کسان کی حکمت اور آمدنی کو خرچ کرنے کا طریقہ
بادشاہ قطب الدین ایبک کا واقعہ ایک کسان کے ساتھ ایسا ہے کہ اسے حکمت، دانائی اور سادگی کا نمونہ سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک دن بادشاہ شکار کھیلنے نکلا اور اپنے لشکر کے ساتھ ایک دور دراز گاؤں کے کھیتوں میں جا پہنچا۔ وہاں ایک کسان کو دیکھا جو ہل چلا رہا تھا۔ بادشاہ نے کسان کی محنت کو دیکھ کر اس سے بات چیت کا ارادہ کیا اور اپنے لشکریوں کو روک کر کسان کے قریب آیا۔
بادشاہ نے کسان سے پوچھا: “تم دن میں کتنا کماتے ہو؟”
کسان نے اپنی محنت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا: “حضور، میں چار روپے روزانہ کما لیتا ہوں۔”
بادشاہ قطب الدین ایبک کسان کی سادگی سے متاثر ہوا، مگر وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ کسان ان پیسوں کو کس طرح خرچ کرتا ہے۔ لہٰذا، اس نے اگلا سوال کیا: “اچھا، بتاؤ کہ تم ان چار روپوں کو کیسے خرچ کرتے ہو؟”
کسان نے بغیر کسی تردد کے جواب دیا: “پہلا روپیہ میں اپنے اور اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہوں، دوسرا اپنے بچوں پر، تیسرا اپنے والدین پر، اور چوتھا خیرات کر دیتا ہوں۔”
بادشاہ نے کسان کی بات کو غور سے سنا اور کچھ دیر کے لیے سوچ میں پڑ گیا۔ یہ تقسیم سادہ مگر معنی خیز تھی، مگر بادشاہ کو کچھ مزید جاننا تھا۔ اس نے کسان سے وضاحت چاہی اور کہا: “اچھا، میں تمہاری بات سمجھا نہیں۔ ذرا تفصیل سے بتاؤ کہ تم یہ روپے کن طریقوں سے خرچ کرتے ہو؟”
کسان نے مسکرا کر کہا: “پہلا روپیہ جو میں خود اور اپنی بیوی پر خرچ کرتا ہوں، وہ ہماری روز مرہ ضروریات کے لیے ہوتا ہے۔ کھانے پینے، کپڑے، اور زندگی کے دوسرے چھوٹے موٹے اخراجات اس سے پورے ہوتے ہیں۔ یہ ہماری موجودہ زندگی کی ضروریات کے لیے ہوتا ہے تاکہ ہم سکون سے زندگی گزار سکیں۔”
بادشاہ نے سر ہلاتے ہوئے اس کی بات سنی اور پھر کسان نے آگے کہا: “دوسرا روپیہ میں اپنے بچوں پر خرچ کرتا ہوں۔ ان کی تعلیم، صحت، اور اچھی تربیت کے لیے یہ رقم خرچ ہوتی ہے۔ کیونکہ بچے ہمارا مستقبل ہیں، اور ان پر خرچ کرنا دراصل اپنی آنے والی نسلوں پر سرمایہ کاری کرنا ہے۔”
کسان کی بات بادشاہ کے لیے دلچسپ ہو رہی تھی۔ اس نے پھر پوچھا: “اور تیسرا روپیہ؟”
کسان نے کہا: “تیسرا روپیہ میں اپنے والدین پر خرچ کرتا ہوں۔ انہوں نے مجھے پالا پوسا، میری پرورش کی، اور آج جو میں ہوں، وہ انہی کی بدولت ہوں۔ لہذا، ان پر خرچ کرنا دراصل ان کا قرض چکانا ہے۔ یہ ایک قسم کا شکریہ ادا کرنا ہے جو میں ان کے حق میں کرتا ہوں۔”
بادشاہ کسان کی دانائی سے بہت متاثر ہو رہا تھا، مگر اس نے آخری سوال پوچھا: “اور یہ چوتھا روپیہ؟ تم اسے خیرات کیوں کرتے ہو؟”
کسان نے جواب دیا: “چوتھا روپیہ میں خیرات کے طور پر دے دیتا ہوں۔ میں اسے ان لوگوں کی مدد کے لیے خرچ کرتا ہوں جو خود اپنی مدد نہیں کر سکتے۔ میں اس سے دنیا میں کسی انعام کی امید نہیں رکھتا، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا بدلہ آخرت میں ملنے کی امید ہوتی ہے۔ یہ میرے لیے وہ روپیہ ہے جو میں کنوئیں میں پھینک دیتا ہوں، یعنی دنیا میں اس کا کوئی فائدہ نہیں چاہتا، بلکہ آخرت میں اس کا بدلہ چاہتا ہوں۔”
بادشاہ قطب الدین ایبک کسان کی باتوں سے حیران تھا۔ اسے اس سادہ کسان کی حکمت اور زندگی کے فلسفے نے گہرائی سے متاثر کیا۔ کسان نے نہ صرف اپنے روز مرہ اخراجات کا حساب کتاب واضح کیا بلکہ زندگی کے اہم پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی۔ کسان کی یہ دانائی ہمیں بتاتی ہے کہ سادگی میں بھی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے، اور ایک انسان کو اپنی زندگی میں مختلف ذمہ داریوں کا کیسے خیال رکھنا چاہیے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو کس طرح منظم کیا جائے اور اپنی آمدنی کو حکمت کے ساتھ خرچ کیا جائے تاکہ موجودہ زندگی بھی خوشگوار ہو، اپنے پیاروں کی ضرورتیں بھی پوری ہوں، اور آخرت کے لیے بھی کچھ جمع کیا جا سکے۔

۔313 انمول واقعات۔
۔313 انمول واقعات۔
اللہ کی رحمت کو متوجہ کرنے والے،۔
بندوں کو اللہ سے جوڑنے والے،۔
آنسوؤں کی جھڑی لگانے والے،۔
دل کی دنیا بدلنے والے 313 انمول واقعات
