کالا جادو اور نظر بد ہے یا ذہنی دباؤ؟ پاکستانی خواتین اور تعویذوں کی اصل حقیقت

کالا جادو اور نظر بد ہے یا ذہنی دباؤ؟ پاکستانی خواتین اور تعویذوں کی اصل حقیقت

ملک پاکستان میں عملیات و تعویذات کا دور دورہ ہے ۔ عاملوں کی ایسی چاندی ہوئی پڑی ہے کہ چند ہی دنوں میں امیر ہوجاتے ہیں ۔ کوئی ریٹ مقرر نہیں ہے ۔ کوئی عامل بننے کی شرائط نہیں ہیں ۔ کسی مدرسے کی ڈگری نہیں چاہئے اور کوئی دینی علوم نہیں چاہئے ۔ بس جس کا جب جی چاہتا ہے وہ عامل بن کر بیٹھ جاتا ہے ۔ پھر وہ ڈاکٹروں سے بھی بڑے بڑے دعوے کرتا ہے ۔ عورت کا بانجھ پن بھی دور کرلیتا ہے، مرد حضرات کو بیوی کو تابعدار بنا دیتا ہے، کسی بھی لڑکی کو قدموں میں گرانے کا فن جانتا ہے، اگر کسی کا کوئی مرجائے تو اُسکے گھر بھی عامل جا کر دم درود کرتا ہے کہ اثرات کی وجہ سے موت ہوئی ہے ۔ اس طرح کے سینکڑوں حالات دیکھنے کو مل رہے ہیں جو کچھ اچھے عاملوں کے ہیں ورنہ جو بازاری عامل ہیں اُنکے تو کیا کہنے ۔ اُنکی ویڈیوز بھی منظر عام پرآجاتی ہیں ۔ لاہور میں کچھ عرصہ پہلے ایک ایسا عامل بابا پکڑا گیا تھا جو خواتین کو یہ سمجھایا کرتا تھا کہ جب تم میرے پاس آتی ہو تو میرے پاس ایک ایسی قوت ہے کہ تمہارے آتے ہی تمہارے خاوند کی روح میرے اندر آجاتی ہے اور پھر میں جو کچھ بھی کرتا ہوں تم یہی سمجھ لیا کرو کہ تمہارا خاوند کررہا ہے ۔ اس طرح کم ازکم تین ہزار خواتین کو اس نے ہوس کا نشانہ بنا لیا تھا ۔

اسکے علاوہ بھی ایسے عجیب وغریب حالات نظر آتے ہیں جن کو بیان کرنا بھی شرم و حیا کے خلاف ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر اس چنگل میں پھنسنے والی خواتین ہیں ۔ جن کا اندھا اعتقاد معاشرہ میں تباہی کا باعث بن رہا ہے ۔ حال ہی میں ایک خاتون کو مثانہ میں تکلیف ہوگئی ۔ وہ کسی عامل کے پاس جا کر دم کروایا کرتی تھیں ۔ مگر جب بیماری حد سے بڑھ گئی تو ایمرجنسی میں اُنکو ملتان سے لاہور لے جانا پڑا ۔ وہاں پر جا کر آپریشن ہوا اور بیماری کچھ کنٹرول میں آگئی ۔ ڈاکٹروں نے بتادیا کہ اب انکو دومہینے اس بیماری کے کوئی اثرات ظاہر نہیں ہونگے لیکن آپ لوگ مسلسل چیک اپ کرواتے رہنا تاکہ اگر کبھی کوئی بیماری کا حملہ دوبارہ ہو تو فوراً معلوم پڑ جائے ۔

وہ خاتون آپریشن کے فوراً بعد پھر اُسی پیر صاحب کے پاس پہنچ گئی ۔ اُنکے ذہن میں وہی بات راسخ تھی کہ اصل فائدہ تو پیر صاحب کے دم درود سے ہوا ہے ۔ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس جانے پر بھی رضامند نہ ہوئیں ۔ سات ماہ کے بعد دوبارہ بیماری کا شدید حملہ ہوا اور پندرہ بیس دن ہسپتال میں رہنے کے بعد وہ انتقال کرگئیں ۔

اسی طرح قریبی عزیزوں میں ایک خاتون کو چھاتی کا کینسر ہوگیا ۔ شروعات میں تو وہ علاج کی طرف توجہ دیتے رہے مگر پھر لاہور میں اُنکو ایک عامل مل گیا جس کے بارہ میں ہم نے سنا کہ کالے لباس میں ملبوس رہتا تھا اور اُس نے انکو بکرے وغیرہ بھی قربان کرنے کا طریقہ سمجھایا ۔ مختلف کھوپڑیاں لا کر اِن پر عملیات کا اثر دکھایا ۔ کچھ ایسی حرکات بھی کیں جو بتانے لائق نہیں ہیں ۔ بلآخر یہ خاتون تڑپ تڑپ کر فوت ہوگئیں لیکن عامل پر اُنکو بھروسہ ہوگیا تھا ۔

ایک اور عامل کی کارروائی سنئے کہ وہ جس بھی شخص کو ملتے تو اُسکو کہتے کہ تم پر عملیات اور پڑھائی کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ میں کچھ دن اُنکے ساتھ رہا تو دیکھا کہ اگر کوئی شخص امتحان کی وجہ سے پریشان ہے تو اُس پر بھی پڑھائی کی ضرورت ہے ۔ اگر کوئی لڑکا اپنے والد کے ساتھ تعلقات کی خرابی کا شکار ہے تو اُسکے اوپر بھی جنات کا سایہ ہے ۔ اس عامل کا ایک نمازی ملا جس نے بتایا کہ اُسکا بیٹا پیدا ہوکر فوت ہوگیا تو اس عامل نے اُسکو بہت ڈرایا دھمکایا کہ تمہارے رشتہ داروں نے اس بچہ پر جادو کروایا تھا ۔ اب تم اپنے گھر کی صفائی کرواؤ یعنی مجھے بلا کر وہاں پڑھائی کرواؤ اور جب دوبارہ حمل ہو تو بھی مجھے بتانا ضرور تاکہ میں تمہیں عملیات بتا سکوں ۔ یہ عامل ایسی ایسی چیزیں یاد کر چکے تھے کہ میاں بیوی کی لڑائی تو اکثر گھروں میں چلتی ہی رہتی ہے تو بیوی انکے پاس آتی یا خاوند ۔ یہ کسی نہ کسی طرح اس بات پر لے آتے کہ تمہارے گھر میں لڑائیاں ہوتی ہیں؟ یقیناً وہ ہاں میں جواب دیتا تو انکا وہ پکا گاہک بن جاتا ۔ یعنی یہ اُسکو قائل کرلیتے کہ ہر لڑائی کے پیچھے جادو کے اثرات ہیں ۔ گویا اس طرح انہوں نے خوب اپنی دوکانداری جما رکھی تھی ۔

ایک اور عامل سے ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے بتایا کہ میرے پاس جتنے بھی کیس آتے ہیں اُن میں سے ننانوے فیصد عملیات اور جنات سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ۔ بلکہ وہ دماغی اثرات کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔ اکثر ہم پہلا حربہ یہ کرتے ہیں کہ متاثرہ شخص کو اکیلا کرلیتے ہیں ۔ پھر اُس لڑکے سے پوچھتے ہیں کہ بھائی بتا دو تمہارا مسئلہ کیا ہے ؟ تو وہ بتاتا ہے کہ فلاں چیز پر میرے گھر والے زبردستی کررہے ہیں تو میں اُن سے بچنے کے لئے ایسی حرکات کررہا ہوں ۔ اکثر خواتین بھی اس طرح کے کام کرلیتی ہیں کہ اپنی بات منوانے کے لئے عجیب وغریب حرکتیں شروع کردیں اور پھر نتیجہ وہی ہوتا ہے ۔ دوسرا اُنہوں نے بتایا کہ اگر متاثرہ شخص کچھ بولنے یا بتانے کی حالت میں نہ ہو تو پھر ہم نے ایک طبیب سے بات کررکھی ہے اُس سے دوائی بنوا کر مریض کو دے دیتے ہیں ۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی مریض واقعتاً کسی روحانی مسئلہ کا شکار ہو ۔ ورنہ اکثر طبی مسائل ہی سامنے آتے ہیں ۔ مگر عورتوں کے اندھے اعتقاد کی وجہ سے ہمیں کسی نہ کسی طرف سے کال آجاتی ہے اور ہم سے ہی تسلی پھر اُنکو ہوتی ہے ۔

ایک اور عامل جن کے ساتھ اکثر میری ملاقات رہتی ہے ۔ وہ بے تکلف دوست ہیں ۔ اور اُنہوں نے مجھے اپنا تجربہ بتایا جو کہ ایک راز کی بات ہے ۔ وہ بتا رہے تھے کہ ہم سے اکثر خواتین ہی رابطہ کرتی ہیں ۔ اور جب ہم اُنکے پاس جاتے ہیں تو وہ اُن کو وہم ہوتا ہے اور دل و دماغ پر ایک بوجھ ہوتا ہے ۔ جب وہ ہم گلے شکوے کرتی ہیں ۔ کافی دیر میں اُنکی سنتا رہتا ہوں ۔ اکثر ایک ہی چیز ہوتی ہے کہ خاوند وقت نہیں دیتا ۔ اُسکی توجہ نہیں ہوتی ۔ ایسا لگتا ہے کہ کسی نے ہم پر جادو کردیا ہے یا پھر کسی کی نظر لگ گئی ہے ۔ دوسرا مسئلہ اکثر یہی ہوتا ہے کہ اولاد نافرمان ہے ۔ بچے بات نہیں مانتے تو رشتہ داروں نے کالا جادو کروا رکھا ہے ۔ تیسرا مسئلہ خود اُنکی بیماریاں ہوتی ہیں کہ اگر سر میں درد رہتا ہے، دماغی کمزوری کی علامات ہوتی ہیں یا پھر جسمانی کمزوری کی تو اُنکو لگتا ہے کہ یہ پٹھوں میں کھنچاؤ، نیند کی کمی یا پھر ڈراؤنے خواب آنا کسی اثرات کی وجہ سے ہے اور پھر وہ اپنے خیالات میں ہی سوچ لیتی ہیں کہ م یں فلاں عورت کو مل کر آئی ہوں تو اُس رشتہ دار کی نظر لگ گئی ہے ۔ یا پھر یہ سمجھ لیتی ہیں کہ فلاں ہمارے گھر آئی تھی اُس کے بعد ہمارے گھر میں لڑائیاں شروع ہوگئی ہیں تو اُسی نے کالا جادو کروادیا ہے ۔

دوست بتاتے ہیں کہ ہم جا کر اُنکی پوری روداد خاموشی سے سن لیتے ہیں ۔ اکثر لڑکیاں پوری روداد سنانے کے بعد رونے لگ جاتی ہیں اور روتے روتے اُنکو دل و دماغ پر کافی بوجھ کم ہوتا محسوس ہوتا ہے ۔ اُنکا اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ شاید عامل کے دم کرنے کی وجہ سے اثرات ختم ہوگئے ۔ حالانکہ یہ اثرات تو اُنکے دل و دماغ پر بوجھ کی وجہ سے تھا ۔ جو کہ دل کی بھڑاس نکلتے ہیں جسم ہلکا پھلکا ہوگیا ۔ مگر یہ بات اُنکو سمجھائی نہیں جا سکتی ۔

البتہ میں نے اسکا یہ حل ڈھونڈا کہ عورتوں کی باتوں کو گھر میں ہی سن لیا جائے اور اُنکے خاوند یا غیر شادی شدہ لڑکیوں کی بات اگر اُنکے والد سن لیا کریں تو بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے ۔ عاملوں کی دوکان بند ہوجائیں گی اور عزتیں محفوظ ہوجائیں گی اور گھر کے مرد حضرات بھی بے غیرت بننے سے بچ جائیں گے ۔  یاد رکھیں ! خواتین کی اکثریت ایسی ہے جن کو دوائی نہیں، دم نہیں، بلکہ ایک سننے والا، ساتھ دینے والا چاہیے۔ جو ان کی باتوں کو ردّ نہ کرے، مذاق نہ اڑائے، بلکہ سمجھنے کی کوشش کرے۔ خاوند اگر ان چیزوں کو ملحوظ رکھ کر اپنے موڈ اور وقت کو ایسا بنا لے کہ بیوی اسے اپنے دکھ بلاتکلف سنا سکے، تو وہ خود بخود ہلکی ہو جاتی ہے۔ یہی اصل دم ہے، یہی اصل علاج ہے۔

عموماً کیا ہوتا ہے کہ عورت پر جب اس طرح کے خیالات سوار ہوتے ہیں تو مرد اُسکو جھٹک دیتا کہ خواہ مخواہ وہم نا پالا کرو ۔ اور تمہاری یہ سب باتیں سن کر بالکل فضول لگتا ہے ۔ تو اس طرح کرنے سے غبار اُس خاتون میں جمع ہونے لگتا ہے ۔ حالانکہ خاوند کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی کی بات کو مکمل سنے اور تسلی کروائے ۔ بلکہ اکثر تو صرف سننے سے ہی مسئلہ حل ہوجاتا ہے ۔ روزانہ یا پھر ہر دو تین دن بعد کچھ ایسا وقت ضرور نکال لینا چاہئے کہ آپ اُنکی بات کو مکمل سنیں ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر بات ماننے لگ جاؤ یا ہر بات کا جواب دو بلکہ خاموشی سے سننے کا فن سیکھ لو ۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ بالکل بُت بن کر مت بیٹھو بلکہ ہاں میں ہاں ملاتے جاؤ اور خفیف انداز میں سمجھاتے جاؤ ۔ پوری امید ہے کہ اس طرح مسائل گھر میں ہی حل ہوجائینگے اور اسکے بعد اپنی گھریلو عورتوں کو اس طرح کے وظائف پر لگا دو ۔ مثلاً سورۃ الفاتحہ، آخری سورتیں، منزل اور اس طرح کے دیگر اعمال کی چھوٹی موٹی کتاب جیسا کہ مجربات اکابر نام کی ایک کتاب ہے ۔

مجربات اکابر کتاب کی تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں ۔
https://kitabfarosh.com/product/mar/

یہ کتاب گھر میں لے کر رکھ لیں اور عملیات و وظائف کا جتنا حصہ اسلام میں بیان کیا گیا ہے وہ ایسا ہے کہ کسی عامل کی ضرورت نہیں رہتی ۔ آپ خود ہی بہت سارے عمل کرسکتے ہیں ۔ قرآن پڑھ سکتے ہیں، سورۃ الفاتحہ کا وظیفہ کرسکتے ہیں، آیۃ الکرسی بھی پڑھ سکتے ہیں اور اس طرح کے سینکڑوں اعمال آپ اگر گھر میں ہی کرنے لگ جائیں بازاری عاملوں کی دوکانیں جلدی جلدی بند ہوجائیں گی ۔

بلکہ میں آپکو ایک اور کتاب بھی مشورہ دوں گا جس کا نام ہے عامل کامل ۔ جس میں عامل حضرات کی حقیقت کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ اصل کامل عامل کیسا ہوتا ہے ۔ تو یہ کتاب بھی ضرور پڑھیں تاکہ بازاری عاملوں سے آپ بچ سکیں ۔

عامل کامل کتاب کی تفصیلات اس لنک پر دیکھئے:۔

مشہور و معروف دینی اسکالر مفتی طارق مسعود صاحب نے بھی یوٹیوب پر ایک کلپ میں ان عاملوں کی بہت سخت الفاظ میں حقیقت بیان کی ہے ۔ بعض لوگ تو بالکل ہی انکار کرتے ہیں ۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ انکار کرنا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ کیونکہ جنات کا وجود برحق ہے ۔ اور یہ بھی بات ثابت ہے کہ وہ شرارتیں بھی کرتے ہیں مگر اصل مسئلہ اور عوام کو آگہی سے بات کی دینی مقصود ہے کہ ان معاملات میں خود کو کسی بازاری عامل کے حوالے نہ کریں ۔ کیونکہ جس طرح نیم حکیم خطرہ جان ہوتا ہے بالکل اسی طرح یہ بازاری عامل خطرہ ایمان ہوتے ہیں ۔ ایسے ایسے شرکیہ اعمال کروالیتے ہیں کہ انسان کا ایمان بھی جاتا رہتا ہے ۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ اگر پسند آئے تو یہ مضمون شئیر ضرور کیجئے گا ۔

کیا صرف عامل کی مدد سے مسائل حل ہو جائیں گے؟

نہیں، عام طور پر ایسا نہیں ہوتا۔ مضمون کے مطابق، اکثر معاملات میں وہم، ذہنی دباؤ یا گھریلو مسائل ہوتے ہیں۔ عامل کی مدد وقتی راحت دے سکتی ہے، مگر مستقل حل گھریلو ماحول، بات چیت، محبت، دین اور صحیح مشورہ میں ہے۔

جب “جادو کا اثر” محسوس ہو تو کیا کرنا چاہیے؟

سب سے پہلے طبی معائنہ ضروری ہے، کیونکہ بہت سی علامتیں دماغی یا جسمانی مسئلے کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہیں۔ اس کے بعد اسلامی رُخ اختیار کیا جائے (قرآن، اذکار، مشورہ)۔ عامل یا پیر کے پاس جاتے وقت بہت احتیاط برتی جائے — کیونکہ بازاری عامل اکثر عورتوں کے جذبات کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔

تعویذ (تعویذ) پہننا یا لٹکانا کیا جائز ہے؟

علمائے کرام اس پر اختلاف رکھتے ہیں: اگر تعویذ اللہ کے نام، کلمات، آیات پر مبنی ہو اور اس کا مقصد شرک نہ ہو، تو بعض علماء کے نزدیک جائز ہے۔ Daily Jang+1 البتہ یہ ضروری ہے کہ بندہ یہ یقین رکھے کہ اثر بذاتِ خود تعویذ کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔

عورتیں اس میں کیوں زیادہ پھنستی ہیں؟

اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں شامل ہیں: گھر میں سننے والا کم ہونا، شوہر کی توجہ نہ ملنا، جذباتی دباؤ، اولاد یا سسرال کے مسائل — اور پھر وہم کا شکار ہونا کہ ان پر جادو ہوا ہے۔
یہ مضمون کا بھی حصہ ہے کہ عورت کی زندگی میں “بات نہ ہونے” یا “سنا نہ جانا” کا اثر جادو کے شبہے کو بڑھا دیتا ہے۔

کیا واقعی کالا جادو یا عملیات وجود رکھتی ہیں؟

جی ہاں — جادو یا سحر کا تصور اسلام اور معاشرے دونوں میں موجود ہے۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ بہت سی صورتوں میں یہ “وہم” یا ذہنی دباؤ کی علامت بھی ہوتی ہے، نہ کہ بالکل مافوق الطبیعی واقعہ۔

جادو کروانے والا کون سزا کا اہل ہے؟

اسلامی نقطہ نظر سے جادوگری، عاملیت یا لوگوں کو دھوکہ دینا ممنوع اور گناہ ہے۔ قانونی صورتحال پاکستان میں واضح نہیں ہے، مگر اخلاقی و شرعی طور پر اس کی ممانعت ہے۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop