب، حتیٰ کہ سیاسیات اور تعویذات تک کی متوازن رہنمائی بھی نہایت وضاحت سے بیان کی گئی ہے۔ یہ وہ مضامین ہیں جن کا علم ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے، کیونکہ ان کا تعلق دین کے ظاہری اور باطنی دونوں پہلوؤں سے ہے۔ مزید یہ کہ شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے بھی اس کتاب کی تعریف فرمائی ہے ۔ ’’جواہراتِ حکیم الامت‘‘ دراصل ان لوگوں کے لیے بہترین تحفہ ہے جو کم وقت میں زیادہ سے زیادہ علمی، اصلاحی اور روحانی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی مکمل تفصیلات اور آرڈر کرنے کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں:۔
🔗 https://kitabfarosh.com/product/jhu/
اعمالِ قرآنی—مستند عملیات کی صحیح رہنمائی
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی لاجواب تصنیف “اعمالِ قرآنی” برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایسی نعمت ہے جس کی ہمہ گیر اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ ہماری معاشرت میں عملیات، تعویذات اور وظائف کا استعمال بہت عام ہے، مگر افسوس کہ اسی عام رواج کے ساتھ ساتھ بے شمار غلطیاں، غلو، غیر شرعی طریقے اور من گھڑت عملیات بھی لوگوں میں پھیل گئے۔ بعض لوگ ایسے وظائف اختیار کرنے لگے جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں، اور کچھ نے اپنی طرف سے ایسے طریقے ایجاد کر لیے جو شریعت اور عقل دونوں کے خلاف تھے۔ اسی انتشار کو ختم کرنے اور عوام کو مستند، صاف اور شرعی راستے پر لانے کے لیے حضرت تھانویؒ نے ’’اعمالِ قرآنی‘‘ جیسی جامع کتاب مرتب کی، جس کی مثال پوری دینی لٹریچر میں بہت کم نظر آتی ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں صرف اور صرف وہی وظائف، اعمال اور قرآنی آیات درج کی گئی ہیں جو معتبر، آزمودہ اور سنت کی روشنی میں درست ہیں۔ یوں کتاب پڑھنے والے کو یہ اطمینان رہتا ہے کہ وہ جن اعمال پر عمل کر رہا ہے، وہ نہ بدعت ہیں، نہ من گھڑت، بلکہ قرآنِ کریم اور صحیح مفہوم پر قائم ہیں۔ حضرت تھانویؒ نے اس کتاب میں نہ صرف قرآنی عملیات جمع کیے بلکہ استخارہ سے متعلق وہ تمام غلط فہمیاں بھی دور کر دیں جو عوام میں چلتی آرہی ہیں—جیسے خواب نہ آنا، مخصوص رنگ دیکھنے کی شرطیں، یا بے بنیاد رسومات۔ انہوں نے واضح فرمایا کہ استخارہ کا اصل طریقہ کیا ہے، اور اللہ کی طرف رجوع کیسے کیا جاتا ہے۔ ’’اعمالِ قرآنی‘‘ کا مطالعہ انسان کو ایک اعتدال پسند راہ دکھاتا ہے جس میں روحانی طور پر فائدہ بھی ہے اور شرعی طور پر حفاظت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب ہر گھر میں موجود ہونی چاہئے، تاکہ عملیات کے نام پر غیر شرعی باتوں سے بچا جا سکے اور دین کے مطابق، فائدہ مند اور آزمودہ قرآنی وظائف کو اپنایا جا سکے۔

اس کی مکمل تفصیلات اور آرڈر کے لیے درج ذیل لنک ملاحظہ فرمائیں:۔
🔗 https://kitabfarosh.com/product/aeq/
تربیت السالک—اصلاحِ باطن کا نچوڑ
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان تصنیف “تربیت السالک” وہ کتاب ہے جسے پڑھ کر انسان حضرت کی خانقاہ میں ہونے والی روحانی تربیت کا پورا منظر اپنی آنکھوں کے سامنے محسوس کرتا ہے۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ وہ ’’عطر‘‘ اور ’’نچوڑ‘‘ ہے جو حضرت کی پوری اصلاحی جدوجہد سے کشید کیا گیا ہے۔ اس کتاب کی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں وہ اصل خطوط جمع کیے گئے ہیں جو روحانی امراض میں مبتلا افراد( اپنے باطن کی اصلاح کی جستجو رکھتے ہوئے) حضرت تھانویؒ کو لکھتے تھے۔ ان خطوط میں لوگ اپنے دل کی کیفیت، گناہوں کی کمزوری، وساوس، گھریلو اُلجھنیں، عبادت میں سستی، یا معاملات میں بے اعتدالی جیسے مسائل بیان کرتے تھے، اور حضرت نہایت حکمت، نرمی اور الہامی بصیرت کے ساتھ جواب تحریر فرماتے تھے۔ یہی سوال و جواب آج ایک خزانہ کی صورت میں آپکے سامنے ہیں ۔ ’’تربیت السالک‘‘ کا مطالعہ کرنے والا محسوس کرتا ہے کہ جیسے حضرت خود اس کے سامنے بیٹھے اس کی قلبی کیفیت کو سمجھ رہے ہوں اور اسی کے مطابق علاج تجویز کر رہے ہوں۔ اس کتاب میں ہزارہا روحانی نسخے موجود ہیں ۔ ہر صفحہ زندگی بدلنے والی رہنمائی سے بھرا ہوا ہے۔ جو شخص سچی طلب کے ساتھ اسے پڑھے، اس کی زندگی میں واضح تبدیلی ظاہر ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسے ’’اصلاحِ نفس کے لیے اکسیر نسخہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ مزید تفصیلات یا آرڈر کے لیے یہ لنک ملاحظہ فرمائیں:
🔗 https://kitabfarosh.com/product/trsk/
اخیر میں ایک خوشخبری
یہ پانچوں قیمتی کتابیں—جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی علمی، اصلاحی اور روحانی میراث کا نچوڑ ہیں—آپ انتہائی آسانی کے ساتھ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور سے منگوا سکتے ہیں۔ ہر کتاب کے لیے اوپر جو لنکس دیے گئے ہیں، ان میں تفصیل بھی موجود ہے اور آسانی سے آرڈر دینے کی سہولت بھی۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپ پر یہ لازم نہیں کہ پانچوں کتابیں ایک ساتھ خریدیں۔آپ چاہیں تو صرف ایک کتاب سے بھی مطالعہ کا آغاز کرسکتے ہیں ۔ یہ سہولت اس لیے رکھی گئی ہے کہ پڑھنے والا اپنے حالات، بجٹ اور ضرورت کے مطابق کتاب منتخب کرے کیونکہ اصلاح اور سیکھنے کا سفر ہمیشہ ایک کتاب سے ہی شروع ہوتا ہے۔

اگر ویب سائٹ سے آرڈر کرنے میں کوئی دقت ہو تو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ بالکل بے جھجھک واٹس ایپ نمبر 03450345581 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
واٹس ایپ پر کوئی بھی تفصیلات آپ پوچھ سکتے ہیں اور آرڈر بھی بہ آسانی لکھوا سکتے ہیں۔ آخر میں ایک خوشخبری یہ بھی ہے کہ اگر آپ یہ پانچوں کتابیں ایک ساتھ منگوانا چاہیں تو کتاب فروش کی جانب سے آپ کے لیے خصوصی رعایت رکھی گئی ہے۔ صرف واٹس ایپ پر اپنا نام اور آرڈر لکھ بھیجیں، اور رعایتی نرخ پر یہ تمام کتابیں آپ کے گھر تک پہنچا دی جائیں گی۔ ہم ٹی سی ایس کی تیز ترین کورئیر سروس کے ذریعے پورے پاکستان میں ڈلیوریز کرتے ہیں، اس لیے آپ جہاں بھی ہیں۔ پورے پاکستان میں کتاب آپ کو گھر بیٹھے مل جائے گی۔ یہ سہولت اُن لوگوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے جو مصروفیت کے باعث مارکیٹ نہیں جا سکتے مگر مطالعہ کے شوقین ہیں۔

