دینداری قابلِ احترام ہے مگر مالی معاملات میں تحقیق کے 3 اصول یاد رکھیں
Table of Contents
ایک صاحب بہت نیک ہیں۔ پانچوں نمازوں میں وقت سے پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ مکمل مسنون ڈاڑھی بھی ہے اور اسکے علاوہ ہمیشہ وہ سفید کرتا اور سفید لباس میں ملبوس رہتے ہیں۔ اکثر ہاتھ میں تسبیح بھی ہوتی ہے اور جب بھی کسی سے بات کرتے ہیں تو انتہائی نزاکت اور خوش اخلاقی سے بات کرتے ہیں۔ اب یہ ایک چھوٹا سا تصور اپنے دل میں پیدا کیجئے اور یہ بتائیے کہ کیا ایسے شخص کو آپ بغیر تحقیق کے دو کروڑ روپیہ دے دیں گے؟ اگر آپکا جوا ب ہاں میں ہے تو آپ ایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔
اعتقاد اور اعتماد میں فرق سمجھیں:۔
ظاہری حلیہ دیکھ کر کبھی معاملات نہ کریں۔ ایسے بزرگ نظر آنے والے انسان کے آپ ہاتھ چوم سکتے ہیں، اُنکی صحبت حاصل کرسکتے ہیں، اُنکی اچھی باتوں کو عمل میں لاسکتے ہیں اور اُنکے اعمال صالحہ کی تقلید بھی کرسکتےہیں۔ مگر دوستو! کسی پر معاملات کےمتعلق اعتبار کرلینا بہت حساس فیصلہ ہوتا ہے۔ لوگ اکثر اعتقاد اور اعتماد میں فرق نہیں کرتے اور دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ پھر کیونکہ ایسے شخص کا حلیہ اولیاء اللہ کے مشابہ ہوتا ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ سارے دیندار، نیک لوگ اور مسلمان دھوکے باز ہیں۔ العیاذ باللہ۔
بھائی اگر آپکو پہچاننے میں غلطی ہوئی یا آپ اعتماد اور اعتقاد میں فرق نہیں جانتے تو اسمیں دین اسلام کا کیا قصور؟
اسمیں اولیاء اللہ کا کیا قصور ہے؟ اس مضمون کو پڑھ لینے کے بعدامید ہے آپکی غلط فہمی دور ہوگی۔ اور اسکو زیادہ سے زیادہ پھیلاءیں تاکہ لوگوں کی یہ غلط فہمی دور ہوجاءے۔
تین اصول ہمیشہ یادرکھیں:۔
بیشک! اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی کے ساتھ دینی اعتقاد کا ہونا اور اس پر معاملات میں مکمل اعتماد کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ جب ہم کسی شخص کی دینی حیثیت یا نیک نیتی پر ایمان رکھتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اس پر مکمل طور پر مالی یا دنیاوی معاملات میں اندھا اعتماد کر لیں۔ دینی اعتقاد کسی کی روحانیت، اخلاقیات اور شخصیت پر مبنی ہوتا ہے، لیکن مالی معاملات یا لین دین میں، ہمیں دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔خاص طور پر تین چیزیں ہمیشہ دیکھ لیا کریں۔پہلی چیز یہ ہے کہ اُس شخص کی مالی ساکھ کیا ہے؟ ٹھیک ہے کہ وہ دیندار ہے اورمعاملات کا صاف شفاف ہے لیکن کیا اُسکی مالی حیثیت اتنی ہے جتنے وہ دعوے کررہا ہے ؟ مثلاً ایک شخص آپکے پاس آیا جو کہ بہت بڑی ڈاڑھی اور سفید پوش تھا۔ اُس نے دعویٰ کیا کہ اگر آپ مجھے دس لاکھ روپیہ دے دیں تو میں اپنے کاروبار میں آپکو حصہ دار بنا لوں گا۔ اب اتنا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اگر اُسکی ساکھ اتنی ہے کہ وہ دس لاکھ روپیہ واپس کرسکتاہے، اگر اُسکی ساکھ اتنی ہو کہ وہ دس لاکھ کا کاروبار کرسکتا ہے تو پھر آپ دے سکتے ہیں ورنہ نہیں۔
اب دوسری چیز آتی ہے جوپہلی سے زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ اُس شخص کی مالی تاریخ کیا ہے۔ یہاں پر اکثر لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں اور تحقیق میں نہیں پڑتے۔ پہلا جو اصول تھا کہ مالی ساکھ چیک کرلیں۔ وہ ٹوٹ بھی سکتا ہے۔ یعنی جو شخص آپکے سامنے مہنگی ترین گاڑی سے اترے، اعلیٰ ترین کپڑے اُسکے جسم پر ہوں اور مختلف زیب و زینت اُسکے تن پر ہو تو آپ دھوکہ کھاجائیں گے کہ یہ بندہ تو مالی ساکھ کے اعتبار سے بہت مضبوط ہے۔ مگر یہاں پر اب دوسرا یہ اصول یادرکھنا ہے کہ کسی پر بھروسہ کرتے وقت اُسکی مالی تاریخ بھی چیک کرلیں کہ آیا یہ سب کچھ جو آپکو نظر آرہا ہے یہ اچانک تو پیدا نہیں ہوگیا ؟کیونکہ ظاہری حالت کو وقتی طور پر سدھار لینا بہت آسان ہوتا ہے مگر بندے کی تاریخ نکالیں کہ وہ کل کیاتھااور اُس سے پچھلی کل میں وہ کیا تھا۔ پھر کیسے تبدیل ہوا؟ یہ سب جاننا بھی بے حد ضروری ہے۔
اب یہ دو اصول اگر آپکو یاد ہوگئے ہوں تو تیسرا اصول یہ ہے کہ مالی معاملات کی شفافیت بھی دیکھ لیں ۔ہمیشہ پہلے کچھ چھوٹا معاملہ کرکے دیکھیں اور اُسکو پرکھیں کہ وہ بندہ دولتمندہے اور اُسکی دولت حقیقی طریقوں سے کمائی گئی ہے اور اسکی مالی تاریخ بھی ٹھیک ہے۔ مگر اگر وہ کنجوس شخص ہوا جیسا کہ اکثر کاروباری لوگ خود غرض بھی ہوتے ہیں تو سمجھ لیں کہ وہ آپکا پیسہ لے جائیگااور منافع بھی لے جائیگا۔
تو یہ تین اصول ہمیشہ یاد رکھیں تو آپکو کبھی بھی دھوکہ نہ ہوگا۔ اگر کسی پر آپکو اندھا اعتقادہے تو بھی یہ تین اصول یادرکھیں۔ اگر کوئی شخص آپکا پڑوسی ہے یا آپکے قریبی دوست کا جاننے والا ہے تب بھی یہ اصول یاد رکھیں ۔ا تنی تحقیق لازمی کرلیاکریں۔ اور بالخصوص یہ جو تصور ہمارے ذہنوں میں بنا ہوا ہے کہ کوئی شخص اگر نمازی اور دینی عبادات سے جڑا ہوا ہے تو وہ معاملات کا بھی شفاف اور آپکا مخلص ہوگا۔ ایسا ضروری نہیں ہے!۔
کچھ واقعات اور مشاہدات:۔
