حضرت نانوتوی کی دل سے نکلی دعا اور شیخ الہند کی عظیم شخصیت کا عروج

حضرت نانوتوی کی دل سے نکلی دعا اور شیخ الہند کی عظیم شخصیت کا عروج

حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کی زندگی میں ایک واقعہ ایسا ہے جو ان کی دعا کی قوت اور خلوص کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان کے والد ماجد بیماری کے عالم میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن رحمہ اللہ کے گھر میں قیام پذیر تھے۔ والد ماجد کو اس دوران دستوں کی بیماری لاحق تھی، اور ایک موقع پر ان کا دست چارپائی پر خطا ہو گیا۔ اس وقت حضرت نانوتوی موجود نہ تھے، لیکن حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ وہیں تھے۔

کوئی چیز نجاست اٹھانے کے لیے موجود نہ ہونے کی وجہ سے حضرت شیخ الہند نے بے جھجھک اپنے ہاتھوں سے نجاست کو سمیٹنا شروع کر دیا۔ اسی دوران حضرت نانوتوی وہاں پہنچے اور دیکھا کہ حضرت شیخ الہند کے ہاتھ نجاست سے آلودہ ہیں اور وہ اسے صاف کر رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت نانوتوی پر ایک گہرا اثر ہوا اور وہیں کھڑے ہو کر دل سے دعا کی: “اے خداوند، محمود کے ہاتھوں کی لاج رکھ لے۔”

یہ دل سے نکلی دعا جلد ہی قبولیت کا درجہ حاصل کر گئی، اور وہی محمود حسن، ہندوستان کے عظیم عالم، معروف شیخ الہند، اور عالمگیر شخصیت بنے۔ ان کی علمی فراست، جوانمردی، اور جہادی جوش و خروش کی گونج نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں سنی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تفسیر عثمانی کو عالمی قبولیت عطا فرمائی، اور یہ تفسیر آج بھی دنیا بھر میں مقبول ہے۔

یہ الفاظ کتاب فروش ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر شائع کیے گئے ہیں

Featured products

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop