سزا دینے میں عموماً اساتذہ کی زیادتی اور کوتاہیاں
تعزیرکے متعلق ایک کوتاہی یہ ہے کہ جفا کاروں کے نزدیک اس کی کوئی حد ہی نہیں جب تک اپنے غصہ کو سکون نہ ہو جائے سزا دیتے ہی چلے جاتے ہیں جیسے استاد کہ یہ اس باب میں ہزار گونہ بڑھے ہوئے ہیں۔ عدالت اور پولیس کو تو یہ بھی فکر ہے کہ کبھی مظلوم شخص اوپر کے حکام سے استغاثہ (فریاد) نہ کر بیٹھے۔
شوہر کو محبت ہوتی ہے۔ باپ کو شفقت ہوتی ہے یہ اسباب ظلم کے کم کرنے والے ہوجاتے ہیں اور ان حضرات ومدرسین کو نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ محبت و شفقت۔ اگر کچھ اندیشہ ہو سکتا تھا تو والدین سے ہوتا۔ مگر والدین خواہ حسن اعتقاد سے خواہ اپنی مطلب براری کی خوشامد میں کان تک نہیں ہلانے اور اپنے اعتقاد میں شاگرد کے گوشت پوست کا استاد کو مالک سمجھتے ہیں تو ان سے کب احتمال ہے کہ ان حضرات کو ظلم سے روکیں۔ اس لئے یہ سب سے بڑھ کر آزاد ہیں ان کی تعزیر (سزا دینے) کی کوئی حد نہیں۔ (اصلاح انقلاب)
ایک طبقہ ہے میاں جیوں کا۔ یہ بچوں کے ساتھ بہت ظلم کرتے ہیں ان کو جب کسی بچہ پر غصہ آتا ہے تو قہر عام کی طرح سب پر برستا ہے کہ ایک طرف سے سب کی خبر لیتے چلے جاتے ہیں۔ اس سے میاں جی بہت کم بچے ہوئے ہیں (التبلیغ)
میاں جی صاحب کو تو کچھ پوچھئے ہی نہیں انہوں نے تو مثل یاد کرلی ہے کہ ’’ہڈی ماں باپ کی اور چمڑی استادکی‘‘ نہ معلوم یہ کوئی قرآن کی آیت ہے یا حدیث ہے یا فقہ میں کہیں لکھا ہے اور لطف یہ ہے کہ بعض دفعہ غصہ تو آتا ہے بیوی پر کیونکہ گھر میں لڑائی ہوئی تھی اب بیوی پر تو کچھ بس چلا نہیں۔ وہ غصہ باہر بچوں پر اتر تا ہے۔ یہ تو عیسائیوں کا کفارہ ہو گیا کہ ’’کرے کوئی اور بھرے کوئی‘‘۔
میاں جی صاحبان یہ یادرکھیںکہ قیامت کے دن اس کا بدلہ دینا ہوگا۔ یہاں بچوں کی چمڑی آپکی ہے۔ وہاں آپ کی چمڑی بچوں کی ہوگی۔ کیا تماشہ (اور کیا حال) یہ لوگ حدود سے تجاوز کرجاتے ہیںاور شفاء غیظ کے لئے مارتے ہیں ۔ ایسا زدوکوب (اور ایسی مار پیٹ) کہ اگر ولی اجازت بھی دے دے تو بھی درست نہیں (کلمۃ الحق)
Featured products
New Year BooksOffer 2025
Original price was: ₨ 5930.00.₨ 4750.00Current price is: ₨ 4750.00.Ramzan Ul Mubarak Ki Behtareen Kitabein
Original price was: ₨ 4480.00.₨ 4030.00Current price is: ₨ 4030.00.مجموعہ حضرت تھانوی پیکیج
₨ 11100.00