میں نے خود بھی کئی ایسے واقعات سنے اور دیکھے ہیں جہاں پر میں نے صرف اس لئے دھوکہ کھالیا کہ وہ شخص بظاہر بڑا نیک اور دیندار تھا۔ میں آپکو کمپیوٹر مارکیٹ کا ایک قصہ سناتا ہوں۔ میں نے ایک چیز لینی تھی جس کے لئے رات کو تاخیر سے گیا تو ایک ہی دوکان کھلی ہوئی تھی۔ جب میں دکان میں داخل ہوا تو دیکھا کہ دکاندار صاحب تو بہت ہی مسنون ڈاڑھی والے، سفید پگڑی والے اور سفید لباس میں ملبوس ہیں۔ میں بہت حیران ہوا کہ اتنے عرصے سے اس مارکیٹ میں آرہا ہوں تو یہ صاحب کبھی بھی میرے علم میں کیوں نہیں آئے۔ تو میں نے اُن سے خریداری کرلی۔ جب وہ چیز خرید کر میں گھر چلا گیا تو معلوم ہوا کہ میری مطلوبہ چیز کی بجائے کوئی اور آگئی ہے۔ نجانے مجھے بتانے میں غلطی ہوئی یا دکاندار کو دینے میں۔ میں نے اُسکی پیکنگ بھی نہیں کھولی تھی۔ مگر جب دوسرے دن جا کر اُن سے گزارش کی تو انتہائی تلخ کلامی کے ساتھ انہوں نے مجھے چلتا کیا۔ خیر کچھ ماہ گزرنے کے بعد مجھے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ میں فلاں مارکیٹ میں سے ایک یو ایس بی فلیش خرید کرلایا ہوں مگر وہ خراب ہے اور دکاندار بھی واپس نہیں کررہا تو میں نے بے اختیار پوچھا کہ یہ وہی مولوی صاحب تو نہیں؟ تو اُس نے فوراً جواب دیا کہ ہاں ہاں وہی ہے۔ مگر تم کیسے جانتے ہو؟ میں پھر خاموش ہوگیا۔
اسکے بعد تیسری مرتبہ میں کمپیوٹر مارکیٹ میں پرنٹر کے کسی کام کے لئے گیا ہوا تھا۔ وہاں میں جس دوکان پر بیٹھا ہوا تھا وہاں یہ موصوف داخل ہوئے اور کاپی ہاتھ میں پکڑے ہوے کچھ مطالبہ کیا۔ مگر دکاندار نے انکار کردیا۔ میں نے پرنٹر والے سے پوچھا کہ یہ مولوی صاحب یہاں کیا کررہے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ ہر ماہ مارکیٹ میں میلاد کرواتے ہیں تو اُسکے لئے چندہ لینے آئے تھے۔ مگر ہم تو نہیں دیتے۔ میں نے پوچھا کیا انکے معاملات ٹھیک ہیں؟ تو اُنہوں نے بہت ہی مایوسی والا جواب دیا۔ بلکہ وہ اس صاحب سے پریشان ہونے کی وجہ سے میلاد سے بھی ناراض تھے کہ یہ کسی کی سنتے ہیں نہیں اور جب میلاد ہوتا ہے تو زبردستی پوری مارکیٹ بند کروادیتے ہیں۔
خیر اس طرح کے بیسیوں واقعات میں نے دیکھے ہیں۔ایک اور واقعہ جو میرے اپنے ساتھ ہوا تھا وہ یہ کہ تبلیغی جماعت کے کچھ ساتھی تھے جنہوں نے اپنا ایک ہسپتال بنا رکھاتھا۔ ہم نے اُنکے ظاہری حلیہ سے متاثر ہوکر علاج شروع کروایا۔ بڑے بزرگوار کی اہلیہ ڈاکٹر تھیں۔ انہوں نے ہمیں ہر طرح تسلی کروائی کہ ہمارے پاس مکمل انتظام موجود ہے۔ حتیٰ کہ آپریشن کی بھی سہولت ہوتی ہے۔ ہم اندھا اعتماد کرتے گئے اور اُنہی سے علاج کرواتے رہے۔ اور جب پانچ چھ ماہ گزرنے کے بعد وضع حمل کا وقت آیا تو وہ صاحب ہم سے پیسے لے کر بالکل بری الذمہ ہوگئے اور ہمیں کہا کہ ایک ہسپتال میں آپکو لے جاتے ہیں۔ وہاں پر آپکا یہ کام ہوجائے گا۔
ہم بہت پریشان ہوئے اور ہسپتال والوں نے بھی اولاً تو کیس لینے سے انکار کردیا تھا مگر پھر جیسے کیسے اُنکو منایا اور بحمداللہ تمام امور بخیریت ہوگئے۔ جب سب کچھ ہوگیا تو میں نے آخری مرتبہ اُن صاحب کو کال کی کیونکہ دھوکہ کھانے کے بعد ادنی ترین احتجاج یہی ہوتا ہے کہ ہم آئندہ ایسے شخص سے معاملات نہ کریں۔ تو میں نے جب کال کر اُن سے کہا کہ آپ لوگوں نے اچھا نہیں کیا۔ کیونکہ آپ میں سے کوئی بھی شخص ادھر موجود نہیں تھا جبکہ آپکا وعدہ یہ تھا کہ کیس آپ خود دیکھیں گے اور اپنے پاس ہی دیکھیں گے۔ ہمارا اول مقصد ہی یہی تھا کہ کسی ایرے غیرے ہسپتال میں ہمیں دھکے کھانے نہ پڑیں۔ تو وہ بڑی متانت سے بولے کہ بھائی آپکا کام ہوگیااور بچہ بھی پیدا ہوگیا تو پیسے وصول ہوگئےآپکے۔ بہرحال یہ میری زندگی کا بڑا تلخ تجربہ تھا جس میں پورا خاندان تبلیغی جماعت سے جڑاہوا تھا اور ہم نے اُن پر اعتماد کیا۔

ابھی حال ہی میں لاہور کے ایک صاحب جو تبلیغی جماعت کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ لاکھوں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کا غبن کرکے بھا گ گئے۔ میڈیا پر خبریں بھی چلیں تو لوگوں نے کہا کہ ہم نے تو اُنکو پنج وقتہ نمازی دیکھا، مسلسل وقت لگاتے دیکھا اور سب کچھ کرتے دیکھا۔ تو کیسے نہ اعتماد کرتے؟ تو ایسے لوگوں کو اب ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے۔ اس واقعہ کی مکمل تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔
https://www.youtube.com/watch?v=siywnQxbJpU
میں یہ نہیں کہتا کہ مولوی سارے خراب ہوتےہیں بلکہ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پیسوں کے معاملات میں ہمیشہ دیکھ لیا کریں خواہ وہ مولوی ہو یا غیر مولوی۔ کیونکہ شیطان تو ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا ہے اور پھر یہ بھی ایک مقولہ مشہور ہے کہ مولوی خراب نہیں ہوتے بلکہ کچھ ڈکیت اور غلط قسم کے لوگ مولویوں والا حلیہ بنا لیا کرتے ہیں جس سے عام لوگ دھوکہ کھا جاتے ہیں۔ بس اوپر بتائے گئے تین اصولوں کو آپ پلے باندھ لیں تو ان شاء اللہ العزیز کبھی بھی دھوکہ نہ ہوگا۔
پھر بھی اگر دھوکہ ہوجائے تو قسمت کا کھیل ہے۔ میں نے بھی ایسے بہت زیادہ واقعات دیکھے ہیں جن میں جانتے بوجھتے ہوئے بھی دھوکہ ہوجاتا ہے اور میں دیکھ لیتا ہوں کہ یہ قسمت کا کھیل ہے مگر بڑی رقم میں خاص طور پر احتیاط کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک چھوٹی رقم والا واقعہ جو مجھے یاد ہے کہ ایک مولوی صاحب دکان میں داخل ہوئے جو سبز پگڑی پہنے ہوئے تھے اور مخصوص انداز میں چادر میں لپٹے ہوئے تھے۔ مجھے بٹھا لیا اور بہت زیادہ اچھی اچھی باتیں کرنےلگے۔ اتنے باوثوق اور اتنی گہری باتیں کررہے تھے کہ میں مست ہوگیا۔ پھر انہوں نے اپنے حلیہ کے مزاج کے خلاف حضرت حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تعریف شروع کردی اور تھوڑی ہی دیر بعد اس نکتہ پر پہنچ گئے کہ خطبات حکیم الامت کا ایک سیٹ آپ مجھ کو دے دیجئے۔ میں کیونکہ سفر میں ہوں اور یہ موقع یہاں سے لینے کا ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن میں لاہور پہنچتے ہی آپکے پیسے بھجوا دوں گا۔ اس بات پر وہ اتنا اصرار کرتے رہے کہ اخیر ماننا ہی پڑے یعنی جسکو کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایک ٹانگ پر کھڑا ہوجائے تو آپ کرہی کیا سکتے ہیں۔
بلکہ میری ہی دکان پر ایک اور بڑی رقم کا واقعہ بھی یاد آگیا کہ ایک صاحب جو مدرسہ کے فاضل تھے اور لاکھوں کا لین دین ہمارا ان کے ساتھ شروع ہوگیا۔ وہ ہمیں کاغذ سپلائی کیا کرتے تھے۔ اصولی طور پر ہم پیسے پہلے دے دیا کرتے تھے اور وہ کاغذ کی گاڑی ہمیں دیا کرتے تھے۔ بڑے مخلص نظر آنے والے، باشرع صورت اپنائے ہوئے اور ایک خاص مدرسہ سے ملحق بھی تھے۔ خیر پھر ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ انہوں نے دس لاکھ روپیہ رقم لی اور کافی دن تک کاغذ نہیں پہنچایا۔ مختلف بہانے بنانا شروع کردئیے اور اخیر اس بات پر اٹک گئے کہ بھائی جو کاغذ آپکے لئے منگوایا تھا وہ گاڑی پکڑی گئی ہے۔ میں بہت مجبور ہوں اور فی الحال پھنسا ہواہوں۔ حالانکہ ہم نے دوسرے دن اڈے سے پتہ کروایا تو اُنکی بتائی گئی معلومات کے مطابق کوئی بھی گاڑی شہر میں داخل نہیں ہوئی تھی۔پکڑے جانا تو دور کی بات ہے۔ خیر اس موقع پر بحمداللہ تعالیٰ دوسرے اصول پر ہم نے عمل کررکھا تھا کہ اُنکی مالی تاریخ اور خاندانی تعلقات کے ساتھ ساتھ اُسکے مدرسہ کا بھی سب ڈیٹا لے رکھا تھا۔ جیسے ہی وہ صاحب رینج سے باہر ہوئے تو ہم نے مدرسہ میں رجوع کیا۔ مدرسہ والوں نے اُسکو بلایا اور پوچھا کہ بھائی چلو تمہاری مجبوری ہے مگر تم ان کو اعتماد میں لو اور انکو بتاؤ کہ مسئلہ کب تک حل ہوگا؟ تو وہ صاحب کہنے لگے کہ میں شرمندگی کی وجہ سے فون نہیں سن پا رہاتھا۔ حالانکہ یہ عذر قابل قبول نہیں تھا۔ رابطہ میں رہنا چاہئے اور دوسرے کو ازحد کوشش تک تسلی کروانی چاہئے۔
خیر ! یہ تو چند واقعات تھے جو میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھے اور میرے ساتھ پیش آئے۔ تو دوستو! ہمیشہ معاملات کرنے سے پہلے پوری تحقیق کیا کرو اور کسی کا بھی چہرہ دیکھ کر اعتماد نہ کرو کیونکہ ڈاکو بھی مسلسل پگڑی پہنتے ہیں لیکن وہ مسنون عمامہ نہیں ہوتا۔ بس یہیں پر ہم دھوکہ کھا جاتے ہیں کہ ظاہری حلیہ کو نیک اور دیندار جان لیتے ہیں۔
اسکے علاوہ میں آپکو ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ بھی ضرور دوں گا جس کا نام ہے اسلام اور معاملات۔ یہ کتاب آپ ہمارے آن لائن بک اسٹور کتاب فروش پر آرڈرکرسکتےہیں۔ مزید معلومات کے لئے اس لنک پر تفصیلات دیکھئے:۔
یہ کتاب پورے پاکستان میں آپ گھر بیٹھے منگوا سکتے ہیں۔

