خرابی ہمارے اندر بھی ہوسکتی ہے
’’زمانہ بڑا خراب ہے‘‘۔۔۔ ’’رشوت کا بازار گرم ہے‘‘۔۔۔ ’’دفتروں میں پیسے یا سفارش کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا‘‘۔۔۔ ’’شرافت اور اخلاق کا جنازہ نکل گیا ہے‘‘۔۔۔’’بے دینی کا سیلاب چاروں طرف امڈا ہوا ہے‘‘۔۔۔ ’’لوگ خدا اور آخرت سے غافل ہوبیٹھے ہیں۔‘‘اس قسم کے جملے ہم دن رات کسی نہ کسی اسلوب سے کہتے یا سنتے رہتے ہیں۔اور یہ شکوے کچھ غلط بھی نہیں، واقعتاً زندگی کے جس شعبے کی طرف نظر ڈالئے، ایک نمایاں انحطاط دکھائی دیتا ہے۔
اس صورت حال کے یوں تو بہت سے اسباب ہیں لیکن اس وقت میں صرف ایک اہم سبب کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جس کی طرف بسا اوقات ہمارا دھیان نہیں جاتا۔وہ سبب یہ ہے کہ ہمارا اجتماعی مزاج کچھ ایسا ہی بن گیا ہے کہ ہمیں دوسروں پر تنقید کرنے، ان کے عیوب تلاش کرنے اور ان کی برائیوں پر تبصرہ کرنے میں جو لطف آتا ہے وہ کسی حقیقی اصلاح کے عمل میں نہیں آتا۔
ہماری اصلاحی جدوجہد اس ذہنی مفروضے کی بنیاد پر آگے بڑھتی ہے کہ ہمارے سوا ساری دنیا کے لوگ خراب ہوگئے ہیں اور ان کے اعمال و اخلاق کو درست کرنے کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے، یہ سب کچھ سوچتے اور کرتے ہوئے یہ خیال بہت کم لوگوں کو آتا ہے کہ کچھ خرابیاں خود ہمارے اندر بھی ہوسکتی ہیں، اور ہمیں سب سے پہلےاپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے، چنانچہ جولوگ اپنے آپ سے بے خبر ہوکر صرف دوسروں کو اپنا ہدف بنالیتے ہیں ۔ توہ وہ اصلاح کا عمل ایک محض رسمی کارروائی بن کررہ جاتا ہے۔
از کتاب : دور حاضر کی مشکلات کا حل (از افادات شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی)
مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان
