صحابہ کے سینے ، نبی کی ڈھال بن گئے

صحابہ کے سینے ، نبی کی ڈھال بن گئے

حضرت اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا: جنگ ِ اُحد میں جب صحابہ کرام منتشر ہوگئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اِرد گرد بہت کم صحابہ تھے تو حضرت ابو طلحہ وہ واحد صحابی ہیں جو اُس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود تھے اور اپنی ڈھال سے نبی علیہ السلام کی حفاظت کررہے تھے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ ایک بہت ہی ماہر تیر انداز تھے، خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے۔ چنانچہ اُس دن آپ نے دو تین کمانیں توڑ دی تھیں ( اتنی طاقت سے اور اتنے سارے تیر چلائے کہ کمانیں ٹوٹ کر گر جاتیں)

جب بھی کوئی مسلمان تیروں کی ترکش لئے ہوئے گزرتا تو آپ علیہ السلام فرماتے: یہ تیر سارے ابو طلحہ کو دے دو۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ایڑیاں اُٹھا کر کھڑے ہوئے ( تاکہ سر اُونچا کر کے دُور تک صورت حال کا جائزہ لے سکیں ) تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فوراً عرض کیا : یا رسول اللہ! میں اپنے ماں باپ کو آپ پر قربان کردوں۔ آپ ایک لمحہ کے لئے بھی سر اُوپر نہ اُٹھائیں کیونکہ میں نے اپنا سینہ آپ کے سامنے کیا ہوا ہے تاکہ اگر کوئی تیر آئے تو پہلے میرے سینے پر لگے۔ میرا سینہ آپ کے سامنے ایک آڑ اورڈھال ہے ، آپ اگر سر اُٹھائیں گے تو ایسا نہ ہو کہ کوئی تیر آپ کو اُوپر سے لگ جائے۔

(مفہوم حدیث : ۳۵۵۷، باب مناقب ابی طلحۃ ، صحیح البخاری)

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop