مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حالات زندگی اور واقعات

مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حالات زندگی اور واقعات

محدث اعظم، مفسر کبیر، فقیہ افہم، مصنف افخم، جامع المعقول والمنقول، شیخ المشائخ مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کی شخصیت علمی دنیا میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ آپ اپنے عہد میں دنیا بھر کے ذہین لوگوں میں سے ایک تھے۔ آپکی علمی مصروفیات قدرت نے آپکی تسکین کے لئے پیدا کررکھی تھیں۔

لاریب ! انکی شخصیت سدا یادگار رہے گی۔ انکی موت سے اسلام کا چمنستان اجڑ گیا تھا، علماء یتیم ہوگئے اور اہل اسلام انکے علم و فقہ سے محروم ہوگئے۔ انکی باتیں بے شمار ہیں اور باتیں سنانے والے بھی بے شمار ہیں۔ انکی زندگی کے مختلف گوشے لوگوں کے سامنے ہیں اور زندگی ایک کھلی ہوئی کتاب کی مانند ہے۔

اللہ کے دربار میں حضرت کا مقام:۔

حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ کو عنداللہ جو مقام و مرتبہ حاصل تھا اور اس سلسلے میں آپکو جن کرامتوں اور خصائص سے اللہ تعالیٰ نے نوازا تھا اُس پر ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ دو واقعات مختصراً یہاں پر لکھے جارہےہیں۔ پہلا واقعہ یہ ہوا کہ تدفین کے بعد شیخ الحدیث والتفسیر حضرت مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کی قبر اطہر اور مٹی سے خوشبو آنا شروع ہوگئی تھی جس نے پورے میانی قبرستان کو معطر کردیا تھا۔ دور دور تک فضا انتہائی تیز خوشبو سے مہکنے لگی اور یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح ہر طرف پھیل گئی۔ لوگوں کا ایک ہجوم تھا جو اس ولی اللہ کی قبر پر حاضری دینے کے لئے امڈ پڑا، ملک کے کونے کونے سے لوگ پہنچنے لگے اور تبرکاً مٹی اٹھا کر لے جانے لگے۔ قبر مبارک پر مٹی کم ہونے لگتی تو اور مٹی ڈال دی جاتی۔ چند ہی منٹوں میں نئی مٹی بھی خوشبوسے مہکنے لگتی۔ عجیب بات یہ تھی کہ اگر ایک ہی جگہ سے دس آدمی مٹی اٹھاتے تو ہر شخص کی مٹی کی خوشبو جدا ہوتی۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ عالم اسلام کی چودہ صدیوں میں صحابہ کے دور کے بعد حضرت شیخ تیسری شخصیت ہیں جن کی مرقد اطہر سے جنت کی خوشبو جاری ہوئی۔ جو بحمداللہ تعالیٰ سات ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد بھی جاری تھی۔ حضرت شیخ رحمہ اللہ تعالیٰ کتنے برگزیدہ اور محبوب بندے تھے، اس کرامت سے تصدیق ہوگئی۔

دوسرا واقعہ : اس زمین پر عرشِ بریں کے آخری نمائندہ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت محدث اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کی محبت و عقیدت عشق کی آخری دہلیز پر تھی۔ درس حدیث میں یا گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا پھر صحابہ کرام کا ذکر فرماتے تو رقت طاری ہوجاتی تھی، آنکھیں پرنم ہوجاتیں اور آواز حلق میں اٹک جاتی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت شیخ بمع اہل و عیال حرمین شریفین تشریف لے گئے۔ حج کے بعد چند روز مدینہ منورہ میں قیام فرمایا۔ مولانا سعید احمد خان (جو تبلیغی جماعت کے بڑے بزرگوں میں سے ہیں)کو جب آپکی آمد کی اطلاع ہوئی تو آپکی بمع اہل خانہ اپنی مدینہ منورہ والی رہائش گاہ پر دعوت کی۔ دعوت کے دوران ایک مدینہ منورہ کا رہائشی شخص آیا۔ اُس نے جب محدث اعظم مولاناموسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کو اس مجلس میں تشریف فرما دیکھا تو انہیں سلام کرکے مودبانہ انداز میں انکے قریب بیٹھ گیا اور عرض کیا کہ حضرت میں آپ سے معافی مانگنے کے لئے آیا ہوں، آپ مجھے معاف فرمادیں۔

مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بھائی کیا ہوا؟ میں تو آپکو جانتا ہی نہیں ہوں اورنہ کبھی آپ سے ملاقات ہوئی ہےتو کس بات پر معاف کروں؟
وہ شخص پھر کہنے لگا کہ حضرت بس آپ مجھے معاف کردیں۔
حضرت مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ نے بہ اصرار پوچھا تو اُس شخص نے کہا جب تک آپ معاف نہیں کریں گے تب تک نہیں بتلا سکتا۔
تو مخصوص لب و لہجہ میں حضرت نے فرمایا: اچھا بھئی معاف کیا۔ اب بتلاؤ کیا بات ہے؟
وہ کہنے لگا حضرت میری رہائش مدینہ منورہ میں ہی ہے۔ میں اپنے رفقاء اور ساتھیوں سے اکثر آپکا نام اور آپکے علم و فضل کے واقعات سنتا رہتا تھاچنانچہ میرے دل میں آپکی زیارت و ملاقات کا شوق پیدا ہوا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تمنا بڑھتی گئی مگر کبھی زیارت کا شرف حاصل نہ ہوسکا۔ اتفاق سے چند روز قبل آپ مسجد نبوی میں نوافل میں مشغول تھے کہ میرے ایک ساتھی نے مجھے اشارہ سے بتلایا کہ یہ ہیں مولانا موسیٰ روحانی بازی جن کے بارہ میں تم اکثر پوچھتے رہتے ہو۔ میں نے چونکہ اس سے پہلے آپکو دیکھانہیں تھا۔ اس لئے میرے ذہن میں آپکے بارے میں ایک تصور یہ قائم تھا کہ پھٹا پرانا لباس ہوگا، دنیا کا کچھ پتہ نہ ہوگا لیکن جب میں نے نوافل پڑھتے ہوئے آپکا حلیہ اور وجاہت دیکھی (حضرت کا لباس سادہ سا ہوتا، سفید لمبا جبہ پہنتے تھے، شلوار ٹخنوں سے بالشت بھر اونچی ہوتی تھی اور سر پر سفید پگڑی باندھتے تھے، پگڑی کے اوپر عربی انداز میں سفید رومال ڈال لیتے مگر اللہ تعالیٰ نے آپکو علمی جلال کے ساتھ ساتھ ظاہری جمال اور رعب بھی بے انتہاء بخشا تھا۔ اس لئے سادہ سے لباس میں بھی آپکی وجاہت اور شان کسی بادشاہ سے کم معلوم نہ ہوتی تھی۔ اور آپکو نہ جاننے والے بھی آپکی شخصیت سے انتہائی مرعوب ہوکر ادب سے ایک طرف ہوجاتے)تو میرے ذہن میں جو پھٹے پرانے لباس کا تصور تھا وہ ٹوٹ گیا۔ میرے دل میں آپکے بارہ میں کچھ بدگمانی پیدا ہوگئی۔ چنانچہ میں آپ سے ملے بغیر ہی واپس لوٹ گیا۔ اسی رات کو خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ کیا دیکھتاہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جلال میں ہیں۔ میں نے عرض کیا: یار سول اللہ! مجھ سے ایسی کیا غلطی ہوگئی کہ آپ ناراض دکھائی دے رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میرے موسیٰ کے بارہ میں بدگمانی کرتے ہو، فوراً میرے مدینہ سے نکل جاؤ۔
میں خوف سے کانپ گیا اور فوراً معافی چاہی۔ فرمایا: جب تک ہمارا موسیٰ معاف نہیں کرے گا میں بھی معاف نہیں کرونگا۔
یہ خواب دیکھنے کے بعد میں بیدار ہوگیا اور اس دن سے مسلسل میں آپکو تلاش کررہا ہوں مگر آپکی جائے قیام کا پتہ نہ لگا سکا۔ آج یہاں آپ سے اتفاقاً ملاقات ہوگئی تو معافی مانگنے کے لئے حاضر ہوگیا ہوں۔ حضرت شیخ مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ نے جب یہ واقعہ سنا تو پھوٹ پھوٹ کرروپڑے۔

مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حالات زندگی:۔

حضرت ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات میں واقع ایک گاؤں کٹہ خیل میں مولوی شیر محمد کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپکے والد محترم عالم و عارف اور زاہد و سخی انسان تھے۔ انکی سخاوت کے قصے گاؤں کے لوگوں میں زبان زد عام تھے۔ آپکے والد محترم کی وفات ایک طویل مرض(پیٹ میں پانی جمع ہونے)کی وجہ سے ہوئی۔ والد کی وفات کے وقت حضرت کی عمر پانچ سال یا اس سے بھی کم تھی۔ بعد میں والدہ نے پرورش کی۔ والدہ بھی صالحہ، صائمہ اور قائمہ خاتون تھیں۔ والد محترم کی وفات کے بعد جب قبر پر زیارت کے لئے حاضر ہوتے تو قبر میں سے قرآن حکیم کی تلاوت کی آواز سنائی دیتی تھی۔ خصوصاً سورۃ الملک کی آواز آتی تھی۔ یہ انکی عجیب وغریب کرامت تھی جسے مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب اثمار التکمیل (یہ حضرت شیخ کی تصنیف کردہ بیضاوی شریف کی شرح  ازھار التسھیل کا دو جلدوں پر مشتمل مقدمہ ہے، اصل کتاب تقریباً پچاس جلدوں پر مشتمل ہے) میں بھی تفصیلاً ذکر فرمایاہے۔ حضرت کے جد امجد احمد روحانی صاحب بھی بڑے عالم اور صاحب فضل و کمال تھے۔ افغانستان میں غزنی کے پہاڑوں کے مضافات میں انکا مزار اب بھی مرجع عوام و خواص ہے۔

حضرت شیخ محدث اعظم مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ نے ابتدائی کتب فقہ اور فارسی کی تمام کتابیں مثلاً پنج گنج، گلستان، بوستان وغیرہ گاؤں کے علمائے کرام سے پڑھی تھیں۔ اس دوران گھر کے کاموں میں والدہ محترمہ کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ گاؤں میں بارش کے علاوہ پانی کے حصول کا اور کوئی ذریعہ نہ تھا۔ بعض اوقات پانی لانے کے لئے تین تین میل تک کا سفر کرنا پڑتاتھا۔ گاؤں میں کتابیں پڑھنے کے بعد بعض علمائے کرام کے حکم پر تحصیل علم کے لئے گیارہ سال کی عمر میں عیسیٰ خیل چلے گئےتھے۔ تحصیل علم کے لئے یہ آپکا پہلا سفر تھا۔ یہاں پر چند ماہ میں آپ نے علم الصرف کی کئی کتابیں حفظ کرلی تھیں۔ بعدہ اباخیل ضلع بنوں تشریف لے گئےاور دوسال میں علم الصرف کی تمام کتب فصول اکبری تک اور نحو کی کتابیں کافیہ تک اور منطق کی ابتدائی کتب مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ تعالیٰ اور خلیفہ جان محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ازبرکیں۔

اسکے بعد مفتی محمود رحمہ اللہ تعالیٰ کے ہمراہ عبدالخیل آگئے اور یہاں پر دو سال میں ان سے شرح جامی، مختصر المعانی، سلم العلوم تک منطق کی کتابیں پڑھیں ۔ا سکے علاوہ مقامات حریری، اصول الشاشی، میبذی شرح ھدایۃ الحکمۃ، شرح وقایۃ اور تجوید و قراءت کی بعض کتب پڑھیں۔

مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حالات زندگی اور واقعات.JPG 2
مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کے حالات زندگی اور واقعات.JPG 2

مزید علمی پیاس بجھانے کے لئے آپ اکوڑہ خٹک دارالعلوم حقانیہ تشریف لے گئے۔ یہاں آپ نے تقریباً دو سال قیام کیا۔ اس دوران آپ نے منطق کی تمام کتابیں ماسوائے قاضی مبارک اور فلسفہ کی تمام کتب، علم میراث کی کتب، اصول فقہ اور عربی ادب کی کتابیں پڑھیں۔ سالانہ چھٹیوں کے دوران مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ تعالیٰ کے دورہ تفسیر میں شرکت کے لئے راولپنڈی گئے۔ اس کے بعد ملتان میں مدرسہ قاسم العلوم میں داخلے کے لئے تشریف لے گئے۔ قاسم العلوم میں داخلے کا امتحان دیا تو ممتحن نے حیران ہوکر قاسم العلوم کے صدر مدرس مولانا عبدالخالق رحمہ اللہ تعالیٰ کو بتایا کہ ایک پٹھان لڑکاآیا ہے جسے سب کتابیں زبانی یاد ہیں۔ یہاں آپ تقریباً تین سال تک حصول علم میں مشغول رہےاور فقہ، حدیث، تفسیر، منطق، فلسفہ، اصول اور تجوید و قراءت سبعہ کی تعلیم حاصل کی۔
حضرت شیخ کو اللہ تعالیٰ نے بے انتہاء قوت حافظہ عطا فرمایا تھا۔ زمانہ طالبعلمی میں آپ اپنے تمام ہم جماعتوں پر فائق رہے۔ آپکے اساتذہ آپکی شدت ذکاوت، قوت حافظہ اور وسعت مطالعہ پر حیرت و استعجاب کا اظہار کرتے تھے۔ تدریس سے وابستہ ہونے کے بعد تمام کتب فنون عقلیہ ونقلیہ کے دروس میں آپ طلباء اور علماء کے سامنے اس فن کے ایسے مخفی نکات اور علوم مستورہ بیان فرماتے تھے کہ سننے والے گمان کرتے کہ شاید ساری زندگی آپ یہی فن پڑھاتے رہے ہیں۔
حضرت کا مزاج یہ تھا کہ درس کے دوران خارجی قصے سنانا پسند نہیں فرماتے تھےمگر اسکے باوجود مشکل سے مشکل کتاب کا درس بھی جب شروع فرماتے تو مغلق سے مغلق عبارات و مقامات حل ہوتے چلے جاتے تھے۔ سب سے زیادہ شہرت آپکے درس ترمذی اور درس تفسیر بیضاوی کو حاصل ہوئی۔ خاص طور پر درس ترمذی پورے پاکستان بلکہ پوری دنیا میں اپنی مثال آپ تھا۔ جس میں آپ جامع ترمذی شریف کی ابتداء سے لے کر انتہاء تک ہر ہر حدیث کا ترجمہ کرتے، مشکل الفاظ کی صرفی ولغوی تحقیق کرتے، مآخذ بتلاتے، محاورات عرب کی تفاصیل بھی بتاتے۔ مسائل میں عام طریقہ کار کے مطابق دو یا چار مشہور مذاہب بیان نہ فرماتے بلکہ اکثر مسائل میں آپ سات یا آٹھ مذاہب بیان فرماتے تھے۔ ہر ہر خصم کی تمام ادلہ ذکرکرکے پھر ہر دلیل کے کئی کئی جوابات احناف کی طرف سے دیا کرتے تھے۔ بعض اوقات خصم کی ایک ہی دلیل کے جوابات کی تعداد پندرہ بیس سے بھی بڑھ جایا کرتی تھی۔
آپ کے درس کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ قال کے ساتھ اقول کا ذکر کرتے کہ میں اس مسئلہ میں یوں کہتا ہوں۔ حضرت شیخ مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے استخراج جواب جدید کا بڑا ملکہ عطا فرمایا تھا۔ آپ اکثر مسائل و مباحث میں اپنی جانب سے دلائل جدیدہ اور توجیہات جدیدہ ذکر فرماتے تھے۔خود فرمایا کرتے تھے:۔

مولانا یہ میری اپنی توجہیات و ادلہ ہیں، روئے زمین کی کسی کتاب میں آپکو نہیں ملیں گی۔ بڑی دعاؤں اور آہ و زاری اور راتوں کو جاگنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں انکا القاء والہام کیا ہے۔

حضرت مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کے اوقات میں اللہ تعالیٰ نے بہت زیادہ برکت رکھی تھی۔ آپ قلیل وقت میں کئی گنا زیادہ کام کرلیا کرتے تھے۔ جس کا اندازہ شیخ کے درس ترمذی سے بھی لگایا جا سکتا ہےکہ ترمذی شریف کی ہر ہر حدیث کا ترجمہ بھی ہو، تمام مشکل الفاظ کی صرفی ونحوی تحقیق بھی ہو، مآخذ کی توضیح بھی ہو اور پھر تمام مسائل پر بھی اتنی مفصل بحث ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے۔ ان سب پر مستزاد یہ کہ آپ سب طلبائے کرام سے کاپیاں بھی لکھواتے تھے۔ چنانچہ مسلسل تقریر کرنے کی بجائے ٹھہر ٹھہر کر املاء کے انداز میں طلباء کو مسائل لکھواتے تھےمگر ان سب باتوں کے باجود بھی وقت میں اتنی برکت ہوتی تھی کہ جامع ترمذی شریف سالانہ امتحانات سے قبل ہی اطمینان و تسلی سے ختم ہوجایا کرتی تھی۔

حضرت کی وفات:۔

حضرت مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات بروز سوموار ستائیس جمادی الثانی 1419 ہجری میں ہوئی۔ مطابق 19 اکتوبر 1998۔ عصر کی جماعت میں حضرت محدث اعظم کو دل کا شدید دورہ پڑا اور علم و عمل کے اس جبل عظیم کو اللہ تعالیٰ نے بلا لیا۔ حضرت نے تریسٹھ برس عمر پائی۔

یہ حالات حضرت کے صاحبزادہ محمد زہیر روحانی بازی نے تحریر فرمائے ہیں بتاریخ جون 1999۔ جو کہ حضرت کی کتاب گلستان قناعت کے شروع میں درج ہیں ۔ اسکے علاوہ اور کتب بھی حضرت کی بہت مقبول ہوئیں۔ کتاب فروش کی اس ویب سائٹ پر آپ حضرت کی کتاب البرکات المکیہ بھی آرڈر کرسکتے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔

اسکے علاوہ حضرت کی کتاب البرکات المکیہ بڑے سائز میں بھی دستیاب ہوتی ہے۔جس کی تفصیلات اس لنک پر دیکھ سکتےہیں۔

اسکے علاوہ حضرت کی کتاب جو آج کل زیادہ تر مدارس میں بھی پڑھائی جاتی ہے ۔ یعنی الھیئۃ الصغریٰ ۔

الھئیۃ الصغریٰ درس نظامی کے نصاب میں شامل ہونے والی نئی کتاب ۔ از  مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ ۔
الھئیۃ الصغریٰدرس نظامی کے نصاب میں شامل ہونے والی نئی کتاب ۔ از  مولانا موسیٰ روحانی بازی رحمہ اللہ تعالیٰ ۔

یہ بھی آپ کتاب فروش آن لائن بک اسٹور پر آرڈر کر سکتے ہیں۔ مزید تفصیلات اس لنک پر دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/product/hsdarsenizami/

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop