تہجد پڑھنا جہنم کی آگ سے نجات کا یقینی ذریعہ ہے
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب کوئی شخص خواب دیکھتا تو وہ آ کر حضور علیہ السلام کو سناتا (تو آپ اُس کی تعبیر ارشاد فرماتے)۔ مجھے بھی شوق ہوا کہ کاش مجھے کوئی خواب آئے اور میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں آ کر سنائوں۔ اُس وقت میں نوجوان تھا (شادی نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی بچے تھے، اسی لئے) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں ہی سویا کرتا تھا۔
ایک رات میں نے خواب دیکھا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا ہوا ہے اور دوزخ کی طرف لے گئے۔ میں نے دیکھا (دوزخ) ایک کنویں کی طرح ہے اور لپیٹی ہوئی ہے (یعنی جس طرح گول لپیٹا ہوا کنواں ہوتا ہے اُسی طرح جہنم ایک گڑھے کی مانند ہے) اور دوزخ کے دو گوشے ہیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس میں کچھ لوگ ہیں جنہیں میں پہچانتا ہوں (دوزخ کے عذاب کو دیکھ کر) میں نے اللہ کی پناہ مانگی دوزخ سے۔ پھر فرمایا کہ ہمیں ایک اور فرشتہ ملا اور اُس نے کہا کہ مت ڈرو۔
پس پھر میں نے یہ خواب (اپنی بہن جو کہ اُم المؤمنین ہیں) حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمایا تو نبی علیہ السلام نے تعبیر ارشاد فرمائی: عبداللہ بہت اچھا شخص ہے کاش وہ رات کو تہجد پڑھا کرتا۔ (راوی بیان فرماتے ہیں کہ) عبداللہ بن عمر اس کے بعد ہمیشہ رات کو بہت کم سوتے تھے (اکثر حصہ عبادت میں گزار دیتے)۔
حوالہ: صحیح بخاری شریف (مفہوم حدیث)
صحیح البخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/
Featured products
New Year BooksOffer 2025
Original price was: ₨ 5930.00.₨ 4750.00Current price is: ₨ 4750.00.Ramzan Ul Mubarak Ki Behtareen Kitabein
Original price was: ₨ 4480.00.₨ 4030.00Current price is: ₨ 4030.00.مجموعہ حضرت تھانوی پیکیج
₨ 11100.00





