غزوہ خیبر کے جھنڈا بردار صحابی

غزوہ خیبر کے جھنڈا بردار صحابی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے( غزوۂ خیبر میں ) ایک رات یہ فرمایا کہ کل صبح میں ایسے شخص کے ہاتھ میں جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائیں گے۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم لوگ رات بھر سوچتے رہے کہ دیکھتے ہیں کل کھنڈا کس کو ملے گا۔

جب صبح ہوئی تو سب صحابہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے اور ہر ایک کو یہ شوق تھا کہ جھنڈا اُسی کو مل جائے۔

لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟

تو لوگوں نے بتلایا کہ وہ آشوب چشم( آنکھوں کی تکلیف ) میں مبتلا ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُن کو پیغام بھیج کر میرے پاس بلائو،۔

جب حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے تو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک لعاب دہن اُن کی آنکھوں میں لگایا اوردُعا فرمائی تو اُن کا مرض ایسے غائب ہوگیا جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو جھنڈا عنایت فرمایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جھنڈا ہاتھ میں لیتے ہوئے یہ کہا کہ میں ان لوگوں ( یعنی کفار و مشرکین) سے لڑتا رہوں گا جب تک کہ وہ ہماری طرح اسلام قبول نہیں کرلیتے۔

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی آپ جائیں اور ( فرمایا) جب کبھی بھی آپ جنگ کے میدان میں اُتریں تو سب سے پہلے اُن (مخالفین) لوگوں کو اسلام کی طرف دعوت دیں اور ان کو بتائیں کہ اللہ کا کیا حق ہے اُن پر ہے۔ اللہ کی قسم! اگر کسی ایک شخص کو بھی اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ سے ہدایت نصیب فرمائیں تو یہ تمہارے لئے سرخ اُونٹوں ( قیمتی خزانوں ) سے بہت بہتر ہے۔

مفہوم حدیث ۳۴۵۳، باب مناقب علی بن ابی طالب، صحیح البخاری

صحیح بخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop