ماہ صفر کی بدعات اور اسلامی رہنمائی
اسلامی کیلنڈر کا دوسرا مہینہ “ماہ صفر” کہلاتا ہے، جسکا پورا نام صفر المظفر ہے ۔
بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند میں اس مہینے کو بدشگونی اور نحوست سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو کہ سراسر اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔
عوام الناس میں یہ مشہور ہے کہ ماہ صفر میں شادی کرنا یا کسی نئی شروعات کا آغاز کرنا بُرا شگون ہے۔ بعض علاقوں میں اس مہینے میں “چالیس صدقے” دینے کی رسم عام ہے، بعض لوگ کسی مخصوص دن کو خاص بلاؤں کا دن سمجھ کر کھانے پینے سے پرہیز کرتے ہیں۔
یہ سب جہالت کی بنیاد پر قائم عقائد ہیں، جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
ماہ صفر کے بارے میں پھیلائی جانے والی یہ سب باتیں شرعی لحاظ سے بالکل ناقابل قبول ہیں کیونکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق کوئی بھی مہینہ منحوس ہوتا ہی نہیں ہے ۔ یہ سب افواہیں ہیں اور خاص طور پر ماہ صفر بالکل منحوس نہیں کیونکہ صحیح البخاری شریف کی ایک حدیث میں ماہ صفر کا نام لے کر اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے کہ ماہ صفر میں کوئی نحوست یا بدشگونی نہیں ہیں
Table of Contents
ماہ صفر کی بدعات اور اسلامی رہنمائی اور اسلامی رہنمائی – حدیث و فقہ کی روشنی میں
دارالافتاء دارالعلوم کراچی کے مطابق: “ماہ صفر یا کسی بھی مہینے کو منحوس سمجھنا جائز نہیں، یہ جاہلیت کا عقیدہ ہے جو اسلام سے پہلے کے دور سے چلا آ رہا ہے۔” ۔ اسی طرح شیخ ابنِ باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے، نہ بدھ کا دن منحوس ہے، یہ تمام باتیں جاہلوں کے عقائد ہیں جنہیں ترک کرنا واجب ہے۔”۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔
۔”کوئی بیماری خودبخود نہیں ہوتی، اور نہ ہی صفر میں کوئی نحوست ہے۔” (مفہوم حدیث)۔
ان احادیث اور فتاویٰ کے علاوہ بھی اسلامی تعلیمات، دینی کتب اور دیگر فتاویٰ میں یہ بات وضاحت و صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ ماہ صفر میں کوئی نحوست نہیں ہے اور خاص طور پر ماہ صفر کے آخری بدھ میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ اور اس پر ایک مفصل تفصیلی مضمون جو کہ ماہ صفر کی بدعات اور ایک من گھڑت حدیث کا جائزہ کے نام سے کئی جریدوں، ماہنامہ رسالوں اور دیگر جگہوں پر شائع ہوچکا ہے ۔ ایک مکمل رہنمائی ہے جو قرآن و حدیث اور دیگر حوالوں سے مزین ہے ۔ یہ مضمون مفتی محمد راشد ڈسکوی صاحب استاذ جامعہ فاروقیہ کراچی کی محنت و تحقیق کا نتیجہ ہے ۔ ماہ صفر کے بارہ میں جس جس کو اشکال ہے وہ اگر یہ مکمل مضمون پڑھ لے تو اُسکے تمام اشکالات دور ہوجائیں گے ۔
مضمون یہاں پر پڑھیں
ماہ صفر کے مثبت پہلو اور اصلاحی دعوت
اسلام کی تعلیمات کے مطابق ہر دن، ہر مہینہ اور ہر سال اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ ہمیں ہر وقت نیک اعمال، دعاؤں، خیر خواہی، اور عبادات میں مشغول رہنا چاہیے۔ اگر ہم “ماہ صفر” میں عبادت، تلاوتِ قرآن، صدقہ و خیرات، اور سنتِ نبوی ﷺ پر عمل کریں تو یہ مہینہ بھی ہمارے لیے “مظفر” یعنی کامیابی والا بن سکتا ہے۔ مزید تفصیلات اور اس ماہ صفر کے متعلق دینی تعلیمات اس مضمون میں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔
مومن کا ہر دن، ہر ہفتہ اور ہر ماہ و سال بہترین ہوسکتا ہے ۔ اس موقع پر میں اآپکو کتاب پڑھنے کا مشورہ ضرور دوں گا ۔ مومن کے ماہ و سال — ایک شاندار عربی سے اردو ترجمہ جس میں اثبات السنۃ فی ایام السنۃ کی مکمل رہنمائی دی گئی ہے۔

خطبائے کرام کیلئے علمی مواد
یہ دوسری کتاب خطیب حضرات کیلئے ماہ صفر کی بدعات اور اسلامی رہنمائی پر جامع اور دلنشین خطبات کی تیاری کیلئے بہترین انتخاب ہے:۔
خطبات جمعہ — ہر اسلامی مہینے کے لیے ترتیب دیے گئے موضوعات کے ساتھ۔
ماہ صفر کی بدعات اور اسلامی رہنمائی سے متعلق خطبات بھی اس میں شامل ہیں۔ اگر آپ جمعہ کے موقع پر اصلاحی پیغام دینا چاہتے ہیں تو یہ کتاب لازمی حاصل کریں۔

بدعات کی نشاندہی اور ان سے نجات کا طریقہ
ماہ صفر میں شادی سے گریز کرنا ۔ چالیس صدقے کرنا۔ مخصوص راتوں میں “خطرناک بلاؤں” سے بچاؤ کے وظائف۔ “خون بہا” کی روک تھام کیلئے منتیں اور غیر شرعی رسوم۔ یہ سب رسمیں نہ تو قرآن میں ہیں نہ سنت میں۔ ان بدعات کی تفصیل اور مزید تردید آپ اس مضمون میں بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ ماہ صفر کی بدعات اور اسلامی رہنمائی
بلکہ کچھ علمائے کرام نے لکھا ہے کہ اس طرح کی افواہیں پھیلانا، بدعات ایجاد کرنا، دنوں کو یا مہینوں کو منحوس سمجھنا قوموں کی تباہی کی بڑی وجوہات میں سے ہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اصل نجات صرف علم دین، توکل علی اللہ اور عملِ صالح میں ہے۔
ابھی اس مضمون کو اپنے دوستوں سے شیئر کریں تاکہ بدعات کی بجائے صحیح علم عام ہو۔ اور مختلف رسومات و بدعات کا خاتمہ کرنے میں آپکا حصہ بھی شامل ہوجائے ۔
یادر رکھیں !!! ماہ صفر کو صحیح انداز میں سمجھنا اور عوام کو بھی اس کی حقیقت سے آگاہ کرنا ہر باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ نحوست کا تصور ہمیں عمل، برکت اور خیر سے روکتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتے ہوئے اس مہینے کو بھی باقی مہینوں کی طرح نیکی کے لیے استعمال کریں۔
اسلامی کتابوں کی مکمل فہرست کے لیے وزٹ کریں: کتب فہرست
واٹس ایپ چینل پر جوائن ہو کر نئی اپ ڈیٹس اور فری آرٹیکلز حاصل کریں: کتاب فروش واٹس ایپ چینل
ماہ صفر کو نحوست والا مہینہ سمجھنا جہالت ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام میں ہر مہینہ محترم ہے۔ مکمل تفصیل اور دلائل کے ساتھ وضاحت پڑھیے
کیا ماہ صفر واقعی منحوس مہینہ ہے؟
نہیں، اسلام میں کوئی مہینہ منحوس نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ایسی تمام باتوں کی تردید فرمائی ہے۔ ہم سب کو چاہئے کہ ماہ صفر کی بدعات اور اسلامی رہنمائی کے متعلق شعور کو پھیلائیں ۔
کیا ماہ صفر میں شادی کرنا جائز ہے؟
بالکل جائز ہے۔ شادی کے لیے کوئی بھی دن یا مہینہ مخصوص نہیں۔ نحوست کا تصور غلط ہے۔
“چالیس صدقے” کی رسم کا کیا حکم ہے؟
یہ بدعت ہے۔ شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں۔ صدقہ دینا تو اچھا ہے مگر رسم بنا لینا منع ہے۔

