ائمہ کرام کی رہنمائی کے لئے 1 بہترین کتاب
پاکستان کی سرزمین دینی علوم کے مدارس سے یوں روشن ہے کہ دنیا بھر میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ یہاں جہاں نظر دوڑائیں، دینی مدارس کا ایک خوشگوار منظردکھائی دیتا ہے—ایک ایسا منظر جو شور و غل نہیں بلکہ علم، قرآن اور سنت کی خوشبو تقسیم کرتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ پاکستان میں حفظِ قرآن کا نظام بہت زیادہ مضبوط ہے ۔ اور کثرت حفاظ کے اعتبار سے پاکستان کو پوری دنیامیں امتیازی شان حاصل ہے ۔ ہر سال ہزاروں بچے اور نوجوان اپنی زندگیوں میں قرآنِ مجید کو محفوظ کر کے نہ صرف اپنی دنیا سنوار لیتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط دینی بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں۔ پوری دنیا کے اسلامی ممالک میں کسی بھی میں اتنی زیادہ تعداد میں حفاظ تیار نہیں ہوتے جتنے پاکستان میں ہورہے ہیں ۔ اسی طرح علمائے کرام کی تیاری بھی ایک قابلِ رشک روایت کے طور پر قائم ہے۔ ہر سال ہزاروں علماء مختلف دینی اداروں سے فارغ التحصیل ہو کر معاشرے میں قدم رکھتے ہیں، اور یہ تعداد اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کا مذہبی و تعلیمی ڈھانچہ کتنا زیادہ مؤثر ہے۔
Table of Contents
دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یہاں مساجد سے زیادہ ائمہ موجود ہیں۔ مثال دی جائے تو اگر کسی علاقے میں سو مساجد ہوں تو وہاں ایک ہزار کے قریب ایسے حضرات موجود ہوں گے جو امامت کی اہلیت رکھتے ہوں گے۔بظاہر یہ بات حیران کن لگ سکتی ہے، لیکن یہ صورتحال اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ ہمارے دینی ادارے کس قدر بڑے پیمانے پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ ائمہ صرف نماز پڑھانے تک محدود نہیں رہتے بلکہ لوگوں کی تربیت، رہنمائی، سماجی مسائل کی نشاندہی اور اخلاقی اقدار کے فروغ میں بھی مخلصانہ کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری گلیوں، بستیوں، دیہاتوں اور شہروں میں دین کی تعلیمات پھیلی ہوئی ہیں ۔ اگرچہ اس نظام میں بہتری کی گنجائش ہر دور میں رہی ہے، مگر اس کے باوجود یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان آج بھی اسلامی دنیا میں دینی تعلیم کے اعتبار سے ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
امام صاحب کے مزاج میں اعتدال بہت ضروری ہے
پاکستان میں جب ائمہ کرام کی تعداد کثرت سے موجود ہو تو یقیناً اس شعبے کی اہمیت بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ مگر اسی کثرت کے ساتھ ایک سنجیدہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے: کیا ہر امام صاحب اپنے وقار، اپنی ذمہ داری اور اپنے منصب کی حقیقی شان کو بھی اسی فکر اور اہتمام سے محسوس کرتا ہے؟ امامت محض نماز پڑھانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا منصب ہے جو لوگوں کے دلوں کو جوڑنے، ان کی تربیت کرنے، اور دین کی صحیح رہنمائی پیش کرنے سے مکمل ہوتا ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ امام اس بات کو سمجھے کہ وہ مسجد میں صرف موجود نہ رہے بلکہ اپنی شخصیت کے ذریعے مسجد کے وقار میں اضافہ کرے۔ جب امام اپنے کردار میں نرمی اختیار کرتا ہے تو کبھی کبھی لوگ اس نرمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ امام کی عزت و احترام کم ہونے لگتا ہے۔ دوسری طرف اگر وہ بہت سختی برتتا ہے تو کمیٹیاں، محلے والے یا مسجد انتظامیہ اکثر اسے پسند نہیں کرتی اور امام صاحب اپنی جگہ سے ہی محروم ہو جاتا ہے۔ اس نازک توازن کو سمجھنا ہر امام کے لیے ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ائمہ کرام کو چند بنیادی اصول نہ صرف سیکھنے چاہئیں بلکہ روزمرہ میں اپنانے بھی چاہئیں۔ سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اپنے وقار کا خیال رکھیں۔کیونکہ اگر امام صاحب اپنی عزت خود نہ سنبھالیں تو دوسروں سے اس کی توقع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ نرم مزاج رہنے کے باوجود اپنی گفتگو، فیصلوں اور طرزِ عمل میں ایک ایسی مضبوطی رکھیں جو لوگوں کو احساس دلائے کہ امام نرم ضرور ہے مگر کمزور نہیں۔ تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ امام صاحب محض مذہبی رہنما نہیں بلکہ کمیونٹی کے اخلاقی و سماجی قائد بھی ہوتے ہیں، اس لیے ان کی شخصیت ہر وقت ایک مثبت مثال کے طور پر سامنے رہنی چاہیے۔ جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے، میں وہ نکات بیان کروں گا جنہیں سمجھ کر ہر امام نہ صرف اپنا مقام بہتر بنا سکتا ہے بلکہ مسجد اور محلے کے ماحول کو بھی زیادہ باوقار، متوازن اور پرامن بنا سکتا ہے۔
امامت کا منصب حاصل کرنے کا معزز طریقہ
مسجد کی امامت جیسے مقدس منصب کے لیے پہلا اور سب سے بنیادی اصول یہی ہے کہ خود کو کبھی اس طرح پیش نہ کریں جیسے لوگ دنیاوی عہدوں کے لیے دوڑ بھاگ کرتے ہیں۔ امامت کوئی سیاست یا مقابلے کا میدان نہیں، یہ دلوں کو سنبھالنے اور معاشرے کی روحانی رہنمائی کا مقام ہے۔ اگر کوئی شخص خود آگے بڑھ کر مسجد کی امامت حاصل کرنے کی کوشش کرے، لوگوں سے سفارشیں مانگے، کمیٹی کے آگے جھکنے لگے یا زبردستی اپنی جگہ بنانے کی کوشش کرے تو اس کا اثر صرف اس کی شخصیت پر نہیں پڑتا بلکہ پورے محلے کے ماحول پر بھی پڑتا ہے۔ ایسے کام کرنے سے شاید امامت مل جائے مگر عزت نہیں ملتی ۔ لوگ دل سے احترام نہیں کرتے اور پھر معمولی باتوں پر امام صاحب کو ٹوکنا، تنقید کرنا اور اختلافات کھڑے کرنا عام ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ محلے کی نمازوں کا نظم بگڑتا ہے، دلوں میں میل پیدا ہوتا ہے اور مسجد کا سکون ختم ہو جاتا ہے۔
اسی لیے بزرگ علماء ہمیشہ نصیحت کرتے آئے ہیں کہ اسکے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ امام صاحب خود نہیں بلکہ ان کے استاد، والد، بھائی، دوست یا کوئی ایسا معزز فرد — جو امام کی صلاحیت کو بہتر جانتا ہو — آگے بڑھ کر سفارش کرے۔ کہے کہ “میرا فلاں شاگرد یا عزیز اس مسجد کی امامت کے قابل ہے۔” اس انداز میں پیش کیا جانے والا امیدوار نہ صرف زیادہ باوقار لگتا ہے بلکہ کمیٹی اور محلے والے بھی اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس طریقے سے نہ جھگڑا ہوتا ہے، نہ رقابت پیدا ہوتی ہے، اور نہ ہی کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ امام صاحب نے زبردستی اپنی جگہ بنائی ہے۔ایسے ماحول میں امام صاحب بھی سکون سے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں،احترام قائم رہتا ہے، تعلق مضبوط ہوتا ہے اور مسجد کا نظم خوش اسلوبی سے چلتا ہے۔
امام کو غیرضروری بوجھ سے بچنا چاہئے
اکثر لوگ یہ سوچ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ’’مسجد کی خدمت کرنی ہے، چاہے جیسے بھی ہو‘‘—نیت یقیناً اچھی ہوتی ہے مگر طریقہ کبھی کبھی نقصان دہ ثابت ہو جاتا ہے۔ امامت کا اصل دائرہ نماز پڑھانے، خطبہ دینے، درس و بیان کرنے، قرآن و حدیث کی تعلیم دینے اور لوگوں کی شرعی رہنمائی کرنے سے مکمل ہوتا ہے۔ یہ ذمہ داریاں اتنی اہم اور بھاری ہیں کہ اگر امام صاحب صرف انہیں اچھے طریقے سے پورا کرنے کی فکر میں لگ جائیں تو اچھی خاصی محنت کی ضرورت ہے۔
لیکن اگر کسی مسجد میں امامت کے ساتھ ہی جھاڑو دینا، مسجد کھولنا اور بند کرنا، بلب بدلنا، صفائی کا پورا سسٹم چلانا، حتیٰ کہ اذان دینا بھی لازمی شرط بنا دی جائے تو یہ امامت نہیں بلکہ غیر متوازن، غیر شرعی اور غیر اخلاقی بوجھ کا ایک ڈھیر ہو جاتا ہے۔ امام اگر اپنی مرضی اور خوشی سے کوئی اضافی خدمت کرنا چاہے تو یہ اس کا اخلاقی حسن ہے، لیکن اگر معاہدہ ہی اس شرط پر ہو کہ ’’ہر کام کرنا پڑے گا‘‘ تو پھر ایسا عہدہ قبول کرنا خود اپنے ساتھ زیادتی بھی ہے اور مسجد کے نظام کے ساتھ بھی۔ کیونکہ جب ایک آدمی پر وہ ذمہ داریاں ڈال دی جائیں جو تین افراد کا کام ہے، تو نہ امامت پوری ہو پاتی ہے، نہ صفائی، نہ مسجد کا نظم، اور نہ خود امام کی عزت سلامت رہتی ہے۔ پھر ہر تھوڑی دیر بعد کمیٹی کی شکایتیں، لوگوں کی تنقید، اور امام صاحب کی تھکن مل کر ایسا ماحول بنا دیتی ہے جس میں نہ دین کی خدمت ہوتی ہے اور نہ دل کا سکون باقی رہتا ہے۔اور مسجد کا ماحول بری طرح متاثر ہوتا ہے۔
اصل مزاج یہی ہے کہ جہاں مسجد بنتی ہے وہاں امام کے ساتھ مؤذن کا ہونا لازمی ہے، اور صفائی کے لیے الگ نظام موجود ہونا چاہیے۔ جب ذمہ داریاں تقسیم ہوں گی تب ہی ہر فرد اپنے حصے کا کام بہتر کر سکے گا۔ امام کا منصب جتنا مقدس ہے، اتنا ہی حساس بھی ہے، اور اسے غیر ضروری ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبانا مسجد کے تقدس کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔
امامت کے لئے قربانیاں دینی پڑتی ہیں
آج کے دور میں جب مختلف شعبوں میں تنخواہوں کے مطالبات عام ہو چکے ہیں، ائمہ کرام بھی اس دباؤ سے پوری طرح محفوظ نہیں رہے۔ پاکستان میں ایک نمایاں رجحان یہ بنتا جا رہا ہے کہ اماموں کی تنخواہیں بڑھائی جائیں—ظاہر ہے اس میں کوئی برائی نہیں، کیونکہ امام بھی گھر چلاتے ہیں، ذمہ داریاں اٹھاتے ہیں اور ضروریاتِ زندگی رکھتے ہیں۔ مگر اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب امامت جیسے پاکیزہ منصب کو صرف تنخواہ یا ماہانہ آمدنی کے زاویے سے دیکھا جانے لگے۔ امامت کی بنیاد خلوص، خدمت اور دینی وقار پر رکھی گئی ہے، اور اس منصب کا اصل حسن اسی وقت سامنے آتا ہے جب امام صاحب اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کریں، نہ کہ ایک عام نوکری یا کاروباری ذریعہ۔ بہت سی ذمہ داریاں فطری طور پر قربانی مانگتی ہیں—اہلِ علم ہمیشہ سے ان قربانیوں کو اپنا شرف سمجھتے آئے ہیں، اور یہی چیز امام کی شان بنتی ہے۔
اگر کوئی شخص امامت کو فقط پیسہ کمانے کا ذریعہ سمجھ کر اختیار کرے تو لوگوں کے دلوں میں موجود احترام بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ کیونکہ مسجد کا مصلیٰ وہ جگہ ہے جہاں صرف نیک نیت لوگ ہی باعزت طریقے سے رہ سکتے ہیں۔ اگر نیت میں پیسے کمانا شامل ہوجائے تو اس منصب کی نورانیت ختم ہوجاتی ہے۔ ائمہ کرام کو چاہئے کہ مالی معاملات میں غیر معمولی احتیاط کریں، نہ مطالبے کریں، نہ ضد، نہ کمیٹی سے جھگڑے، بلکہ اپنا وقار اس سطح پر قائم رکھیں کہ لوگ خود بخود خوشی سے ان کی ضروریات کو سمجھیں۔ جو عزت بن مانگے ملتی ہے وہ مانگ کر کبھی نہیں مل سکتی۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر کسی شخص کا اصل مقصود صرف رزق کمانا ہے تو دنیا میں ہزاروں ہنر، ملازمتیں اور کاروبار موجود ہیں—وقت بھی زیادہ ملتا ہے، آمدنی بھی بہتر ہوتی ہے، اور عزت بھی محفوظ رہتی ہے۔ لیکن مسجد کے منبر اور محراب کو کاروبار سمجھ کر اختیار کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔
اصلاحِ مسجد کا حکیمانہ طریقہ اپنانا چاہئے
ائمه کرام چونکہ پڑھے لکھے ہوتے ہیں، اس لیے فطری بات ہے کہ مسجد کے معاملات کو بہتر بنانے کی فکر بھی ان کے دل میں زیادہ ہوتی ہے۔ مگر اکثر اصلاح کا کام بغیر حکمت کے کرنے لگتے ہیں تو فائدے کی بجائے نقصان ہونے لگتا ہے۔ ۔ اصلاح کا جذبہ اگر اندازِ بیان، حکمت اور وقت کی نزاکت سمجھے بغیر ہو تو امام صاحب اپنا وقار خود کھو بیٹھتے ہیں اور نصیحت کااثر بھی الٹ پڑ جاتا ہے۔ بہت سے امام صاحب نماز، اذان، صفوں کی ترتیب، مسجد کی صفائی یا کمیٹی کے انتظامات پر نکتہ چینی شروع کر دیتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا فرض ہے کہ وہ ہر خامی کو فوراً دور کرائیں۔ نیت اچھی ہوتی ہے مگر نتیجہ الٹا نکلتا ہے: کمیٹی ناراض، نمازی پریشان، اور خود امام صاحب ایک ایسے شخص کے طور پر دیکھے جانے لگتے ہیں جو ہر بات میں مداخلت کرتا ہے اور ماحول کو سخت بنا دیتا ہے۔
اگر امام کے پاس حکمت، مناسبت اور نرم دلی کا ہنر موجود ہو، وہ بات کو صحیح الفاظ میں، صحیح وقت پر اور اچھے انداز میں پیش کرنا جانتا ہو تو اصلاح دینا نہ صرف آسان ہو جاتی ہے بلکہ مؤثر بھی۔ اس صورت میں نرمی کے ساتھ سمجھانا، دلیل ثابت قدمی اور اخلاق کے ساتھ رہنمائی کرنا دلوں پر ایک گہرا اثر چھوڑتا ہےاور امام کی عزت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن اگر اصلاح کا طریقہ معلوم نہ ہو، اور بات کرتے ہی لوگوں میں غلط فہمیاں پیدا ہونے لگیں، تو بہترین طرزِ عمل یہی ہے کہ امام صاحب اپنے اصل منصب پر توجہ رکھیں، اپنی بنیادی ذمہ داریاں—نماز، درس، خطبہ اور دینی راہنمائی—پورے وقار سے ادا کریں اور مسجد کے انتظامی معاملات میں غیر ضروری مداخلت سے مکمل پرہیز کریں۔
بسا اوقات خاموشی بھی ایک بڑی حکمت ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص خود آکر پوچھے، مسئلے کا حل مانگے یا کچھ سیکھنا چاہے تو پھر دینی رہنمائی دینا نہ صرف جائز بلکہ ضروری ہے۔ اس وقت مثبت انداز اپنائیں، نرمی سے بات کریں، اور ایسا حل پیش کریں جس سے ماحول میں بہتری بھی آئے اور دلوں میں احترام بھی باقی رہے۔ اسی رویے سے امام کا وقار مضبوط ہوتا ہے اور مسجد کا ماحول بھی خوشگوار رہتا ہے۔
تنقید کو سنبھالنے کی حکمت لازمی سیکھ لیں
امامت کے منصب میں سب سے نازک امتحان یہ ہے کہ امام صاحب تنقید کا سامنا کیسے کرتے ہیں؟ کیونکہ جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں وہاں اختلافی رائے اور مختلف مزاجوں کا ہونا ایک یقینی حقیقت ہے۔ کوئی صفوں کے بارے میں کہے گا، کوئی قراءت پر رائے دے گا، کوئی مسجد کے انتظام پر بات اٹھائے گا—یہ سب معمول کی باتیں ہیں۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ تنقید ہوتی کیوں ہے، بلکہ یہ ہے کہ امام صاحب اسے سمجھتے اور سنبھالتے کیسے ہیں۔
کچھ ائمہ کرام ایسے ہوتے ہیں جو مکمل خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ وہ ہر اعتراض کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جواب نہیں دیتے، وضاحت نہیں کرتے۔ بظاہر یہ خاموشی اچھی لگتی ہے، مگر مسجد کے ماحول میں اس کا نتیجہ الٹا نکلتا ہے۔ جب امام صاحب مسلسل خاموش رہیں تو کمیٹی اور نمازی یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ شاید یہ امام صاحب کمزور ہیں، بات نہیں سمجھتے، یا ذمہ داری سے جی چراتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ بے وجہ الزامات بڑھتے جاتے ہیں اور پھر ایک دن خاموشی ہی کی وجہ سے امام صاحب کو منصب سے ہٹا دیا جاتا ہے۔
دوسری طرف کچھ امام صاحب ہر بات کا جواب دینے لگتے ہیں۔ وہ تنقید سنتے ہی وضاحت، دلائل اور جواز پیش کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ شروع میں لوگ متاثر ہوتے ہیں، مگر پھر یہی انداز الٹا مسئلہ بن جاتا ہے۔ چونکہ وہ جواب دینے میں ماہر ہوتے ہیں، اس لیے اعتراض کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جاتی ہے—ہر شخص چاہتا ہے کہ وہ بھی امام صاحب سے بحث کرے، سوال کرے، یا اپنی رائے منوائے۔ پھر مسجد کا ماحول تناؤ اور بحث مباحثے میں تبدیل ہو جاتا ہے، جس سے امام کا وقار بھی متاثر ہوتا ہے اور مسجد کا سکون بھی۔
اسی لیے اصل حکمت یہ ہے کہ امام محلے کے ایک دو معتبر افراد کو اعتماد میں لے کر چلیں۔ ان سے تعلق مضبوط رکھیں، انہی کے ذریعے بات پہنچائیں، انہی سے مشورہ لیں اور انہی کے ساتھ حساس مسائل پر بات کرے۔ اس طرح نہ امام براہ راست ہر اختلاف کی زد میں آتے ہیں، نہ لوگوں کے لیے بحث و تکرار کا دروازہ کھلتا ہے۔ اگر کوئی عام نمازی تنقید کرے تو امام کو چاہئے کہ نہ الجھیں، نہ بحث کریں، بلکہ نرمی سے سنی ہوئی بات کو آگے انہی معتبر لوگوں تک منتقل کر دیں۔ اس انداز میں امام نہ کمزور لگتے ہیں، نہ سخت، بلکہ متوازن اور باوقار نظر آتے ہیں۔
ایک بہتر ین جامع اور مکمل کورس
ائمہ کرام کے لیے عملی تربیت، حکمتِ عملی اور مسجد کے نظم و نسق کو سمجھنا صرف خواہش نہیں بلکہ ضرورت ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ایسی کتاب موجود ہو جو ایک طرف علمی باتوں پر مشتمل ہو اور دوسری طرف عملی زندگی کے وہ پہلو بھی واضح کرے جو ایک امام کی خدمت کو بامقصد اور باوقار بناتے ہیں، تو یہ یقیناً قابلِ توجہ نعمت ہے۔ انہی گنتی کی چند کتابوں میں سے ایک وہ اہم ترین تصنیف ہے جسے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے بھی پسند فرمایا—یعنی ملتان کے بزرگ استاذ الحدیث حضرت مولانا مفتی عنایت الکریم صاحب کی مایہ ناز کتاب “امامت کورس”۔ یہ کتاب صرف نام کے اعتبار سے کورس نہیں بلکہ ایک مکمل تربیتی نصاب ہے جو امام کی شخصیت، اس کی ذمہ داریوں، اس کے وقار، اس کے رویے، اور مسجد کے نظام کے باریک ترین پہلوؤں کی وضاحت کرتا ہے۔آج کے دور میں جب ائمہ کرام کو تنقید، لوگوں کے مختلف رویوں، کمیٹیوں کے انتظامی معاملات، مالی امور، اصلاحِ مسجد اور کمیونٹی ڈیلنگ جیسے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے، تو ایسی کتاب ایک بہترین رہنمائی دیتی ہے۔ “امامت کورس” میں امامت کے فقہی مسائل، انتظامیہ و متولی سے تعلقات، مسجد کے آداب، بیان و خطبہ کے اصول، اور عملی میدان کی وہ غلطیاں بھی بیان کی گئی ہیں جو اکثر امام کے وقار کو متاثر کرتی ہیں۔
کتاب فروش
(KitabFarosh Online Bookstore)
پر اس کتاب کی مکمل تفصیلات موجود ہیں، اور جدید ایڈیشن بھی دستیاب ہے:۔
https://kitabfarosh.com/product/etk/
اگر آپ امامت کے شعبے میں قدم رکھنے والے طالبِ علم ہیں، یا پہلے سے امام ہیں اور اپنے کردار کو مزید نکھارنا چاہتے ہیں، تو یہ کتاب یقیناً آپ کے لیے ایک مکمل رہنماء کی حیثیت رکھتی ہے۔
آرڈر کرنے کا طریقہ
خوشخبری یہ ہے کہ کتاب فروش کی ویب سائٹ پر “امامت کورس” جیسی قیمتی اور نادر کتاب نہایت آسانی سے دستیاب ہے۔ جس کتاب کو بڑے علماء نے پسند فرمایا، جس میں امامت کے اہم ترین اصول جدید زمانے کے تقاضوں کے عین مطابق بیان کیے گئے ہیں، وہ اب صرف ایک کلک کی دوری پر ہے۔ اگر آپ اوپر دیا گیا لنک کھول کر کتاب کی تفصیلات دیکھیں، اس کا تعارف پڑھیں اور اندرونی صفحات کے نمونے ملاحظہ کریں، تو آپ خود محسوس کریں گے کہ یہ کتاب روایتی تحریر نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے مسائل، ائمہ کرام کے چیلنجز اور مسجد کے عملی ماحول کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہے۔
ائمہ کرام کے لیے یہ کتاب تربیتی ساتھی ہے۔ اس لیے ہر امام کو چاہئے کہ اسے نہ صرف خود پڑھیں بلکہ اپنے دوسرے ہم منصب علماء اور ائمہ کرام تک بھی اس کا پیغام پہنچائیں۔ مسجد کا ماحول، محلے کے لوگ، کمیٹی کے مسائل، تنقید کا سامنا، اخلاقیات اور اصولِ امامت—ان تمام میدانوں میں یہ کتاب رہنمائی کا چراغ ہے۔ دوسری طرف عام نمازی بھی اگر یہ کتاب خرید کر اپنے امام صاحب کو بطور تحفہ دیں، تو یہ نہایت عالی شان اور بامعنی تحفہ ہوگا۔
اگر ویب سائٹ پر آرڈر کرتے ہوئے کوئی مشکل محسوس ہو، یا آپ مکمل رہنمائی چاہتے ہوں، تو بلا جھجھک واٹس ایپ نمبر 03450345581 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔ وہاں آپ کو کتاب سے متعلق ہر طرح کی معلومات، قیمت، ڈیلیوری کی تفصیل اور مکمل گائیڈنس فراہم کر دی جائے گی۔ یہ خدمت خاص طور پر ایسے لوگوں کے لیے سہولت کا ذریعہ ہے جو فون پر بات کر کے اعتماد کے ساتھ آرڈر کرنا چاہتے ہیں۔

