دوسری شادی کرنا سنت ہے اور اس سنت پر عمل کیسے کیا جارہا ہے؟
آج آپکو ایک فرضی کہانی سناتا ہوں تاکہ تھوڑا سا معاشرہ کی جھلک آپکے سامنے آئے ۔ اس کہانی کا کسی صاحب سے کوئی تعلق نہیں ہے بس کچھ غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لئے لکھنا اس کا مقصد ہے ۔تاکہ معاشرہ کا ایک مکروہ چہرہ سامنے آسکے۔ فرض کر لیجئے کراچی کے ایک بہت نیک دیندار اور باشرع صاحب تھے جو بہت غریب اور نادار حالات سے گزررہے تھے۔ کوئی مال و دولت نہیں ، کوئی پہچان نہیں، کوئی کام نہیں۔ انکےوالد صاحب نے خاندان میں ہی اپنی ضمانت پر اور اپنا چہرہ دکھا کر شادی کروادی ۔ شادی کے شروع میں انتہائی مشکل ترین حالات میں بیوی نے ساتھ دیا ۔ گھر میں پابندیاں تھیں بلاوجہ نئے کپڑے پہننے پر، ہوٹل جانے پر اور کہیں بھی سیر پر جانے پر ۔ پابندی کا واحد مقصد تو یہی تھا ناں کہ خاوند کی حیثیت ہی اتنی نہیں ۔ علاج کروانے کی بھی اتنی وسعت نہیں ہوتی تھی جس کی وجہ سے بیوی کچھ بیمار بھی ہوگئی مگر خاوند کے ساتھ وفا کا اُسکو مان تھا کہ ہم دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہیں تو سب حالات منظور ہیں ۔
کچھ عرصہ بعد یوں ہوا کہ خاوند کے حالات بدلنا شروع ہوگئے ۔ اُسکی دوکانداری چل پڑی ۔ ابھی کچھ زیادہ پیسہ بھی نہیں آیا تھا کہ خاوند کے دل میں اب خیالات نے جنم لیا اور دوسری شادی کی سنت پر عمل کرنے کے لئے انہوں نے حربےشروع کردئے۔ مختلف طریقوں سے منصوبہ بندی چلنے لگی ۔ گھر میں پہلا جھوٹ یہ سنایا گیا کہ میری ایک اور دوکان ہے فلاں جگہ پر میں وہاں پر زیادہ وقت دے رہا ہوں ۔ کیونکہ وہ دوکان ابھی نئی ہے اور شروعات ہے تو زیادہ وقت اس لئے وہاں پر دیتا ہوں ۔ اس جھوٹ کے سہارے کئی دن چلائے گئے اور اگر کبھی کوئی مسئلہ ہوتا تو لڑکی کے سسر بھی اُسکو ڈانٹ ڈپٹ کرکے کہتے کہ بلاوجہ کیوں شک کرتے ہو ۔ لڑکی خاموش رہی اور پھر ایک گھر خریدا گیا جس کے بارہ میں دوبارہ گھر میں جھوٹ کہا گیا کہ میں نے یہ گھر اس نیت سے خریدا ہے کہ اسکو کرائے پر دیں گے اور کچھ آمدن ہوجائیگی ۔ خیر یہ دوسرا جھوٹ سنت پر عمل کرنے کے لئے بولا جانے لگا ۔ ویسے بھی یہ دیندار باشرع صاحب تھے تو کسی مفتی صاحب نے انکو پڑھا دیا کہ بھائی دیکھو بیوی کی دلجوئی اور اسکو پریشانی سے بچانے کے لئے ہلکا پھلکا جھوٹ بھی بولنا جائز ہوتا ہے تو ان صاحب نے جھوٹ کو حلال سمجھ لیا اور خوب راستے بنا لئے ۔
خیر پھر بیوی کی لاعلمی میں شادی ہوگئی اور چند ماہ کے بعد بیوی کو بتادیا گیا ۔ اُسکے بعد بیوی کی دلجوئی کرنے کی بجائے اس پر ظلم کرکے اُسکو پھنسایا گیا اور سسر بھی اس میں شریک ہوگئے ۔ بیوی مرتی کیا نہ کرتی ۔ خاموش ہوگئی لیکن کیسے برداشت کرتی کہ دوسری بیوی کے ساتھ اب خاوند ہوٹلوں پر بھی جارہا ہے ۔ سیر پر بھی جارہا ہے اور آئے روز شاپنگ بھی ہورہی ہے ۔ مشکل ترین وقت تو بیوی نے دیکھا تھا اور یہ پابندیاں بھی اس دیندار شخص کی اُس نے جھیلی تھیں ۔ جب کچھ مفتیان کرام نے خاوند کو سمجھانے کی کوشش کی تو اُس نے بڑے غرور اور تکبر سے پہلی بیوی کے منہ پر پیسے دے مارے کہ تمہیں بھی اب اجازت ہے کہ تم بچوں کے ساتھ ہوٹل پر جا کر کھانا کھاؤ، شاپنگ کرو یا جو مرضی کرو ۔ ہر طرح سے تمہیں آزادی ہے ۔ مگر بیوی جس کی صحت بھی اب ختم ہوچکی تھی اور اُسکو خاوند نے مشکل ترین وقت میں یہی دلاسہ دیا تھا کہ ہم تم ساتھ ہیں تو پھر کیسی پریشانی ؟
اب غرور و تکبر بھی سنت پر عمل کرنے کے لئے چل رہا ہے ۔ دوسری بیوی کے حق میں فتویٰ لے لیا جاتا ہے کیونکہ خاوند جس طرح کی صورت بتائے گا مفتی اُس طرح کا فتویٰ دے دے گا اور وہ فتویٰ دکھا کر ناانصافیاں ہورہی ہیں اور سنت پر عمل کے جذبہ سے مولانا صاحب بہت خوش ہیں ۔ گھر والی جو بھی کرلے مولانا صاحب کو کوئی فکر نہیں کیونکہ جب پہلی گھر والی کی باری نہیں ہے تو اب اُسکی کوئی ذمہ داری بھی نہیں ہے ۔ یہ ایک تسلی آمیز فلسفہ مولانا صاحب کے سکون کے لئے بن گیا کہ انہوں نے پہلی بیوی کو یہی اظہار کیا جب تمہاری باری نہیں تو کوئی ذمہ داری نہیں خواہ کچھ بھی ہوجائے۔ تم اپنی فکر خود کرنا ۔

اب ایک اور بات سامنے آئی کہ پہلی شادی میں خاندان کے لوگ جڑے ہوئے تھے تو اب بزرگ شامل ہوئے اور احساس دلایا کہ اول تو تم کو دوسری شادی اتنی جلدی نہیں کرنی چاہئے تھی اور اگر تم نے شادی کرہی لی ہے تو پہلی بیوی پر ظلم تو نہ کرو۔ اُسکی دلجوئی کرنا اور اچھے طریقے سے پیش آنا تمہاری ذمہ داری ہے ۔ یہی وہ بیوی ہے جس نے تمہیں شروعات میں قبول کیا تھا جب تمہارے پاس پیسہ نہیں تھا ۔ اصل وفادار یہی ہے ۔ دوسری تو پیسہ کی وجہ سے آئی ہے اور اگر خدانخواستہ پیسہ ختم تو وہ بھی ختم ۔ تو خاوند نے اُن سب کی بے توقیری کی اور غرور و تکبر میں یہ بھی کہا کہ کیا میں نے کوئی غیر شرعی عمل کیا ہے ؟ میں نے تو سنت پر عمل کیا ہے اور سنت کو زندہ کیا ہے ۔ کئی بزرگوں کے ساتھ خوب بڑھ چڑھ کر اس نیت کے ساتھ مولانا صاحب نے دھلائی کی کہ وہ حاسدین میں سے ہیں ۔ مولانا صاحب ادھوری بات لکھ کر نت نئے فتوے لے کر آتے جس سے کچھ ایسی باتیں بھی ثابت ہوجاتیں کہ دوسری بیوی کو سیر پر لے کر جانا ضروری ہے ۔ خاوند کہتا تھا کہ مفتی صاحب نے مجھے کہا کہ دوسری بیوی نئی ہے تو اُسکی دلجوئی کرنا زیادہ ضروری ہے۔
اسکے بعد پھر پہلی بیوی کے جتنے بھی رشتہ دار تھے اُنکے ساتھ دلجوئی یا نرمی کا معاملہ کی بجائے مولانا صاحب نے خوب ایذائے مسلم کا سہارا لیا اور اس حرام کام کو بڑے غرور و تکبر سے یہ کہتے ہوئے سب کے ساتھ لڑائی کی کہ میں نے تو سنت پر عمل کیا ہے ۔اب جو بھی اپنی تذلیل کرواتا وہ سنت کے بارہ میں بھی تشویش میں لاحق ہوجاتا کہ کیا ایسا کام کرنا سنت ہے؟
تو دوستو! اب یہ مسلسل نئی شریعت تو وہ تشکیل دیتے رہیں گے اور زندگی بھر وہ اب خاندان کے افراد کو حاسدین کی فہرست میں شامل کرتے جائیں گے۔
لیکن کیا ایک سنت پر عمل کرنے کے لئے سب حرام حلال ہوگئے ؟ جھوٹ بولنا حلال ہوگیا؟ ایذائے مسلم کی مکمل اجازت مل گئی جس کی وجہ یہ تھی کہ مولانا سمجھ رہے تھے کہ جو بزرگ اپنی بے توقیری پر ناراض ہورہے ہیں وہ حاسد ہیں ۔ پہلی بیوی کے جن رشتہ داروں کو تکلیف ہورہی ہے اور وہ کچھ مطالبات کررہے ہیں یا سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں تو وہ سب بھی حاسدین میں سے ہیں ۔ جن جن لوگوں کو سنت پر عمل کرنے سے تکلیف ہورہی ہے تو ایذائے مسلم کا تو کوئی آج کل خیال ہی نہیں بلکہ مولانا زیادہ مطمئن ہورہے ہیں کہ میں نے چونکہ سنت پر عمل کیا ہے تو یہ مشکلات تو آنی تھیں !!!۔
تو ان سب چیزوں کو بھی زیر خاطر رکھنا چاہئے ۔ میں نے ایک مفتی صاحب کو فون پر کہتے ہوئے سنا غالباً اُن سے کوئی شخص دوسری شادی کا پوچھ رہا تھا تو وہ سمجھا رہے تھے کہ بھائی دوسری شادی کرنا سنت ہے مگر جان بچانا تو فرض ہے ۔ امن اور عافیت بنائے رکھنا فرض ہے ۔ فسادات سے خود کو بچانا بھی فرض ہے ۔ مگر فون کرنے والے پر ایک چیز سوار تھی تو وہ سن نہیں رہے تھے ۔ اخیر یہ کہا گیا کہ ٹھیک ہے آپ سوال لکھ کر بھیج دیں جو باقاعدہ فتویٰ ہوگا وہ آپ کو مل جائیگا ۔
دوسری شادی سنت ہے ؟ تو اس سنت پر عمل کرنے کے لئے کیا کیا مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور کیا کیا طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ۔ اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی حرام اور ناجائز اعمال سے گزر کر اس سنت پر عمل کرتے ہیں ۔ پھر اپنا فرضی انصاف بنا کر ہوس کو یوں پورا کرتے ہیں کہ حالات بہت مفصل ہیں، لکھنے لگے تو صفحات بھر جائیں گے ۔
ایک صاحب کی دوسری شادی ہوئی تو پہلی بیوی سے پانچ بچے تھے ۔ میں نے خود دیکھا کہ وہ صاحب اپنے پانچ بچوں کاتو کچھ لحاظ نہ فرماتے تھے مگر دوسری بیوی کے دو بچے جو اُنکے ذاتی بھی نہیں تھی اُنکی خدمت کے لئے دن رات ایک کررکھے تھے ۔ اپنے حقیقی بچوں کو تو رکشہ لگوا کر دے رکھا تھا مگر دوسری بیوی کی دلجوئی کے لئے اُسکے بچوں کو بہ نفس نفیس روزانہ صبح موٹر سائیکل پر اسکول چھوڑنے جایا کرتے تھے ۔ یعنی معاملہ ایسا الٹا کررکھاتھا کہ دلجوئی کی ضرورت پہلی بیوی کو تھی مگر اس وقت معاشرہ میں دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کو پھینک دینے کا رواج بنا لیاگیا ہے ۔
کچھ ایسے مشاھدات اور تجربات مسلسل آتے رہے ۔ ایک صاحب نے دوسری شادی چھپ چھپا کر کی جو کہ بالکل غیر شرعی عمل ہے ۔ شادی سے پہلے اپنے کچھ بڑوں کو شامل کرنا ایک اچھا عمل ہے اور پھر شادی کا ولیمہ، نکاح پر چھوہارے اور یہ کچھ علانیہ چیزیں جو نکاح کا حصہ تھیں وہ سب مفقود ہیں ۔ دوسری شادی کا نکاح صرف گواہوں کی موجودگی میں کرلیا جاتا ہے ۔ تو ان صاحب نے جب دوسری شادی کی تو کئی سال تک پتہ نہ چل سکا ۔ جب پہلی بیوی کو پتہ چلا تو وہ پریشان ہوئیں ۔ ان صاحب نے کوئی حکمت عملی اپنانے کی بجائے ہر جگہ جا کر یہ شور ڈالا کہ میں نے تو سنت پر عمل کیا ہے (حالانکہ سنت پر عمل کرنے کی برکات کا میں قائل ہوں اور مشاھدات بھی ہوچکے ہیں)مگر غلط عمل کرکے اور حرام کام کرکے اُنکو جب سنت کا نام دیا گیا تو وہ صاحب بھی متاثر ہوئے ۔ اُنکے والد کی شدید بے عزتی ہوئی ۔ پہلی بیوی کے ساتھ علیحدگی ہوگئی مگر اُنہوں نے طلاق نہ دی کیونکہ بچے صرف پہلی بیوی سے تھے ۔ دوسری بیوی بانجھ تھی ۔ اب والد کی بددعائیں بھی لیں اور پورے خاندان سے قطع تعلقی بھی ہوئی اور حالات اتنے کشیدہ ہوگئے کہ وہ صاحب دل کا دورہ پڑنے سے وفات پاگئے ۔ چونتیس سال اُنکی عمر تھی ۔ اللہ تعالیٰ اُنکے حال پر رحم فرمائے اور کامل مغفرت فرمائے۔
تو دوستو ! کیا سنت پر عمل کرنے کیلئے ایسے حرام کو حلال کرلیا جاتا ہے؟ کیا شریعت کو پامال کیا جاتا ہے؟ کیا اپنے والدین کی بے عزتی کروانی پڑتی ہے؟ پہلی بیوی کے ساتھ ظلم کیا جاتا ہے؟ اس غلط فہمی کو دور کیجئے ۔ اور دوسری شادی کو ایک مہذب، دین کے مطابق اور صحیح عمل بنائیے ۔ تبھی دوسری شادی کیجئے جب آپکے حالات موافق ہوں ۔ میرے سے ایک صاحب پوچھنے لگے کہ بھلا پہلی بیوی کب اجازت دیتی ہے ۔ یہ سب تو دیکھنا پڑتا ہے اور سہنا پڑتا ہے سنت پر عمل کرنے کے لئے ۔ میں نے اُنکو سمجھایا کہ پہلی بیوی خود اجازت دیتی ہے اور بعض اوقات اصرار بھی کرتی ہے مثلاً اگر اُسکو کوئی بیماری لاحق ہوگئی ہو، وہ بانجھ ہو، وہ مصروف ہو یعنی جاب وغیرہ یا اپنے والدین کے ساتھ یا پھر کسی اور مصروفیت میں بھی بیوی جب دیکھتی ہے کہ میں حقوق ادا نہیں کرپاؤں گی تو وہ خود اجازت دے دیتی ہے ۔
بالخصوص جب خاوند کے حالات اور مزاج اتنے اچھے رہے ہوں کہ اُسکے پاس مال و دولت ہو ،کم از کم اتنی وسعت ہو کہ پہلی بیوی پر خوب فراخی سے خرچ کرنے کے بعد بھی اُسکے پیسے بچ جاتے ہوں اور اُسکی صحت بھی ایسی ہو کہ پہلی بیوی بخوشی اجازت دے دے کہ میں تمہارے حقوق اس طرح ادا نہیں کرسکتی جیسا کہ تمہاری صحت ہے تو تم دوسری شادی کرلو تاکہ میرا بوجھ ہلکا ہو ۔ تو ایسی سینکڑوں صورتیں ہوتی ہیں جن میں دوسری شادی کو حقیقتاً سنت کے مطابق اور بغیر کوئی حرام و ناجائز عمل کئے انجام دیا جا سکتا ہے ۔
ایک مثال یاد آگئی کہ ایک خاتون کے چھ بچے تھے اور صحت بھی اچھی تھی اور بہترین گزارا ہورہا تھا۔ مگر جب ساتواں بچہ پیدا ہوا تو بڑا آپریشن ہوا۔ آپریشن بھی کسی معمولی ہسپتال سے کروالیاگیا۔ نتیجتاً صحت بہت زیادہ خراب ہوگئی۔ خاتون نے دیکھا کہ اب وہ بیمار ہیں اُنکو سکون کی ضرورت ہے اور ساتھ ساتھ سات بچوں کو بھی سنبھالنا ہے اور خاوند کو پریشان بھی نہیں کرسکتے کہ اگر اُسکے حقوق ادا نہ ہوں گے تو وہ بلاوجہ گھر میں پریشان رہیں گے۔ تو خاتون نے اجازت دے دی اور پھر اُنکی زندگی میں بہت سکون ہوگیا کیونکہ خوب آرام کرنے کا وقت بھی مل گیا اور خاوند بھی اپنی دوسری مصروفیت میں خوش ہوگیا۔ تو ایسے بھی بیسیوں حالات سامنے آئے ہیں کہ غیر شرعی اعمال کو انجام دئیے بغیر بھی اس سنت پر عمل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح ایک خاتون کا بچہ پیدا نہیں ہورہاتھا انہوں نے اپنے خاوند کو اجازت بھی دی اور پھر خود ہی رشتہ دیکھنے کے لئے گئیں اور اُنکی خوب تسلی کروائی۔ اس طرح کی بھی مثالیں موجود ہیں۔
دوسری شادی سے متعلق ایک مختصر سا مضمون جاوید چودھری صاحب کا اس لنک پر پڑھ لیں جسکا عنوان کچھ یوں ہے کہ دوسری شادی کی اجازت کیسے لی جائے۔
بہرحال دوستو! اس با ت کو سمجھیں کہ شریعت کے کسی عمل کے لئے صرف اتنا کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ میں نے سنت پر عمل کیا ہے تو میں بہت بڑا بزرگ بن چکا ہوں اور میری تکریم سب پر لازم ہے اور جو میری مخالفت کرے گا وہ حاسدین میں سے ہوگا۔ بلکہ سنت پر عمل کرنے کے بھی کئی تقاضے ہوتے ہیں۔ جیسے عمامہ باندھنا اک سنت ہے مگر ذرا سوچو کہ ایک شخص شدید گرمی کے موسم میں دوپہر کے وقت بڑا سا عمامہ باندھ کر دھوپ میں چل رہا ہو تو لوگوں کو دیکھ کر کتنی الجھن ہوگی کہ بھائی یہ کیسی سنت ہے جس نے اس شخص کو مشکل میں ڈال دیا۔ حالانکہ اس سنت پر عمل کرنے کے لئے دوسرے اوقات بھی ہیں اور یہ مسلسل سنت نہیں کہ جس پر ہمیشہ عمل کیا جانا ضروری ہو بلکہ اسکے کچھ تقاضے ہیں جو سمجھنا ضروری ہیں۔ اسی طرح دوسری شادی کی جو اجازت ہے وہ بھی بہت ساری وضاحتوں کے ساتھ اور تفصیلات کے ساتھ ہے۔ تو انہی تفصیلات کو سمجھنے کے لئے میں آپکو دو کتابیں بھی بتا دیتا ہوں۔ پہلی کتاب کا نام ہے ایک سے زائد نکاح سنت نبوی ہے۔ اور دوسری کتاب کا نام ہے دوسری شادی ۔ انکی تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔

اور دوسری کتاب یعنی دوسری شادی سے متعلق ۔ اسکی تفصیلات اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔
اگر مضمون آپکو پسند آئے تو اسکو شئیر ضرور کیجئےگا۔ شکریہ

