سلام کی ابتداء کیسے ہوئی ؟
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا اُس وقت اُن کی لمبائی ( قد کی درازی ) ساٹھ ہاتھ جتنی تھی۔ پھر فرمایا: اے آدم جائو! اُن فرشتوں کو سلام کرو اور وہ جو تم کو جواب دیں، اُس جواب کو غور سے سننا۔ اس لئے کہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہوگا (جو وہ جواب دیں گے وہی طریقہ ایک دوسرے کو سلام کرنے کا تمہاری اولاد میں رائج ہو جائے گا) چنانچہ آدم علیہ السلام نے کہا: ’’ السلام علیکم ‘‘ تو فرشتوں نے جواب دیا: السلام علیک و رحمۃ اللہ۔ فرشتوں نے جواب میں رحمۃ اللہ کا لفظ بڑھا دیا ( یعنی بہتر طریقے سے جواب دیا)۔
پس آپ علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص بھی جنت میں داخل ہوگا وہ آدم علیہ السلام کی صورت پر ہوگا اس کے بعد (آدم علیہ السلام کے بعد) انسانوں میں (حسن و جمال اور قد کاٹھ میں) کمی ہوتی رہی یہاں تک کہ اب تک (بہت چھوٹی عمر اور چھوٹے قدآن بچے ہیں ، مگر جب جنت میں داخل ہوں گے تو سارے ایک ہی جسامت والے ہوں گے یعنی آدم علیہ السلام کی طرح)۔
صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/
Featured products
New Year BooksOffer 2025
Original price was: ₨ 5930.00.₨ 4750.00Current price is: ₨ 4750.00.Ramzan Ul Mubarak Ki Behtareen Kitabein
Original price was: ₨ 4480.00.₨ 4030.00Current price is: ₨ 4030.00.مجموعہ حضرت تھانوی پیکیج
₨ 11100.00





