مثبت گفتگو ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے

مثبت گفتگو ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے

چند دن پہلے ایک ویڈیو بہت وائرل ہوئی جس میں ایک بزرگ شہری نے غصے اور مایوسی میں پنجاب کی چیف منسٹر مریم نواز کے خلاف سخت اور ناشائستہ زبان استعمال کی۔ وہ شاید اپنی نوکری سے واپس آرہے تھے اور بارش میں کسی زیادہ پانی والی جگہ پر پھنس گئے اور غصہ میں کچھ ایسی نازیبا باتیں کردیں جو نہیں کرنی چاہئے تھیں ۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی اور بدقسمتی سے اس کے وائرل ہونے میں ہمارے ہی کچھ پاکستانیوں کا ہاتھ تھا، جنہوں نے بغیر سوچے سمجھے اس نفرت انگیز کلپ کو ہر جگہ پھیلا دیا۔

وائرل ویڈیوز اور ہماری اجتماعی سوچ

اس واقعہ نے یہ بات کھول کر رکھ دی کہ ہم بطور قوم ایک وائرل ویڈیو کو خبر یا مزاح کا ذریعہ سمجھ کر بےدھڑک آگے بھیج دیتے ہیں، چاہے اس سے کسی کی عزت خاک میں ملے یا قومی وقار مجروح ہو۔ یہی وقت ہے کہ ہم مثبت گفتگو اور قومی ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھیں۔ ہم اس بات کو سمجھیں کہ جب بھی اداروں پر بات کی جاتی ہے تو اُسکا نقصان برطانیہ کو نہیں ہوتا بلکہ ہم سب کو ہوتا ہے ۔ ہماری بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں ۔ جب بھی گالم گلوچ کی ویڈیوز وائرل ہوتی ہیں تو وہ ہماری اخلاقیات کا جنازہ ہوتی ہیں ۔

قومی اداروں پر اعتماد اور مثبت گفتگو کیوں ضروری ہے؟

اس ویڈیو میں تنقید کا نشانہ بننے والے صرف حکومتی چہرے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ریاستی ادارے بھی تھے۔ یہ وہ ادارے ہیں جو دن رات ملک کی حفاظت، ترقی اور نظام کو رواں رکھنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اکثر ان کی خدمات ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہیں، مگر حقیقت میں وہی ہماری ریاست کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر وہ کچھ غلط کام کربھی لیں تو یہ کوئی طریقہ نہیں کہ اُنکو گالم گلوچ کرکے ویڈیوز وائرل کردی جائیں ۔ یہ کام صرف ملک دشمن عناصر ہی کرسکتے ہیں ۔ بھلا اپنے گھر میں خرابی کے وقت لوگ اپنے گھر کو بدنام کرنا شروع کردیتے ہیں؟ یا خاموشی سے اُسکی مرمت کرتے ہیں؟ ذرا سوچئے گا ۔۔۔

یہ سمجھنا ہماری قومی ذمہ داری ہے کہ ہم اداروں کے خلاف غلط بیانی بالکل نہ پھیلائیں۔ اگر تنقید کرنی ہو تو شائستگی اور تحقیق کے ساتھ کی جائے تاکہ اداروں کی ساکھ متاثر نہ ہو۔ اور اگر کبھی کوئی شخص ایسی غلط بیانی کی غلطی کربیٹھے تو اُسکی ویڈیو کو رپورٹ کریں اور پھیلانے سے گریز کریں ۔

مثبت گفتگو ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے 1
مثبت گفتگو ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے 1

غصے کے اظہار میں احتیاط کیوں؟

ہر فرد کو اظہارِ رائے کی آزادی تو ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم گالم گلوچ اور بدتمیزی کو آزادی کا نام دے دیں۔ جب کوئی اپنی حدود سے تجاوز کرتا ہے، تو وہ صرف ایک شخص کو نہیں بلکہ پوری قوم کی تربیت اور وقار پر حملہ کرتا ہے۔ ہماری آنے والی نسل بھی متاثر ہوگی کہ پاکستان کی تاریخ میں وائرل چیزیں یہی گالم گلوچ ہوتی تھیں؟ لوگ کیا سیکھیں گے اور کیا چیز فروغ پائے گی ۔ خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجئے ۔

اس بزرگ شہری نے جب خود ہی بعد میں اعتراف کیا کہ ان کا عمل غلط تھا اور انہوں نے تہہ دل سے معافی مانگی، تو وہ قوم کے لیے ایک سبق چھوڑ گئے: غلطی کا اعتراف جرات کی علامت ہے اور یہ انہوں نے اتنا بڑا کارنامہ کیا ہے کہ جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے ۔ ریاست سے ٹکرانا ایک بیوقوفی کے علاوہ کچھ نہیں ۔ اور افسوس اس بات کا ہے کہ اگر کوئی ریاست سے ٹکرانا چاہے تو ایک خاص گروہ اُسکی حمایت اور مدد کے لئے تیار بیٹھا ہے جو شر پھیلانے کے لئے اتنے متحرک ہیں کہ بس کوئی بہانہ مل جائے تو فوراً بدامنی اور فساد پھیلانا شروع کردیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو اندرونی بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھے ۔ آمین ۔

معافی: کمزوری نہیں، شعور کی علامت

ہمارے ہاں معافی مانگنے کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ معافی مانگنے سے انسان کا وقار بڑھتا ہے اور وہ دوسروں کے لیے ایک مثبت مثال قائم کرتا ہے۔ جس انداز میں اس ویڈیو کے کردار نے دوبارہ منظرعام پر آکر معافی مانگی، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی لوگوں میں ابھی بھی اقدار اور اخلاقیات باقی ہیں ۔ ۔ یہ مثال ہمیں بھی سکھاتی ہے کہ اگر کبھی جذبات میں بہک جائیں، تو ندامت کے ساتھ رجوع کرنے میں دیر بالکل نہ کریں۔

اسلام کی تعلیمات بھی ہمارے لئے یہی ہیں کہ لوگوں سے اچھی بات کہا کرو ۔ اور غصہ کا اظہار یا پریشانی کا اظہار کرتے وقت بھی اپنے اوپر قابو رکھو اور اچھے الفاظ میں بات کرنا سیکھو ۔ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر یہ نصیحت کی گئی ہے ۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے خیالات کا اظہار شائستہ اور مہذب انداز میں کریں، خاص طور پر خواتین کے بارے میں۔ اگر کوئی عورت حکومت میں ہو تو اُس کے خلاف بھی تنقید انتہائی محتاط انداز میں کی جائے۔ نہ یہ سمجھا جائے کہ ہماری مخالف پارٹی میں کوئی عورت بھی ہو تو اُسکا بھی پوسٹ مارٹم کریں گے اور اُسکی بھی عزت کو خاک میں ملائیں گے ۔ یہ بالکل غلط ہے ۔ دوستو! ان سب رویوں کو بدلنے کی ضرورت ہے اور مثبت گفتگو کا طریقہ اپنانے کی ضرورت ہے ۔ ۔

ہم سب کو بحیثیت قوم جوش سے زیادہ ہوش کی ضرورت ہے ۔ یاد رکھیں کہ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ قوم کی پہچان بنتے ہیں ۔ ہم سب کو ایک دوسرے کے جذبات کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا اور سوشل میڈیا کو معاشرتی اصلاح اور مثبت گفتگو کا ذریعہ بنانا ہوگا، نہ کہ نفرت پھیلانے کا۔

مثبت گفتگو ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے 2
مثبت گفتگو ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے 2

آئیے پاکستان کی قدر کریں

اسی مضمون کے ضمن میں آپکو آیک کتاب بھی پڑھنے کا مشورہ دوں گا جس کا نام ہی یہی ہے کہ آئیے پاکستان کی قدر کریں ۔ جس میں آپکو بتایا جائے گا کہ ملک عزیز کوئی تھالی میں رکھ کر پیش کیا جانے والا کھانا نہیں تھا ۔
۔”آئیے پاکستان کی قدر کریں” پڑھیں۔🔗 ابھی آرڈر کریں


Kitabfarosh Started a new mission to provide you with thousands of FREE articles on ReadNGrow.online
Please Visit this site and also we request you to please follow our official WhatsApp channel for regular updates.
And Visit this Home Page of Kitabfarosh at https://kitabfarosh.com.


اگر کوئی ویڈیو غصے یا نفرت پر مبنی ہو تو کیا ہم اُسے شیئر کریں؟

نہیں، ایسی ویڈیوز کو روکنا قومی و دینی فرض ہے۔

تنقید کب اور کیسے کرنی چاہئے؟

تنقید ہمیشہ شائستہ، تحقیق پر مبنی اور مثبت ہونی چاہیے۔

کیا سوشل میڈیا پر معافی کا اظہار فائدہ مند ہوتا ہے؟

جی ہاں، یہ شعور اور تربیت کی علامت ہے اور دوسروں کے لیے سبق ہوتا ہے۔

You May Also Like…

0
0
Your Cart
Your cart is emptyReturn to Shop