نماز میں حد سے لمبی قراء ت نہ کریں

نماز میں حد سے لمبی قراء ت نہ کریں

حضرت ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا: ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اورعرض کیا: میں فلاں شخص کی وجہ سے صبح کی نماز (با جماعت ادا کرنے سے ) پیچھے رہ جاتا ہوں ۔کیونکہ وہ بہت لمبی نماز پڑھاتے ہیں۔

راوی کہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام یہ سُن کر بہت ناراض ہوئے اور فرمایا: اے لوگو! تم میں سے کچھ لوگ ( با جماعت نماز پڑھنے سے) دوسروں کو متنفر کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔

دیکھو! تم میں سے جو بھی کوئی شخص نماز پڑھائے تو اُسے چاہئے کہ مختصر پڑھائے (مسنون قراء ت کرے) کیونکہ نمازیوں میں مریض، بوڑھے اور ضرورت مند (جنہیں کسی ضرورت کی وجہ سے واپس جلدی جانا ہوتا ہے ) بھی ہوتے ہیں۔

(مفہوم حدیث: ۵۷۰۴، باب ما یجوز من الغضب والشدۃ لامراللّٰہ ، صحیح البخاری)

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop