دوسری شادی کا اصل مفہوم اور معاشرہ کا بگاڑ

دوسری شادی کا اصل مفہوم اور معاشرہ کا بگاڑ

دوسری شادی آج ہمارے معاشروں میں ایک ایسا موضوع بن چکا ہے جس کے بارے میں بات کرتے ہوئے لوگ ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ چیز فطرت اور شریعت کے عین مطابق ہے۔اہلِ عرب کا معاشرہ اسی کی ایک روشن مثال ہے، جہاں آج بھی دوسری شادی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے عرب خاندانوں میں عورتیں خود اپنے شوہر کی دوسری شادی میں معاون بنتی ہیں اور اسے خاندان کی مضبوطی یا سماجی ضرورت کے طور پر دیکھتی ہیں۔

اہلِ عرب کے معاشرتی ڈھانچے کو اگر قریب سے دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں دوسری شادی کو کسی کمزوری، بے اعتمادی یا معاشرتی برائی کے طور پر نہیں لیا جاتاتھا۔  بلکہ اسے ایک ایسے فیصلے کے طور پر دیکھا جاتا جس میں اک نئے خاندان کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وسائل کی متوازن تقسیم ہوتی ہے۔ بہت سے علاقوں میں لوگ اسے ضروری بھی سمجھتے ہیں ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ اہلِ عرب کے ہاں مردانگی کے کچھ پہلو فطری طور پر مضبوط سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں بہت سارے ایسے اوصاف ہیں جو طبعاً موجود ہوتے ہیں جیسے ذمہ داریاں نبھانا، سچائی، قول و فعل میں مطابقت، اور خانہ آبادی کے لئے عملی کوششیں۔ یہ بات بھی عمومی مشاہدے کا حصہ ہے کہ وہاں کے لوگ جھوٹ سے گریز اور دیانت داری کو اپنی پہچان سمجھتے ہیں۔ یہی صفات شادی جیسے حساس رشتے کومضبوط بنانے کے لئے کافی تھیں۔

جہاں دوسری شادی کا رواج ہو

ہند و پاک میں دوسری شادی کا تصور کئی جگہوں پر بحث اور اختلافات کا باعث بنتا ہے، مگر حیرت انگیز طور پر بعض دیہی علاقوں میں اسے بالکل معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ کل ہی ایک حکیم صاحب ایک دل چسپ واقعہ سناتے ہوئے یہی تضاد بیان کر رہے تھے۔ وہ بتا رہے تھے کہ ایک نوجوان اپنے والد کے ساتھ دوائی لینے آیا۔ والد نے بڑے اطمینان سے کہا: “حکیم صاحب اس کو اچھی دوائی دے دیجیے، پرسوں اس کی شادی ہے۔

۔” ابھی یہ بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ والد نے تھوڑے توقف کے بعد مزید کہا: “اور ذرا طاقتور دوائی بنائیے گا، کیونکہ دو ہفتوں بعد اس کی دوسری شادی بھی طے ہے۔

۔” یہ سن کر حکیم صاحب کا حیران ہونا فطری تھا، مگر نوجوان کے والد نے مسکرا کر جواب دیا: “ہمارے ہاں تو یہ سب معمول کی بات ہے۔”۔

یہ واقعہ صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا نہیں بلکہ ان خطوں کی مکمل سماجی تصویر پیش کرتا ہے جہاں شادی کو زندگی کا معمول سمجھا جاتا ہے، اور ایک سے زائد شادی کو نہ کوئی برائی، نہ فخر اور نہ ہی کوئی پیچیدہ مسئلہ بنایا جاتا ہے۔ ایسے علاقوں میں  دو بڑے رواج برسوں سے چلے آرہے ہیں: پہلا یہ کہ نوجوانوں کی کم عمری میں ہی شادی کر دی جاتی ہے تاکہ وہ معاشرتی اور خاندانی ذمہ داریوں کا جلد سامنا کر سکیں؛ اور دوسرا یہ کہ متعدد بیویاں رکھنا کسی اخلاقی بحث کا حصہ نہیں بلکہ ایک عام سی روایت ہے۔ یہ روایتیں ہمیں بتاتی ہیں معاشرتی ماحول ہر جگہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ہر معاشرہ اپنی ضروریات، تاریخی پس منظر اور عمومی رواجوں کے مطابق اپنا ماحول بنالیتا ہے۔

دوسری شادی بیوفائی ہے؟

ایسے علاقوں میں جہاں دوسری شادی کو نہ صرف قبول کیا جاتا ہے بلکہ اسے نیکی اور سنت سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے، وہاں واقعی یہ عمل بہت بڑے ثواب کا باعث بنتا ہے۔ مگر اسی کے مقابل کچھ علاقے ایسے بھی ہیں جہاں دوسری شادی کو شدید معیوب سمجھا جاتا ہے، اور یہی وہ سوچنے اور تفصیل طلب مقام ہے کہ جن علاقوں میں اس چیز کو معیوب سمجھا جاتا ہے ۔ ان جگہوں پر پہلی بیوی اور اُس کے گھر والے اکثر شدید ذہنی دباؤ، خوف، غم اور بعض اوقات جان لیوا تنازعات میں بھی پھنس جاتے ہیں، کیونکہ وہاں ایک تخیل یہ کارفرما ہوتا ہے: “ایک مرد اگر دوسری شادی کرے تو وہ بے وفا ہے۔” یہ سوچ نسلوں سے چلی آ رہی ہے، اور لوگوں کے ذہن میں یہ یقین بٹھا دیا گیا ہے کہ ایک بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرنا بیوفائی ہے۔

ایسی جگہوں پر مسئلہ دوسری شادی کا نہیں ہوتا بلکہ اصل میں اعتماد اور رواج کی ٹوٹ پھوٹ سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اگر مرد پہلے ہی صاف بتا دے کہ وہ دوسری شادی کا ارادہ رکھتا ہے، تو بہت سارے دلوں کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ یا اگر مرد ہی عقلمندی سے کام لے اور سمجھ جائے کہ جس خاندان میں شادی ہورہے انکا نظام اور انکا مزاج ایسا ہےکہ یہ دوسری شادی میں پریشانیوں کا شکار ہوجائینگے تو اُسکی مردانگی کا تقاضا یہ ہے کہ کسی اور جگہ رشتہ دیکھ لے۔ ۔ لیکن جب کوئی شخص پہلی شادی تو مجبوری اور لاچاری میں کرلیتا ہے مگر بڑے عرصہ بعد اچانک اس فیصلے کا اعلان کرتا ہے، اور وہ بھی ایسے ماحول میں جہاں اس عمل کو سماجی طور پر جرم سمجھا جاتا ہو، تو اس کے نتیجے میں اہلِ خانہ کی تکلیف، بے چینی اور مخالفت فطری ہوتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ یادرکھیں! سنت پر عمل ضرور کریں، مگر اس عمل کا طریقہ بھی سنت اور اخلاقیات کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ دوسری شادی سنت ہے، مگر کسی مسلمان کو تکلیف پہنچانا، اس کی دل آزاری کرنا، یا اُس کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا یقیناً حرام ہے۔ لہٰذا اگر کسی کے ماحول میں اس فیصلے سے انتشار، جھگڑے، ٹوٹ پھوٹ یا نفرت پیدا ہونے کا خطرہ زیادہ ہو تواحتیاط اور حکمت کا پہلو تھامے رکھنا لازم ہے۔

دوسری شادی کا دروازہ کس لئے کھولا گیا؟

اسلام میں دوسری شادی کی اجازت کوئی بے بنیاد یا اچانک پیش کیا گیا حکم نہیں تھا، بلکہ اس کے پیچھے بڑے بڑے سماجی، اخلاقی اور انسانی پہلو موجود تھے۔سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ابتدائی اسلامی معاشروں میں مسلمان غیرت مند، بہادر اور جنگجو ہوا کرتے تھے۔ مختلف قبائل اور قوموں کے ساتھ تصادم اور دفاعی محاذوں پر بے شمار مرد جام شہادت نوش کر لیا کرتے تھے۔ نتیجہ یہ کہ بیوگان کی تعداد بڑھ جاتی تھی، اور معاشرے کے سامنے ایک بہت بڑا سوال کھڑا ہو جاتا تھاکہ ان عورتوں اور یتیم بچوں کا سہارا کون بنے گا؟ اس دور میں دوسری شادی کوئی انفرادی فعل نہیں تھا بلکہ معاشرتی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی۔ اس لیے دوسری شادی کا دروازہ کھولنا دراصل ایک وسیع انسانی خدمت اور بھلائی تھی۔

دوسری بڑی بات یہ تھی کہ وہ مرد جسمانی طور پر قوی، مضبوط اور ذمہ داری نبھانے کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ کمزور  لوگ نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر گھروں میں پہلی بیوی خود ہی اجازت دے دیتی تھی کہ وہ دوسری شادی کر لیں، کیونکہ اسے معلوم ہوتا تھا کہ خاوند اس ذمہ داری کو انصاف، محبت اور حکمت سے نبھا سکتا ہے۔ ایسے مرد بیوی کے حقوق کا خیال رکھتے، مالی اخراجات پورے کرتے اور گھر کے تمام افراد کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کرتے۔

تیسری حکمت یہ تھی کہ یتیم لڑکیوں، بیواؤں اور مطلقہ عورتوں کی آبادکاری معاشرے کی اجتماعی ضرورت تھی۔ ان خواتین کو تحفظ، کفالت اور عزت کے ساتھ گھر کا ماحول دینا ایک نیکی سمجھی جاتی تھی۔ اس کے بغیر وہ تنہا، غیر محفوظ یا مالی مشکلات کا شکار ہو سکتی تھیں۔ چوتھا پہلو نہایت اہم ہے: کئی عورتیں خود اجازت دیا کرتی تھیں، کیونکہ انہیں معلوم ہوتا تھا کہ بچوں کی دیکھ بھال، گھریلو امور اور روزمرہ کی ذمہ داریوں میں ایک دوسری خاتون کا شامل ہونا آرام اور سہولت کا باعث ہوگا۔ اس طرح نہ صرف گھر مضبوط ہوتا تھا بلکہ شوہر بھی ذہنی و جسمانی دباؤ سے محفوظ رہتا تھا۔ البتہ یہ سب اسی صورت میں ممکن تھا جب مرد سچا، غیرت مند، منصف مزاج اور خیال رکھنے والا ہو۔
یہ پہلو ہمیں بتاتے ہیں کہ دوسری شادی کی اجازت صرف ایک ہی نکتہ پر مرکوز نہیں تھی بلکہ بہت ساری حکمتوں کا مجموعہ تھی۔

مسلمان مرد کیسے ہوتے تھے؟

افسوس در افسوس، آج کا معاشرتی منظر نامہ اس اصل روح سے بالکل مختلف اور مخالف چل رہا ہے جس کے لیے دوسری شادی کی اجازت دی گئی تھی۔ آج جب لوگ دوسری شادی کا ارادہ کرتے ہیں تو جس کو رشتہ ڈھونڈنے کے لئے کہتےہیں اُسکو سب سے پہلی شرط یہی رکھتے ہیں کہ “بھائی میرے تو پہلے ہی چار بچے ہیں، تو خیال رکھنا… دوسری عورت بچوں والی نہ ہو، مطلقہ ہرگز نہ ہو، بیوہ ہو تو وہ بھی بچوں کے بغیر ہو، اور بہتر یہ ہے کہ کنواری ہی مل جائے۔” یہ سوچ پڑھنے والے کو حیرت میں بھی ڈالتی ہے اور دکھ بھی دیتی ہے، کیونکہ یہ رویہ اس حکمت کے بالکل برعکس ہے جو اسلام نے بیان کی تھی۔

اسلام نے تو دوسری شادی کی اجازت بنیادی طور پر اس لیے دی تھی کہ یتیم لڑکیوں کے لیے سہارا پیدا ہو، بیوہ عورتوں کے گھرآباد ہوں ، مطلقہ خواتین کو تنہائی، بے بسی اور معاشی عدمِ تحفظ سے نکالا جا سکے، اور جو بچے باپ کے سائے سے محروم ہو گئے ہوں اُن کے لیے کفالت کا دروازہ کھلا رہے۔ مگر آج کے بعض مرد اس اجازت کو اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ وہ نہ یتیم بچی کو گھر لانے کا حوصلہ رکھتے ہیں، نہ بیوہ کے بچوں کی ذمہ داری اٹھانے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور نہ ہی مطلقہ کو دوبارہ عزت کے ساتھ زندگی دینے کی سوچ رکھتے ہیں۔ اس کے بجائے وہ سہل راستہ ڈھونڈتے ہیں، جہاں صرف اپنی خواہش پوری ہو اور ذمہ داری بالکل نہ ہو۔

حالانکہ اسلام نے جب یہ اجازت دی تو اس کے پیچھے یہ پورا پس منظر بھی موجود تھا کہ مسلمان مرد میں بڑی عظیم صفات ہوں گی—وہ وعدے کا سچا ہو، جھوٹ نہ بولتا ہو، مکر و فریب سے پاک ہو، اور انصاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ یعنی دوسری شادی کا دروازہ اُن لوگوں کے لیے کھولا گیا تھا جو کردار کے مضبوط ہوں، کسی عورت کا دل نہ توڑیں، کسی بچے کو محرومی میں نہ دھکیلیں، اور کسی خاندان کو بکھیرنے کا سبب نہ بنیں۔

میں نے تو سنت پر عمل کیا ہے

جن علما یا دیندار حضرات میں دیانت داری موجود ہے اور جو شرعی اصول کے مطابق پہلی بیوی کو اعتماد میں لے کر نکاح ثانی کرتے ہیں، وہ یقیناً اس تنقید سے مستثنیٰ ہیں۔ مگر افسوس کہ معاشرے کی اکثریت اس روش پر نہیں۔ اکثر لوگ جھوٹ بول کر، بیوی کو بہلا کر، اسے مصروف یا پریشان رکھ کر، یا کسی فرضی کام کا بہانہ بنا کر گھر سے نکلتے ہیں اور پھر چپکے چپکے دوسری شادی کر آتے ہیں۔ جب معاملہ سب کے سامنے آتا ہے تو پورا خاندان ہل کر رہ جاتا ہے۔ صدمہ، رنج، غصہ، بے اعتمادی اور بدگمانی کی آگ گھر گھر میں پھیل جاتی ہے۔ بیوی کی دنیا پلک جھپکتے میں بکھر جاتی ہے، بچوں کے دل زخمی ہوتے ہیں، اور آنے والے کئی سال تک گھر کا ماحول انتشار اور فسادات کی لپیٹ میں رہتا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی دغا بازی، جھوٹ، دھوکہ، مکاری اور اعتماد شکنی کے باوجود اکثر لوگ ایک ہی دلیل دے کر سب کچھ جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں: میں نے تو سنت پر عمل کیا ہے!” ۔

جب طریقہ غلط ہو، دوسری شادی کی ابتدا ہی جھوٹ سے ہوئی ہو، دل میں دھوکہ بازی اور نفسانی خواہش ہو، پہلی بیوی کی عزت کو پامال کیا جائے، انصاف اور قوانین خود ہی گھڑ لئے جائیں اور جب پورے خاندان کو ذہنی اذیت میں دھکیل کر پھر اس عمل پر “ثواب” کا دعویٰ کیا جائے—تو سوال یہ نہیں رہتا کہ نکاح دوم جائز ہے یا نہیں۔سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا یہ طریقہ بھی سنت کی روح کے مطابق ہے؟

یہ سوچنے کا مقام ہے کہ اگر دوسری شادی اتنی ہی نیکی ہے، تو پھر اس سے پہلے کیوں جھوٹ بولنا پڑتا ہے؟ کیوں چپکے سے کرنا ضروری ہو جاتا ہے؟ کیوں پہلی بیوی کی تکلیف کو نظرانداز کیا جاتا ہے؟ اور کیوں دوسرے نکاح کے معاملات کو شفاف نہیں رکھا جاتا ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب اعمال تب کرنے پڑتے ہیں جب نیت خراب ہو۔

نکاح اور زنا میں ایک بڑا فرق

دوسری شادی کے باب میں ایک قباحت یہ بھی نہایت سنگین شکل اختیار کر چکی ہے کہ لوگ اسے چھپ چھپ کر کرتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ خفیہ نکاح ایک ایسا عمل ہے جس پر شریعت نے سخت ناپسندیدگی ظاہر کی ہے۔ نکاح اور زنا میں ایک بہت بڑی فرق کرنے والی چیز یہ بھی ہے کہ زنا چھپ کرکیا جاتا ہے اور نکاح علی الاعلان کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ” یعنی نکاح کا اعلان کرو، اسے مسجدوں میں کرو، اور اس پر دف بجاؤ۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے نقل کیا ہے اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔مگر مفہوم واضح ہے کہ شادی کو پوشیدہ رکھنا شریعت کی پسندیدہ روش نہیں۔

اصل نکتہ یہ ہے کہ اعلانِ نکاح کا شریعت میں تقاضا حفاظت، عزت اور اعتماد کے لیے رکھا گیا ہے۔ جب آٹھ دس لوگ دونوں خاندانوں کے شریک ہو کر گواہی دیں کہ فلاں مرد اور فلاں عورت اب ایک دوسرے کی ذمہ داری کے دائرے میں آگئے ہیں، تو اس سے نہ صرف دونوں کی عزت محفوظ ہوتی ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کے دروازے بھی بند ہوتے ہیں۔ لیکن آج معاملہ اس کے بالکل برعکس ہو گیا ہے۔ لڑکی والوں سے کہا جاتا ہے کہ “آپ اپنے خاندان میں کسی کو مت بتائیں” اور لڑکا تو ویسے ہی اپنا نیا نکاح چھپانے پر مجبور ہوتا ہے، کیونکہ وہ پہلی بیوی سے دغا کر کے، اسے بے خبر رکھ کر یہ قدم اٹھاتا ہے۔ یوں یہ نکاح کی ایک نئی قسم ایجاد ہوچکی ہے خفیہ نکاح ۔

شریعت کے مطابق نکاح تو ہو جاتا ہے، مگر اس میں زنا کی مشابہت پیدا ہو جاتی ہے۔ زنا ہمیشہ پردے میں، چوری چھپے کیا جاتا ہے، جبکہ نکاح علی الاعلان ہوتا ہے، عزت کے ساتھ، خاندانوں کی گواہی میں۔ جب نکاح بھی اسی طرزِ خفیہ میں ڈھل جائے کہ نہ گھر والوں کو خبر، نہ دوستوں کو، نہ معاشرے کو—تو پھر ایک جائز عمل بھی غلط فہمیاں  اور خرابیاں پیدا کرسکتا ہے اور اس سنت عمل کی روح مجروح ہوسکتی ہے۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ نکاح صحیح ہے یا فاسد؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مقصد پورا ہوا؟ کیا اعتماد قائم رہا؟ کیا شریعت کی حکمت باقی رہی؟ اگر طریقہ ہی ایسا ہو کہ وہ گناہ کی مشابہت پیدا کرنے لگے تو پھر عمل اپنی برکت کھو دیتا ہے۔

دوسری شادی چھپ کر کیوں کرتے ہیں؟

چھپ چھپ کر کیے گئے نکاح میں ایک اور انتہائی خطرناک خرابی یہ بھی سراٹھاتی ہے کہ اس میں اکثر مرد جنسی خواہش کی تکمیل کو اصل مقصد بنا لیتے ہیں۔ افسوس کہ کئی جگہوں پر یہی ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ کچھ لوگ دوسری شادی کو سنجیدہ ذمہ داری کے طور پر نہیں لیتے، بلکہ اسے ایک “چانس” یا آزمائشی تعلق سمجھ کر کرتے ہیں—کہ نکاح ہو جائے گا، کچھ دن تعلق بھی رہے گا، اور اگر حالات نہ بنے، پہلی بیوی نے سختی دکھا دی، یا گھر میں ٹینشن بڑھی تو پھر وہی چپکے چپکے جس طرح نکاح ہوا تھا، اسی طرح وہ اسے چھوڑ بھی دیں گے۔ العیاذ باللہ… یہ سوچ نہ صرف نکاح کے پاکیزہ مقصد سے انحراف ہے، بلکہ عورت کی عزت، خاندان کے اعتماد، اور شرعی حکم کے ساتھ کھلی بے ادبی بھی ہے۔

اسی بدنیتی اور اخلاقی گراوٹ سے بچانے کے لیے ہی حدیث میں واضح الفاظ موجود ہیں: “نکاح کا اعلان کرو”۔ اعلان کا مطلب صرف یہ نہیں کہ دولہا اور دو گواہ موجود ہوں—یہ تو شرعی کم از کم شرط ہے، مگر حدیث کے تقاضے اور معاشرتی حکمت اس سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ اعلان وہ ہے جہاں خاندان کے چند معتبر افراد موجود ہوں، دونوں طرف کے لوگ جانیں کہ یہ نکاح ایک ذمہ دارانہ، باوقار اور مکمل شعور کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ رشتہ نہ چوری ہے نہ نفسانی خواہش کی تکمیل کا خفیہ راستہ، بلکہ ایک جائز، کھلے اور عزت والے تعلق کا آغاز ہے۔

لیکن جب نکاح اس طرح کیا جائے کہ نہ خاندان کو خبر ہو، نہ معاشرہ جانتا ہو، نہ پہلی بیوی کو اعتماد دیا گیا ہو، نہ اس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی پاسداری ہو رہی ہو—تو اگرچہ نکاح شرعی طور پر منعقد تو ہو جاتا ہے، مگر وہ حدیث کے خلاف، معاشرتی اصولوں کے خلاف، اخلاقی ذمہ داریوں کے خلاف اور سب سے بڑھ کر امانت و دیانت کے خلاف ہو جاتا ہے۔ ایسے نکاح کو جائز کہہ کر اسے اخلاقاً قبول کرنا مشکل ہے، کیونکہ اس کے پیچھے نیت ہی خراب ہےاورمقصد ہی غلط ہے۔

دوسری شادی میں نیت کی خرابی

مزید افسوسناک پہلو یہ ہے کہ بعض لوگ دوسری شادی کو عبادت یا سنت کی بجائے انتقامی ہتھیار بنا لیتے ہیں۔میرے مشاہدے میں ایک ایسا ہی واقعہ آیا جس نے دل ہلا کر رکھ دیا۔ کراچی کے ایک صاحب کی ازدواجی زندگی کے بارے میں اکثر سنتے رہتے تھے کہ گھر میں آئے دن جھگڑے ہوتے ہیں۔ غربت کی وجہ سے وہ بیوی کو چھوڑ بھی نہیں سکتے تھے، اور بیوی مشرقی تہذیب کے مطابق صبر اور برداشت کے ساتھ گھر چلانے کی پوری کوشش کرتی رہی۔ لیکن جیسے ہی حالات بہتر ہوئے اور کچھ پیسے آئے، تو اس شخص نے سالوں کی بحث و تکرار کا انتقام لینے کے لیے فوراً دوسری شادی کر لی۔

اور پھر جو پہلی بیوی کے ساتھ ہوا وہ اہلِ محلہ دیکھتے رہ گئے۔ ظلم، لاچاری، بے توقیری اور محرومی… سب مل کر اس عورت کی زندگی کو اجاڑتے رہے۔ لوگوں کو صاف نظر آ رہا تھا کہ یہ نکاح عبادت نہیں، بلکہ انتقامی کارروائی ہے۔ سب سے تکلیف دہ منظر وہ تھا جب ایک دن مولانا صاحب دوسرے گھر میں تھے اور پہلی بیوی نے فون کر کے کہا: میری طبیعت بہت خراب ہے، براہِ کرم کچھ دیر کے لئے آ جائیں…” مگر ان صاحب نے دھڑکتے ہوئے دل کو تسلی دینے کے بجائے بڑے اطمینان سے جواب دیا: “میں کل آؤں گا، جب تمہاری باری شروع ہوگی۔ ابھی تمہارا دن نہیں ہے۔”۔نتیجتاً محلہ کی ایک دو عورتیں آئیں اور وہ رکشہ میں ہسپتال لے کر گئیں۔

کیا باری کا مطلب یہ ہے کہ ایک عورت کے تمام حقوق اس کے دنوں کے ساتھ بندھے ہوں؟ کیا اگر آج اس کی باری نہیں تو اس کی جان بھی بے قیمت ہے؟ کیا ذمہ داری، خبرگیری، حفاظت اور شفقت بھی “شیڈول” کے تابع ہے؟ العیاذ باللہ!۔

یہ وہ سوچ ہے جو شریعت کے عین مخالف ہے۔ اسلام نے باری اس لیے رکھی کہ انصاف قائم ہو، نہ کہ بے رحمی کو “قانونی رنگ” دیا جائے۔ اگر باری کے نام پر کسی عورت کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے تو یہ نہ صرف ظلم ہے بلکہ شریعت کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔

سوال یہی ہے: کیا اسلام نے دوسری شادی اس لیے جائز کی تھی کہ انسان اپنے غصے، تکبّر یا انتقام کی آگ میں گھروں کو برباد کرے؟ کیا اللہ نے نکاح کو اس لیے عبادت کہا کہ ہم اسے دل توڑنے کا ذریعہ بنا لیں؟ ہرگز نہیں۔

اصل مسئلہ کہاں پر ہوتا ہے؟

تو دوستو! پوری گفتگو کا خلاصہ آپ کے سامنے ہے، اور میں چاہوں گا کہ اسے دوبارہ یکسو ہو کر پڑھا جائے، کیونکہ مسئلہ دوسری شادی کا نہیں—مسئلہ اس کے غلط طریقوں کا ہے۔ میں دوسری شادی کے خلاف ہرگز نہیں ہوں؛ یہ تو ایک مکمل شرعی، جائز اور بابرکت عمل ہے۔ اسلام نے اس کے دروازے بند نہیں کیے، بلکہ اس عمل کو ذمہ داری، انصاف، دیانت اور بھلائی کے اصولوں کے ساتھ جوڑا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں یہ سنت نہ صرف غلط طریقوں کے ساتھ اپنائی جا رہی ہے بلکہ بعض جگہوں پر اسے نفس کی آگ بجھانے، خواہش پوری کرنے یا انتقامی کاروائی کا آلہ بنا دیا گیا ہے—اور یہی وہ مقام ہے جہاں ثواب کم اور گناہ زیادہ ہو جاتا ہے۔

اصل مقصد یہ ہے کہ غلط رویوں کو جڑ سے ختم کیا جائے۔ دوسری شادی کی رہنمائی ہمیشہ علمائے کرام سے لی جائے، تاکہ فیصلہ نفسانی خواہشات کے مطابق نہ ہو بلکہ شریعت کے مطابق ہو۔ اس سنت کو جنسی خواہش یا وقتی تسکین کی بھینٹ چڑھانا نہ صرف ظلم ہے بلکہ دین کو بدنام کرنے کا ذریعہ بھی۔ یاد رکھیے، جب سنت کو غلط نیت کے ساتھ اپنایا جائے تو سنت نہیں رہتی—بلکہ فتنہ اور بدنامی کا سبب بن جاتی ہے۔

اسلام نے اجازت لینے کے بھی آداب سکھائے ہیں، پہلی بیوی کے حقوق، اس کے احساسات، اس کی عزتِ نفس اور اس کی زندگی کے حالات کو نظرانداز کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی۔ اگر کوئی شخص واقعی دوسری شادی کا ارادہ رکھتا ہے تو پہلے دن سے بتائے، رشتہ کرنے سے پہلے بتائے، شفافیت اور صداقت سے بات کرے یا پھر اگر بعد میں کسی موڑ پر اچانک اُسکا پروگرام بن جائے تو پوری طرح حکمت و مصلحت کے ساتھ اجازت لے۔ اگر اتنی جرات، سچائی اور ایمانداری ہی نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو اعتماد میں لے سکے، تو پھر سوال یہ کھڑا ہوتا ہے: کیا وہ واقعی مرد ہے؟اور کیا وہ واقعی دوسری شادی کرنے کے لائق ہے؟۔مرد وہ ہوتا ہے جو سچ بولے، نرمی کرے، صبر وحکمت سے چلے، انصاف کرے، اور اپنے فیصلوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے۔

موضوع کے مطابق دو اہم ترین کتابیں

طریقے سے اجازت لیجیے، ماحول کو سازگار بنائیے، اور اس سنت کو ایسے انداز میں اپنائیے کہ دوسری شادی عبرت نہیں بلکہ مثال بن جائے۔ سنت کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کیا جائے۔ اگر معاشرے میں دوسری شادی کا تصور وحشت، خوف، دھوکے اور ظلم کے ساتھ جڑا رہے گا تو لوگ بھاگیں گے، بدگمان ہوں گے اور اسے برائی سمجھیں گے۔ لیکن اگر اسکا طریقہ ٹھیک ہوا تو سنت کی برکات ظاہر ہوں گی۔ لوگ اسلام سے محبت کریں گے۔ اسلام کے دیگر احکام سے بھی محبت کریں گے ۔ خاندانوں میں تعلقات مضبوط ہوں گے۔ یتیموں اور بیواؤں کے حقوق ادا ہوں گے۔اسی لیے ضروری ہے کہ اس عمل کو اختیار کرنے سے پہلے علم حاصل کیا جائے، اپنے دل کو بھی درست کیا جائے، اپنے گھر کو بھی، اور اپنے ماحول کو بھی۔ علمائے کرام نے اس موضوع پر بہت قیمتی اور متوازن رہنمائی فراہم کی ہے۔ اسی سلسلے میں پہلی کتاب جس کا تعارف ضروری ہے وہ ہے “ایک سے زائد نکاح سنتِ نبوی ہے” جس میں نہ صرف دوسری شادی کی اصولی حیثیت بیان کی گئی ہے بلکہ اس بات کو پورے متن میں نمایاں رکھا گیا ہے کہ تعددِ ازواج ایک عبادت، حکمت اور سنت کے طور پر کیسے اپنائی جائے۔ اس کتاب کے مکمل تفصیلی مباحث، مستند دلائل اور رہنما نکات آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/ansn/

