قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے رہو

قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے رہو

اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: مدینہ کے یہودیوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں ( بدکار اور عذاب کے مستحق لوگوں کو )قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ لیکن میں نے اُن کو جھٹلایا اور مجھے اُن کی بات پر یقین نہیں آیا ( یہ بات میں نے ابھی تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سُنی تھی ) پھر وہ دونوں عورتیں چلی گئیں۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ !(صلی اللہ علیہ وسلم ) دو بوڑھی عورتیں آئی تھیں اور انہوںنے ایسی ایسی باتیں مجھ سے کہیں۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا: انہوںنے صحیح کہا تھا۔ بلا شبہ قبر میں مُردوں کو عذاب ہوتا ہے۔اُن کے عذاب کو تمام چوپائے سنتے ہیں ( یعنی چار پائے والے جانور جتنے بھی ہیں، اگر وہ گنہگار اور فاسق و فاجر کافر کی قبر کے پاس سے گزرتے ہیں تو انہیں عذاب کی آواز سنائی دیتی ہے)

اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اِس کے بعد میں نے دیکھا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد عذاب ِ قبر سے پناہ مانگتے تھے ( اُمت مسلمہ کو سکھانے کیلئے اور ترغیب دینے کے لئے کہ ہر نماز کے بعد عذاب ِ قبر سے پناہ مانگتے رہنا)

(مفہوم حدیث: ۵۹۵۳، باب التعوذ من عذاب القبر، صحیح البخاری)

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop