اُمت کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر

اُمت کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ زوجہ مطہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی (اتنے زور سے ) ایسا ہنستا ہوا نہیں دیکھا کہ آپ کا تالو کا کوا نظر آ جائے ( یعنی منہ کھول کر قہقہہ لگانا آپ کا طریقہ نہیں) بلکہ آپ تبسم فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب بھی آپ بادل یا ہوا دیکھتے تو ( گھبراہٹ اور فکر) آپ کے چہرہ مبارک پر پہچان لی جاتی۔
میں نے (ایک مرتبہ) عرض کیا یا رسول اللہ ! لوگ تو بادلوں کو دیکھ کرخوش ہوتے ہیں کہ اب بارش ہونے والی ہے لیکن میں دیکھتی ہوں کہ آپ کے چہرہ پر فکر مندی کے آثار ظاہر ہو جاتے ہیں۔ اس پر آنحضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ !(رضی اللہ عنہا) مجھے اطمینان نہیں( خوف رہتا ہے) کہ اِس میں عذاب ہو جیسے ایک قوم کو تیز ہوا کے عذاب میں مبتلا کیا گیا تھا اور ایک قوم ایسی تھی جنہوںنے بادل دیکھ کرخوشی کا اظہار کیا تھا لیکن وہی بادل اُن پر عذاب برسانے آیا تھا( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ فکراپنی اُمت کے لئے تھی، بعد میں یہ بشارت عطا کی گئی تھی کہ آپ کی اُمت پر کوئی اجتماعی عذاب پچھلی قوموں کی طرح نازل نہ ہوگا یعنی ایسا عذاب جو پوری اُمت کو ہلاک کردے )
(مفہوم حدیث: ۳۵۳، باب قولہ فلما راؤہ عارضاً ، کتاب التفسیر ، صحیح البخاری)

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop