رشتہ کا اِنکار کرنے میں کوئی ناراضگی نہیں ہونی چاہئے

رشتہ کا اِنکار کرنے میں کوئی ناراضگی نہیں ہونی چاہئے

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں: میری بیٹی ( حفصہ ) جب بیوہ ہوگئیں ( یعنی اُن کے شوہر فوت ہوگئے ) تو ایک مرتبہ میری ملاقات حضر ت ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے ہوئی اور میں نے اُن کو عرض کیا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا نکاح حفصہ بنت عمر سے کردوں؟ ( اپنی بیٹی کا رشتہ کرنے کی خواہش ظاہر کی۔)۔

اور پھر فرماتے ہیں کہ میں کئی دن تک منتظر رہا ( یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کوئی جواب نہ دیا جو کہ اِنکار کا انداز تھا)۔
چند دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بیٹی حفصہ کے لئے پیغامِ نکاح بھیجا( اور یہ رشتے طے ہوگیا )۔

اس کے بعد مجھے ابوبکر ملے تو اُنہوں نے بتلایا کہ میں نے رشتہ اسی لئے قبول نہیں کیا تھا کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ حفصہ کا تذکرہ کیا تھا اور یہ بات میں آپ کو بتانا نہیں چاہتا تھا ( اسی لئے خاموش رہا اور کوئی جواب نہ دیا) ہاں البتہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر رغبت نہ فرماتے تو میں ضرور قبول کرلیتا۔

(مفہوم حدیث: ۴۷۹۷، باب تفسیر ترک الخطبۃ، صحیح البخاری)

صحیح البخاری شریف کی صحیح اردو احادیث کو مزید پڑھنے کے لئے یہ لنک دیکھئے:۔
https://kitabfarosh.com/category/kitabfarsoh-blogs/sahi_bukhari_urdu_hadith_collection/

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop