نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت و رحمت کا انوکھا منظر

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت و رحمت کا انوکھا منظر

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میرے والد جب شہید ہوئے تو اُن پر قرضہ تھا۔ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ مدد چاہی کہ آپ قرض خواہوں سے کہہ کر قرض معاف کروا دیں( کیونکہ میرے باغ میں لگی ہوئی کھجوریں قرض ادا کرنے کے لئے کافی نہیں تھیں)۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرض خواہوں سے کہا لیکن وہ کسی مجبوری کی وجہ سے معاف کرنے کی حالت میں نہ تھے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: جائو! اپنی کھجوریں الگ الگ رکھ دو (یعنی اُن کی ڈھیری بنا دو) عجوہ کی الگ اور عذق زید والی کھجور کی الگ۔ اور جب یہ کام مکمل ہو جائے تو مجھے بتانا۔

پس میں نے ایسا ہی کیا اور سارا کام مکمل ہونے کے بعد حضور علیہ السلام کو اطلاع بھیجی۔ آپ سرورِ دو عالم رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کھجور کی ڈھیری کے پاس بیٹھ گئے اور فرمایا: اِس میں سے کھجور تول تول کر دینا شروع کردو۔ پس میں نے ایسا ہی کیا۔ اُن کو دیتا رہا حتیٰ کہ پورا قرض ادا ہوگیا لیکن میری کھجور ویسی کی ویسی ہی تھی۔ دیکھنے میں ایسے معلوم ہوتا تھا کہ کھجور کی ڈھیری میں سے ذرّہ برابر بھی کمی نہیں ہوئی۔

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop