معاشرہ میں بیٹیوں پر 3 بڑے مظالم ہورہے ہیں جن کا حل کرنا ضروری ہے
بیٹیاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کی گئی وہ بے مثال نعمت ہیں جن کے قدم رکھتے ہی گھروں میں رحمتیں برسنے لگتی ہیں ۔ اسلام نے جس طرح عورت کو عزت دی، اسی طرح بیٹیوں کو بھی خصوصی مقام عطا کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف زمانۂ جاہلیت کے ظالمانہ رواج یعنی بیٹیوں کو زندہ درگور کرنے کی سختی سے ممانعت فرمائی بلکہ بیٹیوں کی پرورش کو باعثِ جنت قرار دیا۔ مگر افسوس، صد افسوس کہ آج کا معاشرہ(جسے تعلیم، اخلاق اور دین کی روشنی میں زیادہ بہتر ہونا چاہیے تھا)بیٹیوں پر ایسے مظالم ڈھا رہا ہے جو پرانی جاہلیت سے بھی کہیں بڑھ کر ہیں۔ اسلام ہمیں بیٹیوں کی عزت، تکریم اور بہترین تربیت کا حکم دیتا ہے، لیکن پاکستان سمیت دنیا کے کئی معاشروں میں آج بھی لڑکیوں پر ہونے والے مظالم اپنی شدت کے ساتھ موجود ہیں۔ ایک طرف ہم زبان سے کہتے ہیں کہ بیٹیاں رحمت ہوتی ہیں، دوسری طرف عملی زندگی میں
domestic violence, sexual harassment،
زبردستی کی شادیاں
(forced marriage)،
کم عمری کی شادی
(child marriage)،
اور بعض علاقوں میں
honour killing
جیسے سنگین جرائم عام دیکھے جاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ آج ’’پاکستان میں لڑکیوں کے ساتھ ظلم اور تشدد‘‘، ’’پاکستان میں جنسی زیادتی کے کیسز‘‘، ’’کم عمر بچیوں کی حفاظت‘‘ اور ’’عورتوں پر تشدد کے اعداد و شمار‘‘ جیسے الفاظ سرچ انجنز پر زیادہ دکھائی دیتے ہیں—جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشرہ درد مند بھی ہے اور فکر مند بھی ہے کہ ان مسائل کا حل کیسے کیا جائے۔
Table of Contents
ان سب کے حل ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جب معاشرے میں لڑکیوں پر ظلم بڑھتا ہے تو صرف ایک فرد یا ایک خاندان متاثر نہیں ہوتا، بلکہ پوری سوسائٹی میں فسادات پھیلنے لگتے ہیں ۔ لڑکیوں کی تعلیم رک جائے تو آنے والی نسلیں کمزور ہوجاتی ہیں اور لڑکیوں کو اگر انصاف نہ ملے تو بہت زیادہ خرابیاں پھیلنے لگتی ہیں۔ یہی وہ نکات ہیں جنہیں باریکی سے سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اصل تباہی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں ظلم کو ’’معمول‘‘ سمجھ لیا جائے۔
پہلا ظلم ہے شادی سے پہلے تربیت نہ کرنا
ہمارے معاشرے میں لڑکیوں پر ہونے والے بے شمار مظالم میں ایک بڑا، مگر کم نظر آنے والا ظلم یہ ہے کہ شادی سے پہلے ان کی صحیح تربیت نہیں کی جاتی۔ والدین اکثر محبت، مصروفیت یا غلط فہمی میں یہ سمجھ لیتے ہیں کہ “بیٹی کو سمجھانے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ سسرال جا کر سب سیکھ جائے گی۔” لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ بیٹیاں کوئی مضبوط دل ودماغ کی مالک نہیں ہوتیں کہ زندگی میں آنے والے مشکل حالات کو خود بہ خود سنبھال لیں بلکہ یہ تو صنف نازک ہیں ۔ نازک مزاج بھی ہوتی ہیں، حساس بھی، اور ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ایک نئے ماحول، نئی ذمہ داریوں اور نئی شخصیات میں بغیر تربیت کے گھل مل جائیں گی—یہ توقع دراصل ایک غیر محسوس ظلم ہے۔
یہی وہ پہلا ظلم ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے تشدد، ذہنی دباؤ،
domestic violence،
اور بعد میں پیدا ہونے والے گھریلو مسائل بڑھ رہے ہیں۔
والدین کبھی سوچتے بھی نہیں کہ جب لڑکی نئی زندگی میں قدم رکھتی ہے، تو اسے بہت ساری صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہئے ۔ بہت ساری ایسی چیزیں جو اسکو بتدریج محبت سے، شفقت اور مسلسل محنت سے سکھا دینی چاہئے۔اتنا کافی نہیں کھانا پکانا اور برتن دھونا آجائے بلکہ اعتماد، گفتگو، تعلقات نبھانے کی صلاحیت، خودداری، صبر، ذمہ داری اور حدود کا شعور بھی چاہیے ہوتا ہے۔ یہ تمام چیزیں خود سے نہیں سیکھ لی جاتیں، نہ ہی اچانک شادی کے بعد ذہن میں اترآئیں گی ۔ کچھ لڑکیاں واقعی سمجھ جاتی ہیں، ماحول کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتی ہیں لیکن ایسی بہت ہی کم ہوتی ہیں۔ اکثریت بار بار ٹوٹ جاتی ہیں، روتی رہتی ہیں اور بکھربکھر کر خود کو سنبھالتی رہتی ہیں حتیٰ کہ زندگی کا بہترین حصہ اسی کشمکش میں گزار دیتی ہیں۔اور والدین بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔
لیکن میں آپکو ایک خوشی کی بات بتاتا ہوں کہ اس مسئلے کا حل موجود ہے—اور نہایت آسان۔ اگر والدین اپنی بیٹیوں کی صحیح رہنمائی وقت پر کر دیں تو اُن کی آنے والی زندگی آسان بھی ہو سکتی ہے اور والدین کے لئے بھی عافیت ہوسکتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایسی اچھی اچھی کتابیں موجود ہیں جو خاص طور پر لڑکیوں کی شخصیت، اخلاق، گھریلو زندگی اور اسلامی تربیت کے لیے لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے دو کتابیں خاص طور میں آپکو یہاں بتا رہا ہوں جوبطورِ ہدیہ بیٹی کو دی جائیں تو اس کی سوچ، سمجھ اور زندگی کے فیصلے بہت زیادہ بہتر ہوجائیں گے۔
پہلی کتاب “تربیتِ خواتین” ہے، جس کی تفصیلات آپ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/tkn/
دوسری کتاب “تحفۂ خواتین” ہے، جو نہایت عمدہ ، مقبول اور اور جامع کتاب ہے، اس کی تفصیلات یہاں دیکھی جا سکتی ہیں:۔
https://kitabfarosh.com/product/thkh
یہ دونوں کتابیں نہ صرف بیٹیوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کرتی ہیں بلکہ انہیں زندگی کے عملی میدان میں اعتماد کے ساتھ قدم رکھنے کا حوصلہ بھی دیتی ہیں۔
دوسرا بڑا ظلم ہے بیٹی کو اپنے سے دور کردینا
آج ہمارے معاشرے میں لڑکیوں پر ہونے والا دوسرا بڑا ظلم یہ ہے کہ انہیں شرعی حدود کا لحاظ کئے بغیر دوسرے شہر کی یونیورسٹی یا کالج میں بھیج دیا جاتا ہے۔ والدین عموماً یہ سوچ کر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلانا ضروری ہے—جو یقیناً ایک اچھی سوچ ہے—مگر مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب والدین کو دینی مسائل کا اور حدود کا علم نہیں ہوتا۔لڑکی کی تربیت پر بھی کوئی محنت نہیں کی گئی ہوتی اور اُنکو دینی تعلیم بھی نہیں دی گئی ہوتی تو اس غفلت کی وجہ سے پھر ایسے ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں کہ اُنکو لکھنا بھی مناسب نہیں لگتا۔ ایسے حیا سوز اور دلسوز واقعات آئے روز سامنے آتے ہیں کہ خدا کی پناہ ۔
یاد رکھیں! اسلام میں لڑکی کی حفاظت کو غیر معمولی طور پر اہمیت دی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کی عزت، پردے، حیا اور محرم کی اہمیت پر واضح تعلیمات دیں۔ قدیم دور میں بلکہ حال ہی میں بس کچھ عرصہ پیچھے چلے جائیں تو والدین بیٹی کے گھر سے باہر نکلنے کے بارہ میں بہت تشویشناک حد تک پریشان ہوجاتے تھےاور جب تک وہ لڑکی واپس گھر نہ پہنچ جاتی تو انتہائی فکرمند رہتے تھے، کسی جگہ پر لڑکی اگر رات گزار لے تو یہ تو ممکن ہی نہیں تھا، اس لیے کہ اُن کے نزدیک لڑکی کی عزت پورے خاندان کی عزت ہوتی تھی۔ مگر آج والدین کے دلوں میں اب وہ فکر اور ذمہ داری نہیں رہی ۔ جب ایک لڑکی دوسرے شہر جاتی ہے، ہاسٹل میں رہتی ہے، راتیں باہر گزارتی ہے، نئے نئے ماحول میں اکیلے رہتی ہے—تو اس اسکی غیر مناسب دوستیوں، غلط سہیلیوں سے تعلقات اور دیگر اثرات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ اُسکے پاس ان کاموں کے لئے زیادہ سہولیات ہوجاتی ہیں کہ وہ جس سے چاہے دوستی کرے، جہاں مرضی رات گزارے اور جہاں مرضی دن گزارے۔ اکیلی لڑکی کے لئے خاندان یا والدین کی آنکھوں میں دھول جھونکنا کوئی مشکل نہیں خاص طور پر اگر وہ دوسرے شہر میں ہو۔
چند دن پہلے گردش کرنے والی ایک خبر (جس کی تفصیلات مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر زیرِ بحث رہیں) نے والدین کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس خبر میں دعویٰ کیا جا رہا تھا بلکہ ویڈیو بھی دکھائی جارہی تھی کہ ایک یونیورسٹی ہاسٹل کی سیوریج لائن سے متعدد استعمال شدہ کنڈوم برآمد ہوئے۔ اس بات سے پورے معاشرہ پر یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ کیا واقعی ہاسٹلز وہ محفوظ جگہیں ہیں جن کا والدین تصور کرتے ہیں؟ کیا وہاں کا ماحول، میل جول، تنہائی، آزادی، اور نگرانی کی کمی لڑکیوں کے لیے اخلاقی اور ذہنی خطرات کا باعث نہیں بنتی؟کیا وہاں پر والدین کی طرح لڑکی کی حفاظت کرنے والا کوئی دوسرا شخص موجود ہے؟ کیا وہاں پر اگر لڑکی سے کوئی غلطی ہوگئی توخاندان والے اپنی عزت کو خاک میں ملتا ہوا دیکھ سکتے ہیں؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ دور دراز یونیورسٹیوں میں بیٹیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع تو ہوتے ہیں مگر ان مواقع کے ساتھ ساتھ اگر خطرات کی لسٹ بنالی جائے تو معلوم ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم دلوانے کے لئے اتنے بڑے بڑے خطرات مول لینا کسی صورت عقلمندی کی علامت نہیں ہے۔ اگر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ لڑکی کو یونیورسٹی بھیج دینا ہی مستقبل کی کامیابی ہے، تو اُنکی یہ سوچ ادھوری ہے—کیونکہ وہ لڑکی کو تعلیم دلوانے کا تو سوچ رہے ہیں مگر اسکے لئے غلط طریقہ اختیار کرنے کی نزاکت اور خطرات کو نہیں سمجھ رہے ۔یاد رکھیں بیٹیوں کے معاملہ میں حفاظت، تربیت، کردار سازی، دینی رہنمائی اور مناسب نگرانی وغیرہ، یہ سب چیزیں اعلیٰ تعلیم سے کئی درجہ زیادہ ضروری ہیں ۔ والدین بعد میں بہت پچھتاتے ہیں، مگر اس وقت تک اکثر بہت کچھ بگڑ چکا ہوتا ہے۔
ملتان کے ایک کلینک میں پیش آنے والا واقعہ
ملتان شہر کی ایک گرم دوپہر تھی۔ کلینک میں معمول کے مریض آ جا رہے تھے اور ڈاکٹر اپنے چیمبر میں بیٹھا ہوا روزمرہ کی طرح ایک ایک مریض کو دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران دروازہ یکدم زور سے کھلا اور ایک نوجوان لڑکا اور لڑکی ہانپتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ لڑکی کے چہرے پر خوف کی سفیدی چھائی ہوئی تھی، آنکھیں روتے روتے سوج چکی تھیں، اور ہاتھ کانپ رہے تھے۔ لڑکا بھی شدید گھبراہٹ میں مبتلا دکھائی دے رہا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی دونوں نے انتہائی بے بس لہجے میں ڈاکٹر سے کہا: “سر خدا کے لیے ہماری مدد کریں… ہم بہت مشکل میں ہیں… کوئی ہماری بات سن ہی نہیں رہا۔” کلینک میں موجود مریض بھی اس اچانک منظر سے چونک اٹھے تھے۔
ڈاکٹر نے انہیں اندر والے کیبن میں بلایا اور دروازہ بند کر کے اطمینان سے پوچھا: “بیٹا بتاؤ، مسئلہ کیا ہے؟” یہ سنتے ہی لڑکے کا ضبط جیسے ٹوٹ گیا۔
اس نے لرزتی آواز میں کہا: “سر… ہم دونوں یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں… دونوں اپنے اپنے ہاسٹل میں رہتے ہیں… دوستی ہوئی… پھر وہ دوستی آگے بڑھ گئی… ہم نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا کچھ ہو جائے گا… لیکن سر… اسے حمل ٹھہر گیا ہے۔” یہ کہہ کر وہ کرسی پر گر سا گیا۔ لڑکی یہ سنتے ہی دوبارہ سسکیوں کے ساتھ رونے لگی۔

ڈاکٹر نے حیرت اور سنجیدگی کے ساتھ پوچھا: “تم لوگوں نے اس بارے میں پہلے کہیں دکھایا؟” لڑکے نے فوراً کہا: “سر… پورا شہر چھان مارا ہے۔ ایک بھی ڈاکٹر تیار نہیں۔ سب کہتے ہیں حکومت نے سختی کر رکھی ہے، ابارشن قتل کے برابر ہے، کیس لیں تو پولیس، عدالت سب پڑ جائیں گے۔ سر… کوئی ہماری مدد نہیں کر رہا… ہمیں سمجھ نہیں آ رہا ہم کیا کریں؟” لڑکی کے چہرہ پر خوف، پریشانی اور مایوسی کے اثرات صاف واضح تھے اور وہ مسلسل روئے جارہی تھی۔
لڑکے نے مزید ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا: “سر… یونیورسٹی کی چھٹیاں شروع ہونے والی ہیں… جب یہ گھر جائے گی تو سب کچھ پتہ چل جائے گا… اس کے والدین برداشت نہیں کر سکیں گے کہ ان کی بیٹی بغیر شادی کے حاملہ ہو کر واپس آئے… سر وہ اسے مار ڈالیں گے… ہمیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا… سر خدا کے واسطے کچھ کر دیں…”۔۔
اور اُسکی بات بالکل بجا تھی کہ والدین اب کر بھی کیا سکتے تھے کہ جس لڑکی کو انہوں نے دوسرے شہر تعلیم دینے کے لئے بھیجا تھا وہ وہاں سے بچہ اپنے پیٹ میں لے کر آگئی اور وہ بچہ بھی بغیر نکاح اور شرعی حدود کے۔ ڈاکٹر چند لمحے خاموش بیٹھا رہا۔ لڑکی کی ہچکیوں کی آواز چھوٹے سے کمرے میں گونج رہی تھی۔ لڑکا اس کو بار بار سنبھالنے کی کوشش کرتا مگر خود بھی پریشان تھا۔
لڑکی بار بار یہی دوہرا رہی تھی: “میں گھر کیسے جاؤں گی… میں کیا جواب دوں گی… میں کہاں جاؤں…؟” لڑکا بار بار دوہرا رہا تھا: “سر، ہماری آخری امید آپ ہیں… پلیز ہماری مدد کریں…”۔
اس جیسے بیسیوں واقعات اور بھی ہیں جو عموماً منظر عام پر نہیں آتے۔ لڑکی جوان ہو اور لڑکا بھی جوان ہو تو کون سی سائنس، کون سا مذہب یا کون سی ایسی کتاب ہے جوپڑھ کر والدین تسلی میں آجاتے ہیں کہ ان دونوں سے کوئی غلطی نہیں ہوگی۔ حالانکہ جوانی تو نام ہی غلطیوں کا ہےمگر اسکے مواقع کو آسان بنا دینا کہاں کا انصاف ہے؟ہاسٹل کی آزادی دینا غلطیوں کے آسان بنانے کا موقع فراہم کرناہے۔تعلیم کے ذریعے مستقبل محفوظ کرنا تھا مگر الٹا تباہی کا سبب بن گیا۔
ایک اور لرزہ خیز واقعہ
یہ ایک اورواقعہ چند دن پہلے ہی میرے سامنے آیا ۔ ایک امیر گھرانے کی لڑکی تھی، شکل و صورت، رہن سہن، لباس، انداز—ہر چیز سے اس کی حیثیت جھلکتی تھی۔ وہ ایک بڑے شہر کے معروف ہاسٹل میں رہتی تھی۔ میڈیکل یونیورسٹی کی یہ اسٹوڈنٹ امیر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت خوبصورت بھی تھی۔ اسکے ہاسٹل میں ایک وارڈ بوائے بھی کام کرتا تھا، جو کئی سالوں سے اپنی ڈیوٹی نہایت اچھے طریقے سے انجام دے رہا تھا۔ ہاسٹل کے تمام عملے کو اس کی محنت اور اسکے مزاج کا پتہ تھا۔ اس کا کام بس روز کے کام کرنا، صفائی دیکھنا، سامان ترتیب دینا اور پھر اپنے چھوٹے سے کمرے میں واپس چلا جانا تھا۔
ایک رات ہاسٹل میں ایک غیر معمولی حالت پیدا ہوئی۔ یہ لڑکی کسی پارٹی میں گئی ہوئی تھی۔ رات دیر گئے جب وہ واپس آئی تو قدم لڑکھڑا رہے تھے، آنکھوں میں نشے کا خمار تھا، اور چہرے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ خود پر پوری طرح قابو میں نہیں کرپارہی۔ گیٹ سے داخل ہوتے وقت اس نے نہ چوکیدار سے بات کی نہ ہی کسی اور سے بلکہ بس سیدھی ہاسٹل کی راہداری میں بڑھ گئی۔ وہاں اس کی نگاہ اچانک وارڈ بوائے پر پڑی، جو اپنی معمول کی شفٹ ختم کر کے کسی کمرے کی چابی واپس رکھ رہا تھا۔
لڑکی اچانک اس کی طرف بڑھ گئی۔ نشے کے زیرِ اثر اس کا رویہ بے حد عجیب تھا۔ اس نے وارڈ بوائے کے ساتھ ایسی حرکتیں شروع کر دیں جو کسی ہوش مند انسان سے تو ممکن نہ ہوتیں۔ وارڈ بوائے، جو برسوں سے وہاں کام کر رہا تھا، اس صورتِ حال سے یکدم گھبرا گیا، مگر لڑکی کی حالت ایسی تھی کہ وہ غلط حرکات کررہی تھی،مسلسل نازیبا حرکات اور لڑکی کے نشہ والی حالت کو دیکھتے ہوئے وہ وارڈ بوائے بھی قابو نہ رکھ سکا۔آخر وہ بھی تو جوان تھا اور لڑکی بھی جوان ہونے کے ساتھ ساتھ آزاد، خوبصورت اور بے ہوشی کے عالم میں تھی۔اب ان دونوں کو روکنا کسی کے بس میں نہیں تھا۔ وہ اسے ایک خالی کمرے میں لے گیا، اور پوری رات وہیں گزری۔
صبح جب روشنی کمرے میں داخل ہوئی اور لڑکی کا نشہ اُترا، تو اسے اپنی حالت کا پورا احساس ہو گیا۔ چہرے پر خوف، غصہ ، شرمندگی اور پریشانی ایک ساتھ نمایاں ہو گئے۔ لیکن اصل جھٹکا اس وقت لگا جب اسے معلوم ہوا کہ رات جو کچھ ہوا، وہ وارڈ بوائے کے ساتھ ہوا ہے—کسی کلاس فیلو یا جان پہچان والے لڑکے کے ساتھ نہیں۔ یعنی امیر لڑکی تھی اور یہ سب کچھ کرنے والا ایک معمولی وارڈ بوائے تھا۔بس اب صورتحال مزید اسکے لئے ناقابل برداشت ہوگئی۔
غصے میں اس نے کچھ غنڈوں کو بلایا۔ وارڈ بوائے پر سارے غنڈے چھوڑ دئیے گئے۔ اسے ہاسٹل کے باہر اتنا مارا گیا کہ وہ لہولہان ہو کر زمین پر گر گیا۔ جان بچا کر بھاگا، اور جانتا تھا کہ اگر واپس آیا تو اپنی نوکری ہی نہیں، اپنی زندگی بھی خطرے میں ڈال دے گا۔ اس نے بھاگ کر جان تو بچا لی، مگر نوکری ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی، اور واقعہ وہیں دب گیا، کہ اگر کھلتا تو لڑکی کی بدنامی کا خطرہ تھا۔
دوستو! شاید آپ اس پر یقین نہ کریں لیکن وہ لڑکا میرے محلہ دار تھا۔ میں اُسکو برسوں سے جانتا تھا۔ غلطی اُس سے بھی ہوئی لیکن کیا صرف اُسی کی غلطی تھی؟ پورے منظر کو دیکھئے کہ سب سے پہلی غلطی والدین نے کی تھی کہ لڑکی کو اپنے سے دور بھیج دیا اور پھر عیاشی کے پورے پیسے بھی دے دئیے اورآزادی تو ویسے ہی مل چکی تھی۔ اس پر مزید بھی سوچئے گا۔
یونیورسٹی کی محبت اور لڑکی کا ایک خوفناک واقعہ
یہ تیسرا واقعہ بھی حقیقت پر مبنی ہے اور میں خود اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہوں کہ والدین جب بیٹیوں کو اعتماد میں لے کر شہر بھیجتے ہیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کریں گی لیکن۔۔۔۔
لڑکی ایک عام، سادہ مزاج گھریلو ماحول سے یونیورسٹی پہنچی۔ اسکا تعلق ملتان کے کسی دیہات سے تھا۔ والد زمیندار تھے لیکن اتنے امیر نہیں تھے بلکہ سادہ منش ہی تھے۔ چند ہفتے ہی گزرے تھے کہ لڑکی نے شہر کے ماحول، نئی سہیلیوں کے تعلقات، نئی نئی باتیں اور نئے نئے انداز والا یونیورسٹی کلچر پوری طرح سمجھ لیا۔ تبدیلی پہلے لباس میں آئی کہ گھر میں تو عبایا پہن کر نکلنا ہوتا تھا اور جہاں بھی جانا ہوتا تھا تو گھر میں کسی کو بتاکر جانا ہوتا تھا مگر اب یہاں نت نئے نئے کپڑے، بے ہودہ لباس اور اس جیسی سب چیزیں سہیلیوں کے خاص تعاون سے ہورہی تھیں ۔ پھر رویّے میں، پھر خیالات میں اور پھر مختلف سرگرمیوں میں تبدیلیاں آتی گئیں۔ کچھ عرصے بعد اس نے ایک امیر گھرانے کے لڑکے کو اپنے معاشقے میں جکڑ لیا۔ یونیورسٹی کے کورسز، گروپ اسائنمنٹس اور کیفیٹیریا کی ملاقاتیں آہستہ آہستہ محبت کے اظہار میں بدل گئیں۔ پھر یہ خبر پورے کیمپس میں پھیل گئی کہ دونوں کا رشتہ رسمی طور پر طے ہو گیا ہے۔ بات منگنی تک پہنچ گئی اور یہ سب کچھ صرف یونیورسٹی کی حد تک ہورہا ہے لڑکی کے والدین کو کسی چیز کا پتہ نہیں ہے۔ لڑکے نے اعتماد دلانے کے لئے وعدہ کرلیا کہ وہ بیس لاکھ روپیہ مالیت کی زمین بھی حق مہر میں دےگا اور سچی محبت کے جوش میں لڑکے نے پانچ تولہ سونا بھی بطور حق مہر بغیر نکاح کے ادا کردیا۔
وقت گزرتا گیا اور جب نکاح کا معاملہ سامنے آنے لگا تو لڑکی نے اچانک ٹال مٹول شروع کر دی۔ پہلے کہا: “میری تعلیم مکمل ہونے دو۔” پھر جب لڑکے نے مسلسل اصرار کیا، کیونکہ وہ سچ میں رشتہ نبھانے کے لیے تیار تھا، تو لڑکی نے ایک نئی شرط رکھ دی: “اگر سچا عشق ہے تو حق مہر ابھی پورا ادا کر دو، پانچ تولے تو دے چکے ہو، اب بیس لاکھ مالیت کی زمین بھی دے دو، پھر نکاح کر لیتے ہیں۔”۔
یہ سن کر لڑکا پریشان ہو گیا۔ اس نے کہا: “میں نے اپنی محبت ثابت کرنے کے لیے پہلے ہی سونا دے دیا ہے، اب زمین مانگ رہی ہو؟ ابھی تو نکاح بھی نہیں ہوا!” ۔
بس یہ سننا تھا کہ لڑکی کو غصہ آگیا اور اِس نے بات بڑھا دی۔ بات اس قدر بگڑ گئی کہ لڑکی نے ایک جھوٹا دعویٰ لڑکے کے خلاف دائر کر دیا۔ یونیورسٹی میں اس واقعے کی خبریں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں، مگر لڑکی نے اپنے والدین تک کچھ نہ پہنچنے دیا۔ ادھر والدین مطمئن تھے کہ بیٹی پڑھ رہی ہے، اور اِدھر وہ ایک نوجوان کی زندگی کو عدالتی کیسز میں پھنسا رہی تھی۔لڑکا اس کیس سے بے حد ذہنی دباؤ میں آگیا۔لڑکے پر کیس ہوچکا تھا وہ مختلف پیشیاں بھی بھگت رہا تھا۔ خیر لمبے واقعے کو مختصراً یہی عرض کروں گا کہ کچھ ماہ بعد والدین نے اس کا رشتہ کہیں اور کر دیا، شادی ہو گئی، گھر بسا لیا—مگر یونیورسٹی والا یہ جھوٹا کیس آج بھی اس کے لیے آزمائش بنا ہوا ہے۔ میں جب اُسکے ولیمہ پر گیا تو لڑکے نے بتایا کہ وہ کیس ابھی تک چل رہا ہے۔
یہ واقعہ اسی سچائی کی جھلک ہے کہ جب لڑکی کو شرعی حدو کا دھیان کئے بغیر اتنی آزادی دے دی جائے تو یہی پہلی غلطی ہوتی ہے ۔ اسکے بعد اگر لڑکی کا معاشقہ ہوا یا لڑکے کا قصور ہے تو پہلی غلطی والدین کرچکے ہیں۔ مجھے اتنی سی بات سمجھ نہیں آتی کہ اگر والدین مسلمان ہیں تو وہ دینی تعلیمات اور شرعی حدود کو کیسے بھول جاتے ہیں؟ لڑکی کی اعلیٰ تعلیم کے لئے اسلام کو ہی پس پشت ڈال دیتے ہیں؟ ذرا اس پر سوچئے گا کہ اسلام نے جتنی بھی پابندیاں لگائی ہیں اور جو بھی تعلیمات دی ہیں وہ ہم سب کے فائدہ ہی کے لئے تھیں۔
دیہات کی سادہ مزاج لڑکی جو یونیورسٹی کے ماحول میں بدل گئی
اسی طرح دوستو! ایک اور لڑکی کے حالات آپکو بتاتا ہوں ، یہ سب حالات ہمارے معاشرہ کے لئے شدید لمحہ فکریہ ہیں ۔ یہ لڑکی ایک دیہات میں رہنے والی، نہ زیادہ امیر، نہ زیادہ آزاد خیال—ایک عام سی، مناسب گھرانے کی بیٹی تھی۔ اس کی تربیت گھریلو ماحول میں سادگی، حیا، محدود میل جول اور روایتی ذمہ داریوں کے ساتھ ہوئی تھی۔ والدین کا خیال تھا کہ اگر اس کی تعلیم بہتر ہو جائے تو مستقبل سنور جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے فیصل آباد کی ایک یونیورسٹی میں داخل کروا دیا۔ وہ سمجھتے تھے کہ بیٹی صرف پڑھنے جا رہی ہے، ماحول اچھا ہوگا، ہاسٹل میں رہ کر وہ اپنے مقصد پر توجہ دے گی۔ مگر انہیں کیا خبر تھی کہ دراصل ان کے گھر کی عزت، ان کا بھروسہ اور ان کی بیٹی—تیزی سے ایک ایسے راستے پر ڈال دی جا رہی ہے جس کا کوئی کنٹرول ان کے ہاتھ میں نہیں رہا۔
یونیورسٹی پہنچتے ہی اس لڑکی کے رویّے میں تبدیلی آنا شروع ہو گئی۔ پہلے لباس بدلا، پھر لہجہ، پھر دوستیاں۔ ہاسٹل میں کچھ ایسی لڑکیاں تھیں جن کا معمول یہی تھا کہ بازاروں میں گھومنا، فیشن کرنا، چھیڑ چھاڑ کرنا، لڑکوں سے دوستیوں کو معمول سمجھنا، اور ہنسی مذاق میں وہ حدود پار کرنا جنہیں ایک باحیا خاندان میں سوچا بھی نہیں جاتا۔ اس نئی دوستوں کی محفل نے اسے بھی آہستہ آہستہ اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ یونیورسٹی کے کیمپس سے باہر نکل کر بازاروں میں گھنٹوں لمبے چکر لگانا، سینٹر پوائنٹ پر بیٹھ کر وقت ضائع کرنا، اور ہاسٹل میں رات گئے تک غیر ضروری محفلیں—یہ سب اس کی نئی زندگی کا حصہ بن گیا۔
پھر ایک دن اس نے موٹر سائیکل چلانا بھی سیکھ لیا۔ سوشل میڈیا پر پوسٹس، تصویریں، ویڈیوز… وہ سب کچھ کرنے لگی جو کبھی اس کے والدین کے خوابوں میں بھی نہیں تھا۔ یہ وہ راستہ تھا جس پر قدم رکھتے ہی لڑکی نے نہ صرف اپنے خاندان کی روایات بلکہ اپنی تربیت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ گھر والے دیہات میں بیٹھے مطمئن تھے کہ بیٹی تعلیم حاصل کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ ایک ایسی رفتار سے پھسلتی جا رہی تھی جسے روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ اسے لگتا تھا کہ آزادی ہی اصل زندگی ہے—مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ آزادی اور بے راہ روی میں بس ایک لکیر کا فاصلہ ہوتا ہے۔مگر اب اُسکو سمجھانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں اور اگر وہ والدین کی عزت کو پامال کردیتی ہے تو بھی پہلا قصور تو والدین کا ہی شمار کیا جائےگا۔۔۔۔
اگر اس وقت کوئی اسے روک لیتا، سمجھا دیتا، یا والدین اس کی زندگی اور فیصلہ کو سنجیدگی سے دیکھتے اور شرعی حدود کا خیال رکھتے تو شاید آج وہ راستہ مختلف ہوتا۔ والدین کا بھروسہ واقعی قیمتی ہوتا ہے، مگر اس سے بھی زیادہ قیمتی بیٹی کی عزت ہوتی ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جسے اسلام سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ دین کہتا ہے تعلیم حاصل کرومگر شرعی حدود کا بھی تو دھیان کرو۔اگر تعلیم عزت چھین لےتو پھر عزت بچانا زیادہ ضروری ہے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہر بیٹی کی حفاظت، تربیت اور نگرانی—تعلیم سے کہیں زیادہ ضروری ہے، کیونکہ ڈگری بعد میں کام آتی ہے، مگر عزت ہمیشہ ساتھ چلتی ہے۔
