لواحقین کو صبر دِلانے کیلئے فوت شُدہ شخص کی اچھائی بیان کریں

لواحقین کو صبر دِلانے کیلئے فوت شُدہ شخص کی اچھائی بیان کریں

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: غزوۂ اُحد کے دن میرے والد کی لاش لائی گئی اور اُن کے کان اور ناک (کفار و مشرکین نے) کاٹ ڈالے تھے۔ میت کو آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھ دیا گیا اور ایک کپڑا اوڑھ کر ڈھانک دیا۔

میں قریب ہو کر کپڑا اُٹھانے لگا تو میری قوم کے لوگوں نے مجھے (یہ درد ناک منظر دیکھنے سے) منع کیا۔ پھر میں دوبارہ قریب ہوا اور کھولنے لگا تاکہ میں اپنے والد کو دیکھ سکوں مگر مجھے لوگوں نے دوبارہ منع کیا۔ اُس کے بعد آپ علیہ السلام نے میت کو (کفن دفن کے لئے) لے جانے کا حکم فرمایا۔

(جب میت اُٹھائی گئی) تو گھر کے اندر سے کسی عورت کے چِلّا کر رونے کی آواز آئی۔ آپ علیہ السلام نے فوراً پوچھا: یہ کون رو رہا ہے؟ تو لوگوں نے بتلایا کہ یہ میت کی بیٹی ہے یا پھر شاید اُس کی بہن۔

تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: اُسے کہو مت رو (یعنی یہ رونے کا مقام نہیں بلکہ) فرشتے اپنے پروں سے اس شہید پر سایہ کرتے رہے (اور اس کا اعزاز و اِکرام کرتے رہے) یہاں تک کہ جنازہ کے لئے اُٹھا لیا گیا۔

حوالہ: صحیح بخاری شریف (مفہوم حدیث)

صحیح البخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop