نان کسٹم موبائل فون فراڈ سے ہوشیار رہیے
آج کا دور جہاں ایک طرف ڈیجیٹل سہولیات کی فراوانی لایا ہے، وہیں دوسری طرف دھوکہ دہی اور فریب کے نئے نئے انداز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سستے موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر اشیاء کے جھانسے دے کر لاکھوں پاکستانیوں کو روزانہ بنیادوں پر لوٹا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ واٹس ایپ گروپس جن میں “نان کسٹم موبائل فون” جیسی بے بنیاد اصطلاحات استعمال کرکے لوگوں کو فریفتہ کیا جاتا ہے، ان کا اصل مقصد صرف اور صرف غریب عوام کو چونا لگانا ہے۔
Table of Contents
فراڈ کی بدترین شکل، جو غریبوں کو ہدف بناتی ہے
ان گروپوں میں مختلف اشیاء جیسے کہ موبائل فونز، لیپ ٹاپس، ایل ای ڈیز، گھڑیاں، اور دیگر الیکٹرانکس کی دل لبھانے والی تصاویر شیئر کی جاتی ہیں۔ ان اشیاء کی قیمتیں اس قدر کم بتائی جاتی ہیں کہ ایک عام شخص فطری طور پر سوچتا ہے کہ “اتنا سستا؟ یقیناً موقع ہاتھ سے نہ جائے!” اور یہی وہ پہلا قدم ہوتا ہے جس سے ایک فراڈیے کا جال کامیابی سے بچھ جاتا ہے۔
یہ فراڈ کیسے کیا جاتا ہے؟
ان دھوکہ بازوں کا طریقہ واردات کچھ اس طرح ہوتا ہے ۔ آدھی قیمت ایڈوانس مانگ کر، باقی پارسل کے وقت ادا کرنے کا کہہ کر اعتماد جیتا جاتا ہے۔ جعلی ٹی سی ایس کی سلپ اور ویڈیو سینڈ کی جاتی ہے تاکہ خریدار کو مزید شک نہ ہو۔ پھر اچانک کسٹم چیکنگ کا بہانہ بنایا جاتا ہے اور مزید رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اگر آپ یہ رشوت دیں گے تو پارسل آپ کو پہنچ جائے گا۔ اور آخر میں جب خریدار مکمل رقم بھیج دیتا ہے تو تمام رابطے منقطع کر دیے جاتے ہیں، نمبر بند، گروپ ڈیلیٹ، اور شخص غائب
اور المیہ یہ ہے کہ ایسے سینکڑوں نہیں، ہزاروں افراد اب تک ان فراڈیوں کا شکار بن چکے ہیں، اور بدقسمتی سے یہ سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ میرا اس مضمون کو لکھنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ میرے اپنے متعلقین میں بھی بہت سارے لوگ اس فراڈ کا شکار ہوچکے ہیں ۔ میرے ایک استاذ محترم کے عزیز بھی اس کا شکار ہوئے جس کی تفصیل اور مکمل کہانی استاذ محترم نے لکھی تھی ۔ پھر میرے اپنے ایک بھائی بھی اسکا شکار ہوئے ۔ اُن کی غلطی یہ تھی کہ وہ لالچ کا شکار ہوگئے اور پھر یہ سب اس لئے صیغہ راز میں کیا جاتا ہے کیونکہ فروخت کرنے والے بار بار یہ بتاتے ہیں کہ بھائی ہمارا نان کسٹم کا کام ہے تو اس لئے ہمارا کوئی ایڈریس نہیں ہے ۔ ہم اپنا ایڈریس وغیرہ بدلتے رہتے ہیں ۔ خاص طور پر یہ لوگ چمن، کوئٹہ یا اس طرح کے علاقوں کا نام لیتے ہیں ۔
پھر جب نمبر ٹریس کروایا گیا جس پر جاز کیش بھیجا تھا تو وہ سندھ کی ایک بوڑھی خاتون کے نام پر تھا ۔ یہاں پر یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اس نصیحت کو پکڑیں کہ آپکے گھر کے بڑے بزرگ، کم پڑھے لکھے افراد، گاؤں دیہات کے لوگ یا پھر ایسے سادہ منش لوگ جن کے نام پر سم ہوتی ہے لیکن اُنکو زیادہ معلومات نہیں ہوتی تو نوسر باز قسم کے فراڈ لوگ اںہی کی معصومیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انکے نام پر جاز کیش بنوا لیتے ہیں ۔ تو اپنے عزیزوں کا نمبر جاز کیش پر اندراج کرکے چیک کرلیا کریں ۔ ہوسکتا ہے کسی نے نہ بنایا ہوا ہو مگر اُسکے نام پر جاز کیش چل رہا ہے ۔
یاد رکھیں ! ایسے موقع پر پولیس بھی کوئی کارروائی نہیں کرسکتی ۔ کیونکہ نان کسٹم موبائل خریدنا ہی غیر قانونی ہے تو سب سے پہلے تو آپ خود قصوروار سمجھیں جائیں گے کہ ایسی چیز جس کی خرید و فروخت غیر قانونی ہے تو آپ نے اُسکے لئے کوشش کیوں کی؟؟؟۔
کتاب فروش جیسے اداروں پر کیوں ہوتا ہے شک؟
یہاں ایک اہم اور دردناک پہلو یہ ہے کہ ہمارا آن لائن بک اسٹور کتاب فروش اور اس جیسے دیگر دیانت دار ادارے، جو برسوں سے آن لائن دینی، تعلیمی اور ادبی کتابیں مہیا کر رہے ہیں، انہیں بھی اکثر انہی فراڈز کی وجہ سے شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ کئی لوگ سوال کرتے ہیں: “کیا واقعی پارسل آئے گا؟” ۔ “پہلے رقم دینی ہوگی؟” ۔ “یہ بھی کہیں نان کسٹم والے گروپ جیسے تو نہیں؟”۔
یہ تمام سوالات بالکل جائز ہیں کیونکہ معاشرے میں دھوکہ دہی اتنی بڑھ گئی ہے کہ سچ بولنے والا بھی جھوٹا لگتا ہے۔ مگر کتاب فروش کا ہر قدم شفاف، قانونی، اور دینی اصولوں کے عین مطابق ہے۔ ہمارا مشن صرف کتابیں بیچنا نہیں، بلکہ دینی و اسلامی تعلیمات عام کرنا اور لوگوں کو مطالعے کی طرف مائل کرنا ہے۔
کتاب فروش: ایک معتبر اور دیانت دار پلیٹ فارم
۔📚 کتاب فروش نہ تو کوئی جعلی واٹس ایپ گروپ ہے، نہ ہی کوئی نان کسٹم اشیاء بیچنے والا ادارہ ہے ۔ ہمارے پاس ہر کتاب کا باقاعدہ اسٹاک ہوتا ہے۔ ہم ٹی سی ایس کی تیز ترین سروس کے ذریعے رجسٹرڈ طریقے سے پارسل بھیجتے ہیں۔ اور پارسل روانہ ہوتے ہی کسٹمر کو ایک ٹریکنگ کوڈ ایشو کردیا جاتا ہے ۔ جب تک پارسل ڈلیور نہ ہو تب تک ہم اُسکی مکمل ذمہ داری لیتے ہیں ۔ ہمارے کسٹمرز سے ادائیگی ایڈوانس جاز کیش یا بینک ٹرانسفر کے ذریعے لی جاتی ہے تاکہ اسکے بعد ہم بہترین طریقے سے اپنی خدمات پیش کرسکیں ۔ ہم ہر کتاب کی مکمل تفصیل، قیمت اور اصل تصاویر پہلے سے ہی ویب سائٹ پر واضح طور پر فراہم کرتے ہیں۔
ہماری ویب سائٹ دیکھئے : https://kitabfarosh.com
تمام کتابوں کی فہرست یہاں دیکھیں https://kitabfarosh.com/fehrist
کتاب فروش پر جب بھی آپ کوئی آرڈر کرتے ہیں، تو ہم آپ کی خدمت کو دینی فریضہ سمجھ کر انجام دیتے ہیں۔ پارسل مکمل امانت کے ساتھ آپ تک پہنچایا جاتا ہے۔ اور اگر آپ کو کسی بھی چیز میں پریشانی ہو، تو آپ براہ راست واٹس ایپ پر ہم سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
WhatsApp # 03450345581
فراڈیوں کے بارے میں عام فہم میں بات کرنا کیوں ضروری ہے؟
بدقسمتی سے ان نان کسٹم موبائلز، واٹس ایپ گروپ فراڈیوں نے دیانت دار کاروبار کے خلاف بھی بدگمانی پیدا کر دی ہے۔ اگر ہم ان فراڈیوں کو بے نقاب نہ کریں تو یہ معاشرے میں مزید پھیلتے چلے جائیں گے، اور ہر نیا خریدار کسی نہ کسی دن کسی نہ کسی جھانسے میں آ ہی جائے گا۔
اسی لیے آپ سے درخواست ہے:۔
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں۔
ایسے فراڈیوں کے واٹس ایپ پر رپورٹ کریں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے پاس ایسا گروپ آتا ہے مگر ہم اُسکو اگنور کردیتے ہیں ۔ صرف اگنور کرنا کافی نہیں ہے بلکہ رپورٹ کرنا بھی آپکا فرض ہے ۔بلکہ اگر ہوسکے پی ٹی اے کو شکایات جمع کروائیں تاکہ ان کا کنٹرول ممکن ہو۔ اور سب سے اہم: کسی سے بھی کوئی چیز خریدنے سے پہلے تحقیق کریں، سوال کریں، پھر اعتماد کریں لیکن اندھا اعتماد بالکل نہ کریں ۔

معاملات کی صفائی ہی اصل اسلام ہے:۔
دھوکہ، فریب، جھوٹ، اور لالچ — یہ سب وہ بیماریاں ہیں جن سے ہمارا دین ہمیں سختی سے روکتا ہے۔ اسلام میں معاملات کی صفائی کو عبادت کے برابر درجہ دیا گیا ہے۔ اور اسی لیے ہم آپ کو ایک نہایت اہم اور مفید کتاب کا مشورہ دیں گے ۔ اسلام اور معاملات — ایک ایسی کتاب جو اسلام کی روشنی میں دیانت داری، تجارت، وعدہ، ناپ تول، اور خرید و فروخت کے اصول سکھاتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف کاروباری حضرات کے لیے بلکہ ہر عام فرد کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ معاشرتی اور مالی فریب سے بچ سکے۔
کتاب خریدنے کے لیے یہاں کلک کریں:۔
https://kitabfarosh.com/product/ismt/

کتاب فروش کی مکمل فہرست یہاں دیکھیں: https://kitabfarosh.com/fehrist
آن لائن فراڈ سے بچنے کے لئے اہم نصیحت:۔
یاد رکھیں: لالچ، فراڈ کا پہلا دروازہ ہوتا ہے۔ ہر وہ پیشکش جو “حد سے زیادہ سستی” لگے، اس میں لازمی طور پر کوئی نہ کوئی چال ہوتی ہے۔ جب کسی کو 70,000 والا موبائل صرف 10,000 میں دینے کی پیشکش کی جاتی ہے تو لوگ فوراً سوچتے ہیں: چلو آدھی قیمت دے کر آزماتے ہیں، اگر نہ آیا تو نقصان تو آدھا ہی ہوگا ۔ اور یہی وہ آدھا نقصان ہوتا ہے جو مکمل دھوکے کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ:۔
اس موضوع پر کئی لوگ کنفیوز ہوتے ہیں، لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ نان کسٹم موبائل بیچنے کی کوئی قانونی شکل موجود ہی نہیں!۔ کوئی بھی ادارہ یا فرد اگر پاکستان میں موبائل یا کوئی اور الیکٹرانک ڈیوائس بیچتا ہے، تو اسے PTA رجسٹرڈ، کسٹم کلیئرڈ، اور رسید کے ساتھ دینا ضروری ہوتا ہے۔ بغیر ان مراحل کے کوئی چیز “سستی” تو ہو سکتی ہے، لیکن قانونی اور محفوظ نہیں ہو سکتی۔
اگر ہم سب نے مل کر ان فراڈیوں کو بے نقاب کیا تو ان شاء اللہ ایک محفوظ، بامقصد، اور علمی معاشرہ وجود می آئیگا ۔
اس پیغام کو لازمی آگے بڑھائیں — یہ کسی کے 20 ہزار، 30ہزار یا 50ہزار بچا سکتا ہے!۔
اللہ ہمیں سچ کو پہچاننے، اس پر چلنے، اور جھوٹ و فریب سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
Non custom mobile fraud
یہ واٹس ایپ یا ایس ایم ایس گروپس میں چلایا جانے والا دھوکہ ہے جہاں موبائل یا لیپ ٹاپ جعلیٹی سی ایس سلپ اور ویڈیو کے ذریعے سستے داموں بیچنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، مگر سرکاری کسٹم کلیئرنس نہیں ہوتی۔
پاکستان میں mobile fraud سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟
صرف ایسے اداروں سے خریداری کریں جو رجسٹرڈ، کسٹم کلیئرڈ، اور رسید کے ساتھ شفاف پارسلنگ کرتے ہوں۔
کونسی کتاب
fraud
سے بچاؤ اور معاملات کی اسلامی رہنمائی دیتی ہے؟
اسلام اور معاملات نامی کتاب بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے کہ خرید و فروخت میں جھوٹ، دھوکہ، اور سود سے کیسے بچا جائے۔
کتاب فروش کیسے قابلِ اعتماد ہے؟
کتاب فروش ہر آرڈر کو شفاف انداز میں مکمل کرتا ہے: آمد کا فوٹگراف، رسیدی ڈلیوری،
TCS یا Pakistan Post کے
ذریعے ڈیلیوریاں، اور اگر ضرورت ہو تو
WhatsApp
فراہم کرتا ہے۔ support پر براہِ راست کال یا میسج