گھر سے باہر تعلیم دلوانے سے پہلے گھر میں تربیت ضروری ہے
دوستو! آج جس تیزی سے زمانہ بدل رہا ہے، اسی رفتار سے لڑکیوں کی حفاظت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ بہت سے والدین حالات یا مجبوری کے تحت اپنی بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے گھر سے باہر بھیج دیتے ہیں۔ کہیں دوسرا شہر، کہیں دور کا کیمپس، کہیں ہاسٹل… مگر اصل غلطی اُس وقت ہوتی ہے جب وہ سمجھ لیتے ہیں کہ “بیٹی سمجھدار ہے، اپنا خیال خود رکھ لے گی۔” حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آزاد ماحول میں لڑکی کو بالکل بے نگرانی چھوڑ دینا اسلام میں قطعاً جائز نہیں ہے۔ اور یاد رکھیں کہ اسلام کا یہ حکم صرف اور صرف آپکی بھلائی کے لئے ہے۔عزت بہت نازک شے ہے، اور بیٹی کی عزت تو خاندان کی عزت ہوتی ہے۔
اگر بیٹی اپنے ہی شہر میں محرم کے ساتھ کالج یا یونیورسٹی جاتی ہے تو یہ نسبتاً بہتر صورتِ حال ہے، کیونکہ خاندان کی نظروں کے اندر رہ کر تعلیم حاصل کرنا ہمیشہ محفوظ ماحول فراہم کرتا ہے۔ مگر تب بھی تربیت کی کمی پوری نہیں ہوتی جب تک والدین انہیں صحیح سمت نہ دکھائیں۔ اسی تربیت کے خلا کو پورا کرنے کے لیے میں ایک نہایت قیمتی کتاب کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا— “خواتین کے 365 سبق”۔
یہ کتاب اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں 365 دنوں کے مکمل اسباق موجود ہیں—اسمیں حیا، شرم، پاکیزگی، دعائیں، ذکر، نبوی تعلیمات، عورت کے حقوق و فرائض، گھر کی ذمہ داریاں، سادگی، پردے کی حکمتیں، معاشرتی رویّے، اخلاقی مسائل سے لے کرروزمرہ زندگی کے معاملات تک—ایسا خزانہ جمع کر دیا گیا ہے کہ لڑکی ایک سال میں یہ کتاب مکمل کر لے تو مصنف خود لکھتے ہیں کہ “لڑکی گھر بیٹھے عالمہ بن جائے گی۔”، یعنی اسکو اہم مسائل اور احکامات معلوم ہوجائیں گے۔
یہ بات مبالغہ نہیں بلکہ حقیقت ہےکیونکہ اس کتاب میں وہ تمام بنیادی دینی مسائل اور خواتین کے لیے ضروری شرعی رہنما اصول موجود ہیں جن کا جاننا آج کی ہر لڑکی کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ بیٹی کی تربیت کا ایک بہترین نصاب ہے۔اسی لیے ہر والدین کو چاہیے کہ اپنی بیٹی کو یہ کتاب ایک بار ضرور پڑھا دیں۔ یہ ہر گھر کی ضرورت ہے، خصوصاً اُن گھروں کی جہاں بیٹیاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے یونیورسٹی اور کالجز وغیرہ میں جاتی ہیں۔تربیت اگر مضبوط ہو تو کم از کم اتنا فائدہ ضرور ہوجاتا ہے کہ بیٹی اپنی حدود جانتی ہے اور اپنی عزت کا مقام بھی۔

کتاب کی مکمل تفصیلات اور آرڈر کرنے کے لیے یہ لنک ملاحظہ کریں:۔
https://kitabfarosh.com/product/k365sa/
تیسرا بڑا ظلم — لڑکیوں کو پردے کی تعلیم نہ دینا
دوستو! لڑکیوں پر ہمارے معاشرے میں جو تیسرا بڑا ظلم ہورہا ہے، وہ نہایت خاموش مگر تباہ کن ہے—اور وہ ہے لڑکیوں کو پردے کی تعلیم نہ دینا، اور ان کے لیے پردے کا ماحول فراہم نہ کرنا۔ دینِ اسلام میں پردہ محض ایک رسم نہیں، بلکہ ایک مکمل نظام ہے جو عورت کی عزت، پاکیزگی اور حفاظت کی ضمانت دیتا ہے۔ افسوس کہ آج بہت سے والدین معاشرتی دکھاوے میں ایسے الجھ گئے ہیں کہ پردے کی اصل اہمیت اپنی بیٹیوں کو سمجھانا ہی بھول جاتے ہیں بلکہ وہ خود بھی شریعت کے اس اہم ترین حکم کو نہیں سمجھتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس جگہ پردہ نہ ہو، وہاں فتنہ ضرور پیدا ہوتا ہے—اور یہ حقیقت کسی فلسفے پر مبنی نہیں بلکہ روزمرہ کے سینکڑوں واقعات اسکے ثبوت ہیں۔
گھروں میں آج یہ صورتحال عام ہے کہ لڑکی کی شادی ایک کزن سے طے ہوتی ہے، اور دوسرا کزن وہ ہوتا ہے جو اس پر عرصے سے عاشق ہوتا ہے۔ تیسرا کزن وہ ہوتا ہے جسے وہ اپنا “بیسٹ فرینڈ” سمجھتی ہے(جس کے ساتھ وہ بے فکری میں ہنستی، بولتی، چہل قدمی کرتی اور بازاروں تک چلی جاتی ہے)۔ ساری مشکل یہیں سے شروع ہوتی ہے کہ والدین کا یہ غلط تصور کہ “کزن تو بھائیوں جیسے ہوتے ہیں” ۔ یہ تصور بیٹی کو ایک گڑھے میں دھکیل دینے کے مترادف ہے کہ پھر کوئی حد باقی نہیں رہتی۔ پردہ، شرم، حیا، حفاظت اور یہ سب کچھ کزن کے لئے معاف ہوجاتا ہے۔ذرا سوچئے ! اگر کزن واقعی بھائیوں جیسے ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے محرم اور غیر محرم کی واضح حد بندی کیوں فرمائی؟ پھر کزن سے پردہ کیوں کروایا گیا؟ شریعت نے کیوں حکم دیا کہ ان سے پردہ کرو؟ اس لیے کہ خون کے رشتے اور نکاح کے رشتے دو الگ حقیقتیں ہیں، اور ان کو ملانا بہت زیادہ خطرناک اور پریشانی کا باعث ہوگا۔
جب لڑکی پردے کے بغیر پلی بڑھی ہو، تو وہ سمجھتی ہے کہ سبھی اس کے بھائی ہیں، سبھی اس کے خیرخواہ ہیں، مگر حقیقت بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اسی سوچ کی وجہ سے پھر باہر والے ماحول کے مختلف لڑکے، عاشق مزاج آوارہ چھوکرےاور دوسرے چھیڑنے والے بھی اپنا راستہ بنا لیتےہیں کیونکہ لڑکی کو تو پردہ کرنا سکھایا ہی نہیں گیا گویا وہ ایک سرعام چلنے والی چیز بن گئی۔العیاذ باللہ۔ یہ بھی ظلم ہی ہے کہ بیٹی کو اعلیٰ دنیوی تعلیم دلوائی جائے، اعلیٰ کپڑے اور اعلیٰ دنیوی چیزیں دلوائی جائیں مگر حیا، پردہ، حدود اور پاکیزگی کی تعلیم نہ دی جائیں۔اسی لیے ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ نے ایک شاہکار کتاب ترتیب دی ہے: “پردہ ضرور کروں گی”۔ یہ کتاب ہر مسلمان گھر، ہر ماں اور ہر بیٹی کے لیے لازمی ہے۔ اس میں پردے کے وہ تمام احکامات اور عملی طریقے موجود ہیں جن کو سمجھنے کے بعد ایک لڑکی کو نہ صرف پردے کی حکمت معلوم ہوتی ہے بلکہ دل سے اس عمل کی محبت بھی پیدا ہوتی ہے۔ یہ کتاب واضح انداز میں بتاتی ہے کہ اسلام میں عورت کی حفاظت کیسے کی گئی ہے، اور پردہ کیسے اس کے لیے ڈھال، عزت اور سکون ہے۔
ہر والدین کو چاہیے کہ بیٹی کو یہ کتاب ایک بار ضرور پڑھائیں، تاکہ اس کی تربیت مکمل ہو، اور وہ اپنی زندگی کا سفر حفاظت اور حیا کے ساتھ طے کرے۔
کتاب کی مکمل تفصیلات اور آرڈر کرنے کے لیے یہ لنک ملاحظہ کریں:۔
https://kitabfarosh.com/product/pzk/
کتاب فروش — ایک بہترین ترقی پذیر آن لائن بک اسٹور
دوستو! اوپر جن تمام کتابوں کا ذکر کیا گیا—تربیتِ خواتین، تحفۂ خواتین، خواتین کے 365 سبق اور پردہ ضرور کروں گی—ان کے اصل خریداری لنکس بھی ساتھ شامل کر دیے گئے ہیں تاکہ آپ آسانی سے کتاب فروش آن لائن بک اسٹور سے آرڈر کر سکیں۔
کتاب فروش کوئی عام بک اسٹور نہیں، بلکہ ایک ایسا قابلِ اعتماد آن لائن پلیٹ فارم ہے جو پچھلے کئی سالوں سے پورے پاکستان میں کتب ڈلیوری کی خدمات فراہم کر رہا ہے۔
ملک کے دور دراز علاقوں تک کتابیں پہنچانا اس ادارے کی خصوصیت ہے، اور اسی محنت و خدمت کی وجہ سے الحمدللہ کتاب فروش نے گوگل اور چیٹ جی پی ٹی دونوں پر ایک معتبر رینک حاصل کر لیا ہے۔آپ سرچ کرکے تصدیق بھی کرسکتےہیں۔

کتاب فروش نہ صرف دینی، اخلاقی، تربیتی اور اصلاحی کتابیں بیچنے کا کام سرانجام دے رہاہے بلکہ اچھے طریقے سے بھیجنا اور پہنچانا بھی انکے فرائض میں شامل ہے۔ ہر آرڈر کو ٹی سی ایس کی تیز ترین سروس کے ذریعے پورے پاکستان میں گھر گھر پہنچایاجاتاہے۔ آپ کسی بھی شہر میں ہوں—کتابیں آپ کے دروازے تک پہنچانے کی ذمہ داری کتاب فروش بخوبی نبھاناجانتا ہے۔
آپ بھی ابھی آرڈر کریں اور اپنی بیٹی، اپنی بہن یا اپنے گھر کی خواتین کے لیے ان بیش قیمت اور اصلاحی کتابوں کو ضرور حاصل کریں۔ اگر ویب سائٹ پر آرڈر کرتے وقت کسی قسم کی دشواری پیش آئے تو آپ بے جھجک بلاتکلف ہمارے واٹس ایپ نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں:۔
ہم پوری کوشش کریں گے کہ آپ کی رہنمائی کی جائے، آپ کا آرڈر مکمل ہو، اور کتابیں جلد از جلد آپ تک پہنچ جائیں۔کتابوں کے ذریعہ سے علم دین کی تعلیمات کو پھیلانا بھی ایک صدقہ جاریہ ہے۔ اور اگر آپ اس صدقہ جاریہ کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو اس مضمون کو شئیر کریں اور کتاب فروش کو خدمات کا موقع بھی دیں۔