ایک سے زائد نکاح سنت نبوی ہے قرآن و حدیث کے مطابق ایک سے زائد نکاح کا حکم بے نکاحی خواتین کی پاکدامنی اور انکی مالی کفالت اور تحفظ حقوق کا باعزت طریقہ ہے ۔ تمام عمر صرف ایک بیوی پر قناعت کا نتیجہ ہے کہ اس وقت ملک میں ایک کروڑ سے زائد خواتین نکاح سے محروم گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں ۔
ایک سے زائد نکاح سنت نبوی ہےقرآن و حدیث کے مطابق ایک سے زائد نکاح کا حکم بے نکاحی خواتین کی پاکدامنی اور انکی مالی کفالت اور تحفظ حقوق کا باعزت طریقہ ہے ۔تمام عمر صرف ایک بیوی پر قناعت کا نتیجہ ہے کہ اس وقت ملک میں ایک کروڑ سے زائد خواتین نکاح سے محروم گھر میں بیٹھی ہوئی ہیں ۔

اور اگر کوئی شخص یہ سنت اختیار کر چکا ہو یا کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہو، تو اس کے لیے دوسری کتاب بے حد ضروری ہے—”دوسری شادی”۔ یہ کتاب اُن لوگوں کے لیے خاص رہنمائی فراہم کرتی ہے جو سمجھتے ہیں کہ دو شادیوں کے بعد ذمہ داری، جوابدہی اور عدل کا پیمانہ کہیں زیادہ سخت ہو جاتا ہے۔ ایک شادی والا شخص نسبتاً آزاد ہوتا ہے، مگر دو شادیوں میں انسان مکمل طور پر جوابدہ ہو جاتا ہے۔ اسی لیے اس کتاب میں احکام و مسائل کے ساتھ ساتھ اولیاء اللہ کے اقوال، تجربات اور اعتدال پانے کے طریقے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ مکمل تفصیل یہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہے:۔
https://kitabfarosh.com/product/dsi/

Dosri Shadi
دوسری شادی

اگر اس پوری گفتگو کا خلاصہ ایک ہی جملے میں کیا جائے تو وہ یہ ہوگا: دوسری شادی اجازت سے زیادہ امانت ہے۔ جس نے اسے طریقے سے نبھایا، وہ سنت کا تاج پہن لے گا؛ اور جس نے نفسانی خواہش کے لیے اپنایا، وہ خود بھی برباد ہوگا اور سنت کو بھی بدنام کرے گا۔

کتاب فروش سے رابطہ کریں

دوستو! آخر میں ایک نہایت اہم بات—وہ لوگ جو واقعی اخلاص کے ساتھ اس سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے درست معلومات اور مستند رہنمائی حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔ اوپر جن دو کتابوں کا ذکر کیا گیا ہے، انہیں آپ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور سے آسانی سے آرڈر کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت اس لیے رکھی گئی ہے کہ جو لوگ اپنی ازدواجی زندگی کے حساس فیصلوں میں شرعی رہنمائی چاہتے ہیں، انہیں مستند، جامع اور عملی مواد بآسانی دستیاب ہو جائے۔

آن لائن آرڈر کرنا بہت آسان ہےلیکن  اگر کسی کو ویب سائٹ  سے آرڈر کرنے میں مسئلہ پیش آئے یا ادائیگی، ڈلیوری یا کتاب کے انتخاب کے حوالے سے کوئی سوال ہو تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں—کیونکہ کتاب فروش نے واٹس ایپ کے ذریعے بھی رابطے کی سہولت فراہم کر دی ہے۔

WhatsApp: 03450345581
اس نمبر پر آپ مکمل تفصیل پوچھ سکتے ہیں، آرڈر کر سکتے ہیں، رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق مشورہ بھی لے سکتے ہیں۔ اس سہولت کا مقصد یہی ہے کہ جو لوگ واقعی دوسری شادی کو سنتِ رسول ﷺ سمجھ کر اپنانا چاہتے ہیں، وہ اندھیرے میں تیر نہ چلائیں بلکہ باشعور طریقے سے، علم کے ساتھ، ذمہ داری کے ساتھ قدم اٹھائیں۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop